Monday, January 19, 2015

۔" گلیزل " کا سوال آزاد معا شرے کی تصویر

 فکرستان کی شئیرنگ:برائے غور و فکر

ایک 12 سالہ معصوم بچّی نے 78 سالہ پوپ سے ایک ایسا معصومانہ سوال کر بیٹھی کہ پوپ سے کوئی جواب نہ پن پڑا تواُنہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار نم ناک آنکھوں سے بچّی کو گلے لگا کر کیا۔۔
12 سالہ لاوارث معصوم بچّی "گلیزل آئی رس پالومر" نے پوپ فرانسس سے کہا کہ "دُنیا بھر میں بُہت سے بچّوں کو اُنکے والدین تنہا چھوڑ دیتے ہیں،اِن میں سے بُہت سے بچے منشیات اور عصمت فروشی جیسے گھناؤنی سماجی بُرائیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔آخر خُدا یہ سب کُچھ کیوں ہونے دیتا ہے جبکہ اِن بچّوں کا اِس میں کوئی قصور نہیں ہوتا؟؟
"گلیزل" کا یہ سوال آزاد معاشرے کی تصویر ہے۔۔۔اب مجھے اجازت دیں۔۔پڑھنے کا شُکریہ  
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  



Saturday, January 17, 2015

" ماڈرن گُرو "

منجانب فکرستان
ہندوستان کی عوامی اکثریت اپنی حاجت روائی کیلئے ہمیشہ گُروؤں کی تلاش میں رہتی ہے،اِسی ضرورت کے پیشِ نظر "گُرو"بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔۔۔
حالیہ دِنوں میں جو گرو میڈیا کی زینت بنےان میں،باپوآسارام،باباراجپال،رام دیو اور رام رحیم سنگھ شامل ہیں۔۔۔
بابا رام دیو، یوگا کے زریعے روحانیت کا درس دیتے ہیں وہیں مردانہ طاقت میں اضافے کی دوا بھی دیتے ہیں۔۔جبکہ رام رحیم سنگھ خُدا کی قربت کیلئے نس بندی کا درس دیتے ہیں،نامرد بن جاؤ گے تو، خُدا کے قریب ہو جاؤ گے۔
رام رحیم سنگھ کو "ماڈرن گرو" کہنا زیادہ مناسب ہے،چونکہ اُنہوں نے ماڈرن زمانے کے مطابق ایکشن سے بھر پور اور جدید گانوں سے آراستہ فلم بنائی ہے ،جس کے ہیرو،ڈائریکٹر، پروڈیوسر،حتاکہ گلوکار بھی گرو جی خود ہی ہیں۔۔۔
بدلتا ہے زمانہ رنگ کیسے کیسے ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔ 
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


Saturday, January 10, 2015

" چند مثالیں "

 منجانب فکرستان



لگتا ایسا ہے کہ آجکل نان مسلم قومیتیں اِسلام فوبیا میں مبتلا ہیں۔یہی وجہ ہے کہ"ساکشی مہاراج" نعرے  لگاتے پھر رہے ہیں کہ "ہندو دھرم کو بچانا ہے تو ہر ہندو عورت کو چاربچّے جننا ہے"
فرانسیسی ادیب "مشل ہولی بیک" نے اِس خوف کا اظہار ناول لکھ کر کیا ہے کہ ہمارا معاشرہ/ مذہب۔۔اسلامی معاشرے/مذہب کے سامنے ٹہر نہیں پائے گا اِسطرح 2022 کے آتے آتے فرانس ایک اسلامی مُلک کے طور پر جانا پہچانا جائے گا۔۔۔

یورپی تنظیم پیگیڈا( پیٹریاٹک یورپیئنز اگینسٹ اسلامائزیشن) بھی اسلام فوبیا کا نتیجہ ہے ۔۔۔
اب اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Wednesday, January 7, 2015

" بڑھتے قدموں پر ضرب کاری "

