Monday, September 16, 2013

" غور طلب بات "

 منجانب فکرستان:ایس ایم ظفر ؛ اقتباس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئی ایم ایف سے 6.7  بلین ڈالر قرضے کی منظوری سے حکومتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔۔ اب 12 ارب ڈالر سے ایک نیا شہر تعمیر ہوگا ۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اِس قرض کو ادا کون کرے گا ؟؟ جواب ہے کہ ہمیشہ کی طرح تنخواہ دار مڈل کلاس اور غریب طبقہ ادا کرے گا۔۔ چونکہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ  تا  ہیلری کلنٹن  تک کہہ چُکی ہیں کہ پاکستان کے جاگیر دار اور امیر طبقے کی ایک بڑی تعداد ٹیکس نہیں دیتی ہے۔۔پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچّے کو 86 ہزار روپئے کا قرض ادا کرنا ہے ۔۔غریب کا بچّہ یہ قرض کیسے ادا کرے گا ؟؟
محترم جناب ایس ایم ظفر (سابق وزیر قانون) کی کتاب  سے بمع شُکریے کے مختصر اقتباس پیش ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
" اب ہمارے یہاں کوئی ادارہ ایسا دِکھائی نہیں دیتا جسے کرپشن نے مفلوج نہ کردیا ہو ۔۔جس طرح ایڈز کے وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سو بھیس بدل لیتا ہے اور نئے طریقوں سے اچانک حملہ کرتا ہے ،اسی طرح کرپشن نے بھی کئی رنگ بدلے ہیں نئے نئے انداز میں آگے بڑھی ہے " ۔کتاب کا نام ( پاکستان بنام کرپشن عوام کی عدالت میں صفحہ نمبر 10۔
  ۔درج ذیل لنک پر 15 ستمبر 2013 محترمہ انجم نیاز صاحبہ کا لکھا  کالم پڑھنے کے قابل ہے جو نئے تعمیرِ ہونے والے شہر پر روشنی ڈالتا ہے۔۔ اب  مجھے اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 http://e.dunya.com.pk/colum.php?date=2013-09-15&edition=LHR&id=16228_80042217
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, September 9, 2013

جاری رہے گی !!!۔

 منجانب فکرستان: ھیری ؛ زرداری ؛ مائیں: ولیم جیمز؛ سائنس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آسٹریلیا کےانتخابات میں ھیری (مگر مچھ) نے جب اپوزیشن لیڈر ٹونی کی تصویر کو اپنے منہ  میں لیا تو ٹونی کے سپوٹروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،گویا ٹونی کی جیت یقینی ہوگئی۔۔ہیری پر اعتقاد  کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض ووٹروں نے اخباری نمائندوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ چونکہ ہیری نے ٹونی کو منتخب کیا ہے اسلئیے ہم بھی ٹونی کوئی ہی ووٹ دیں گے۔۔بالآخر ہیری کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی ٹونی جیت گئے ۔۔۔ہیری زندہ باد
زرداری صاحب کے 5 سال تک بحثیت صدر رہ پانے کے پیچھے پیر اعجاز چوہدری  کے 5 سالہ ٹھیکے کا نام لیا جاتا ہے۔۔۔یہ بھی خبر آئی تھی کہ پیر صاحب تو مزید دو تین سال ٹھیکے میں اضافہ کرنا چاہتے تھے لیکن زرداری صا حب تیار نہیں ہوئے۔۔اور یہ بھی کہ الیکشن کے دوران پیر صاحب کے مشورے پر سمندر کے قریب رہنے کی وجہ سے سندھ میں حکومت بنانے میں پی پی کامیاب ہوئی ۔۔ورنہ یہ بھی ممکن نہ ہوتا ۔۔ پیر اعجاز زندہ باد
امریکی صدر رونالڈ ریگن بھی ایسی باتوں پر یقین رکھتے تھے ۔کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کوئی کام  کرنے سے پہلے پیش گوئی کرنے والوں کی رائے لیتے تھے۔۔ اور جو رائے وہ  دیتے تھے اُسی پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔۔۔
بالی ووڈ اداکاراور اداکارائیں فلموں کی کا میابی کیلئے مندروں، مزاروں میں جاکر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔۔  
مائیں فریاد کرتی ہیں کے بیٹے کے سسرالیوں نے بیٹوں پر ایسا کّچھ کرادیا ہے کہ۔۔ ماں کو بھول کر بیوی کا ہوگیا ہے۔۔
میرے جاننے والے کی نوکری چھوٹ گئی ہے ، ملاقات پر کہنے لگا نوکری ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے۔۔ لگتا ہے کسی نے کچھ کرادیا ہے (موصوف گریجویٹ ہیں) ۔۔
شادیوں میں رکاوٹ اور کاروبار میں بندشوں کا رونا تو ہمیشہ کا ہے ۔۔۔
 اپنے اطراف ایسی ہی باتیں دیکھ کر، سنُ کر، اور پڑھ کر۔۔ مشہور امریکی نفسیات داں پروفیسر ولیم جیمز کی کہی ہوئی بات پر یقین سا آنے لگتا ہے ۔۔۔  جو کہ میں نے کسی سے سُنی نہیں۔۔۔۔ پڑھی ہے۔۔ وہ یہ ہے کہ" انسان کتناہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوجائے ، سائنس کچھ بھی کہتی رہے۔۔۔آخری دور کے انسانوں تک ضعیف الاعتقادی جاری رہے گی"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔ آپکا بُہت شُکریہ 
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

