Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Thursday, April 8, 2021

بازگشت

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے 
 دو  دسمبر 2011 کو  لکھی پوسٹ جس پر سینئر بلاگر( محترم جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب کا تبصرہ بھی موجود ہے) اس کے علاوہ اسی پوسٹ پر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کی ہوئی پیش گوئی کا لنک بھی شامل ہے ۔ 
درج بالا لنک  پوسٹ کی بازگشت  جہانگیر ترین کی بینکنگ
 کورٹ میں پیشی کے موقع پر سُنائی دی ۔ تجزیہ کار سلمان غنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ" جہانگیر ترین کے ساتھ جتنے ممبران عدالت کے باہر موجود تھے، پی ٹی آئی کے اندر اس سے کہیں زیادہ ممبران کی حمایت انھیں حاصل ہے"۔ جہانگیر ترین  کیس، عمران خان کے لئے ٹیسٹ کیس بھی ہے کہ  اس کیس کو  نہ صرف  پاکستان کی سیاسی جماعتیں بغور دیکھ رہی بلکہ  عوام بھی دیکھ رہی ہے کہ یہ کیس، کس کروٹ بیٹھے گا۔
۔اب اجازت۔
۔ رب مہربان رہے۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-56668785

 

Thursday, February 11, 2021

پیش گوئی میں : جھلکتا مطالعے کا عکس

 منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے 

٭ مائک پو مپیو نے کہا ٭ بل گیٹس نے کہا ٭ 
بی بی سی میں لکھنے والے ہوں کہ ڈی ڈبلیو میں لکھنے والے ،عنوانات کےطرز بدل گئے ہیں ۔ سچ ہے کہ
 ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں  
  بل گیٹس کے والد صاحب  کا کہنا تھا کہ اُن کا بیٹا بہت زیادہ پڑھاکو ہے۔ ذہن کا حال پیٹ جیسا ہے، پُر خوری سے خُمار طاری ہوجاتا ہے، زیادہ پڑھنا ذہن کی پُر خوری ہے۔ 
 جس قسم کے مطالعے شوق، ذہن پر اُسی قسم کا خمار طاری ہوگا۔
  مائک پومپیو اور بل گیٹس کے مطالعے کے شوق جُدا گانہ ہیں ۔
سابقہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی تعلیمات کا نتیجہ کہ وہ انتظامیہ کے انتہائی مذہبی ممبروں میں شامل رہے ہیں ، یہاں تک کہ کابینہ کے دیگر ممبروں کے ساتھ بائبل اسٹڈی گروپ میں بھی شریک رہے ہیں۔
پومپیو سمجھتے ہیں کہ خدا نے ٹرمپ کو اسرائیل کو ایران سے بچانے کے لئے بھیجا، وہ یہ بھی سمجھتے کہ مسٹر ٹرمپ کے اُٹھا نے والے اقدامات کے پیچھے خدائی مرضی شامل ہیں۔۔ 
بل گیٹس کی پڑھنے کی پُر خوری  کا خمار موصوف پر ایسا چڑھا کہ  2015 میں  یہ پیش گوئی کر بیٹھے کہ" انسانیت کو سب سے بڑا خطرہ جوہری جنگ سے نہیں بلکہ کسی وبائی وائرس سے لاحق ہے جو کروڑوں افراد کے لیے جان لیوا بن سکتا ہے"۔
 کرنا ایسا ہُوا کہ جنوری 2020 میں چین کے شہر 'ووہان' سے شروع ہونے والا ' کورونا وائرس ' عالمی وبا ' بنا تو لوگوں کو بل گیٹس کی پیش گوئی یاد آگئی  تاہم بعض نے اُن کی پیش گوئی کو  منفی معنی پہنائے، جس کا اظہار   اُنہوں  نے بڑے دُکھ کے ساتھ رائٹرز کو دئیے اپنے انٹرویو میں کیا۔
 بل گیٹس نے خود پر لگے الزام سازشی اور شیطان قرار دینے جانے پر حیرت کرتے ہوئے کہا کہ 'مگر کیا لوگ واقعی اس پر یقین رکھتے ہیں؟'
 انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں آئندہ برس کے لیے خود کو تعلیم یافتہ بنانا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ لوگوں کا طرز عمل کیسے بدلا جاتا ہے۔۔ 
اب اجازت ۔
 پوسٹ کی تیاری میں درج ذیل سائٹس سے مدد لی گئی ہے
https://www.bbc.com/news/world-us-canada-47670717 
https://www.reuters.com/article/us-health-coronavirus-gates-conspiracies-idUSKBN29W0Q3
 