فکرستان کی شئیرنگ:برائے غور و فکر 
Supporters of the Pegida movement, including some holding lanterns glowing in the colours of the German flag, gather for another of their weekly protests on January 5, 2015 in Germany
 یہ  اُن 22   ہزار افراد کی تصویر ہے کہ جنہوں نے  ریلی میں شریک ہوکر پیگیڈا کے" دورِ جہالت پر مبنی انتہا پرستانہ نظریہ کو مسترد کیا"
جرمنی میں اسلام مخالف یورپی انتہا پرست  تنظیم "پیگیڈا"ریلیاں نکالا کرتی ہے، جسے جرمنی کی اکثریت پسند نہیں کرتی۔۔
جب جرمن اخبار "بلڈ" نے پیگیڈا کے خلاف اپنی مُہم کا آغاز کیا تو یہ گویا جرمنی کے لوگوں کی دل کی آواز ہی تھی۔۔ کیا عوام کیا خواص سب نے ہی اِس مہم کا حصّہ بننا پسند کیا۔۔ 22 ہزار افراد پر مشتمل پیگیڈا مُخالف ایک بڑی ریلی نکال کر پیگیڈا والوں کو ہکابکا کردیا۔۔شریک شرکا کا کہنا تھا کہ وہ انتہا پسندی اور نفرت کو مکمکل طور پر مسترد کرتے ہیں،بدلے میں برداشت اور بھائی چارے کے نظریے کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔
یہ بڑی ریلی گویا پیگیڈا کے بڑھتے قدموں پر ایک کاری ضرب ہے۔۔۔
مددگار سائٹ: 
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/01/150106_germany_anti_pro_islam_ads
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Sunday, January 4, 2015

" میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم "

فکرستان کی شئیرنگ: برائے غور و فکر 


میلاد النبیﷺکی خوشیاں منانے والوں کے خلاف سعودی مفتیٰ اعظم کا فتوی۔۔۔ 03 جنوری 2015 (19:42)


ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طرف تو ہمارے ہاں رسول کریم ﷺ کی دنیا میں آمد کی خوشی میں عید میلاد النبیﷺ منانے کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں اور گلیوں بازاروں کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف سعودی مفتی اعظم شیخ عبد العزیز الشیخ کی طرف سے عید میلاد النبیﷺ منانے کو بدعت اور کار گناہ قرار دے دیا گیا ہے۔ 
امام ترکی بن عبداللہ مسجد ریاض میں خطبہ جمعہ سے خطاب کے دوران انہوں نے فرمایا کہ، ” یہ ایک بدعت ہے جو آپﷺ اور صحابہ کے دور سے تین صدیاں بعد دین میں داخل ہوئی“۔
”سوہنا آیا تے سج گئے نے گلیاں بازار“ 
انہوں نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ کی سچی محبت یہ ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں اور سنت پر عمل کریں جبکہ عید میلاد النبیﷺ منانے کی تلقین کرنے والوں کو بھی انہوں نے گنہگار اور گمراہ قرار دیا۔ 
بشکریہ : روز نامہ  پاکستان
http://dailypakistan.com.pk/daily-bites/03-Jan-2015/179648



Thursday, January 1, 2015

"مفاہمت تا مذاکرات تک "

منجانب فکرستان 
زرداری صاحب نے مفاہمت کے زریعے 5سال آرام سے گُذار لئے۔۔۔اسی طرح نواز شریف صاحب بھی مذاکرات کے زریعے 5سال گُذار جائیں گے۔۔مثلاً پہلے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے زریعے اچّھے خاصے دن گُذرے اور اب،پی ٹی آئی سے مذاکرات کے زریعے دن گُزر تے جا رہے ہیں۔۔
عوام کے دن بھی اخبارات پڑھتے گُذر رہے ہیں کہ مذاکرات مثبت سمت بڑھ رہے ہیں۔۔ عوام عنقریب خوشخبری سُنیں گے ۔اور پھر اچانک عوام سُنتی ہے کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک آگیا ہے، سوال یہ کہ  عوام کو خوشخبری سُناتے سُناتے یہ ڈیڈ لاک کہاں سے آگیا؟؟
پھر عوام کو یہ پڑھنے کو ملا کہ مذاکراتی فریقین کے درمیان ابھی تک لفظ دھندلی کی تعریف پر ہی اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔۔۔
اسحاق ڈار صاحب نے وقت مانگ لیا ہے کہ چند امور پر پارٹی سے مشاورت کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔۔گویا
اِک سلسلہ ہے مذاکرات کا،نتیجہ خیز بنے بغیر
اب مُجھے اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Monday, December 29, 2014

" گذشتہ سال "

