Monday, April 22, 2013

" احمقوں کی جنّت سے "

منجانب فکرستان:احمقوں کی جنّت میں رہائش پزیر شخص کی باتیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کپتان کا مقصد ایسا نظام رائج کرنا ہے کہ کرپٹ آدمی بھی کرپشن نہ کرسکے۔جیسے شوکت خانم کو ایک نظام دیا،جیسے ڈرون کے خلاف اُنکی حکمت عملی نے دُنیا کو متاثر کیا۔۔اسی طرح کپتان دیگرممالک میں رائج دیہی، قصباتی اور شہری نظام کو پاکستان میں لانا چاہتے ہیں، مثلاً ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈ نہیں دیے جائیں گے 90 دن میں بلدیاتی الیکشن کراکے ترقیاتی فنڈ دیہی، قصباتی اور شہری حکومتوں کے مقامی لوگوں کو دیے جائیں گے۔۔۔تمام صوابدیدی فنڈ ختم کردیے جائیں گے ۔۔مفت یا رعائتی داموں پلاٹ دینے کا سلسلہ بند کردیا جائے گا ۔۔۔ 50 ایکڑ سے زیادہ اراضی پر 5 تا 15 فیصد  ٹیکس کا نفاذ  بھی ملک کیلئے بڑی تبدیلی لائے گا۔۔۔ غرض کہ یہ نظام  دیہی،قصباتی اور شہری حکومتوں کو بڑی حد تک خود مختار بنا دیگا۔۔۔
نیا نظام۔۔نیا پاکستان۔۔ دوتہائی اکثریت سے مشروط ہے ۔۔جو حقیقت میں مشکل بات ہے ۔۔بہرحال کپتان کوشش تو کر رہے ہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔۔۔میرا تو یہ کہنا ہے کہ اگر کپتان اپوزیشن میں بھی آگئے تو کم سے کم فرینڈلی اپوزیشن سے بچ  جائیں گے، چونکہ فرینڈلی اپوزیشن سے پاکستان کو بُہت نقصان پہنچا ہے۔۔۔اب اگر فرض کریں اقتدار میں ن لیگ اور اپوزیشن میں پی پی پی آتی ہے تو پھر وہی فرینڈلی اپوزیشن کی کہانی دوہرائی جائے گی۔۔۔اور عوام کو دلفریب  کہانیاں سُنائی جائیں گی۔۔۔
خُدا جانے کیا بات ہوئی کہ  PTI کی جماعت اسلامی سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہوسکی لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ اڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی تو   PTI اور اُسکے سپوٹروں پرتنقید کی جائے  ۔۔بلفرض اگر جماعت اسلامی سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوجاتی تو کیا پھر بھی PTI پر اسی طرح سے تنقید کی جاتی جیسی کہ اب ہورہی ہے ؟؟؟؟
قائد اعظم کے جیب میں بھی کھرے سکوں کے ساتھ کھوٹے سکے آگئے تھے ۔۔۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔
 ن لیگ پر بھی اسی طرح کی تنقید پڑھنے کو مل رہی ہے،اُسے بھی بُرا بھلا کہا جا رہا ہے چونکہ ن لیگ سے بھی جماعت اسلامی کی سیٹ اڈجسٹمنٹ نہیں ہوسکی ہے۔۔۔ دلیل یہی دی جارہی ہے کہ جماعت اسلامی سے  سیٹ اڈجسٹمنٹ کرنے سے انِ پارٹیوں کو فائدہ ہوتا  چونکہ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے۔۔۔ 
21 اپریل روزنامہ دُنیا میں حالیہ سروے رپورٹ شائع ہوئی ہے جس مطابق 70 فیصد مقبولیت کی نوید ہے۔اِس خبر میں تجزیہ کاروں کی حقیقت پر مبنی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے اسلیے لنک دے رہا ہوں ۔۔۔منشور کا اردو پی ڈی ایف لنک بھی دے رہا ہوں ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔{پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔رب راکھا} 

Friday, April 19, 2013

"اوور سیز پاکستانی "

  منجانب فکرستان : 45 لاکھ: 70لاکھ: 13 بلین ڈالر :معیشت : ڈوبتی کشتی 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ خبر نہ صرف بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے خوشخبری ہے بلکہ  پاکستان کیلئے بھی خوش آئند بات  ہےکہسیکرٹری الیکشن کمیشن جناب اشتیاق احمد خان نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صدارتی حکم نامے یا آرڈینس کے زریعے   بیرونی ملک مقیم  پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق دیا جا ئے گا۔۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بیرونِ ملک مقیم باقاعدہ تصدیق شُدہ ووٹروں کی کُل تعداد تقریباً 45 لاکھ کے قریب ہے ۔۔ ( تفصیل لنک پر)
 اس وقت کم وبیش 70 لاکھ پاکستانی دُنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم ہیں۔۔جو ہر سال تقریباً 13 بلین ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں، یہ زر مبادلہ کمانے کا دوسرا بڑا زریعہ ہے ،یوں پاکستان کی معیشت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے والے یہ ہی اوور سیز پاکستانی ہیں۔۔ اب اجازت دیں۔۔۔

{پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔رب راکھا}

Thursday, April 18, 2013

" جمہوریت کا پاکستانی ورژن "