Friday, September 6, 2013

نئے دور کے نئے رشتے

منجانب فکرستان: شاہ رخ خان پھوپھا جان 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بملا نے مُسکرا تے ہوئے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی سے پوچّھا: تمہارا نام کیا ہے ؟ شاید وہ بھی اسی انتظار میں تھی، جھٹ سے جواب دیا: پونم    
بملا تعریف کرتے ہوئے : واہ ، بڑا ہی پیارا نام ہے ، کس نے رکھا ہے ؟ 
پونم مسکراتے ہوئے : میری حیاتیاتی مما نے یہ نام رکھا ہے 
بملا چونکتے ہوئے : حیاتیاتی مما، میں کچھ سمجھی نہیں ۔۔۔( رشتوں کے حوالے سے حیرت زدہ کرنے  کیلئے پونم کو ایک اچّھا شکار مل گیا )۔
پونم نے مسکراتے ہوئے کہا : میری جینیاتی مما کو ڈاکٹروں نے اولاد کے نہ ہونے کا اندیہ دیا تو مما پریشان ہوگئیں پھر مما نے میری پیدائش( سروگیٹ مادر) کیلئے اپنی بہن کو تیار کیا یوں میری جینیاتی خالہ میری حیاتیاتی مما ہیں اور میری جینیاتی مما میری حیاتیاتی خالہ بھی ہیں ۔۔۔اب تو بملا کا سر۔۔مارے حیرت کے چکرانے لگا۔۔۔
پونم محظوظ ہوتے ہو ئے : چلو یہ بات میں شاہ رخ خان کے حوالے سے سمجھاتی ہوں شاہ رخ خان کی بیوی گوری نے اپنے بچّے کی پیدائش (سروگیٹ مادر) کیلئے اپنی بھابی کو تیار کیا یوںگوری کی بھابی اُس بچّے کی حیاتیاتی ماں ہیں  جبکہ گوری بچّے  کی جینیاتی ماں اور حیاتیاتی پھوپھی ہیں  اسی طرح شارخ خان اُس بچّے کے جینیاتی باپ اور حیاتیاتی پھوپھا  ہیں ۔۔۔پونم نت نئے رشتوں کے حوالے دیکر بملا کو مزید حیرت زدہ کرنے کے فُل موڈ میں تھی کہ اتنے میں انٹرویو کیلئے اُسکا  بُلاوا  آگیا  یوں  وہ بملا کو حیرت زدہ چھوڑ کو انٹرویو دینے چلی گئی ۔۔۔
 بملا کچھ سوچتے ہوئے من ہی،  من میں کہنے لگی : ھے بھگوان۔۔۔یہ سب کیا ہورہا ہے  ۔۔۔کیا یہ سب کّچھ تیری مرضی سے ہورہا ہے ؟؟؟   
نوٹ: نئے رشتوں کو جسطرح میں سمجھ پایا ہوں اُسی طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے اگر غلط ہیں  تو بزریعے تبصرہ نشان دہی کریں نوازش ہوگی۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