منجانب فکرستان 
خواتین کئی پیشوں میں مَردوں کو پچھاڑتی جارہی ہیں۔دہلی پولیس نے مزید ایک ایسے پیشے کی نشان دہی کی ہے جو مَردوں کا کہلاتا تھا،اِس پیشے میں بھی خواتین نے اپنی برتری دِکھادی۔
دہلی  میٹرو ٹرینوں سے رواں سال نومبر تک 313 جیب کتروں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے صرف 20 مرد باقی293 خواتین تھیں،خواتین سے برآمد ہونے والا مال اِنسانی عقل کو چکرا دیتا ہے، تقریباً 14 لاکھ ڈالر مالیت کی نقدی،بڑی تعداد میں زیورات، سیکڑوں کی تعداد میں لیپ ٹاپ،موبائل فون،گھڑیاں وغیرہ تھیں ۔۔
اِسی طرح سے گُذشتہ سال بھی گرفتار 466 جیب کتروں  میں سے صرف 45 مرد باقی 421 خواتین تھیں۔۔۔
مزید تفصیل طلب دوست لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں ۔۔پڑھنے کا شُکریہ
http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/12/141228_india_women_pickpockets_atk
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 
               

Thursday, December 25, 2014

" نقطہ نظر "

فکرستان کی شئیرنگ: برائے غور و فکر 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
جبکہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ اپنے کالم بعنوان "نئی قوم پرستی کی راہ پر " میں اپنا نقطہ نظر  کچُھ یوں بیان کرتی ہیں۔۔      
"جو کام پاکستان میں غالباً قائد ِ اعظم محمد علی جناح بھی نہیں کر سکتے تھے وہ ہو سکتا ہے کہ ایک سوبتیس بچوں کی افسوس ناک ہلاکت کر دکھائے۔۔۔ ایک عمومی یا مشترکہ بیانیہ رکھنے والی ریاست کی تشکیل جونظریاتی اور سیاسی طور پر مربوط ہو۔ ایسا ماحول بنتا دکھائی دے رہاہے کہ جو چیز بھی اس ربط سے باہر ہوگی ، وہ یاتو نظر انداز کر دی جائے گی یا منظر ِ عام سے ہٹ جائے گی"۔
"جنگ اور جنگ کی طرح کے بحران عجیب قسم کی حب الوطنی کو جنم دیتے ہیں جس کے بعد کسی اور بیانیے کی گنجائش نہیں رہتی۔ شاید ہم اسی طرح کی نظریاتی طور پر مربوط ریاست کی تخلیق کی طرف رواں دواں ہیں"۔۔۔
مکمل کالم پڑھنے کیلئے لنک پر جائیں http://www.dunya.com.pk/index.php/author/dr.-ayesha-sadique/2014-12-25/9616/96857976#.VJxg8F4AA 
 کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں 

Friday, December 19, 2014

یارو: باپ بھی تو دُکھی ہیں

 منجانب فکرستان :یہ کیسی روایت  ہے؟؟
پِشاور اسکول کے غم واندوہ واقعے پر جو کچھ پڑھنے کو ملا اِس سے ذہن میں یہ تاثر اُبھر کر سامنے آیا کہ شہید بچوں کا دُکھ صرف ماں کے حوالے سے ہی یاد کیا جارہا، باپ کے دُکھ کا حوالہ نہیں دیا جا رہا ہے۔۔
بیشک پیدائش کے مرحلے میں باپ کا کوئی کردار نہیں ہوتا وہ لیبر روم کے باہر کھڑا نظر آتا ہے، تاہم پیدا ہونے والے بچّے میں باپ کا خون بھی شامل ہوتا ہے اِسی لئے وہ اُس بچّے کو اپنا بچّہ کہتا ہے اور اپنے بچّے سے وہ نہ صرف محبت کرتا ہے بلکہ اُس کی جملہ ضروریات بمع تعلیم وتربیت کے اخراجات کیلئے رات دن محنت کرتا ہے،یہاں تک کے اُسکے بہتر مستقبل  کیلئے بیرونی مُلک جاکر محنت مزدوری کرتا ہے۔۔۔
 وہ یہ سب کچّھ بچّے کی محبت یعنی اپنے خون کی محبت میں کرتا ہے،تاہم اتنا سب کرنے کے باؤجود بچّے کی موت کے صدمے کا اظہار ماں کے حوالے سے ہی کیا جاتا ہے۔۔۔ 
بیشک ماں کا دُکھ باپ کے دُکھ سے سِوا ہوتا ہے، لیکن باپ کا دُکھ بھی کچّھ کم نہیں ہوتا ہے۔۔کسی بچّے کی موت پر ماں کے دُکھ کے ساتھ باپ کے دُکھ کی کیفیت کا اظہار بھی ہونا چاہئیے، لیکن روایت ایسی پڑ چُکی ہے کہ بچّے کی موت پر صرف ماں کے دُکھ کی نمائندگی کی جاتی ہے جیسا کہ پشاور واقعے میں بھی ہورہا ہے ۔۔۔
اب مُجھے اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 
       