منجانب فکرستان :رؤف کلاسرا:  ایاز امیر : عمران خان؛  ہارون الرشید:حسن نثار: اثاثے: غلطیاں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رؤف کلاسرا: کاآج 18اپریل کا کالم پڑھا تو ایسا لگا کہ جیسے شادی کا کھانا کُھل گیا ہے(لنک پر)۔۔ ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ این اے 61 سے ن لیگ کے امیدوار ایاز امیر  کے بجائے جنرل عبدالمجید کے داماد  میجر(ر) جناب طاہر اقبال صاحب ہونگے جو سابق صدر مشرف کے وزیر رہ چُکے ہیں ۔۔۔  پیرصاحب پگارا سے  ملاقات کے بعد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی لائیں۔۔۔نواز شریف بھی ممتاز بھٹو سے ملکر تبدیلی لانے کی بات کر چُکے ہیں ۔۔۔
 یوں سرمایا دار اور جاگیر دار ملکر جو تبدیلی لائیں گے میرے خیال میں   پاکستان کی تاریخ کی مثالی تبدیلی ثابت ہوگی ۔۔۔چونکہ اب 5 سالہ دورِ جمہوریت والا پیٹرن برداشت کرنے کی سکت نہ ملک میں ہے اور نہ ہی قوم میں ۔۔۔ اگر ن لیگ کی حکومت بنتی ہے تو وہی 5 سالہ دورِ جمہوریت والا پیٹرن زوروشور سے چلے گا۔۔۔چونکہ برادری وہی ہے۔۔۔اثاثے بڑھانے کی دوڑ شروع ہوجائے گی ۔۔۔ٹکٹ کے ہنگامے کس لیے تھے؟؟؟۔۔۔
 ٹکٹ پر ہنگامے پی ٹی آئی میں بھی دیکھنے میں آئے جو اچھی بات نہیں ہے۔۔۔ عمران خان ون میں شو ہونے کی وجہ سے ایک انار سو بیمار جیسی حالت ہے ۔۔  پی ٹی آئی میں ہرشخص کہہ رہا ہے کہ میرے مشورے پر عمل کرو ورنہ ؟؟ اور جس کے مشورے پر عمل نہ ہو وہ ناراض ۔۔۔ حتٰی کہ  ہارون الرشید صاحب بھی ناراض  اور حسن نثار بھی خفا۔۔۔میرے خیال میں اِن کالم نگاروں کو  کپتان کو آزمائے بغیر اُسکا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئیے ۔۔۔ انِ دانشوروں کو سوچنا چاہئیے کہ  عمران ایک انسان ہے فرشتہ نہیں ہے کہ غلطیاں نہ کرے ۔۔۔
دوستو: پڑھنے کا شُکریہ قبول فرمائیں ۔۔رب راکھا

Tuesday, April 16, 2013

ایسا بھی ہوتا ہے !!!۔

منجانب فکرستان: مہابھارت: ہندو روایت: Taboo
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اِس غیر معمولی خصوصیت کی حامل سچی کہانی کو ڈیلی" Mail online" نے اپنے پورے صفحے پر بمع تصاویر  جگہ دی ، کہانی کا تعلق بھارت کے ایک گاؤں سے ہے۔۔ جبکہ اسی طرح کی دوسری سچی کہانی،جِس کو نیشنل جغرافک چینل نے فلما کر، Taboo عنوان کے تحت
اپنے چینل پر دکھایا تھا جس کا تعلق جدید ترین معاشرے کے جدید  ترین شہر سے تھا۔۔۔
 پہلی سچی کہانی ایک لڑکی "راجوورما" کی ہے جس کاتعلق شمالی بھارت کے علاقے دھرادون کے قریب واقع ایک گاؤں سے ہے ۔۔ راجوورما کی جس شخص سے شادی ہوئی اُسکے چار بھائی تھے ۔۔۔یوں وہ ہر سال دُلہن بنتی گئی اورہر سال  ایک شوہر کا اضافہ ہوتا گیا 5 سالوں میں ایک ساتھ پانچ شوہروں والی بن گئی، پانچوں سگے  بھائیوں کی  اکلوتی بیوی۔۔۔ راجو ورما نے بتایا ، ہمارے گاؤں میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ،اسلیئے میرے لیے بھی کوئی عجیب بات نہیں ہے۔۔میرے باپ بھی تین سگے بھائی ہیں۔۔۔ (لو کرلو گل)۔۔۔ راجو ورما نے نمائندے کو بتایا کہ ہم ایک خوشگوار زندگی گُذار رہے ہیں۔
 میرے خیال میں راجو ورما جو کُچھ کہہ رہی ہے اُسکا سچ اُسکی تصاویر سے عیاں ہے۔ ۔۔۔مکمل تفصیل،راجوورما کی تصاویر، مہابھارت اور ہندو روایت وغیرہ کے بارے میں جاننے کیلئے: فوٹر لنک پر جائیں۔۔
دوسری کہانی کا تعلق جدید شہری زندگی سے ہے۔ جسے نیشنل جغرافک چینل نے اپنے پروگرام Taboo میں دیکھایا تھا ۔۔ایک 30،35 سالہ خاتون اپنے شوہروں کا تعرف یوں کرواتی ہیں کہ یہ مسٹر فلاں (نام یاد نہیں رہا) میرے پہلے شوہر ہیں اور یہ میرے دوسرے شوہر ہیں ، یہ دونوں آپس میں (حدِادب) دوست بھی ہیں، ہم سب ساتھ رہتے ہیں اور ہیپی لائف گُذار رہے ہیں اور ہاں یہ لڑکیاں میرے شوہروں کی گرلز فرینڈز ہیں ،ہم سب لائف کو انجوائے کر رہے ہیں۔۔۔
 دوستو: یقین کریں مجھے راجو ورما والا حقیقی سچ اِن کے چہروں پر نظر نہیں آیا ۔۔۔ہوسکتا ہے یہ میرے ذہن کا تعصب ہو ۔۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فلمانے کی وجہ سے مصنوی پن لگا ہو۔۔۔ بہر حال آپ لنک پر جائیں راجوورما اور اسکے پانچ شوہروں کو دیکھیں اور ہوسکے تو سماجی ماحولیاتی اثرات پرغور کریں۔۔  مجھے اجازت دیں۔۔
{پڑھنے کا شُکریہ ۔۔رب راکھا}

