Friday, March 22, 2013

"زندگی صرف ایک بار ملتی ہے "

منجانب فکرستان: عمران خان کے حامی عرفان صاحب کا انٹر ویو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایم۔ڈی: جو شخص اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل حل نہ کر سکا وہ پاکستان کے مسائل کیسے حل کرسکتا ہے ؟ 
عرفان صاحب:محترم یہ اُسکی پاکستان کیلئے بُہت بڑی قربانی ہے، چونکہ انسان کو زندگی صرف ایک بار ہی ملتی ہے اُس نے جو وقت اپنی ازدواجی زندگی کی خوشیوں کو دینا تھا وہ وقت اُس نے  پاکستان کو دیا ،  یوں اُس کا جُھکاؤ پاکستان کی طرف زیادہ  ہوگیا ،جس کا نتیجہ بیوی بچّے اُس سے جُدا ہوگئے۔۔بلکہ ممکن ہے کہ عمران خان خود اِس احساس میں مبتلا ہوگئے ہوں کہ وہ  بیوی بچّوں سے زیادتی کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہو کہ طلاق جیسا مسئلہ خوش اسلوبی سے طے پایا کہ بیوی بچّے آج بھی عمران کے کردار کی بلندی کے  معترف ہیں ۔۔۔۔ 
ایک ایسا شخص جس نے پاکستان کی خاطر اپنی ازدواجی زندگی تج دیا ہو۔۔ یقیناً وہ پاکستان کیلئے مخلص ہے۔۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان دشمن فرسودہ ظالمانہ نظام کے خلاف صف آرا ہوگیا ہے ۔۔جسکو دونوں بڑی پارٹیاں بچانا چاہتی ہیں ۔۔ دونوں پارٹیاں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔۔ جس کے ثبوت رؤف کلاسرا آئے دن اپنے کالم میں بمع چیلنج فراہم کرتے رہتے ہیں کہ دونوں پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔ لیپ ٹاپ اور  بینظیر سپورٹ اسکیم کی تشہیر کچھ اس انداز کی جاتی ہے جیسے وہ اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں سے کُچھ دے رہے ہوں، قوم کا پیسہ قوم کو دیکر ذاتی شُہرت کی تشہیر کرتے ہیں۔۔۔
ایم۔ڈی: کیا آپ عمران کو ایک جذباتی شخص نہیں سمجھتے جو پانی پت کی جنگ کے حوالے دیتا ہے،اور کہتا ہے کہ میں وزیراعظم بنا تو صدر زرداری سے حلف نہیں لوں گا۔
عرفان صاحب: محترم یہ آپکے نقطہ نظر کی بات ہے۔۔ میں اسی بات کو اسطرح سے دیکھتا ہوں کہ پاکستان کو منافقت اور مفاہمت کی پالیسی نے بُہت نقصان پہنچایا ہے۔۔عمران، زرداری کو این آر او زدہ غیر آئینی صدر سمجھتے ہیں ،وہ منافقت یا مفاہمت کے بجائے صاف،سچی اور کھری بات کہہ رہے ہیں تو اس میں کونسی بُرائی ہے ۔۔۔
ایم ۔ڈی: آپ عمران خان کے حامی ہونے کی کوئی معقول وجہ بتانا پسند فرمائیں گے۔۔
عرفان صاحب: ایسی تو کئی وجوہات ہیں جیسے شوکت خانم ہاسپیٹل وغیرہ لیکن میں   اُسکے کردار کے حوالے سے حالیہ پڑھی ہوئی بات کی مثال دینا چاہتا ہوں،  اتوار کو ایکسپریس اخبار کے سنڈے میگزین میں مشہور ایمپائر محبوب شاہ  کا انٹرویو پڑھا  جس میں عمران خان کی شخصیت کی سائیکی دیکھی جاسکتی ہے۔ محبوب شاہ نے اپنی ایمپائرنگ لائف میں نہ جانے کتنے ہی کھلاڑیوں کو آؤٹ دیے ہونگے۔۔ یقیناً اُن کھلاڑیوں کے طرز عمل  سے بھی اُنہیں واسطہ پڑا ہوگا۔۔ لیکن اتنے  سارے کھلاڑیوں کے طرز عمل میں سے اُنہوں نے صرف اکیلے عمران خان کے طرز عمل کی تعریف  کی عمران کا یہ طرز عمل عمران کی  شخصیت کا آئینہ ہے۔۔
ایم۔ڈی: آپ کا کیا خیال ہے عمران خان جیت جائیں گے ؟  
عرفان صاحب:آپ کے اس سوال کا جواب میں اسطرح سے دونگا کہ ہمیں پاکستان کو بچانا ہے۔۔آنے والی نسل کو بچانا ہےاور بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کو بُلانا ہے،  تو پی ٹی آئی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چوائز نہیں ہے۔۔ اس لیے جس طرح  بھی ممکن ہوسکے۔۔ ہمیں اپنے لیے۔۔ اپنی نسل کیلئے۔۔ پی ٹی آئی کی مدد ضرور کر نا چاہئیے اور  کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔ 
ایم۔ڈی: کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں ۔
عرفان صاحب: میرا پیغام اہلیانِ لاہور کیلئے ہے کہ کل یعنی 23 مارچ کے جلسے کو کامیاب بنائیںِ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب شاہ کے انٹرویو کا منتخب حصہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــ
سوال: کبھی کسی کھلاڑی نے آپ پر غالب آنے کی، فیصلے پر اثر انداز ہونے کی   کوشش کی؟
محبوب شاہ: سچ تو یہ ہے کہ تمام کھلاڑی، کسی نہ کسی سطح پر ایسا کرتے تھے، یا کرتے ہیں۔ یہ ایک حکمت عملی تھی، مگر میری کبھی کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ پھر میری تکنیک یہ تھی کہ میں اس وقت کھلاڑیوں کے رویے کو نظرانداز کرتا تھا، جب تک وہ قانون کے دائرے میں ہوں۔ میرے کیریر میں خوش گوار لمحات زیادہ آئے۔
سوال: تو خوش گوار لمحات ہی کی بات کرتے ہیں۔ کئی کھلاڑیوں کی اپیلیں آپ نے رد کی ہوں گی۔ ایسا کون تھا، جس نے ہمیشہ مثبت ردعمل ظاہر کیا؟
محبوب شاہ: پاکستانی ٹیم میں عمران خان ایک ایسا کھلاڑی تھا، جس سے میری زیادہ بات چیت نہیں تھی۔ مگر میں جب بھی اُس کی اپیل رد کرتا، وہ ہمیشہ مثبت ردعمل دیتا۔ اور اپنے اشاروں اور رویے سے یہ تاثر دیتا کہ میرا فیصلہ دُرست تھا۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب شاہ صاحب کا مکمل انٹرویو پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں ،اور مجھے اجازت دیں ۔۔
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔


Monday, March 18, 2013

" کنگ کوبرا "

منجانب فکرستان: لڑائی کا اصول : شکست کا اصول 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نیشنل جغرافک چینل پر دیکھا کہ تحقیق کاروں نے " مادہ کنگ کوبرا " کو آلہ نصب کرکے جنگل میں چھوڑدیا اور اینٹینے کی مدد سے اُسکا پیچھا کرتے رہے۔ خالق نے سانپ کی زبان کویہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ دُور  ہی سے شکار اور ساتھی کی بوُ کو محسوس کرتی ہے۔ایک نر کو مادہ کی بوُ آگئی وہ اُسکی طرف کھنچا چلاآیا  مادہ سے رضامندی حاصل کی (حدِادب) اور کامیاب رہا، پھر ایک اور نر کو بھی مادہ کی بُو آگئی اور وہ بھی  مادہ کی طرف دوڑا چلا آیا لیکن وہاں پر پہلے ہی ایک نر کو پایا تو اُسنے اُسکو چیلنج دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نر گتھم گتھا ہوگئے۔بقول تحقیق کار لڑائی کا اصول یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی کسی کو زخمی نہیں کرے گا، صرف  چتِ کرنے کی کوشش کرے گا،شکست  کا اصول یہ ہے کہ جو چتِ ہوگیا وہ ہار گیا اور پھر وہ وہاں سے چَلا جائے گا ، افسوس کہ مادہ کے پیٹ میں جس نر کی نسل کو بقا ملنی تھی وہ چتِ ہو گیا اور وہ وہاں سے چَلا گیا اب نیا نر مادہ کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ رضامند نہیں ہوئی پھر نہ جانے کیا ہُوا کہ اُس نے پوری طاقت سے اپنے دانت مادہ کے جسم میں پیوست کردیے مادہ نے بھی اپنے دانت نر کے جسم میں پیوست کردیے ،طاقت میں نر کو برتری حاصل ہے ،کچھ ہی دیر میں مادہ  کی آنکھیں پتھرا گئیں اوروہ ڈھیر ہوگئی ۔۔ ۔اب نر نے اُسے کھانا شروع کیا لیکن وہ اتنی لمبی تھی کہ نگلنے میں کامیاب نہ ہُوسکا اور اُگل کر چلتا بنا ، اب مادہ کی لاش کسی اور جاندار کے پیَٹ میں جاکر اُسے زندگی کی حرارت فراہم کرے گی کہ یہی قانونِ فطرت ہے۔ کہ:
جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔"الوداع" مادہ کوبرا " 
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, March 7, 2013

" آنکھیں بھر آئیں "

منجانب فکرستان : معصوم چہرہ: شاہویز:پسندیدگی: غُبار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی اور موت کی کشمکش کی خبریں تو آرہی تھیں شاید یہی وجہ ہو کہ موت  کی تصدیق ہونے پر مجھ پر تھوڑی دیر کیلئے خاموشی کی کیفیت طاری ہوئی پھر دُنیاوی مشغولیت حاوی ہوگئی۔۔خواہش: خوش فہمی میں مبتلا کرتی ہے، اِسی سبب ایک پوسٹ لکھی  تھی کہ شاہ ویز کی قوتِ ارادی نے بیماری کو شکست دےدی ہے۔ یہ سمجھ نہ پایا  کہ شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا بھی ہے۔۔ یہ پوسٹ میں نے اُن کے علاج کے بعد ملک واپس آنے اور چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر لکھی تھی ۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے دُنیا اخبار میں جناب سید عاصم محمود کا مضمون " الوداع کمانڈر " پڑھا   تو آنکھیں بھر آئیں ۔۔ کل کی خاموشی کا دل پر چھایا غُبار اِس مضمون نے آج آنکھوں کے راستے نکال دیا۔۔۔
اگر آپ" معصوم چہرہ شاہویز" (ممکن ہے کہ یہ میری پسندیدگی کا تعصب ہو کہ اُنکا چہرہ مجھے معصوم اور بھولا لگتا ہے) کے بارے میں میری سابقہ پوسٹ نہیں پڑھی ہے تو آپ لنک پر جائیں پوسٹ میں شاہویز کے ساتھ عمران خان اور اُنکی سابقہ محبوبہ  کرسٹائن بیکر کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, February 28, 2013

عورت کی سائکی یا زمانے کی جبلت ؟

منجانب فکرستان ٹیگز: خواتین 25 فروری : اسپیکر: جتن : وقت : مرد : کافر : تبدیلی : وڈیو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت علامہ اقبال نے خواتین کے بارے میں کہا ہے  کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ  کائنات میں رنگ تو ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہا ہے۔۔ علامہ کی بات پر مجھ جیسے لوگوں کو تو ذرا بھی شک نہیں ہے۔۔اگر سپائی نوزا قبیل کی قسم کے کسی شخص کو شک ہے تو اِس مضمون کے پڑھنے پر اُسکا شک بھی دور ہوجائے گا۔۔۔
ایک جانب  ویلنٹائن ڈے والے دن دُنیا بھر کی خواتین نے رنگ برنگ سج دھج  کے ساتھ ویلنٹائن ڈے کی خوشیاں منارہی ہیں تھیں تو دوسری جانب اُسی طرح رنگ برنگ سج دھج کے ساتھ مَردوں کے روئیوں کے خلاف احتجاج کا رقص بھی کررہی تھیں۔۔ یعنی خواتین نے احتجاج بھی خوب بن سنور کر اور رقص کرکے کیا اگر خواتین کا احتجاج بھی اتنا رنگین اور رقص  سے بھرا ہو تو پھر کون کافر ہوگا جو علامہ کی کہی بات سے انکار کرے گا؟
احتجاج کی یہ تبدیلی 25 فروری کی اِس وڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ لبنانی خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف بطور احتجاج پارلیمنٹ اسپیکر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی رقص کیا۔ یوں خواتین نے احتجاج کے اُس روایتی اندازکو کہ جس میں بینر اُٹھائے گلا پھاڑ کر نعرے لگاتے جانے کی روایات کو خوبصورت رقص میں بدل دیا اب ذہن میں سوال آتا ہے کہ: کیا احتجاج کی یہ خوبصورت تبدیلی خواتین کی اُس سائیکی کا نتیجہ ہے  کہ جس کے تحت  وہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا جتن کرتی ہیں یا پھر یہ وقت کی اُس جبلت کا کار نامہ ہے کہ  جو ہر چیز کو تبدیل کردیتا ہے ۔۔۔
اگر آپ کا دل چاہے تو 2 منٹ کا لبنانی خواتین کا احتجاجی رقص دیکھنے کیلئے لنک پر چلے جائیں ۔۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
http://www.alarabiya.net/articles/2013/02/25/268229.html