Saturday, December 13, 2014

" آرا ۔۔۔ دوستوں کی "

منجانب فکرستان
٭٭٭٭٭
پہلا دوست: رپورٹ پر حیرت ہے کہ اعلیٰ اقدار کی دعوے دار اور انسانی حقوق کی علم بردار قوم کا ایسا گِھناؤنا کردار !!  
دُوسرا دوست: تؐمہیں حیرت ہو تو ہو مجھے کوئی حیرت نہیں،اسلئیے کہ سی آئی اے کے کردار کے بارے میں اسطرح کی باتیں آتی رہی ہیں،اسکے علاوہ کیا آپ امریکی عالمی جاسوسی اور انجیلا مرکل کا رنجیدہ چہرہ بھول گئے؟
 
تیسرا دوست: میں تو سمجھتا ہوں کہ سی آئی اے کے کردار سے خود ہی نقاب ہٹانا اور اِس رپورٹ کو جاری کرنا،امریکیوں کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔۔ 
پہلا دوست:اِسکا ایک پہلو یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سی آئی اے کو اضافی تفتیشی حربے استعمال کرنے کا اختیار ریپلکن صدر جارج ڈبلیو بُش نے دیا تھا، جبکہ ڈیموکریٹک صدر اوباما نے اِس اختیار کو واپس لے لیا تھا،اِس سے ممکن ہے ڈیمو کریٹک پارٹی کی پوزیشن جو کہ خراب چل رہی ہے کُچھ بہتر ہوجائے۔ 
دوسرا دوست:تمہاری بات میں وزن تو ہے، تاہم گونتاناموبے کا بند نہ کرنا اور خاص کر ڈرون حملے ڈیموکریٹک کے امیج کو انسانی حقوق کے حوالے سے خراب کرتے ہیں۔۔
تیسرا دوست:اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموؐں کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ اِن وحشیانہ تفتیشی طریقوں میں ملوث تمام افراد کو سزا ملنی چاہئیے تاکہ آئندہ کوئی  تفتیش کے نام پر انسانیت سوز حربے استعمال نہ کر سکے ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  
       

Friday, December 5, 2014

" آگہی کیلئے "

منجانب فکرستان:آگہی کیلئے
بشُکریہ روز نامہ جنگ 

Wednesday, December 3, 2014

میرا لباس،میرا فیصلہ: تم کون ؟؟

منجانب فکرستان:تھپڑاورمیڈیائی زاویے

خواتین کے لباس پراعتراضات ہوتے رہتے ہیں۔خواتین بھی غصے میں کہتی ہیں کہ تم کون ہوتے ہو ہمارے پہناوے کا فیصلہ کرنے والے!بلکہ slut کی خواتین تو یہاں تک کہہ دیتی ہیں کہ "خُدا" نے خوبصورت جسم دیا ہے تو اسکی نمائش کیوں نہ ہو!!
اِس بارے میں بابائے تاریخ ہیروڈوٹس نے اپنی کتاب میں ایک بادشاہ کا تذکرہ کیا ہے۔جو چاہتا تھا کہ اُسکی خوبصورت رانی کے جسم کی خوبصورتی کو کوئی دوسرا مرد بھی بے لباس دیکھے اور رانی کے خوبصورت جسم کی تعریف کرے اور اسکا اہتمام بھی کیا۔خیراِس قصے کو یہیں چھوڑتے ہیں اور بڑھتے ہیں تھپڑ کی جانب۔ 
آج کا میڈیائی دور ایسا ہے کہ 9/11 تا گوہر خان تھپڑ تک، میڈیا ہر واقعے کے اتنے زاویے دِکھاتا ہے کہ اِن زاویوں میں سچ ہمیشہ کیلئے کہیں کھو جاتا ہے۔۔
 تھپڑ کے جو زاویے اب تک میڈیا میں گردش کر رہے وہ یہ ہیں کہ تھپڑ مارنے والا شراب کے نشہ میں تھا(پہلا زاویہ)۔
 گوہر خان اپنے آپکو اسلامی شعار کی پابند کہتی ہیں اور پھرایسا لباس پہنے پر عقیل ملک جو کہ مسلمان ہے اپنے مذہبی جذبات پر قابو نہ رکھ سکا(دوسرا زاویہ)۔
ایک کہانی یہ بھی ہے کہ اُسکے جنسی جذبات بھڑک اُٹھے تھے اور وہ گوہر خان سے ہم کنار ہونے گیا تھا گوہر خان کے جِھڑکنے پر اُس نے پینترا بدل کر یہ سب ڈرامہ رچایا(تیسرا زاویہ)۔
یہ تو وہ زاویے ہیں جو نظر سے گُذرے اسکے علاوہ بھی میڈیائی زاویے ہونگے۔۔اب سچ کیا ہے؟؟
بھاڑ میں گیا سچ! بس اتنا یاد رکھیں کہ فلاں واقعہ ہوگیا یعنی 9/11ہوگیا یا تھپڑ پڑگیا۔۔۔ بس اتِنا ہی سچ کافی ہے۔۔ہر واقعہ کا بس اتِنا ہی سچ معلوم ہوسکتا ہے اِس سے زیادہ نہیں۔۔۔۔
اب اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔ 
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }       