Friday, April 12, 2013

" انتخاب "

 منجانب فکرستان: مشہور دانشوروادیب طارق علی کی گفتگو سے انتخاب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 طارق علی کی دنیا ئے سیاست پر گہری نظر ہے وہ سیاست اور تاریخ پر 14 کتابیں لکھ چُکے ہیں۔۔ اِس سیر حاصل گفتگو میں ، بھٹوکی پھانسی ،متناسب نمائندگی ،پاکستانی سیاست،جنوبی امریکہ، ،عرب اسپرنگ،ترکی، سرمایا دارنہ نظام ،بھارت امریکہ تعلقات،اسٹیبلشمنٹ ، فوج، میڈیا غرض کہ کئی باتوں پر اپنی رائے دی ہے،

Tuesday, April 9, 2013

" حیرت انگیز باتیں "

 منجانب فکرستان: نٹور سنگھ: 5 سوال: مارگریٹ تھیچر 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیڈی آئرن تھیچر کو ایک سادھو کے سامنے موم بننے کا ذکر کیا ہے ، یہ واقعہ وہ اپنی کتاب میں بھی لکھ چُکے ہیں ۔۔ دوستو واقعہ پڑھ کر میں بھی حیرت زدہ رہ گیا اسی لیے اب یہ حیرت اپنے قارئین دوستوں سے شیئر کر رہا ہوں ۔۔  یہ واقعہ 1975 کا ہے کہ جب نٹور سنگھ برطانیہ میں بھارت کے نائب ہائی کمشنر تھے اور تھیچر کو پارٹی لیڈر بنے صرف 6 ماہ ہوئے تھے ۔۔۔نٹور صاحب کے پاس دوست کا حوالہ لیکر ایک سادھو آیا اور تھیچر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔۔نٹور سنگھ نے پوچھا کیا کام ہے ۔۔سادھونے کہا اُن ہی کو بتاؤں گا۔۔۔
بہر حال نٹور نے تھیچر سے سادھو کا تذکرہ کیا ، تھیچر کس موڈ میں تھیں کہ دس منٹ کا ٹائم دے دیا ۔۔سادھو انگلش نہیں جانتا تھا اسلئیے نٹور سنگھ ترجمان بنے  ۔۔ملاقات پرتھیچر نے سادھو سے پوچھا کہ تم کیوں مجھ سے ملنا چاہتے ہو ۔۔۔جواب میں سادھو نے ایک کاغذ منگوایا اس پر لکیریں لگا کر کاغذ کے 5 ٹکڑے کئے تھیچر سے کہا ان کاغذ کے ٹکڑوں پر سوالات لکھ کر موڑ کر رکھ دیں ۔۔تھیچر ایسا کر چُکیں۔۔ تو کہا اب ایک کاغذ اُٹھا کر کھولیں اور دل ہی دل میں لکھا سوال دوہرائیں ۔۔سادھوں نے سوال بتا دیا ۔۔۔ اسی طرح سادھوں نے پانچوں سوال بتادئیے تو نٹورسنگھ اور تھیچر دونوں حیرت زدہ ہوگئے، اسکے علاوہ تھیچر کے وزیر اعظم بننے  اور گیارہ سال وزیر اعظم رہنے کی پیش گوئی بھی سادھو نے کی تھی ۔۔۔
دوستو: اسکی عقلی توجیح کیا  ہوسکتی ہے؟ ۔۔ سادھو تھیچر سے ملنے کی خاطر نٹور سنگھ  کے پاس آیا تھا ۔۔لیکن سادھو نے تھیچر کا  ہی انتخاب کیوں کیا ؟؟؟ رب ہی جانے ۔۔اجازت دیں۔۔رب راکھا


" Lady Iron "

 منجانب فکرستان: زمین کی تھیچر پر لکھی کتاب سے منتخب چندقابلِ دید اوراق 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئرن لیڈی ہوکہ اِسٹیل وومن اُسنے ٹوٹ جانا ہے، جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔خُدا کی حکمت اور اُسکی سببیت سے گھومتی زمین جو کُچھ دیتی ہے ،پھر وہی سب کُچھ چھین بھی لیتی ہے۔۔۔

Sunday, April 7, 2013

"گونج 62، 63 کی "