Monday, February 25, 2013

" تیس لاکھ "

منجانب فکرستان ٹیگز: دُنیا : آخرت: بلاگر کا لِنک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 نرس برونی وئیر ایسی  بِلاگر ہیں۔جنہیں ایک پوسٹ نے،آسمانی بُلندیوں پر پہنچا دیا۔ 30 لاکھ افراد نے اُس پوسٹ کو پڑھا۔ اُنہیں  روحانیت سے دلچسپی ہے۔ وہ ساز پر روحانی گیت گاتی ہیں، وہ تیمارداری کے دوران ایسے بوڑھوں سے اُن کے خیالات معلوم کرتیں کہ جنہیں معلوم ہے کہ وہ اب اس دنیا میں چند دنوں کے مہمان ہیں۔۔برونی نے اپنی برسہا برس کی اِس معلومات  کو ایک پوسٹ میں سمویا۔۔ایمازون بک کی سائٹ پر لکھا ہے کہ اُس پوسٹ کو پہلے ہی سال 30  لاکھ سے زائد افراد نے پڑھا  کچھ نے تفصیلاً کتاب لکھنے کی فرمائش کرڈالی۔۔یوں بلاگر سے وہ صاحبِ کِتاب ہوگئیں۔۔۔
 تاہم موت کی وادی میں جانے والے اِن بوڑھوں کی باتوں نے شاید میری طرح برونی کو بھی حیرت زدہ کیا ہوگا،  کیونکہ اِنمرتے بوڑھوں نے مرتے وقت جزا و سزا اور آخرت سے متعلق کسی پچھتاوے کی بات نہیں کی جبکہ آسٹریلیا  میں61 فیصد عیسائی رہتے ہیں۔۔۔
اِن آسٹریلوی  بوڑھوں کے 5 بڑے پچھتاوے سب کے سب اِس موجودہ دُنیا سےمتعلق ہیں،یہی وجہ ہے کہ جب میں نے روزنامہ دُنیا میں سید عاصم محمود کا مضمون پڑھا تو کھوج میں برونی وئیر تک جا پہنچا  اگر آپ یہ مضمون  پہلے پڑھ چُکے ہیں تو اب اس زاوئیے سے دوبارہ  پڑھ کر دیکھیں،شاید کچھ نیا پن محسوس ہو ۔۔۔ آخر میں بلاگ اور کتاب کا پی ڈی ایف لنک موجود ہے ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔



Thursday, February 21, 2013

The 100

  محمدﷺ: مائیکل ھارٹ: شیکسپیئر:بیکن: ڈیویری : pdf لنک : اسطورہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 تحقیق بتا رہی ہے کہ شیکسپیئر نے کوئی ڈرامہ نہیں لکھا، وہ ناخواندہ تھا: یہ کہنا  ہے مائیکل ہارٹ کا کہ جس نے اپنی تحقیقی کتاب The 100Most influential persons in history  میں تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئےحق پر محمدﷺ کو رینک میں پہلا نمبردیا ہے اورحضرت عیسٰے کو تیسرے نمبر پر رکھا تاہم  اس  پر کسی نے  مائیکل ہارٹ کو جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی البتہ تنقید ضرور ہوئی جسکا جواب ہارٹ نے دلائل سے دیا اور دوسرے ایڈیشن میں  بھی آپ ﷺ کو رینک میں پہلے نمبر پر رکھا۔
مائیکل ہارٹ : بنیادی طور پر سائنس دان ہیں ،علم فلکیات میں ڈاکٹریٹ ہیں اور کافی عرصہ تک ناسا میں مختلف قسم  کے پروجیکٹ میں  کام کرچکے ہیں ۔۔
درج بالا کتاب میں شیکسپیئر کیلئے رینک کا تعین کرنے کے سلسلے میں مائیکل ہارٹ نے جو تحقیق کی اسکے مطابق لکھاری ولیم شیکسپیئرکو  بحثیت ایک شخصیت کے دُنیا  بھر میں ایک شخص بھی  ایسا نہیں ہے جو اُسے جانتا ہو  اُسکے ہم عصر لکھاریوں میں سے  بھی کوئی اُسے نہیں جانتا تھا  البتہ ایک شخص جو ولیم شیکسپیئر کے نام سے جانا جاتا ہے وہ ایک تاجر تھا اور وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا حتاکہ اسکے بچّے بھی پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے تاہم شیکسپیئر کے حوالے سے جو تحاریر پائی جاتی ہیں اُن میں اور فرانسس بیکن/ایڈورڈ ڈی ویری  کی تحریروں میں کافی حد تک مشابہت  پائی جاتی ہے۔۔۔بہر حال شیکسپیئر کا نام  ایک اسطورہ کے طور پر ہی سہی اسکی تحاریر نے معاشرہ پر اپنا اثر ڈالا ہے اس لیے مائیکل ہارٹ نے ولیم شیکسپیئر کو  اس کتاب میں31 واں رینک دیا ہے۔مزید تفصیل کیلئے پی ڈی ایف لنک پر جائیں ۔۔مجھے اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
http://ebookbrowse.com/the-100-most-influential-people-in-history-pdf-d145607663

Tuesday, February 19, 2013

" حلال اشیاء"