Monday, September 2, 2013

آشرم اور شرم

 منجانب فکرستان:: جنات : منتر : 5منٹ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارت کی فضاؤں میں ایسی کیا جِنس زدگی شامل ہوگئی ہے کہ جس کے سامنے اخلاق، مذہب، قانون ،سب بے بس نظر آتے ہیں ، اِسی لیے آئے دن نت نئے اسکینڈل سامنے آتے ہیں،جس میں عام آدمی تا ارکانِ پارلیمنٹ ،سنت ،سادھو،باپو تک ملوث پائے جاتے ہیں ۔۔
حالیہ اسکینڈل ایک ایسے 72 سالہ آسارام باپو  کا ہے کہ جِس کے لاکھوں پیروکار اورسیکڑوں آشرم تو ہیں، لیکن شرم نام کو نہیں ہے۔۔۔۔ڈوئچے ویلے سائٹ پر شائع رپورٹ کے مُطابق : 
"آسارام نے بچی کے والدین کو بتایا کہ بچی پر جنات کا سایہ ہے، لہذا اسے بچی سے اکیلے میں ملنے کی ضرورت ہے۔ اسکے بعد وہ لڑکی اور اس کے والدین کو ایک جھونپڑی کی طرف لے گیا اور والدین سے جھونپڑی کے باہر منتر پڑھنے کو کہا اور لڑکی کو اندر کمرے میں لے گیا اور وہاں مبینہ طور پر لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا"۔۔
زیادہ سے زیادہ 5 منٹ کے اِس عمل کیلئے سادھو نے: اپنی غیرت ۔۔مذہب کی تعلیمات۔۔ قانون کا احترام۔۔ عظمتِ انسانیت ۔۔اور اپنے لاکھوں پیروکاروں کا اعتماد سب کُچھ خاک میں ملا دیا ۔۔۔ 
خبر کی مزید تفصیل اگر پڑھنا چاہئیں تو لِنک پر جائیں ،اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, August 29, 2013

محبت کی مثلث

 منجانب فکرستان: خوار ہونا:باچھیں کھِلنا: چار بچّے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرد کو عورت سے محبت ہوگئی،عورت کو بھی ہوگئی ۔۔اِسی عورت سے ایک اور مرد کو محبت ہوگئی۔۔عورت کو اِس دوسرے مرد سے بھی محبت ہو گئی ۔۔ محبت  بھی ایسی کہ خاتون دونوں  میں سے کسی ایک کو چھوڑنے تیار نہیں ۔۔ کسی فیصلے پر پہنچنے  کیلئے صورتِ حال اتنی پیچیدہ ہوگئی کہ  دن پہ دن گذرتے چلے گئے یہاں تک 4 سال کا عرصہ گُذر گیا۔
تینوں نے سوچا کہ بہت خوار ہولئیے  ہیں اب اِس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہئیے ۔۔تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔۔ تینوں کی نیت صاف تھی اور اِس بات پر فوکس تھی کہ حل ضرور نکالنا ہے، یوں حل نکانے میں کامیاب ہوگئے  کہ قانونی دستاویز تیار کریں گے کہ دونوں مرد خاتون سے شادی کریں گے اور باری باری خاتون کے ساتھ رہیں گے اور ہونے والے  بچوں کے باپ دونوں مرد کہلائیں گے ۔۔۔
یہ حل اُنہیں ایسا سُوجھا کہ تینوں کی باچھیں کِھل گئیں ۔۔۔ البتہ افسوس اس بات کا ہُوا کہ یہی فیصلہ چار سال پہلے کر لیتے تو اب تک چار بچوں کے باپ  ہوتے۔۔  
درج بالا کہانی درج ذیل لنک پر حقیقی خبر سے متاثر ہوکر لکھی گئی ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