    

Tuesday, December 2, 2014

کُفارہ

منجانب فکرستان 
عیسایت میں پادری کے سامنے اپنے کئے گئے غلط  کاموں کا اعتراف کرنا اور معافی مانگنا جیسی رسم  پائی  جاتی ہے( ٹالسٹائی نے اپنی آپ بیتی میں،پادری کا گھرمیں آنااور گھر والوں کا پادری کے سامنے اعترافات کی رسم کی منظر کشی کی ہے) شاید اسی رسم کی وجہ سے انگلش بولنے والوں میں " سُوری اور ایکسکیوز می " جیسے الفاظ کہنا رواج پا گئے ہیں۔
اسکی حالیہ مثال اوباماکی بیٹیوں پر تنقید کرنے والی خاتون "الزبتھ لوٹین" کے معافی نامے سے دی جا سکتی ہے لوٹین نے اپنے  معافی نامے میں بہت دیر تک عبادت کرنے کا ذکر کیا ہے وہ کہتی ہیں "میں ان تمام لوگوں سے معافی مانگتی ہوں جنھیں میں نے تکلیف پہنچائی ہے اور جنھیں میرے الفاظ سے دکھ ہوا ہے اور میں عہد کرتی ہوں کہ میں اس تجربے سے سبق سیکھوں گی۔ 'بہت دیر تک عبادت کرنے اور اپنے والدین سے گفتگو کرنے کے بعد جب میں نے دوبارہ اپنی تحریر پڑھی تو مجھے  احساس ہُوا کہ میرے یہ الفاظ کس قدر تکلیف دہ ہیں"شاید اسی تکلیف دہ احساس کے تحت وہ مستعفی ہوگئیں ۔۔۔۔۔
۔۔مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں۔۔۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/12/141202_obama_daughters_criticism_resigns_zz
{ پڑھنے کا بُہت شُکریہ }
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Saturday, November 29, 2014

" منفرد باتیں "

منجانب فکرستان
دانشور کچُھ منفردباتیںکیا کرتے ہیں، آئیں سُنیں ایک دانشور سے اُسکی
منفرد باتیں اِن باتوں سے اختلاف/ اتفاق کرنا آپ کا حق ہے۔۔         
موسیقی تفریح یا مقصد ِحیات...ایازا میر