منجانب فکرستان ٹیگز:ول ڈیورانٹ: میثاقِ مدینہ : {نئی لغت کا لنک}۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بدھ مت کے انتہا پسند برمی روہینجا مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اب سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرنے کیلئے حلال اشیاء بائیکاٹ مہم شروع کی ہے،  وِل ڈیورانٹ لکھتا ہے کہ بُدھا کے مرتے ہی اُس کے شاگرد سبھادھ نے اس مذہب پر قبضہ کرلیا اور  بھکشوؤں سے کہا  " چھوڑو یہ رونا وونا، اچّھا ہُوا مرگیا،نجات مل گئی، کہتا تھا یہ کرو، وہ نہ کرو اب ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا"۔
جن لوگوں نے سبھادھ کی مخالفت کی اُنکا ایک الگ فرقہ بن گیا، جہاں جہاں یہ مذہب پہنچا وہاں کا مذہبی رنگ اس مذہب میں شامل ہوتا گیا یوں عرصہ دو سو سال میں بدھ مت 18 فرقوں میں تقسیم ہوکر اپنی  اصل شناخت کھو بیٹھا ۔۔اب ہر فرقے کا یہ دعویٰ ہے کہ وہی بُدھا کی تعلیمات کی صحیح پیروی کررہا ہے اور صرف اُنکا فرقہ ہی جنم چکر سے مکتی پائے گا۔۔۔اور دوسرے فرقے کبھی مکتی نہیں پائیں گے ۔۔انِ 18فرقوں میں سے 2 فرقے مہایانا اور تھیروڈا زیادہ مشہور ہیں۔۔۔
تمام مذاہب عدم تشدد اور رواداری کا درس دیتے ہیں، میثاق مدینہ رواداری کی عظیم مثال ہے، لیکن بانیانِ مذاہب کے اُٹھ جانے کے بعد مذاہب میں فرقے بنتے ہیں تو اِن میں سے رواداری نکل جاتی ہے اُسکی جگہ تشدد اور کٹر پن آجاتا ہے، جسکے ثبوت آئے دن  پاکستان میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔ جیسے حالیہ کوئٹہ کا دھماکہ کہ جس میں کئی لوگوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔۔یا جیسے 31 جنوری کا واقعہ جس میں گاڑی پر فائرنگ کرکے بنوری ٹاؤن کے مفتی عبدالمجید دین پوری ،مفتی محمد صالح اور طالب علم حسان علی شاہ کو خون میں نہلا دیا گیا۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نوٹ: ماہرینِ مذاہب کے مطابق بدھ مت: مذہب نہیں یہ عدم تشدد،عدم خواہشات اور راست بازی کا فلسفہ ہے چونکہ مذاہب کی نبیاد رسوماتی عبادات، پوجا پاٹ اور تصورِبھگوان پر ہوتی ہے بدھ مت میں ایسا کچھ نہیں تھا ،لیکن بُدھا کے مرنے کے بعد انکی تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے بُدھا کے بڑے بڑے مجسمے  بناکر اُنہیں اوتار بنادیا اور مراقبہ، وغیرہ شامل کرکے بدھ مذہب بنادیا گیا ۔۔۔( پوسٹ  کی تیاری میں ول ڈیورانٹ کی کتاب ہندوستان سے مدد لی گئی ہے) 
لغت لنک: میرے خیال میں یہ بُہت اچھی لغت ہے۔۔البتہ کبھی کبھی سائٹ کھلنے میں پرابلم کرتی ہے۔ 
http://www.urduinc.com/
 اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 

Monday, February 11, 2013

" فیصلے کے خلاف فیصلہ "

منجانب فکرستان: ژونگ: اجتماعی ضمیر
------------------------------------------------------------------
افضل گرو کے فیصلے میں لکھی اجتماعی ضمیر کی بات پر ماہر نفسیات ژونگ یاد آگیا جس نے سب سے پہلےانسان میں "اجتماعی لاشعور" کی بات کی تھی جو کافی مقبول ہوئی  ،اور حوالے کے طور پر استعمال ہونے لگی ۔۔تاہم شاید یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے انصاف کا خون کرتے ہوئے ثبوتوں کے بجائے صرف ہندو انتہا پسندوں کی خواہش کو "اجتماعی ضمیر" کا نام دے کر افضل گرو کو پھانسی دے ڈالی ،لیکن ہندوستانی سپریم کورٹ فیصلہ دیتے ہوئے یہ بات بھول گئی ہے کہ دنیا اب گلوبل ولیج ہے اور" اجتماعی ضمیر " صرف ہندو انتہا پسندوں کے ضمیر تک محدود نہیں ہے ۔۔۔ میڈیا میں دیکھ لیں کہ دنیا کے اجتماعی ضمیر نے،آپ کے متعصبانہ فیصلے کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے ۔۔۔
 اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔ 

Sunday, February 10, 2013

"انسانی خواہشات "

منجانب فکرستان: شفاف الیکشن:اندازہ لگائیں
-----------------------------------------------------------
 " الیکشن کمیشن "جس طرح مشکلات،اعتراضات اور مطالبات میں گھرا  ہُوا ہے رضیہ کی مثال یاد آجا تی ہے،لیکن جب چیف الیکشن کمشنر کو  جوابات دیتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے بُدھا اور اُسکا نروان یاد آنے لگتا ہے کہ"انسان کے تمام دُکھوں کا  کارن انسان کا خواہشات میں مبتلا ہونا ہے "۔۔۔۔ مثال کیلئے  ہمارے فخرو بھائی ( چیف الیکشن کمشنر) کو ہی  دیکھ لیں  ماشااللہ سے 12 فروری کو پورے 85 سال کے ہوکر 86 میں داخل ہوجائیں گے۔۔۔لیکن اس عُمر میں بھی  طاقت حاصل کرنے کی خواہش اور شفاف الیکشن کراکے امر ہونے کی خواہش نے اُنہیں چیف الیکشن کمشنر بنادیا ۔ اندازہ لگائیں کہاں 85 سال کی عُمر اور کہاں چیف الیکشن کمشنر کےبکھیڑے کہ جس میں آئے دن نتِ نئے مسئلے اور نتِ نئے مطالبے سامنےآتےہیں۔۔۔اُس پر شفاف الیکشن کرا کےامر ہونے کی تمنّا۔۔۔
 کیا بڑے میاں الیکشن تک ٹِک پائیں گے یا بھاگ جائیں گے؟؟؟یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔
اب اجازت دیں۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔         