منجانب فکرستان: کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رضا ربانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہمذہبی نمائندوں کے دباؤ کے نتیجے میں آرٹیکل 62،63 میں اصلاحات نہ ہوسکیں، تاہم اُنہوں نے کہا کہ  نئی بننے والی پارلیمنٹ 62،63 میں تبدیلی لانے پر متفق ہوجائے گی۔۔ میرے خیال میں آرٹیکل 62،63 کو اب ایک مقدس مذہبی حیثیت جیسی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، اب اس میں معمولی سی بھی تبدیلی لانا ممکن نہیں رہا۔۔۔
اختلاف اپنی جگہ لیکن یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ طاہرالقادری اچانک اسٹیج پر نمودار ہوکر سب کو 62،63 کی تسبیح پڑھا دی اور انِ آرٹیکل میں ایسی روح پھونکی ہے کہ جسکی گونج پاکستان میں ہر سو، ہر جا، سُنائی دے رہی ہے۔۔  اِن آرٹیکل کو زندہ جاوید بنادیا ہے ۔۔۔ممکن ہے یہی دو شقیں پاکستان کی تقدیر بدلنے میں کار گر ثابت ہوں۔۔۔
کچھ حضرات طاہرالقادری کا یوں اچانک آنے ،آرٹیکل 62،63 کو زندہ کرنے،  اور انتخابات میں حصہ نہ لینے پر پاکستان کیلئے غیبی مدد کے اسباب مانتے ہیں۔۔کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟(لنک پر دیکھیں) اجازت دیں۔۔۔رب راکھا


Friday, April 5, 2013

" جانچ پڑتال "

منجانب فکرستان : ایاز امیر: عمران خان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الیکشن کمیشن نے بے رحم جانچ پڑتال کا اندیہ دیا تھا لیکن لوگوں کے ذہنوں میں اِسکی صورت واضع نہیں  ہو پا رہی تھی کہ یہ کس قسم کی جانچ پڑتال ہوگی ؟ لیکن اب جانچ پڑتال کی صورت واضع ہوتی جارہی ہے کہ یہ کس قسم کی ہوگی۔۔ مثلاً ایاز امیر کے انگریزی  کالموں میں نظریہ پاکستان سے مطلق لکھی گئی باتوں کی بُنیاد پر اُن کے کاغذِ نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں، (جبکہ اُن کا کہنا ہے کہ انکے انگریزی مضامین کو غلط معنی پہنائے گئے ہیں) اسی طرح زبانی سوالوں سے بھی اس جانچ پڑتال کی صورت واضع ہو تی جا رہی ہے۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر ہر ایک نے احتجاج کیا ، لیکن عمران خان کی احتجاجی حکمتِ عملی موثر ثابت ہوئی، اِس کو دُنیا بھر میں پزیرائی ملی اِس حکمتِ عملی کے باعث معروف امریکی ویب سائٹ" گلوبل پوسٹ "کے مطابق سن 2012 کے دُنیا کے 9 با اثر ترین شخصیات میں سے عمران خان دُنیا کے تیسرے با اثر ترین شخص قرار دیے گئے ۔۔

میرے خیال میں اگر پاکستانی عوام نے عمران خان پر اعتماد کرکے تحریک انصاف کو الیکشن میں کامیاب کرایا تو  کامیاب ڈرون احتجاجی حکمتِ عملی کی طرح  وہ بہتر حکمتِ عملی  اپناکر  پاکستان  کوصحیح سِمت میں موڑ سکتے ہیں ۔۔اجازت دیں ۔۔رب راکھا  


Thursday, April 4, 2013

" شیکسپیئر "

منجانب فکرستان:نئے شواہد: ڈرامے کس نے لکھے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  بی بی سی نےابریسٹوئتھ یونیورسٹی کے حوالے سےشیکسپیئر کےبارے میں نئے شواہد ملنے کی خبر دی ہے کہ وہ قحط کے زمانے میں اناج ذخیرہ  کرکے خوب پیسے بناتا تھا  عدالتی ثبوت کے مطابق ذخیرہ اندوزی کے جرم میں ایکبار نہیں کئی بار شیکسپیئر پر مقدمے چلے۔۔ 
 بڑا رائٹر وہی بنتا ہے جسکا مطالعہ وسیع ہوتا ہے، میرے نزدیک جِسکا مطالعہ وسیع ہوتا ہے اُسکی ذہنیت اِس درجہ پست نہیں ہوسکتی کہ قحط کے زمانے میں پیسہ کمانے کی غرض سے اناج کی ذخیرہ اندازی کرے ۔خبر کے مطابق یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ شیکسپیئر ایک زمیندار اور سخت گیر قسم کا تاجر تھا۔۔ اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ  قحط کے زمانے میں ایک تاجر کی ذہنیت ہی غلے کی ذخیرہ اندوزی کر سکتی ہے،   لکھاری شیکسپیئر کی ذہنیت ایسا نہیں کر سکتی ہے ۔۔    یقیناً یہ زمیندار،سخت گیرتاجروہی ناخواندہ تاجر ہے جس کے بیوی بچّے بھی ناخواندہ تھے ۔جسکا تذکرہ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب

The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History میں کیا تھا ۔۔

 مائیکل ہارٹ کے مطابق شیکسپیئر کی سوانح عمری کا بڑا حصّہ زیب داستاں کیلئے مصنفین کی ذہنی اختراح کا نتیجہ ہے مثلاً فورڈ گرامر اسکول میں شیکسپیئر کی تعلیم کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔۔۔اُسکے 3 ورقی وصیت نامے میں بھی کسی ڈرامے یاتصنیف کی حقوق کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔۔۔غرض مائیکل ہارٹ کو ڈرامہ نگار شیکسپیئر کے بارے میں کہیں سے بھی کوئی بااعتبار شواہد نہ ملے یوں مائیکل ہارٹ  کو ولیم شیکسپیئر کو اپنی کتاب میں رینک الاٹ کرنے میں کافی دقت پیش آئی۔۔
 تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سارے ڈرامے،گیت اور لمبی نظمیں آخر کس نے لکھیں ؟؟ اس بارے میں مائیکل ہارٹ کی تحقیق کہتی ہے کہ اس دور کے ایڈورڈ ڈی ویری  نے لکھے ہیں نہ جانے کس مصلحت کے تحت اُسنے اپنا اصلی نام  ظاہر نہیں ہونے دیا وہ کہتے ہیں،   "ہم ڈی ویری کے نام کے اخفاء کی مکمل وجوہات جان پاتے ہیں یا کہ نہیں اس سے قطع نظر بہر طور وہ شیکسپیئر ہونے کے تمام دیگر معیا رات پر پورا اترتا ہے،اور یہ بھی یاد رہے کہ کوئی دوسرا اس سے اتنا مماثل نہیں ہے ، میرے نزدیک یہ بات حتمی طور پر درست ہے کہ وہی اصل مصنف ہے " باقی ساری کہا نیاں اسکے مرنے کے بعد کی سوانح عُمریاں ہیں ۔۔۔۔بہر حال اُنہیں اپنی تحقیق پر اعتماد تھا اسی لیے اُنہوں نے اپنی کتاب میں بڑے اعتماد سے  المعروف سوانح عمری والے شیکسپیئر کی بجائے ایڈورڈ ڈی ویری  کو بحیثیت ولیم شیکسپیئر متعارف کرایا ہے۔۔ وہ اس بارے میں مزید معلومات کیلئے چارلٹن اور اوگبرن کی کتاب "ولیم شیکسپیئر کا بھید" پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔۔یہ بات بھی یاد رہے کہ  مائیکل ہارٹ ایک سائنسدان ہیں اور ناسا سے وابستہ رہ چُکے ہیں ۔۔تفصیلات کیلئے لنکز پر جائیں۔۔
 اس پوسٹ کے لکھنے کا بنیادی مقصد  یہ ہے کہ کتنی حیرت کی بات، دُنیا کا مشہور ترین شخص کی جعلی سوانح عُمریاں لکھی گئیں ،اب نئے شواہد شیکسپیئر کو بالکل ایک نیا شخص ظا ہر کررہے ہیں۔۔۔
شیکسپیئر کے کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خُدا جانے تاریخ میں کتنا کّچھ جعلی مواد ذاتی مفاد، مذہبی مفاد، اور قومی مفاد کے نام پر ڈالا گیا ہے، اور خُدا ہی جانے کہ یہ جعلی مواد نے کس درجہ  لوگوں میں کنفیوژن پھیلایا ہُوا ہے۔۔ میری رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔۔۔ مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Sunday, March 31, 2013

"خبروں کی کھچڑی "

منجانب فکرستان: کس نے کیا کہا ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭:11مئی پولنگ اسٹیشنوں پر ہماری کامیابی کے ڈھول بجیں گے۔منظور وساں
٭پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے۔مولانا فضل الرحمان 
٭مگر مچھوں کو شکست دونگا ۔عمران خان
٭ عمران خان کی ضمانت ضبط کرادونگا۔حنیف عباسی
٭: میں مولانا کو ہرا کر چھوڑونگی۔ مسرت شاہین 
٭: برسراقتدار آکر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے۔نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب
٭ لوگ پیپلز پارٹی کی قربانیوں کو دیکھ کر ووٹ دیں گے۔منظور وساں
٭لوگ شہیدوں کو نظر میں رکھ کر ووٹ دیں گے۔منظور وساں
٭: لوگ ہماری 5 سالہ کارکردگی کو دیکھ کر ووٹ دیں گے۔منظور وساں
٭: جو بھی مقابلے کیلئے آئے گا، بُری طرح شکست کھائے گا۔منظور وساں
٭:11مئی پولنگ اسٹیشنوں پر ہماری کامیابی کے ڈھول بجیں گے۔منظور وساں
٭ امیدواروں کی بے رحم جانچ پڑتال ہوگی، جوبندوق دکھائے گا،وہ جیل جائے گا۔افضل خان (ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن)
٭: ڈکٹیٹر کے مدِ مقابل آکر مادرِملت کی روایت کو زندہ کررہی ہوں۔فوذیہ صدیقی
٭: سب کو آزمالیا، اب ہمیں بھی آزماؤنا ۔۔۔ نینا لال (خواجہ سرا)
٭:اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ایم۔ڈی:نور


Thursday, March 28, 2013

" سولہ / اٹھارہ "