میرٹ قانونِ قدرت

 منجانب فکرستان: معیار؛ ثبوت؛ ناسور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عظیم درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فنڈ کی خاطر میرٹ کو نظرانداز کرکے کچھ داخلے دئیے گئے تھے،نتیجاً  ادارہ کا معیار گِرگیا۔۔ رپورٹ کے مطابق امیروں کے یہ نا اہل بچّے درسگاہ کی بدنامی کا باعث بنے ہیں (ایک خبر)
پاکستان اِسی قانونِ قدرت کی مار جَھیل رہا ہے، میرٹ کہ جگہ ہمارے بندے ہیں کہہ کر۔ ۔ نا اہل  لوگوں سے ادارے بھر دئیے گئے  ہیں ،اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نگراں حکومت جس کا کام صرف الیکشن کرانا تھا ، اُسنے بھی موقع کو غنیمت جان کر تھوک کے بھاؤ سے اداروں میں اپنے لوگوں کو لگایا تھا۔۔ 
جس طرح آکسفورڈ درسگاہ نااہل بچوں کے داخلوں سے بدنام ہوئی ہے ۔۔(خبر کی تفصیل آخر میں لنک پر ہے)  اسی طرح پاکستان کے اداروں میں نا اہل لوگوں کی بھرتیوں نے پاکستانی ادراوں کو تباہ کردیا ہے۔۔
 ثبوت: کئی سالوں سے کراچی کے حالات کو کنٹرول نہ کر پانا، ڈی آئی خان جیل کا واقعہ، کرپشن کا بڑھتا ہُوا ناسور اور جرائم کا تیزی سے بڑھتا ہُوا گراف کیا کم ثبوت ہیں ؟؟؟ 
گذشتہ 5 سالوں میں۔۔ قائم علی شاہ کی کار کردگی کیسی رہی ہے، سب کے سامنے تھی ۔۔اِسکے باؤجود تعلقات کی بنیاد پر اُنہیں آئندہسالوں کیلئے وزیراعلیٰ بنادیا  گیا۔۔۔ کر لو جو کرنا ہے !! ۔
میرٹ کا قانون انسانوں کا نہیں قدرت کا بنایا ہُوا ہے۔۔ اس لیے قدرت نے قانون توڑنے والوں کیلئے اِس میں سزا بھی رکھی ہوئی ہے۔ ۔ ۔سزا کا ثبوت: آکسفورڈ درسگاہ والی خبر اور پاکستان آپکے سامنے ہیں۔۔۔
میرٹ کا تناسبی  معیار ہی کسی ملک کی ترقی /تنزلی کا گراف ہوتا ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Tuesday, August 27, 2013

کوؤں کی ذہانت !!!۔

منجانب فکرستان: ذہانت؛آسمان؛ مثالیں: دوستی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپنے کوّے کی ذہانت کی علامتی کہانی "پیاسا کوّا " پڑھی ہوگی۔۔شاید آپنے کوّے کی وہ ذہانت بھی دیکھی ہو کہ جس میں وہ تنکوں کی مدد سے درختوں کے تنوں کے سوراخوں میں سے کیڑے نکال کر کھاتا ہے۔۔ اور شاید یہ بھی دیکھا ہو کہ گِدھوں کے دُموں میں ٹھونگیں مارکر گوشت کا ٹکڑا لے اُڑتا ہے۔۔تاہم ممکن ہے کوّے کی جس ذہانت کا ذکر میں کر رہا ہوں وہ شاید آپکی نظر سے نہ گُذری ہوں ۔۔
ہوتا یہ ہے کہ جب میں آزاد کبوتروں (جنگلی کبوتروں) کو باجرہ ڈالتا ہوں تو کچھ دیر بعد ایک دو کوّے بھی آجاتے ہیں۔۔اور پھر کبوتروں کو بھگا کر باجرے کے دانے منہ میں بھر لیتے ہیں اور پھر آسمان کی طرف منہ کرکے باجرے کے دانے اپنے پیٹ میں اُتار لیتے ہیں ۔کیا آپنے کبھی کوّؤں کو باجرہ کھاتے دیکھا ہے ؟؟
اِس کے علاوہ کوّؤں کے ذہانت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ سوکھی روٹی کا ٹکڑا کہیں سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور پھر  پانی کے اُس برتن میں ڈال دیتے  ہیں جو پرندوں کے پینے کیلئے رکھا  ہُوا ہے۔۔ پھر اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں ۔اور کچھ دیر بعد آکر جب سوکھی روٹی کاٹکڑا پانی میں پڑے پڑے نرم ہوجاتا ہے تو مزے لیکر کھاتے ہیں۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"تراشہ" بشکریہ  جنگ اخبار 
 واقعی کوّے بُہت ذہین ہوتے ہیں۔ ۔ آپکا کیا خیال ہے؟؟۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         