Thursday, February 7, 2013

" غور کا مقام ہے "

منجانب فکرستان: صحابہ کرام ، تابعین اورتبع تابعین۔
-----------------------------------------------------------------
 شہرجدہ جگہ جگہ سے کھُدا پڑا ہے،ترقیاتی کام زوروں پر چل رہا ہے، متبادل روڈوں پر ٹریفک رینگ رہا ہے، وجہ پیٹرول کا ریٹ کم ۔۔ گاڑیاں بڑی بڑی ہیں، پیٹرول بھرانے پر پمپ والے تین چار ڈبے ٹشو پیپرز کے فری میں دیتے ہیں غرض کہ عرصہ ایک ماہ تک یہ نظارے دیکھتا رہا اس کے علاوہ  خانہ کعبہ کا طواف وسعی اور مسجدِ نبوی اور روضہ اقدس  کی زیارت بھی ہوئی۔۔سنتوں کی ادائیگی کے بعد جماعت کھڑی ہونے تک لوگوں کو مختلف طریقوں سے نماز پڑھتے بھی دیکھا ، اور دماغ میں یہ خیال بھی آیا کہ حضورﷺ جس طریقے پر نماز پڑھتے تھے اُسی طریقے پر نہ صرف تمام صحابہ کرام بلکہ تابعین اورتبع تابعین نماز پڑھتے تھے اور مسجد نبوی میں مسلسل تواتر کے ساتھ دن میں پانچ بار نماز کی ادا ئیگی ہوتی تھی تو پھر نماز کی ادائیگی کے طریقے میں اتنے سارے فرق کہاں  سے آگئے ؟؟؟
(غور کا مقام ہے) 
" اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ" 

Saturday, February 2, 2013

" حلول "

منجانب فکرستان : روح / پرویز مشرف/ ضد 
-----------------------------------------------------------------
دوستوں روحوں کے جسم میں حلول کر جانے کے بارے میں میں نے بھی پڑھا ہے کہ روحیں جسم میں حلول کرجاتی ہیں۔۔۔ اور انسان کو کیا سے کیا بنادیتی ہیں۔۔۔لیکن کبھی میں نے اس نظریہ پر اعتبار نہیں کیا ۔۔لیکن پرویز مشرف کے حوالے سے مجھے ایسی خبریں پڑھنے کو ملیں کہ اب  مجھے اس بات کا پکا پکا یقین ہوگیا  ہے  کہ ۔۔۔ روحیں جسم میں حلول کرجاتی ہیں۔۔۔ثبوت: اخباروں میں پرویز مشرف کے حوالے سے دو ایسی خبریں شائع ہوئیں ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں یعنی ایک خبر پرویز مشرف کو بزدل ترین ثا بت کرتی ہے  تو دوسری بہادر ترین۔۔پہلی خبر  بقول اسحاق ڈار" کار گل پر بریفنگ دیتے ہوئے  مشرف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں"۔۔۔
اور دوسری خبر میں سابق بھارتی آرمی چیف وی کے سنگھ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ " بطور فوجی کمانڈر میں مشرف کے حوصلے کی داد دیتا ہوں کہ جنرل مشرف بھارتی حدود کے 11 کلومیٹر اندر تک چلے  آئے  ،حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ خطرنا ک ہے پھر بھی انہوں نے اپنے فوجیوں کے ساتھ رات گُذاری"۔۔۔اور یہ ہماری نا اہلی تھی کہ وہ بحفاظت واپس چلے گئے " ۔۔۔
اب ہم محترم جناب اسحاق ڈار صاحب  کی کہی بات کو جھوٹ کیسے کہہ سکتے ہیں اور ظاہر ہے وی کے سنگھ کے اعتراف کو بھی جھوٹ نہیں کہہ سکتے ہیں۔اس لیے ہمیں روحوں کے حلول کرجانے والے نظریہ کو ماننا پڑے گا کہ:  پرویزمشرف میں کبھی بزدلی کی روح حلول کرجاتی ہے تو کبھی بہادُری کی ۔۔۔:grin:  :grin:۔
 میری باتوں سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 


Tuesday, January 29, 2013

" سمجھ سے بالا باتیں "

منجانب فکرستان: ایڈم تھامسن/ن لیگ/عمران خان  
------------------------------------------------------------------
بعض باتیں سمجھ سے بالا ہوتی ہیں۔مثلاً برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن  نے دہشت گردی،توانائی کے بحران اور بیمار معیشت کے حوالے سے  پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ناکامی قرار دیا ہے ، تعیناتی مُلک کی حکومت پر اُنکا اسطرح سے تنقید کرنا سمجھ میں نہ آنے والی  بات ہے، چونکہ وہ جس منصب پر فائز ہیں یقیناً  اُن کے تقاضوں سے بھی  وہ خوب واقف ہونگے،اس کے باوجود میڈیا کے نمائندوں کے سامنے تعیناتی ملک کی حکومت پر تنقیدکرنا  ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت  کرنا  جیسی بات ہے، جو دونوں مُلکوں کے تعلقات پر اثر انداز ہوسکتی  ہے۔ غرض کہ وہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اُنہوں نے حکومت پر تنقیدآخر کس سوچ کے  تحت کی ؟؟؟ یا پھر غریب کی جورو سب کی بھابی والی بات لگتی ہے۔۔۔
 اسی طرح عمران خان کی یہ سوچ بھی میری سمجھ سے بالا ہے کہ وہ  فرسودہ نظام کے حامی  سیٹ ہولڈرز جاگیرداروں اور سرمایاداروں کے رائے ونڈ میں کئے گئے فیصلوں کے تحت دھرنے میں شریک ہونے کو کیوں کر  تیار ہوگئے تھے ؟؟؟ چونکہ عمران خان تو موجودہ نظام کے خلاف ہیں، جبکہ دھرنے میں شریک جماعتیں موجودہ نظام کی حامی ہیں ۔۔۔یہی بات ممتاز  بھٹو نے ایک ٹی وی پروگرام میں شکایتاً  کی  کہ عمران خان تو موجودہ نظام کے خلاف ہیں اسی لیے ہم نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی۔۔۔۔۔ ظاہر ہے ممتاز  بھٹو جیسے جاگیر دار کیلئے سرمایادار ن لیگ ہی سوٹ کرتی ہے۔۔۔چونکہ عمران تو زراعت پر ٹیکس کی بات کرتا ہے۔
درج بالا باتوں سے اتفاق ضروری نہیں۔۔اب اجازت دیں۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔


Friday, January 25, 2013

" سروے رپورٹ '

منجانب فکرستان: سن 2012 کی ایشیاء کی مقبول ترین شخصیات 
------------------------------------------------------------------
جان راکفیلر نے  1956 میں "ایشیاء سوسائٹی " قائم کی تھی جس کا ہیڈ کواٹر نیویارک میں واقع ہے ۔۔اُس نے اپنی آن لائن سروے رپورٹ 2012  کے نتائج جا ری کردیے ہیں ،جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف  کے چیئرمین عمران خان ایشیاء کی مقبول ترین شخصیت قرار پائے ہیں ، انہوں نے78۔87 فیصد ووٹ حاصل کئے  جبکہ 29۔3 فیصد ووٹ لیکر ملالہ یوسف زئی دوسرے نمبر پر رہیں اور 98 ۔1 فیصد ووٹ لیکر آنگ سان سوچی تیسرے نمبر پر آئیں۔۔۔فلمی اداکار عامر خان  نے 81۔ 1 ووٹ لیکر چوتھی پوزیشن حاصل کی ۔۔۔ 
اب اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ۔۔




Tuesday, January 22, 2013

" مقدس خودکشی "

منجانب فکرستان: روحانیت/ جمعرات/ منظور وساں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی ذہن  میں کوئی عقیدہ یا خیال راسخ ہوجائے تو پھر کسیتعلیم یا کسی بھی دلیل سے راسخ شُدہ  عقیدے یا خیال کو ذہن سے نکالنا ناممکن جیسی بات  ہے ، مثلاً مہنت ربندر نے  18 سال پہلے خواب میں دیکھا تھا  کہ کوئی اُسے دُور بُہت دُور لئیے جا رہا ہے ۔۔۔۔خواب کے زیرِ اثر دودن تک وہ تیز بُخار میں رہے اسکے بعد دل (ذہن) میں روحانیت کا عقیدہ ایسا راسخ ہوگیا کہ نوکری کو چھوڑ چھاڑ سادھو بن گئے یہ کہانی مہا کمبھ میلے میں آئے ہوئے بابا مہنت ربندرآنند کی ہے جسکی مزید تفصیل بی بی سی اردو پر موجود ہے۔۔
--------------------------------------------------
درگاہوں پر جانے والے عقیدت مند "جمعرات" کے دن کو مقدس مانتے ہیں  ،راجستھان کے شہر اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ عقیدت مندوں میں بُہت مقبول ہے ۔ جمعرات کے دن بیٹی ماں پکنے میں اُبلتی ہوئی دیگ میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی ،ممکن ہے یہ بھی کسی  راسخ شُدہ خواب کی تکمیل میں بیٹی ماں نے مقدس خود کشی کرلی ۔۔۔ ماں بیٹی کا یوں ایک ساتھ دیگ میں چھلانگ لگا کر خود کشی کے فعل کو انجام دینا مقدس خودکشی کو  جواز  فراہم کرتا ہے ۔۔۔ 
--------------------------------------------------
 صوبائی وزیر سندھ منظور وساں کا عقیدہ ہے کہ انکے خواب سچّے ہوتے ہیں۔۔۔  طاہرالقادری صاحب کا بھی خوابوں کے بارے میں ایساہی عقیدہ ہے ، سوشل میڈیا پر انکے سچّے خواب کے تزکرے موجود ہیں جبکہ اُنکے مخالفین اُنہیں جھوٹے قرار دیتے ہیں ۔۔۔ اِن خوابوں  کے حوالے سے مُجھے خیال آرہا ہے کہ الیکشن کے بالکل قریب ناممکن ایجنڈا  لیکر اُن کا اچانک کینیڈا سے پاکستان آنا کہیں کسی خواب کا نتیجہ نہ ہو ؟؟؟۔
 میرے خیالات سے اتفاق ضروری نہیں---اب اجازت دیں---آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔رب راکھا۔۔  

Saturday, January 19, 2013

" خفیہ ہاتھ "


منجانب فکرستان: محمد مرسی/ طاہر القادری/ ایاز امیر/ جمہوریت / زرداری 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب تک میں صدر ہوں مصر میں اسلامی حکومت کا قیام خارج از امکان ہے، میں مذہبی حکومت پر یقین نہیں رکھتا ، شہری ریاست پر یقین رکھتا ہوں ،جس میں مذہب اور عقیدے سے بالاتر ہوکر تمام انسانوں کو یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں ( محمد مرسی کا انٹرویوایاز امیر اپنے کالم میں لکھتے ہیں : "طاہر القادری کی گستاخی ملاحظہ فرمائیں، وہ لبرل اسلام، خواتین کی آزادی،اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔لفظ مولانا سے چڑتے ہیں اس پر مستزاد وہ عوامی جمہوریت کی بات کرنے کی جسارت بھی کر رہے ہیں، عقل کو ہاتھ ماریں جناب پاکستان میں عوامی جمہوریت "۔۔:grin: :grin:
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار بُہت اہم ہوتا ہے ،اس 5 سالہ جمہوری دور میں اپوزیشن نام کی کوئی  چیز نہیں تھی عوام/میڈیا دُہائی دیتے رہے لیکن اپوزیشن، اپنی باری کی کاؤنٹ ڈاؤن گنتی میں مصروف رہی ،ایسے میں مجبوراً چیف جسٹس صاحب کو سو مو ٹو ایکشن لینے پڑے ۔(پھر بھی  اپوزیشن کو کُچھ خیال نہ آیا)۔اور یوں میرے خیال میں چیف جسٹس صاحب نے اپوزیشن کے "خلا" کو کافی حد تک پورا کیا ۔۔۔
ایسے میں عمران خان کی سونامی آگئی تو  اپوزیشن کو وقت سے پہلے الیکشن کمپین شروع کرنی پڑی جس کے تحت  خیمہ،پنکھا ،بس اور لیپ ٹاپ اور اشتہار بازی  کے زریعے ووٹر کو لبھانے کے  حربے استعمال ہونے لگے لیکن اصل ذمہ داری یعنی اپوزیشن کا کردار وہ آج بھی ادا نہیں کر رہے ہیں۔۔۔اس کے بجائے  مفاد پرست سیٹ ہولڈرز  اور جاگیر داروں  کو اپنی جماعت میں بھرتے جا رہے ہیں۔۔۔ ساتھ میں عوام کو لطیفہ بھی سُنا رہے ہیں کہ تبدیلی لائیں گے ۔۔۔
 اپوزیشن کے  اس وسیع خلا کو دیکھتے ہوئے ایک طائر کینیڈا سے پرواز کرکے پاکستان کے اپوزیشن خلائی زون میں اُتر آیا اور اس نے ایسا شو دکھایا کہ بادی النظر میں باری والوں کو اپنی باری بوٹوں تلے  نظر آنے لگی ۔۔۔دوسری طرٖف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی اپنی ساکھ کی فکر لاحق ہوگئی  یوں سب نے مل کر طاہر القادری کے خلاف خفیہ ہاتھ کا الزامی کورس گانا شروع کردیا۔۔۔لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہُوا تو اب زرداری صاحب سے تعلق جوڑا جا رہا ہے۔۔۔
 شروع شروع میں عمران خان پر بھی طرح طرح  کے الزا مات کی خوب بارش ہوتی تھی اب  بھی وڈیو جیسے اسکینڈل آجاتے ہیں۔۔۔غرض کہ جو بھی اس فرسودہ  نظام کے خلاف بات کرتاہے نظام کے مفادی  اُس  کے خلاف اتحادی محاذ بنالیتے ہیں اور اُس کے کردار کو عوام کے سامنے فرشتوں جیسی صفاتی ترازو لیکر تولنے لگتے ہیں، لیکن اپنے گریبانوں میں ذرا نہیں جھانکتے اور الزام تراشی میں اپنے گلے خشک کرلیتے ہیں۔۔ 