منجانب فکرستان: ماہرینِ نفسیات کیا کہتے ہیں ؟  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بالی ووڈ کے بولڈ سین اورآئٹم سونگ سے بھارت کے پُرشوں کے ہارمون  کچھ زیادہ ہی متحرک  ہوگئے ہیں ، چلتی بس ہوکہ کار، جنگل ہوکہ ہوٹل، یہاں تک کہ اپنے تو رہے  ایک طرف غیر مُلکی سیاح بھی محفوظ نہ رہے۔تاج محل دیکھنا،ٹانگیں تڑوانا ایک جیسی بات ہوگئی۔۔۔جبکہ پچھلے دنوں بھارت کی پارلیمنٹ اس مخمصے میں  رہی ہے کہ لڑکیوں کی جنسی خودمختاری کی عُمر 16 سال ہونی چاہئیے کہ 18سال ٹھیک رہے گی ۔۔۔
 3 دھائیوں سے 16 سال ہی چلی آرہی تھی لیکن فروری میں ایک آرڈینینس کے زریعے 18 سال کردی گئی تھی۔۔ میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں ریپ کے حوالے سے بھارت کے ایوانِ زیریں میں جو بل منظور ہُوا ہے اُس میں بھی 18 سال عمر  ہی رکھی گئی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق  کی کُچھ تنظیمیں یہ اعتراض اُٹھا رہی ہیں کہ لڑکیوں کی 18 سال کی عُمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہے جنسی خودمختاری کی عُمر پہلے کی طرح 16 سال ہی ہونا چاہئیے۔۔۔   
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ حواس خمسہ کے زریعے انسان کے دماغ  میں جو کُچھ فیڈ ہورہا ہے، اُسی کے اثر کا فیڈ بیک انسان کے رویوں میں ملتا ہے،اس لئے  بھارت کے سنسر  بورڈ کو فلم میں بولڈ سین اور آئٹم سونگ جیسے مسئلہ کا حل نکالنا چاہئیے کہ بھارت دُنیا میں ریپ کے حوالے سے بُہت بدنام ہورہا ہے۔۔دوستو اب اجازت دیں۔ 
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 

Tuesday, March 26, 2013

" خُدا شناسی "

منجانب فکرستان: کتاب:"تلاش۔اللہ۔ماورا کا تعین" کے بارے میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جیساکہ پوسٹ "تفسیر/ ترجمہ" میں کہا تھا  کہ جس دماغ میں قُرآن کو سمجھنے کا خیال نہیں آتا وہ تلاوت کے زریعے  خُدا سے جڑُجاتا ہے،ثواب وسکون حاصل کرتا ہے۔لیکن بعض اشخاص علماء کے ذہن کے زریعے جبکہ بعض خودسمجھنا چاہتے ہیں کہ قُرآن سمجھنے کیلئے اُتارا گیا ہے۔ مشہور ادیب ممتاز مفتی کے بیٹے عکسی مفتی بھی ایک ایسے ہی شخص ہیں جو خود سمجھنا چاہتے ہیں۔۔۔
 عکسی مفتی نے خُدا کی ہستی کو سمجھنے کی خاطر تاریخ ، فلسفہ، مذاہب ، سائنس تصوف و دیگر علوم اور اِن کی شاخوں  کا مطالعہ کیا  ہے۔ جسکے حوالے اُنہوں نے اپنی کتاب میں جا بجا دیے ہیں، وہ کہتے ہیں مطالعے کا یہ سفرعرصہ چالیس سال پر مُحیط ہے ۔۔۔اِن علوم کے زریعے خُدا کے حوالے سے اُنہوں نے جو کُچھ کشید کیا، وہ اُنکی  سوچ کا محور بنا جس سے اُنکا  فلسفہ"اللہ۔ماورا کا تعین"تشکیل پایا جسکی جھلک وہ پوری کائنات کی ہر چیز میں دیکھتے ہیں، اِس دیکھنے کو وہ مختلف علوم سے دلائل بھی فراہم کرتے ہیں اور اپنی سوچ سے جواز بھی تراشتے  ہیں۔۔
  یہ کتاب میں نے پڑھی ہے  میرے خیال میں  جس طرح سائنسدانوں کی زماں اورمکاں  کی یکجائی کی کوشش کے بعد اب زماں مکاں  بن گئے ہیں، اسی طرح  یہ کتاب بھی سائنس، مذاہب اور تصوف کی یکجائی کی کوشش ہے جس کے زریعے خُدا شناسی کا پیغام دیتی نظر آتی ہے۔۔۔عکسی صاحب کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔۔۔ 
نوٹ: عکسی مفتی صاحب کے خیالات جاننا چاہیں تو لنک پر جائیں اُنکا انٹرویو بغور پڑھیں کافی معلومات حاصل ہونگی اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=18709

Friday, March 22, 2013

"زندگی صرف ایک بار ملتی ہے "