SMS: #AAC (space) message & send to 8001
میں شاید کبھی بھی کنورٹیبل کار نہ خرید سکوں گا کیونکہ ایسی عمدہ گاڑی خریدنا میرے وسائل کی سکت سے باہر ہے، لیکن میں اکثر جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہوں کہ میں ایک کھلے چھت والی مرسڈیز چلارہاہوں جبکہ ساتھ والی سیٹ پر کوئی حشر ساماں اپنی تمام تررعنائیوں سمیت جلوہا فروزہے تو سوچتا ہوں کہ ایسے میں کیسی موسیقی دل (اُس کے) دل کو نرم کرتے ہوئے دفاعی حصار کو کمزور کرتے کرتے ختم کردے گی۔ موسیقی سے کچھ بھی ممکن ہے، اور پھر ایسے عالم مایوس ہونا درست نہیں۔ سنہری سڑک پر ہوا سے باتیں کرتے ہوئے اسپ ِ تازی کی پشت پر سوا رہیرو جانتا ہے کہ اگر اُس کا ہدف موسیقی سے نابلد نہیں تو پھر ویگنرکی Prelude سے بہتر کوئی آپشن نہیں۔ اس دھن میں جب وائیلن کے سربلند ہوتے ہیں اور جب آرکسٹرا کی لہر اپنے عروج پر پہنچتی ہے تو موسیقی صوت وصدا کی حدودوقیود سے ماورا ہوکرآفاقیت کے پیرائے میں ڈھل جاتی ہے۔
چلیں جرمن موسیقی اور اوپیرا کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے صرف موسیقی کی ہی بات کرلیں۔ خدشہ ہے کہ وہ مذکورہ حشر ساماں پری زاد ، جسے موجودہ دور کی رومانوی اصطلاح میں Cool(واحسرتا)کہا جائے گا، پوچھ بیٹھے گی کہ یہ شور شرابا کیا ہے؟اگر آپ اس کی وضاحت کریںاور اگر وہ اسے سمجھنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ کہے گی کہ یہ coolہے۔ اس کا مطلب یہ کہ بات بن گئی ہے اور آپ ، گاڑی سمیت، درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن اگر وہ اس کو پسند کرنے سے بوجوہ قاصر رہے اور کہے کہ کچھ اور لگائیں توآپ اُسے اگلےا سٹاپ پر کوئی مناسب سی جگہ دیکھ کر گاڑی سے اتاردیں اور کہیں کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی....الوداع۔گویا موسیقی سے نابلد محبوبہ بھی مخطوطہ ہی دکھائی دیتی ہے۔
جب ہم جوان ہورہے تھے تو سگریٹ پینا بلوغت کی علامت تھی۔ قیمتی لائیٹر اور اپنے پسندیدہ سگریٹ کے پیکٹ کے ساتھ آپ جوانی کی حدود میں قدم رکھتے تھے۔ ہمارا انداز کسی حد تک ہالی ووڈ کے ہیروز سے ملتا جلتا تھا۔ اُس وقت ہمیں نہ ویگنر سننے کا موقع میسر تھا اور نہ ہی بیتھون کا.... تاوقتیکہ آپ بیرونی ممالک کا سفر اختیار نہ کریں اور گراموفون ریکارڈ خرید کرلائیں۔ اُس وقت گراموفون بھی ہر گھر میں نہیں ہوتا تھا۔ کوئی کتنے ریکارڈ خرید کرلاسکتا تھا؟ جب میں ماسکو میں سفارت خانے میں فرائض سرانجام دے رہا تھا اور ایک موقع پر مجھےفرینکفرٹ جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے بیتھون کی دھنوں کے ریکارڈ خریدے۔ میں اُنہیں اتنی احتیاط سے پاکستان لے کر آیا جیسے کوئی بہت نایاب جواہرات ہوں۔
اُس وقت ایسی اشیاء کے حصول کی تفریط کا آج کی افراط سے مقابلہ کریں اور دیکھیں کہ آج سائبر اسپیس میں آپ کے لیے کتنے بیش بہا خزانے صرف ایک کلک کے فاصلے پر ہیں اور اگر آپ کے پاس اچھا سا سائونڈ سسٹم ہے تو پھرآپ چشم زدن میں ایک دیومالائی دنیا میں داخل ہوسکتے ہیں۔ آپ صرف preludeہی نہیں بلکہ ویگنر کی تمام موسیقی سن سکتے ہیں۔ 1942کی Meistersingers کی ریکارڈنگ جبکہ Goebbels تھیٹر کی پہلی قطار میں بیٹھ کر سنا کرتا تھا، آپ کومدہوش کردے گی۔ یہ وقت تھا جب جرمن فورسز نے ا سٹالن گراڈ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور جنگ کا توازن اُن کے حق میں نہیں جارہا تھا لیکن German Philharmonic پورے عروج پر تھا۔ میںنے ایک مرتبہ یہ موسیقی اپنے بیٹے شہریار کو سنائی کہ کیا وہ اس کا ذوق رکھتا ہے یا نہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ اس سے محظوظ ہورہا تھا۔ میں نے چیک کیا کہ کیا وہ دکھاوا تو نہیں کررہا لیکن وہ درحقیقت اس کا لطف لے رہا تھا۔