  میرے خیالات سے اتفاق ضروری نہیں۔۔اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔رب راکھا۔ 

Tuesday, January 15, 2013

"شاید کے دل میں اُتر جائے "

منجانب فکرستان: کُھلی بات
-----------------------------------------------------------------
سابقہ پوسٹ پر ای میل ملی" لگتا ہے آپ بریلوی ہیں" ایک پوسٹ میں ڈاکٹر عبدالسلام کا حوالہ دینے  پر تبصرہ آیا "کیاآپ قادیانی ہیں" میرا استدلال(آیت 159 الانعام)پرہےکہ مجھےاپنےآپ پر/دیوبندی، اہلحدیث، بریلوی، شیعہ، وغیرہ جیسا کوئی لیبل۔نہیں لگنے دینا چاہئیے/چونکہ آیت کا ترجمہ ہے " جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً اُن سے تُمہارا (محمدﷺ) کُچھ واسطہ نہیں۔۔۔۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ۔۔۔ وہی ان کو بتائے گا کہ۔۔ انہوں نے کیا کُچھ کیا ہے( ترجمہ مولانا مودودی) ۔۔  رب کی اتنی  واضع اور سخت برہمی پر میں اپنے آپ کو  کسی فرقے یا گروہ سے  کیسے وابستہ کر لوں۔۔
ایسی ہی ایک اور آیت آلِ عمران کی 105 ہے۔" کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے ۔۔۔اور کُھلی کُھلی واضع ہدایت پانے کے بعد۔۔۔ پھر اختلاف میں مبتلا ہوئے۔۔۔جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روز سخت سزا پائیں گے ( ترجمہ مولانا مودودی)"۔۔انِ آیات کی روشنی میں/میں اپنے آپ کو کسی فرقے یا گروہ سے وابستہ نہیں کرسکتا ۔۔۔ 
 آجکل پاکستان میں فرقہ واریت ٹار گٹنگ میں جو خون بہہ رہا ہے یا اب تک جو بہا ہے،کیا وہ درج بالا قُرآنی آیت کی  خلاف ورزی کا نتیجہ کہلانے کا حقدار نہیں ہے ؟؟؟
رہی بات قادیانیوں  کی تو مسلمان کہلانے کی بنیادی شرط ہی یہ ہے کہ کوئی بھی شخص  حضرت محمد ﷺ کوخاتم النبیین مانے بغیر مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں ہے۔۔۔
میری باتوں سے اتفاق ضروری نہیں ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔رب راکھا۔۔۔


Wednesday, January 9, 2013

" نیچر میں نظامِ سزا "

منجانب فکرستان: یوناندیویاں/نئی مثال  / اقوام متحدہ/ شاندار/سزا 
---------------------------------------------------------------------
پوری کائنات میں نظم موجود ہے اور انسان کو اِس نظم سے  فائدہ اُٹھانے کی   پوری اجازت ہے ،لیکن اس میں غیر فطری مداخلت کر نے کی اجازت نہیں ہے ، نہ صرف اجازت نہیں ہے بلکہ غیر فطری مداخلت کرنے پر سزا  کا نظام بھی  رائج ہے ۔۔۔مثلاً یونان کے ڈیلفی  کے مندر کا دیوتا لوگوں کے پوچھنے پر غائب کی باتیں بتایا کرتا تھا ،ایک دن  یونان کے لوگوں   نے ڈیلفی کے مندر کے دیوتا سے پوچھا  کہ رات کو تارے ٹوٹ کر زمین کی طرف آتے دکھائی دیتے  ہیں لیکن پھر کوئی غیبی طاقت زمین پر گرنے سے پہلے اُنہیں جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔۔جواب آیا کہ جو تارے نظام کی پابندی نہیں کرتے ہیں دیویاں اُنکا پیچھا کرتی ہیں اور سزا کے طور پر جلاکر بھسم کردیتی ہیں۔۔
 نئی مثال:الٹراساؤنڈ مشین بیماریوں کی تشخیص وغیرہ کیلئے ہے لیکن انسان اسے لڑکیوں کے پیدا ہونے سے پہلے مار دینے کیلئے استعمال کر رہا ہے یوں ازل سے نیچر میں موجود مرد عورت 50/50 فیصد کے تناسب  میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے جسکی سزا: اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق بھارت میں 5 کروڑ لڑکیاں مختلف علاقوں  سے غائب ہوئی ہیں۔۔۔
انسان کی پیدائش سے لیکر آج تک دنیا  بھر میں عورت اور مرد  میں 50/50 فیصد کا تناسب قائم رکھنے کیلئے نیچر میں لڑکا اور لڑکی کی گنتی  کا کیسا شاندار نظام قائم ہے جو کہہ رہا ہے ۔۔وہی تو ہے۔۔۔وہی تو ہے۔۔۔جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔۔۔
دوستو: میری باتوں سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔۔اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔رب راکھا۔۔۔
 http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/01/130108_girl_abduction_india_zs.shtml   