منجانب فکرستان: عمران خان کے حامی عرفان صاحب کا انٹر ویو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایم۔ڈی: جو شخص اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل حل نہ کر سکا وہ پاکستان کے مسائل کیسے حل کرسکتا ہے ؟ 
عرفان صاحب:محترم یہ اُسکی پاکستان کیلئے بُہت بڑی قربانی ہے، چونکہ انسان کو زندگی صرف ایک بار ہی ملتی ہے اُس نے جو وقت اپنی ازدواجی زندگی کی خوشیوں کو دینا تھا وہ وقت اُس نے  پاکستان کو دیا ،  یوں اُس کا جُھکاؤ پاکستان کی طرف زیادہ  ہوگیا ،جس کا نتیجہ بیوی بچّے اُس سے جُدا ہوگئے۔۔بلکہ ممکن ہے کہ عمران خان خود اِس احساس میں مبتلا ہوگئے ہوں کہ وہ  بیوی بچّوں سے زیادتی کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہو کہ طلاق جیسا مسئلہ خوش اسلوبی سے طے پایا کہ بیوی بچّے آج بھی عمران کے کردار کی بلندی کے  معترف ہیں ۔۔۔۔ 
ایک ایسا شخص جس نے پاکستان کی خاطر اپنی ازدواجی زندگی تج دیا ہو۔۔ یقیناً وہ پاکستان کیلئے مخلص ہے۔۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان دشمن فرسودہ ظالمانہ نظام کے خلاف صف آرا ہوگیا ہے ۔۔جسکو دونوں بڑی پارٹیاں بچانا چاہتی ہیں ۔۔ دونوں پارٹیاں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔۔ جس کے ثبوت رؤف کلاسرا آئے دن اپنے کالم میں بمع چیلنج فراہم کرتے رہتے ہیں کہ دونوں پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔ لیپ ٹاپ اور  بینظیر سپورٹ اسکیم کی تشہیر کچھ اس انداز کی جاتی ہے جیسے وہ اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں سے کُچھ دے رہے ہوں، قوم کا پیسہ قوم کو دیکر ذاتی شُہرت کی تشہیر کرتے ہیں۔۔۔
ایم۔ڈی: کیا آپ عمران کو ایک جذباتی شخص نہیں سمجھتے جو پانی پت کی جنگ کے حوالے دیتا ہے،اور کہتا ہے کہ میں وزیراعظم بنا تو صدر زرداری سے حلف نہیں لوں گا۔
عرفان صاحب: محترم یہ آپکے نقطہ نظر کی بات ہے۔۔ میں اسی بات کو اسطرح سے دیکھتا ہوں کہ پاکستان کو منافقت اور مفاہمت کی پالیسی نے بُہت نقصان پہنچایا ہے۔۔عمران، زرداری کو این آر او زدہ غیر آئینی صدر سمجھتے ہیں ،وہ منافقت یا مفاہمت کے بجائے صاف،سچی اور کھری بات کہہ رہے ہیں تو اس میں کونسی بُرائی ہے ۔۔۔
ایم ۔ڈی: آپ عمران خان کے حامی ہونے کی کوئی معقول وجہ بتانا پسند فرمائیں گے۔۔
عرفان صاحب: ایسی تو کئی وجوہات ہیں جیسے شوکت خانم ہاسپیٹل وغیرہ لیکن میں   اُسکے کردار کے حوالے سے حالیہ پڑھی ہوئی بات کی مثال دینا چاہتا ہوں،  اتوار کو ایکسپریس اخبار کے سنڈے میگزین میں مشہور ایمپائر محبوب شاہ  کا انٹرویو پڑھا  جس میں عمران خان کی شخصیت کی سائیکی دیکھی جاسکتی ہے۔ محبوب شاہ نے اپنی ایمپائرنگ لائف میں نہ جانے کتنے ہی کھلاڑیوں کو آؤٹ دیے ہونگے۔۔ یقیناً اُن کھلاڑیوں کے طرز عمل  سے بھی اُنہیں واسطہ پڑا ہوگا۔۔ لیکن اتنے  سارے کھلاڑیوں کے طرز عمل میں سے اُنہوں نے صرف اکیلے عمران خان کے طرز عمل کی تعریف  کی عمران کا یہ طرز عمل عمران کی  شخصیت کا آئینہ ہے۔۔
ایم۔ڈی: آپ کا کیا خیال ہے عمران خان جیت جائیں گے ؟  
عرفان صاحب:آپ کے اس سوال کا جواب میں اسطرح سے دونگا کہ ہمیں پاکستان کو بچانا ہے۔۔آنے والی نسل کو بچانا ہےاور بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کو بُلانا ہے،  تو پی ٹی آئی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چوائز نہیں ہے۔۔ اس لیے جس طرح  بھی ممکن ہوسکے۔۔ ہمیں اپنے لیے۔۔ اپنی نسل کیلئے۔۔ پی ٹی آئی کی مدد ضرور کر نا چاہئیے اور  کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔ 
ایم۔ڈی: کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں ۔
عرفان صاحب: میرا پیغام اہلیانِ لاہور کیلئے ہے کہ کل یعنی 23 مارچ کے جلسے کو کامیاب بنائیںِ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب شاہ کے انٹرویو کا منتخب حصہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــ
سوال: کبھی کسی کھلاڑی نے آپ پر غالب آنے کی، فیصلے پر اثر انداز ہونے کی   کوشش کی؟
محبوب شاہ: سچ تو یہ ہے کہ تمام کھلاڑی، کسی نہ کسی سطح پر ایسا کرتے تھے، یا کرتے ہیں۔ یہ ایک حکمت عملی تھی، مگر میری کبھی کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ پھر میری تکنیک یہ تھی کہ میں اس وقت کھلاڑیوں کے رویے کو نظرانداز کرتا تھا، جب تک وہ قانون کے دائرے میں ہوں۔ میرے کیریر میں خوش گوار لمحات زیادہ آئے۔
سوال: تو خوش گوار لمحات ہی کی بات کرتے ہیں۔ کئی کھلاڑیوں کی اپیلیں آپ نے رد کی ہوں گی۔ ایسا کون تھا، جس نے ہمیشہ مثبت ردعمل ظاہر کیا؟
محبوب شاہ: پاکستانی ٹیم میں عمران خان ایک ایسا کھلاڑی تھا، جس سے میری زیادہ بات چیت نہیں تھی۔ مگر میں جب بھی اُس کی اپیل رد کرتا، وہ ہمیشہ مثبت ردعمل دیتا۔ اور اپنے اشاروں اور رویے سے یہ تاثر دیتا کہ میرا فیصلہ دُرست تھا۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب شاہ صاحب کا مکمل انٹرویو پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں ،اور مجھے اجازت دیں ۔۔
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔


Monday, March 18, 2013

" کنگ کوبرا "

منجانب فکرستان: لڑائی کا اصول : شکست کا اصول 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نیشنل جغرافک چینل پر دیکھا کہ تحقیق کاروں نے " مادہ کنگ کوبرا " کو آلہ نصب کرکے جنگل میں چھوڑدیا اور اینٹینے کی مدد سے اُسکا پیچھا کرتے رہے۔ خالق نے سانپ کی زبان کویہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ دُور  ہی سے شکار اور ساتھی کی بوُ کو محسوس کرتی ہے۔ایک نر کو مادہ کی بوُ آگئی وہ اُسکی طرف کھنچا چلاآیا  مادہ سے رضامندی حاصل کی (حدِادب) اور کامیاب رہا، پھر ایک اور نر کو بھی مادہ کی بُو آگئی اور وہ بھی  مادہ کی طرف دوڑا چلا آیا لیکن وہاں پر پہلے ہی ایک نر کو پایا تو اُسنے اُسکو چیلنج دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نر گتھم گتھا ہوگئے۔بقول تحقیق کار لڑائی کا اصول یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی کسی کو زخمی نہیں کرے گا، صرف  چتِ کرنے کی کوشش کرے گا،شکست  کا اصول یہ ہے کہ جو چتِ ہوگیا وہ ہار گیا اور پھر وہ وہاں سے چَلا جائے گا ، افسوس کہ مادہ کے پیٹ میں جس نر کی نسل کو بقا ملنی تھی وہ چتِ ہو گیا اور وہ وہاں سے چَلا گیا اب نیا نر مادہ کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ رضامند نہیں ہوئی پھر نہ جانے کیا ہُوا کہ اُس نے پوری طاقت سے اپنے دانت مادہ کے جسم میں پیوست کردیے مادہ نے بھی اپنے دانت نر کے جسم میں پیوست کردیے ،طاقت میں نر کو برتری حاصل ہے ،کچھ ہی دیر میں مادہ  کی آنکھیں پتھرا گئیں اوروہ ڈھیر ہوگئی ۔۔ ۔اب نر نے اُسے کھانا شروع کیا لیکن وہ اتنی لمبی تھی کہ نگلنے میں کامیاب نہ ہُوسکا اور اُگل کر چلتا بنا ، اب مادہ کی لاش کسی اور جاندار کے پیَٹ میں جاکر اُسے زندگی کی حرارت فراہم کرے گی کہ یہی قانونِ فطرت ہے۔ کہ:
جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔"الوداع" مادہ کوبرا " 
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, March 7, 2013

" آنکھیں بھر آئیں "

منجانب فکرستان : معصوم چہرہ: شاہویز:پسندیدگی: غُبار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی اور موت کی کشمکش کی خبریں تو آرہی تھیں شاید یہی وجہ ہو کہ موت  کی تصدیق ہونے پر مجھ پر تھوڑی دیر کیلئے خاموشی کی کیفیت طاری ہوئی پھر دُنیاوی مشغولیت حاوی ہوگئی۔۔خواہش: خوش فہمی میں مبتلا کرتی ہے، اِسی سبب ایک پوسٹ لکھی  تھی کہ شاہ ویز کی قوتِ ارادی نے بیماری کو شکست دےدی ہے۔ یہ سمجھ نہ پایا  کہ شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا بھی ہے۔۔ یہ پوسٹ میں نے اُن کے علاج کے بعد ملک واپس آنے اور چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر لکھی تھی ۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے دُنیا اخبار میں جناب سید عاصم محمود کا مضمون " الوداع کمانڈر " پڑھا   تو آنکھیں بھر آئیں ۔۔ کل کی خاموشی کا دل پر چھایا غُبار اِس مضمون نے آج آنکھوں کے راستے نکال دیا۔۔۔
اگر آپ" معصوم چہرہ شاہویز" (ممکن ہے کہ یہ میری پسندیدگی کا تعصب ہو کہ اُنکا چہرہ مجھے معصوم اور بھولا لگتا ہے) کے بارے میں میری سابقہ پوسٹ نہیں پڑھی ہے تو آپ لنک پر جائیں پوسٹ میں شاہویز کے ساتھ عمران خان اور اُنکی سابقہ محبوبہ  کرسٹائن بیکر کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...