 

Monday, November 9, 2020

۔9 نومبر۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے 
٭ آج9 نومبر علامہ محمد اقبال کی پیدائش کی تاریخ ہے ٭
سچّی بات یہ ہے کہ علامہ اقبال کی  فکر نے میری بصیرت میں اتنا اضافہ نہیں کیا  کہ جتنا کہ اضافہ  اُنکی ہمہ جہت فکر کے بارے میں  لکھے مضامین نے کیا،اِسکا بنیادی سبب  یہ ہے کہ دانشورانہ فکر کے بارے میں رائے بھی وہی  شخص دے سکتا ہے کہ جو کہ صاحبِ بصیرت ہو۔یہ مضامین چاہے علامہ کی فکر کی موافقت میں  ہوں میں کہ مُخالفت میں، پڑھنے والوں کو اِن میں بصیرت ملتی ہے کیونکہ یہ مضامین علامہ کی شاعری و خُطبات میں موجود  جہتوں کو حوالہ  بنا کر  لکھے گئے ہیں، اِن مضامین میں میرے خیال کے موجب دانشوروں نے گویا علم و بصیرت کے دریا  بہائے ہیں ۔۔۔ اِس بہتے  دریا میں سے میں نے بھی  جہاں تک ممکن ہوسکا اپنی علم کی پیاس بجھائی ہے۔۔
دانشوروں نے علامہ کی ہمہ جہت فکر  کے حوالے سے اِس قدر کہ زیادہ مضامین لکھے گئے  ہیں کہ شاید اسکی  مثال  برصغیر  میں ملنا مشکل ہے ۔
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا / نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔
۔ اب اجازت ۔
رب   مہربان  رہے  }
 


Saturday, August 22, 2020

چار خودکشیاں اور ایک طلاق ۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے
 ٹوئٹر پر میری پوسٹ و شیئرنگ دیکھنے لئے
 دُنیا میں آٹھ ارب کے قریب انسان رہتے ہیں، فطرت کی حکمتی ( میکنیزم) نے اِن تمام انسانی چہروں کو قابلِ شناخت بنایا ہے ۔۔۔ یہ بھی کہ ہر فرد اپنی سی منفرد سوچ کا حامل ہے تاہم اِن قابلِ شناخت لوگوں کے ذہنوں میں کیا کُچھ چل رہا ہوتا ہے، معلوم نہیں ہو پاتا ، دوست احباب، عزیز و اقارب حتاکہ گھر والوں تک کو یقین کرنا مشکل ہوتا کہ  ہمارے بیٹے ہی نے  مسجد،چرچ،بار کلب،اسکول وغیرہ میں فائرنگ کرکے لوگوں کو  ہلاک کیا  یا شوہر نے بیوی کو،دوست نے دوست کو ہلاک کیا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔  
 اِن ذہنوں میں کیا چلتا رہا کہ اداکار سوشانت سنگھ،سمیر شرما،سشیل گودا اور اداکارہ انوپما پھاٹک نے خودکشی کرلی ۔۔
اداکارہ حنادلپزیر نے اداکارہ عفت عمر شو میں اپنی شادی اور طلاق بابت  بتایا کہ اُنکی پسند کی شادی ہوئی تھی اور یہ کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا اور یہ کہ میرا شوہر کوئی بُراانسان نہیں تھا تاہم شوہر نے بلاوجہ غصے میں آکر مُجھے طلاق دیدی۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اِس وقت " قابل اجمیری " کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ 
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
اب اجازت 
رب مہربان رہے
  