Tuesday, January 8, 2013

" لڑکی بھی قصور وار تھی "

 منجانب فکرستان: یہی دنیا کا دستور ہے ۔
--------------------------------------------------------------------
بھارتی گرو کو بھی جانے  کیا سوجھی کہ اتنے دنوں بعد یہ بیان داغہ کہ بس میں زیادتی والے کیس میں لڑکی بھی قصور وار تھی اور اُس  کا قصور یہ تھا  کہ وہ مقدس شبدوں (لفظوں)  کا ورد نہیں کر رہی تھی اگر وہ مقدس شبدوں  کا ورد کررہی ہوتی تو وہ شبد لڑکی کو تحفظ فراہم کرتے ۔۔بہرحال  یہ کہہ کر  گرو نے ایک نیا ٹنٹا میڈیا کے حوالے کردیا ہے ، ہمیشہ کی طرح  شروع شروع میں ایک  شدید عوامی ریلا گرو کے بیان کی مخالفت میں آئے گا اسکے بعد ایک اور ریلا گرو کی حمایت میں بھی آ سکتا ہے۔۔اور پھر اس کے بعد  ہمیشہ کی طرح ، پھر  کوئی نیا موضوع اور نئی بحثیں کہ یہی دنیا کا دستور ہے ۔۔۔اب اجازت دیں۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔
دوستو: مکمل تفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔
 http://www.dw.de/%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%88/a-16505308  

Wednesday, January 2, 2013

" یہ ایک حقیقت ہے "


منجانب فکرستان: عمران خان/طاہرالقادری / بی بی سی تجزیہ کار/ٹشو پیپر
-----------------------------------------------------------
آج کا میڈیا چِیل اُڑی کہنے پر بھینس اُڑی کی ہیڈنگ لگا دیتا ہے۔مثلاً سینیئر بُش  کے ہاسپیٹل داخلے پر اُنکے مرنے کی خبرجرمنی کے اخبار نے لگادی۔۔ جبکہ ہمارے  چنچل میڈیا کو اپنے جوہر دکھانے کیلئے ایک نیا چہرہ طاہرالقادری کی صورت میں مل گیا  ہے اُنکے بیان کو ہر اخبار اپنے رنگ میں دِکھاتا ہے یوں اُنکا بیان ملٹی کلر بن  کر عوام میں اصل رنگ کونسا کا کنفیوژن پیدا کررہا ہے ۔۔۔   
ڈاکٹر طاہرالقادری نے الیکشن کے بنتے ہوئے ماحول میں اچانک عوامی پھلجھڑی   (نظام کی تبدیلی) چھوڑی ہے۔ لیکن یہ ایسے وقت میں چھوڑی گئی ہے جب عوام ووٹ دینے کی تیاری پکڑ رہے تھے جبکہ ایسی ہی تبدیلی کی بات تو عمران خان بھی  کہہ رہے ہیں ،لیکن وہ الیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد نظام میں تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری الیکشن سے پہلے نظام کی تبدیلی کی بات کررہے ہیں، یہی وہ بات ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں جگہ نہیں بنا پا رہی ہے ۔ ۔۔درج ذیل بھارت کے بارے میں بی بی سی کے تجزیہ کار کےچند پیرائیے ہیں۔
------------------------------------------- 
ریپ تشدد کا سب سے بھیانک اور تکلیف دہ روپ ہے۔ بھارت میں اوسطاً ہر بیس منٹ میں کہیں نہ کہیں ایک ریپ ہو رہا ہوتا ہے۔
بھارت کا سیاسی نظام اگرچہ جمہوری اصولوں پر قائم ہے لیکن اسے چلانے والے وہی لوگ ہیں جو کچھ عشرے پہلے تک جاگیردار ہوا کرتے تھے۔ساٹھ برس کی جمہوریت کے باوجود ان سیاسی رہنماؤں کی نفسیات سے جاگیرداری کا تصور جا نہیں سکا ہے۔۔۔ 
وہ خود کو منتظم اور سیاسی رہنما نہیں بلکہ حکمراں سمجھتے ہیں اور عوام ان کی نظروں میں اب بھی محض رعایا ہے جس کی قسمت کے وہ خود کو مالک سمجھتے رہے ہیں۔۔جمہوری بھارت میں سیاست طاقت، دولت اور تکبر کے حصول کا ذریعہ بنی ہوئی ہے ۔
پچھلے دو برس سے بھارت کے عوام کسی لیڈر اور قیادت کے بغیر ملک کے اس فرسودہ سیاسی نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔ خواہ وہ بدعنوانی کا معاملہ ہو یا ریپ کا آج ہزاروں کی تعداد میں میں پورے ملک میں لوگ ایک ساتھ نکلتے ہیں اور موجودہ سیاسی نظام سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

--------------------------------------------------
پاکستان میں جاگیرداری نظام قائم ہے، ن لیگ ہو کہ پیپلز پارٹی، طاقتور سیٹ ہولڈر وں سے مزین ہیں، ان سیٹ ہولڈروں کیلئے نظام کی تبدیلی نقصان دہ بات ہے۔لیکن یہ سیٹ ہولڈرز عوام کو دکھانے کی حد تک لولی پاپ نعرہ " نظام کی تبدیلی" لگاتے ہیں ،کامیاب ہونے کے بعد اس نعرہ کو استعمال شُدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتے ہیں۔
 پاکستان ہو کہ بھارت یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں پر رائج نا انصافی پر مبنی لوٹ کھسوٹ کے فرسودہ سیاسی نظام سے یہاں کی عوام کافی حد تک بیزار ہو چُکی ہے ، اسی لیے چاہتی کہ انصاف پر مبنی سخت قسم کا  جواب دہ نظام کا نفاظ ہو،لیکن عوام کی یہ خواہش کب اور کیسے پوری ہوگی یہ ایک سوالیہ نشان ؟ ہے۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔" رب راکھا "۔۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...