اگر میرے جیسا موسیقی کا طالب علم اوپیرا سے لطف لے سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دل کو چھو لینے والی موسیقی ہے۔ آپ کو اس کی تفہیم کے لیے موسیقی کےا سکول میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اطالوی زبان کا ایک لفظ بھی نہ جانتے ہوںلیکن اگر آپ کی روح زندہ ہے ، یعنی اس میں موسیقی اور شاعری کا ذوق نہاں ہے، تو آپ اس کے سحر انگیز اثر سے نہیں بچ سکتے۔ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میں موسیقی کا بہت کم علم رکھتا ہوں۔ مجھے بہت سی چیزوں کا علم بھی نہیں ہوتا لیکن اتفاقاً سائبر اسپیس کی سیر کرتے ہوئے کچھ ہاتھ لگ جاتا ہے تو میں اس میں کھو جاتا ہوں۔ اس سال میں ویگنر کے گانے گانے والی عظیم ترین گلوکارہ Kirsten Flagstad ، جس کا تعلق ناروے سے ہے ، سے آشنا ہوا۔ اُس کی آواز اور ترنم اُس سے کہیں فزوں تر ہے جو آپ نے کبھی سنا ہو۔ کچھ عرصہ پہلے تک میں رچرڈ سٹراس کے آخری چار گانوں سے ناواقف تھا۔ اُس کا اصرار تھا کہ Flagstad اُنہیں گائے۔ اُس نے گایا لیکن اُس وقت تک رچرڈ کا انتقال ہوچکا تھا۔ Wilhelm Furtwangle کے ساتھ گایا ہوا گیت بے مثال ہوجاتا ہے۔
اس وقت میں کالم لکھتے ہوئے Entrance of the Gods سن رہاہوں۔ جی چاہ رہاہے کہ ویگنر کو اس ملک میں سمجھنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔ کیا ڈی جے بٹ اپنی دھنوں میں کچھ ویگنر کی آمیزش نہیں کرسکتا؟مثال کے طور پر Lohengrin Prelude کا کلائمکس۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے جلسے کا ہجوم مزید وجد میں آجائے گا۔ ہمارے محترم چیف جسٹس صاحب کو یوٹیوب پر لگائی گئی احمقانہ پابندی کا نوٹس لینا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیں اتنی عظیم تخلیقات سے محروم کررکھا ہے۔کورٹ روم میںویگنر کی موسیقی بہت اچھا سماں باندھ سکتی ہے۔ وائلن اور آرکسٹرا کی آمیزیش قانونی نکات کی تشریح کو بھی پرلطف بنا سکتی ہے۔ اس سے انسانی عقل اور دانائی کی بھی گرہیں کھلتی ہیں۔
کسی بھی قوم کے لئے دنیا میں مقام حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تعلیم نہیں جو ہم نے خود پر واجب کررکھی ہے بلکہ عالمی تعلیم۔ اس کے بعد ہمیں اپنے ماحول کو شاپنگ بیگ سے پاک کرنا ہے اور تیسری ضرورت ویگنر ہے۔ حیران ہوں کہ ان لوازمات کے بغیر کوئی قوم ترقی یافتہ ،بلکہ مہذب کیسے کہلا سکتی ہے؟یہ چیزیں پہلے اور میزائل اور بم بعد میں۔ ایک قوم جو سراٹھا کر چلنے کی اہل ہواُس میں لوگوں کو یہ خوف لاحق نہیں ہوتا کہ ان کے افعال پردینی عالموںکا مزاج برہم ہوجائے گا ۔ وہ نام نہاد مذہبی جبر سے بے نیاز ہوکر زندگی بسر کرتے ہیں۔
جب ہٹلر کی افواج نے لینن گراڈ کا محاصرہ کیا ہوا تھا کہ شہر بھوک اور افلاس کا شکار تھا۔ خوفناک سردی تھی اور گرمی پہنچانے کا سامان ندارد۔ لوگ اپنے پالتو جانور تک کھا گئے تھے۔ لوگ بھوک سے مررہے تھے لیکن اس دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسکولوں میں بچوں کی تعلیم اور امتحانات متاثر نہ ہونے پائیں۔ اس کے علاوہ ارکسٹرا کی دھن بھی بجتی رہی۔ چنانچہ تعلیم اور موسیقی کسی بھی قوم کو جسمانی اور فکری قید سے رہائی دلا کر آزاد دنیا میں سانس لینے کے قابل بنا سکتی ہے۔آپ ایک مرتبہ اس کا فیصلہ کرلیں۔ یہ بہت ہی cool ہے۔ اس موسم ِ سرما میں آزمائش شرط۔