Thursday, June 18, 2020


Wednesday, April 29, 2020

گھڑی 2 گھڑی کا میلہ ہے/ جوآیا ہے اُسکو جانا ہے - - -

بولی وڈ اداکار عرفان خان 53 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ - Home | Facebook
منجانب فکرستان:عرفان خان کے  " مذہبی " خیالات 
 بیماری سے پہلے بیماری کے بعد 
 دیکھیں غوروفکرکیلے
بھارتی اداکار عرفان خان انتقال کر گئے - Pakistan's First Citizen ...
انسانی بیداری شعور نے جب "کائنات اور اپنی ذات" کا سوال اُٹھایا تو وہ دو 2 رویا شاہراہ" دل و دماغ "پر گامزن ہوُا۔
"دل"نے اپنی شاہراہ کو مختلف مذاہب فرقوں سے سجایا تو ''دماغ'' نے اپنی شاہراہ کو حیران کُن ایجادات سے سجایا،
دُنیا گلوبل ولیج بن گئی تو جان پایا کہ ''جس خطہ زمین اورجس گھرانے میں پیدا ہوا '' ،وہاں کا مذہبی ماحول اِس یقین کو پکّا کرتا ہے کہ دُنیا میں صرف  اُسی کا مذہب یا فرقہ ہی سچّا ہے کہ بخشش بھی صرف  اِسی مذہب یا فرقے کے پیروکاروں کی ہوگی اور جنّت کے حقدار بھی صرف یہی ٹھرائے جائیں گے ۔۔اِس تمہید کے بعد آئیں جانیں کہ مذہب کے بارے میں عرفان خان کا نقطہ نظر کیا ہے؟۔۔۔۔
''بیماری سے پہلے عرفان کے "خیالات "
 ہر فرد کو اپنے لئے، اپنے مذہب کو تلاش کرنا چاہئے۔
 دوسرے کی طرف سے بتایا گیا مذہب کوئی مذہب نہیں ہوتا اور جو ایمان لائے ہے وہ صرف اپنی تسلی کے لئے  مانتے ہے۔
 "ہر مذہب میں موت کے بعد کی کہانی بتائی گئی ہے اور ہر مذہبی شخص کو لگتا ہے کہ اس کے مذہب نے صحیح کہا ہے تو دیکھ لیجئے دنیا کتنے بڑے بھلاوے میں جی رہی ہے."۔۔۔
''بیماری کے بعد کے "خیالات'' 



 عرفان خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب انہیں پہلی بار پتہ چلا کہ انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے اور وہ ہر وقت یہی سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہو پائیں گے یا نہیں۔عرفان نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی التجا کی۔  
عرفان خان نے تسلیم کیا کہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں وہ بہت ڈر گئے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے سامنے زندگی کا نیا نظریہ آیا جو پہلے سے بہتر ہے۔۔اس لئے بیماری کو غنیمت قرار دیتے ہوئے اقرار کیا کہ اگر انہیں بیماری نہ ہوتی تو وہ دنیا اور زندگی کو اتنا جلد اس طرح نہیں سمجھ پاتے۔
ان کہنا ہے کہ بیماری کے چند ماہ میں انہوں نے 30 سالہ زندگی کا تجربہ کرلیا، یہ تجربہ انہیں میڈیٹیشن کا علم حاصل کرنے سے بھی نہ ملتا ۔۔۔
 "عرفان کی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام لوگ قدرت پر یقین رکھیں کیوں کہ اس سے زیادہ قابل بھروسہ اور کوئی چیز نہیں

عرفان خان نے اپنی پوسٹ میں آسٹرین ناول نگار اور شاعر رائنر ماریہ رلکے کی انتہائی جذباتی نظم لکھی کہ
"خدا ہم سب سے بات کرتا ہے، جیسا کہ وہ ہم سب کو بناتا ہے، پھر رات کی تاریکی میں خاموشی سے وہ ہمارے ساتھ چلتا ہے، اور ہم اس سفر میں کچھ الفاظ آہستہ آہستہ سن لیتے ہیں