Sunday, August 25, 2013

زمرد ہو کہ سکندر !!۔

 منجانب فکرستان:لو لیٹر: معاوضہ: ڈاکومینٹری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈرامہ سیریز "ساس بھی کبھی بہو تھی " سے شہرت پانے والی فنکارہ سمرتی ایرانی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ :
بیوی شوہر کی آدھی ماں ہوتی ہے۔ ۔ یہ جملہ یوں یاد آیا کہ :مشہور مصنف سارتر کی لائف پارٹنر  مصنفہ سیمون ڈی بیووئیر (دونوں نے اکھٹے زندگی گُذاری لیکن شادی کا ٹھپہ نہیں لگوایا) نے اپنے لو لیٹر میں لکھا کہ:
 میرے پیارے محبوب : میں تمہاری اچّھی طرح دیکھ بھال کروں گی ۔ ۔ 
 سیمون ڈی کے اس جملے میں مامتا کی جھلک صاف نظر آرہی ہے ۔۔ اب سمرتی ایرانی کے جملے کا موازنہ کریں کہ : بیوی شوہر کی آدھی ماں ہوتی ہے ۔۔
عورتوں میں مامتا کا جذبہ ہوتا ہےاس سے انکار نہیں ۔۔ لیکن  کیا مردوں میں بھی سدا بچّہ رہنے  اور مامتا کی طلب رہتی ہے ؟؟؟ اس سلسلے میں جاپان کی ایک ڈاکومینٹری فلم دیکھی تھی کہ جس میں دکھایا گیا تھا کہ وہاں ایسے ادارے قائم  ہیں کہ جہاں معاوضہ کے عیوض  مردوں سے عورتیں مامتا بھرا سلوک (اداکاری) کرتی ہیں جس سے وہ بُہت سکون حاصل کرتے ہیں ۔۔یہاں تک دکھایا گیا ہے کہ بعض مرد حضرات بچّوں والی چوسنی چوسنا  تک پسند کرتے ہیں ۔۔
 سچ ہے کہ :ہر فرد اپنے آپ میں ایک منفرد جہاں لئے پھر رہا ہے چاہے وہ۔۔۔زمرد ہو یا کہ سکندر۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں،آپکا بُہت شُکریہ۔لولیٹر کا لنک۔http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=20587
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Friday, August 23, 2013

اعتراف

منجانب فکرستان:اکثریت: احمقانہ جراءت 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واشنگٹن کی ایک فوجی عدالت میں بیان دیتے ہوئے امریکی فوجی سارجنٹ  رابرٹ بیلز نے کہا " میں سچے دل سے تمام خاندانوں سے معذرت خواں ہوں جن کے پیارے لوگوں کو میں نے چھین لیا ۔میں نے ان کے خاندان کے لوگوں کو قتل کیا مزید کہنا تھا کہ " جو کچھ میں نے کیا وہ خوف کے پردے کے پیچھے بزدلی کا اقدام تھا جوانتہائی فضول اور احمقانہ جراءت تھی" ۔۔
امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز نے مارچ 2012 میں افغان صوبہ قندھار میں رات کے وقت مختلف گھروں پر حملے کرکے 16 افراد کو قتل کردیا تھا جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی ۔۔۔
خبر کی مکمل تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر جائیں ۔۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Wednesday, August 21, 2013

" خطِ غُربت "

 منجانب فکرستان ::10 فیصد: آثار: پاکستان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارتی حکومت 80کروڑ افراد کو چاول 3، گندم 2 اور باجرہ ایک روپئے کلو قیمت پر فراہم کرے گی (ایک خبر)
 خبر پڑھنے پر دماغ نے اِس خیال کو کِلک کیا کہ:
 سیاستدانوں کی نااہلی اور کرپشن کے طُفیل خطِ غربت سے نیچے افراد کا اضافہ ہونا بھی سیاستدانوں کے مفاد میں ہے، چونکہ الیکشن کے قریب غُربت کے مارے لوگوں کو لُبھانا آسان ہوتا ہے، مُلک میں غریبوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو اُتنا اچّھا ہے۔ ۔
 بھارت میں الیکشن ہونے والے ہیں، 80 کروڑ غریب ووٹروں کو سستے اناج کے بہانے لُبھایا جا رہا ہے ۔ ۔ جیسے پاکستانی الیکشن میں کسی نے انکم سپورٹ تو کسی نے لیپ ٹاپ اور میٹرو بس کے زریعے غریبوں کو لُبھایا تھا۔ ۔ ۔               
بھارت میں 70فیصد اور پاکستان میں 60فیصد عوام  خطِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گُذار رہے ہیں،پاکستان میں یہ جو 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ،اسکی وجہ فوجی حکومتیں (ایوب خان،پرویز مشرف دور)ہیں، اگر پاکستان میں بھی 66 سال تک سیاسی حکومتیں ہوتیں تو پاکستان خطِ  غربت افراد کے معاملے میں  بھارت کو پیچھے چھوڑ دیتا۔ ۔
 اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان  کی سابقہ سیاسی حکومت نے افراد کی ایک بڑی تعداد  کو خطِ غربت کے نیچے پُہنچایا ہے۔ ۔ امید واثق ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے۔ ۔ ۔  کم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی افراد کو خطِ غُربت کے نیچے دھکیل دے گی ۔ ۔ ۔جس کےآثار ابھی سے نمایاں ہونے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ اب مُجھے اجازت دیں ۔ 
"آپ کا بُہت شُکریہ"  
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    


Monday, August 19, 2013

بیچارہ کیسے ثابت کرے گا ؟؟

منجانب فکرستان:: مولانا فضل الرحمان:منشور: نئی اصطلاح
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مصری عوام کے ٹکروں پر پلنے والی مصری فوج کے جنرل جناب عبدالفتح اپنی نہتی عوام کو تشدد کے زریعے فتح کرنا چاہتے ہیں۔ اور چور مچائے شور کے مصداق جنرل صاحب پوری دُنیا کی آنکھوں میں ناقابلِ قبول دُھول جھونکنے کی کوشش میں  یہ شرم ناک لطیفہ سُنا  رہے ہیں کہ فوج  مزید تشدد برداشت نہیں کرے گی،(گویا اب تک فوج تشدد برداشت کرتی رہی ہے) ۔ ۔ جنرل صاحب کے اِس بے شرمانہ لطیفے پر داد نہ دینا بد ذوقی کہلائے گی ۔ ۔
 پاکستان کی سیاسی جماعتیں منشور میں جو باتیں لکھتی ہیں وہ عوام کو دھوکہ دینے کیلئے لکھتی ہیں ، اسکی واضع مثال مسلم لیگ ن کا بلدیاتی الیکشن غیر جماعتی بنیاد  کرانے کا اعلان ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے منشور میں بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیاد پر کرانے کا لکھا ہے ۔۔یہ ہے مسلم لیگ ن کے قول و فعل کا کھلا تضاد،گویا کہی ہوئی باتوں کو تو چھوڑیں ، یہ تو لکھی ہوئی باتوں پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، تو پھر عوام اِن سے آئندہ کے بارے میں کیا توقع رکھیں ؟؟؟
مولانا فضل الرحمان نے لیڈر ہونے  کیلئے  لازمی شرط کی ایک بالکل ہی  نئی اصطلاح وضع کی ہے، وہ یہ ہے کہ لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک اچّھا شوہر ہو، لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایک کنوارہ لیڈر بیچارہ اپنے آپ کو ایک اچّھا شوہر کیسے ثابت کرے گا ؟؟؟
"آپ کا بُہت شُکریہ"  
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    


Monday, August 12, 2013

" ہولی پیچھے ٹر "

