منجانب فکرستان: غوروفکر کے لئے
بہار کالونی، نیاآباد سے زیادہ دور نہیں تھا، بس کے ذریعے 10منٹ میں نیاآبادپہنچ
جاتا تھا،یہاں پر ابراہیم لائبریری والا ابراہیم ہمارا دوست تھا ،میں اور یعقوب ہم
دونوں وہاں رکھی بینچ پر بیٹھ کر باتیں کرتے ، تقریباً رات کے ساڑھے 10بجے
یعقوب مجھے بس اسٹاپ چھوڑنے آتا جوکہ 5 منٹ کی واک پر تھا،یہ تقریباً روز
کامعمول تھاکہ رات کا کھانا 8 بجے کھاکر نیاآباد لائبریری بینچ پر پہنچ جاتا یعقوب
بھی آجاتا ۔۔۔ اِس لائبریری میں رومانی،جاسوسی،تاریخی ناول اور مختلف قسم
ڈائجسٹ کرائے پر دیئے جاتے،میں نے ہر قسم کے ناول پڑھنے کی کوشش کی
تاہم تمام قسِم کے ناول مجھے بھاری پتھر محسوس ہوئے،،چوم کر چھوڑ دیے
کوئی ناول 20 پچیس صفحوں سے زیادہ نہیں پڑپایا،مجھے اُن پر حیرت ہوتی جو ناول
یہ پڑھتے۔۔ مجھے اس بات پر حیرت ہوتی کہ ہمارے دور میں دنیا بھر میں ناول
پڑھنے والوں کا گراف سب سے اُونچا تھا،زیادہ حیرت کی بات ہے کہ یہ گراف
آج کے دور میں بھی اسی طرح قائم ہے۔ مُجھے جون ایلیا کا انشاء ڈائجسٹ جس
میں سائنس داں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمان اور سائنس داں پرویز ہود بھائی
کے سائنسی مضامین کے علاوہ فلسفہ پر مضامین پڑھنے کو ملتے تھے،ممکن ہے کہ
آپ سمجھتے ہونگے کہ جون ایلیا شاعر ہیں تو مجھے شاید شاعری سے دلچسپی ہو گی
تو اسی بات بالکل بھی نہیں تاہم جون ایلیا کی انٹرویو میں کہی یہ بات آپ سے
شیئر کروں گا۔۔۔ جون ایلیا نے کہا کہ
"اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے، میں عجیب طرح ہنس
پڑا، میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو، ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں 😀۔
اس بے محل ہنسی کے بعد، میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا"
۔اب اجازت۔
یار سلامت، دوستی باقی/قسط #19کے لئے۔ انشاء اللہ
خالق کائنات ہمیشہ مہربان رہے ۔
No comments:
Post a Comment