عرفان خان کہنا کہ "یہاں کچھ بھی مستحکم و مضبوط نہیں" تاہم خود کو کبھی شکست خوردہ نہ سمجھو اور آگے بڑھتے رہو، یہاں خوبصورتی بھی ہے، دہشت بھی ہے، یہاں ایک شعلے کی طرح 
زندگی گزارو اور چمکنا سیکھو"۔
__________________________________
https://twitter.com/sunday77




پوسٹ کی تیاری میں درج ذیل سائیٹس کا شُکریہ ۔۔۔۔
http://www.bbc.com/hindi/entertainment-39771377
www.dawnnews.tv/news/1084335/?preview
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }۔

Sunday, November 17, 2019

دماغ /ذہن کی "متحرک کھوجی فعلیت" کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے ؟

 منجانب فکرستان
کاسہِ سر میں رکھا، جسم کا اہم ترین عضو "دماغ" جِس کی"متحرک کھوجی فعلیت" انسان کو کسی طور چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔
 خیال میں آنے  کی دیر تھی کہ "مادہ"کس چیز سے بنا ہے؟بس پھر کیا تھا مادہ کو کوٹا پیسا جزوِلایتجزیٰ (ایٹم) کو نکالا۔۔خوش ہوگیا کہ میدان مار لیا، کائناتی بنیادی بلڈنگ بلاک ہاتھ آگیا۔
جمعہ جمعہ آٹھ دن گزرنے نہ پائے تھےکہ بے چین کھوجی فعلیات نے پھر سر اُٹھایا ۔۔ہتھوڑا لیکر ایٹم کو توڑنے کے جتن کرنے لگا
 ایٹم ٹوٹا تو جانا کہ انسان سمیت تمام چیزیں بنیادی طور پر اپ کوارک، ڈاؤن کوارک اور الیکٹران ذروں سے مل کر بنی ہیں،گویا یہ ہی تین ذرے کائناتی بلڈنگ بلاک ہیں۔کیا اس سے دماغی کھوجی طبعیت کو کُچھ چین آیا ؟
 چین کیسا ؟ اُڑتا ہُوا یہ خیال ذہن میں آن گُھسا  کہ مقناطیس کو مخالف پولزوں کے قریب لانے پر کیوں محسوس ہوتا ہے کوئی نادیدہ (لیکن) حقیقی فزیکلی قوت موجود ہے جو مخالف پولز کو  دور دھکیل دیتی ہے، مائیکل فیراڈے نے اس قوت کے بارے یہ تصور  دیا تھا کہ کہ الیکٹرک ، میگنیٹک فیلڈ  ہر سو پھیلا ہوا ، میکسویل نے کہا، روشنی کا تعلق بھی اسی فیلڈ سے ہی ہے۔یوں "فیڈ" نے بھی کائنات پر اپنی حُکمرانی کا دعویٰ ٹھوکا۔
تین ذرات، جن کا پہلے ذکر آیا،ان کے علاوہ چوتھا پارٹیکل نیوٹرینو ہے۔ جب سے آپ نے یہ آرٹیکل پڑھنا شروع کیا ہے،کھربوں نیوٹرینو آپ کے جسم کے آرپار ہو کر گزر چکے ہیں۔ 
قدرت میں جتنے بھی پارٹیکل ہیں، ان کی دو اور کاپیاں بھی پائی جاتی ہیں جو ویسی ہی خصوصیات رکھتی ہیں، صرف ان سے بھاری ہیں۔یوں ذرات والے فیلڈز کی تعداد بارہ بن جاتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ 
الیکٹران 
موؤن 
ٹاؤ 
الیکٹران نیوٹرینو 
موؤن نیوٹرینو 
ٹاؤ نیوٹرینو 
اپ کوارک 
سٹرینج کوارک 
بوٹم کوارک 
ڈاؤن کوارک 
چارم کوارک 
ٹاپ کوارک 
اب دماغ /ذہن کی "متحرک کھوجی فعلیت" کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ ہر بنیادی ذرہ، اپنی دو بھاری کاپیاں کیوں رکھتا ہے؟ پوسٹ کی تیاری میں مختلف سائیٹس کی مدد شامل ہے ۔۔
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
اب اجازت دیں
رب مہربان رہے