 بشکریہ روزنامہ جنگ
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Friday, November 28, 2014

" جنگ کے نفسیاتی اثرات "

منجانب فکرستان

عراق افغان جنگ میں حصّہ لینے والے امریکی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے ذہن پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات کے تحت خودکشیاں کیں اور کئی نفسیاتی مریض بنے،جبکہ طالبان کی طرف سے نہ کسی نے خودکشی کی اورنہ ہی نفسیاتی مریضوں کی اطلاعات سامنے آئیںایسا کیوں؟

پہلے پہل خیال آیا کہ امریکی حملہ آور تھے جسکا فوجیوں کے ذہنوؐں میں اخلاقی دباؤ تھا،اِسکے علاوہ اپنے وطن اور گھر سے میلوں دوری نے بھی فوجیوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کئے ۔۔۔
 جبکہ طالبان دفاعی جنگ لڑ رہے تھے اِسلئے اُنکے ذہنوں میں یہ جنگ غیر اخلاقی نہیں تھی اور نہ ہی وہ اپنے وطن اور گھروں سے دور تھے۔۔لیکن پھر خیال آیا تھا کہ کوئی جنگ کتنی ہی اخلاقی کیوں نہ ہو نفسیاتی اثرات ذہنوں پر چھوڑتی ہے۔۔ 
مزار شریف میں واقع نفسیاتی ہسپتال کے ماہر نفسیات جناب نادر علیمی نے بی بی سی کو  طالبان پر اِس جنگ کے پڑنے والے نفسیاتی اثرات کے بارے میں آگاہی دی کہ خودکشی کا رحجان اُن میں بھی پایا جاتا ہے لیکن مذہب اسلام اُنکی خودکشی کے آگے ایسی ڈھال ثابت ہوتا ہے کہ وہ خودکشی نہیں کر پاتے ہیں، اُنہوں نے مزید بتایا کہ جن نفسیاتی مریضوں کا اُنہوں نے علاج کیا اُنکی تعداد ہزاروں میں ہے۔۔۔مکمل تفصیل جاننے کیلئے درج ذیل لنک پر جائیں ۔۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا۔۔۔ بُہت شُکریہ۔۔ 
http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/11/141126_taliban_psychiatrist_afghanistan_ak 
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Tuesday, November 25, 2014

" رشتوں سے وابستہ خوشیاں"

منجانب فکرستان

صدر صاحب کہتے ہیں "جو کام مرد کرسکتے ہیں وہ عورتوں سے نہیں ہوسکتا"جبکہ میری رائے ہے کہ اللہ تعلیٰ نے عورت کو ایسی "ہمتی طاقت" عطا کی ہے کہ وہ مردوں والے کام بھی کر سکتی ہے مثلاً باکسنگ ،ویٹ لفٹنگ ، ڈکیتیت(پھولن دیوی)جنگی معرکہ (چاندبی بی)ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنا، فٹبال کھیلنا وغیرہ۔۔ 

 کم عُمر لڑکی نے،جسمانیہمتی طاقت سے ہیوی ویٹ کو اُٹھالیا ہے۔  
           ٭٭٭
ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ عورتوں سے مردوں والے کام نہیں ہوسکتے ۔۔البتہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ عورت کو مردوں  والے کام کرنا چاہئیے کہ نہیں۔اِس ضمن میں میری رائے یہ ہے کہ نہیں کرنا چاہئیے  گو کہ جب میں عورت کو فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو بے ساختہ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔لیکن اسکے معنی یہ نہیں ہیں کہ میں عورت کے فٹبال کھلنے کا حامی ہوں۔۔۔
میں مردوں سے زیادہ عورت کی تعلیم کا حامی ہوں۔۔لیکن دفتروؐں میں کام کرنے کیلئے نہیں بلکہ نسل کی تربیت کیلئے۔معاشروں میں بگاڑ اِسلئیے ہے کہ عورت تعلیم یافتہ نہیں ہے۔۔اور جن معاشروں میں عورت تعلیم یافتہ ہے وہاں ذہنی سکون اسلئیے غارت ہے کہ عورت مرد بن گئی ہے نسل کی تربیت نہیں ہو پا رہی ہے۔۔
جہاں خاندان کا تصّورابھی زندہ ہے اور عورت تعلیم یافتہ بھی ہے ۔۔ایسا خاندان خاندانی خوشیوں یعنی رشتوں سے وابستہ خوشیوں کو(جوکہ انسان کی حقیقی خوشیاں ہیں) انجوائے کررہا ہے۔۔۔اب اجازت دیں۔۔
{ پڑھنے کا بُہت شُکریہ }
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  
         

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...