منجانب فکرستان: ہولی : کہانی: لندن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 محاورہ عید پیچھے ٹر سُنا ہوگا، ہولی پیچھے ٹر لندن والوں کی ایجاد ہے، جس میں لندن کی خواتین اِس بات کو  سچ ثابت کرکے دِکھا  رہی ہیں کہ:
 "وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ"  ۔۔اور اگر کسی "سپائی نوزا " ٹائپ شخص کو اِس بات پر شک ہے تو یقین کریں کہ تصاویر کو دیکھ کر وہ بھی ایمان لے آئے گا۔۔ 
ہولی "ہولیکا" کے جل مرنے کی کہانی  ہے، جس میں بادشاہ " ہرنا کشیپ " اپنے آپکو پر ماتما (خُدا ) متعارف کرواتا ہے جس پر ایک بڑی تعداد ایمان لے آتی ہے ۔۔لیکن بیٹا "بھگت پر ہلاد" ایمان نہیں لاتا ہے اسلئیے بیٹے کو جلاکر مارنے کی ترکیب سوچی جاتی ہے ۔ 
بادشاہ کی بہن" ہولیکا " کو یہ شکتی ملی ہوئی تھی کہ آگ اُسے جلا نہیں سکتی تھی  فیصلہ ہُوا کہ "ھولیکا "  بھگت پر ہلاد " کو گود میں لیکر دھکتی آگ میں بیٹھے گی ہولیکا پر آگ اثر نہیں کرے گی اور "بھگت پر ہلاد " جل کر خاک ہوجائے گا۔ ۔ ۔
مگر ہُوا یہ کہ ھولیکا ہی جل مری اور "بھگت پر ہلاد" زندہ  صحیح سلامت آگ میں سے نکل آیا ۔۔گویا حق صحیح سلامت رہا اور باطل جل مرا ۔۔۔اسی روایت کی یاد میں ہولی کا تہوار رسمی طور پر پھاگن کے مہینے میں منایا جاتا ہے، پہلے دن " ہولیکا " کو جلایا جاتا ہے اور دوسرے  دن ہولیکا کے جل مرنے کی خوشی میں ایک دوسرے پر رنگ اُچھالتے ہیں ۔ہندوستان کا یہ تہوار ہندوستان میں مارچ کے مہینے میں منایا جا چُکا ہے ۔۔لیکن ہولی پیچھے ٹر کے طور پر لندن میں گوریوں نے اگست کے مہینے میں اس تہوار کو خوب انجوائے کیا، جسکی تصاویر لنک پر موجود ہیں ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ 
نوٹ :رائے سے اختلاف / اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Friday, August 2, 2013

"غلطیاں "

 منجانب فکرستان: خبر کے لنکس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصرہ کا آپشن بند  ہونے کی وجہ سے بعض دوستوں کی تبصرہ ای میل آجاتی ہیں جن میں" جناب افتخار اجمل بھوپال" بھی شامل ہیں۔سابقہ پو سٹ "اصول پرستی لچک پرستی" پر اُنکی جو ای میل ملی اُس سے مجھے ایسا تاثر ملا کہ شاید میری سابقہ پوسٹ نے ایسا تاثر قائم کیا ہو کہ جیسے میں عمران خان سے مایوس ہوگیا ہوں ۔۔
تو عرض ہے کہ میں عمران خان سے بالکل بھی مایوس نہیں ہُوا  ہوں، مایوس ہونے کا میرے پاس آپشن نہیں ہے،اس لیے کہ عمران خان کے علاہ میری نظر میں کوئی دوسرا عوامی لیڈر نہیں ہے ۔۔
 البتہ میں اُنہیں ایک انسان سمجھتے ہوئے سمجھتا ہوں کہ وہ غلطیاں بھی کررہے ہیں۔۔مثلاً میرے خیال میں ممتاز بھٹو کو پی ٹی آئی  میں شمولیت کی دعوت دینا، ایک بڑی غلطی ہے، اس سے پارٹی کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا۔۔بس اتنی سی بات ہے ۔۔
"ممتاز بھٹو شمولیت دعوت کی خبر کیلئے لنکس پر جائیں "

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, August 1, 2013

" اصول پرستی " لچک پرستی "

منجانب فکرستان : جیل: منشور : متصادم 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی شخصیت بھی بڑی عجیب ہے۔۔ کبھی تو اُصول پرستی پر سب کچھ بھسم کرنے پر اڑ جاتی ہے ۔۔تو کبھی لچک پرستی پر ،اُصول پرستی کو خاک میں ملا نے تیار  رہتی ہے، اِسکی بہترین مثال  پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان صاحب کی شخصیت ہے جو ایک طرف تو کہہ رہے ہیں کہ:
 توہینِ عدالت نوٹس پر معافی نہیں مانگوں گا، چاہے جیل  ہی جانا کیوں نہ پڑ جائے، یعنی لچک نہیں دِکھاؤں گا، تو دوسری طرف ممتاز بھٹو کے بارے میں اپنی اصول پرستی کو خاک میں ملا کر لچک پرستی دکھا رہے ہیں۔۔پی ٹی آئی منشور سے متصادم خیالات کے حامل جناب ممتاز بھٹو کو پارٹی میں شمولیت کے لیئے دعوت  دی جا رہی ہے،  پی ٹی آئی منشور  بڑے زمینداروں پر ٹیکس کی بات کرتا ہے جبکہ ممتاز بھٹو صاحب اِس ٹیکس کے سخت خلاف ہیں۔۔
"اگر مزید تفصیل پڑھنا چاھیں تو لنک پر جائیں"
  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Tuesday, July 30, 2013

مذہب عیسائیت میں یہ کیسا انقلاب آیا ہے ؟؟

منجانب فکرستان :  گُناہِ کبیرہ : خون : سچ ہےکہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانوں کو اِسی دُنیا میں  "جنّتی / دوزخی"  کا سر ٹیفیکٹ دینے والے گویا خُدا کے کرنے کے فیصلے خُود کرنے والے عیسائی مذہب کے ٹھیکیدار پادریوں کے سربراہ پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ " ہم جنس پرستی" پر فیصلہ دینے والا میں کون ہوتا ہوں ؟؟؟
 اُنہوں یہ بات اِس تناظر کی روشنی میں کہی ہے کہ " اگر کوئی شخص ہم جنس پرست ہے اور خُدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اُس کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے والا
 جبکہ:اِسی مذہب نے کسی شخص  کی کہی ہوئی بات پر/ لکھی ہوئی بات پر/ دوسرے فرقوں پر / دوسرے مذاہب پر جہنمی ہونے کے فیصلے دئیے ہیں، اِن فیصلوں نے خُدا کی مخلوق کو کس طرح سے خونمیں نہلایا تاریخ گواہ ہے ۔۔   
مگر آج اُسی عیسائیت میں یہ کیسا انقلاب آگیا ہے کہ: پوپ صاحب  کہہ رہے  ہیں،  اگر کوئی شخص ہم جنس پرست  یعنی  گُناہ کبیرہ  کا  ہی مرتکب کیوں نہ ہُوا ہو لیکن خُدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اُس  کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے والا۔۔
  " سچ ہے کہ فیصلہ رب ہی نے دینا ہے" 
پوپ کے بیان کی مزید تفصیل اگر پڑھنا چاہیں تو لنک پرجائیں 

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Saturday, July 27, 2013

" شادی کی رسمیں" طلاق سے بچاتی ہیں "

 منجانب فکرستان: سندھ ؛ کُنڈ جی رسم؛ زیادہ طلاقیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد رمضان شادیوں کا موسم شروع ہوجائے گا۔۔ شادی بیاہ کی رسموں کو بُہت سے لوگ فُضول سمجھتے ہیں، جبکہ میرے خیال میں  شادی کی یہ رسمیں طلاق کی شرح میں کمی کا باعث ثابت ہوتی ہیں۔۔ زیادہ تر رسمیں لڑکی سے متعلق ہوتی ہیں اور  اِن رسموں میں اسرار  پایا جاتا ہے، ۔
 سندھ کے بعض حصّوں میں "کُنڈ جی رسم" یعنی" کونے کی رسم" ادا کی جاتی جو دراصل مایوں کی ہی رسم  ہے۔۔ اِس رسم میں دُلہن بننے والی کا چہرہ گوٹے کناری لگے کپڑے کے نقاب سے  چُھپا دیا جاتا ہے جس میں دیکھنے کیلئے دو سوراخ ہوتے ہیں اور اسے کمرے کے ایک کونے میں بٹھادیا جاتا ہے جس بنا پر اس رسم کو کُنڈ جی رسم کہتے ہیں۔۔
 لڑکی جب مایوں ،مہندی و دیگر رسوماتی مرحلوں سے گُذر کر شادی کا مرحلہ طے کرتی ہے،تو یہ تمام باتیں اُسکے ذہن پر اثر پزیری اثر چھوڑتی ہیں جو طلاق لینے کا سوچتے  وقت لاشعوری مزاحمت  کا کردار ادا کرتی ہیں ، اسطرح طلاق لینے سے باز رکھتی ہیں ۔۔
"  ثبوت یہ  ہے کہ جن قوموں  میں شادی کی رسومات نہیں ہوتی ہیں،اُن قوموں  میں طلاقیں زیادہ ہوتی ہیں"۔۔

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...