Tuesday, August 20, 2019

چار 4 بت ؟ ؟ ؟ ؟۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے
 بھارتی وزیرتعلیم رمیش پوکھرل،پوسٹ گریجویشن اور چالیس کتابوں کےمصنف ہیں-
 موصوف کا دہلی میں سائنس دانوں، ماہرین تعلیم سے خطاب ہو کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے کنووکیشن سے خطاب، وزیر موصوف مذہبی یقینی دُنیا میں رہتے ہیں ۔ 
 ہندوں کا عقیدہ ہے کہ ویدوں کی سنسکرت زبان مہان رشیوں پر بزریعہ الہام ودیعت کی گئی اسلئیے ہراعتبار سے ابدی،مقدس اور سچّی ہے جسے وزیر موصوف سائنسی زبان بھی کہتے ہیں، زمانہ صدیوں کی مسافت کیوں نہ طے کرلے مذہبی عقیدوں اور مذہبی زبان کو کوئی گزند نہیں پُہنچ سکتی۔۔
جتنی بھی سائنسی ایجادیں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب پہلے سے ویدوں میں سنسکرت زبان میں لکھی ہوئیں ہیں،
اسی سبب اپنے خطاب میں وزیرموصوف نے اعلیٰ ترین سائنسی تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کی کہ ”ہم سنسکرت کی صلاحیت ثابت نہیں کر پائے، اس لیے ہم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ میں آئی آئی ٹی اور این آئی ٹی کے وائس چانسلروں سے اپیل کرتا ہوں کہہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ سنسکرت سے زیادہ سائنسی زبان کوئی نہیں ہے۔"-- 
ایسے میں مُجھے سائنس کے امام جناب فرانسس بیکن کے چار بت یاد آگئے آپ بھی پڑھ لیں اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔ 
http://www.sirbacon.org/links/4idols.htm
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3-%D8%AF%D8%A7%D9%86-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA/a-50070040
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
{  رب   مہربان  رہے  }  

Monday, July 15, 2019

دل کی زبان، ہونٹوں سے اداہوئی

 منجانب فکرستان 
 کئی سالوں تک لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی سنگر الکایاگنک ایک عرصےسے گمنامی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ 
 بی بی سی  سے انٹرویو میں بتایا کہ آجکل موسیقی کی کوالٹی اچھی نہیں ہے اور دُھنوں میں بھی میلوڈی کی کمی ہے۔ 
 تاہم الکا کےاِس"سچ"پر الکا کے مخالف یہ "ٹیگ" لگا سکتے ہیں کہ الکا کو " گانےنہیں مل رہے ہیں"
کیوں کہ زمانہ اُس فیز میں داخل ہو چُکا ہے کہ جہاں " جُھوٹ سچ "باہم" شیر وشکر" ہو گئے ہیں۔
 14جولائیماسٹرآف میلوڈی"مدن موہن" کی وفات کا دن ہے،بیٹے نے یہ واقعہ شیئر کیا۔ 
"ایک دن پوری فیملی کارمیں جا رہی تھی ہم دونوں بھائی ڈیڈ سے کہہ رہے تھے کار اور تیز چلائیں۔۔ کہ اتنے میں سائرن بجاتی ٹریفک کار پیچھے سے آتی محسوس ہوئی مدن جی نے کار روک دی۔۔
 انسپکٹر نے کہا "میں نے آپ کے پیچھے سائرن بجاتی اسلئے لگائی کہ میں نے آج ہی آپ کا یہ گانا سُنا ہے" آپکی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مُجھے
" کمال گانا ہے " اور ہاتھ ہلاتے چلے گئے۔۔
ڈیڈ نے ماتاجی سے کہا "دِیکھا یہ ہے میرا ایوارڈ" یوں دل کی زبان، ہونٹوں سے ادا ہوئی
آپ نے سابقہ پوسٹ میں مدن جی کو ایوارڈ نہ ملنے کی  تفصیل پڑھ لی ہوگی۔
پوسٹ کی تیاری میں ذیل سائیٹس سے مدد لی ہے ۔
_____________________________________
/
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }