Monday, November 24, 2014

" رب کی باتیں رب ہی جانے "

منجانب فکرستان 
واہ میرے مولا خوب دُنیابنائی ہے مردوعورت بنایا مرد کو زیادہ طاقت عورت کو ہمت زیادہ دی ۔اس کے علاوہ اچّھی کہلانے والی صفات  بھی تناسبی اعتبار سے مرد کے مقابلے عورت میں زیادہ رکھی ہے،(یہ نتیجہ اخذ ہے آئے دن ہونے والی سائنسی تحقیقات سے )۔۔
 مرد طاقت کے بل پر جو کرسکتا ہے، عورت بھی ہمت کے بل پر وہ کرسکتی ہے۔۔تاہم عورت بچّے پیدا کرتی ہے مرد ایسا نہیں کرسکتا ہے۔۔۔
ایثار کا جذبہ مرد کی نسبت عورت میں زیادہ ہے،محبت کا جذبہ بھی مرد کے مقابلے میں عورت میں زیادہ ہے یہی حال صبر کے جذبے کا ہے۔۔۔غرض کہ اچّھے صفاتی جذبات کا نسبتی تناسب مرد کے مقابلے میں عورت میں زیادہ ہے ۔۔ مرد کے باپتا کے جذبے کے مقابلے میں عورت میں مامتا کا جذبہ کہیں زیادہ ہے۔۔۔ 
اوپر جس عورت کی تصویر دی گئی ہے وہ اٹلی کی پہلی ایسی با ہمت عورت ہے کہ جو آج بین الاقومی خلائی اسٹیشن پر پہنچ  گئی ہونگیں اور مئی 2015 تک خلائی اسٹیشن پر قیام کریں گیں۔۔۔محترمہ سمانتھا کرسٹوفوریٹی کی ہمت کو ایم ڈی کا سلام ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔ 

{ پڑھنے ٭ کا ٭ بُہت شُکریہ }
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں } 






Thursday, November 20, 2014

" سوچ کا فرق "

منجانب فکرستان 
ــــــــــــــــــــ

"رقص"جھاڑو پکڑ کر بھی کیا جاتا ہے(ایم ڈی
*********************
پاکستانی ماحول کا اثر : صدر صاحب کا کہنا ہے
*********
 برطانوی  ماحول کا اثر: گورنر  صاحب کا کہنا ہے
   
 مشرق مغرب ماحولاتی سوچ کا فرق:صاف ظاہر ہورہا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بشکریہ دنیا نیوز ،جنگ نیوز
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں } 



Wednesday, November 19, 2014

"دُعا ہے کہ اُونٹ کسی اچّھی سمت کروٹ بیٹھے "

منجانب فکرستان
 جب نیا نیا بلاگر بنا تھا،محترم یاسر عمران مرزا نے حوصلہ افزائی کی تھی، جس کیلئے میں اُنکا احسان مند ہوں۔۔اُنکی آگاہی ای میل ملی ہے۔لنک آخر میں۔ 
میں بھی عمران خان کی حمایت میں لکھتا تھا۔عمران نے جس (عملی) یوٹو پیا کی جھلک اپنے منشور اور دعوؤں میں دکھائی تھی اُسکی تکمیل کیلئے خیبرپختونخواہ نے اُنہیں موقع فراہم کیا ،اب ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ یکسو ہوکر ذہن میں موجود اپنی یوٹوپیا کا جامہ خیبر پختونخواہ پر چڑھانے کیلئے جان لڑا دیتے اور نہ صرف باقی کے تین صوبوں کو بلکہ دُنیا کو بھی مخلصی کی جیت کا سبق پڑھا دیتے ۔۔۔
مگر آپ نے تو بلدیاتی الیکشن تک کراکے نہ دیا۔۔۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کے پاس آپکو آزمانے کے   علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔۔۔اِس لئیے عوام نے آپکو پکڑلیا ہے۔۔عوام آپکے جلسوں میں شریک ہورہی ہے اور آپ کے جلسے کامیاب جارہے ہیں ۔۔۔دُعا ہے کہ اونٹ کسی اچّھی سمت کروٹ بیٹھے۔۔۔اب اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
خیبر پختونخواہ حکومت کی کار کردگی کے بارے میں آگاہی ای میل یاسر عمران مرزا کی پوسٹ بعنوان" عمران خان جواب دو" کا لنک
  http://yasirimran.wordpress.com/2014/11/18/imran-khan-jawab-do/#comments  
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
   پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }

Monday, November 17, 2014

" دانشور بھی کہنے لگے ہیں "

منجانب فکرستان

جلسے میں کتنے لوگ تھے؟دئیے گئے ہندسوں میں سے کوئی بھی ہندسہ لے لیں فائرنگ واقعے کے بعد جہلم کیلئے بڑا ہندسہ کہلائے گا۔۔
عمران خان کو آئے دن عوام کے سامنے تقریر کرنا ہوتا ہے، تقریر میں ہمیشہ ایک ہی بات نہیں کہہ سکتے،اِس لئیے بعض مرتبہ اُن کی تقریر میں کہی گئی باتیں یا مطالبےسمجھ سے بالا ہوتے ہیں۔۔
لیکن عوام اب عمران خان کی باتوں کو نہیں صرف عمران خان کو دیکھ رہی ہے اور شاید عمران کے زریعے دو خاندانی ملی بھگت حُکمرانی حصار کو توڑنا چاہتی ہے،یہی وجہ ہے کہ عمران کے جلسوں میں عوام پہنچ رہی ہے ۔۔اب تو کچھ دانشور بھی کہنے لگے ہیں کہ عمران کو لگے رہنا چاہئیے،اِس لئیے کہ اُنہوں نے عوام کو اپنے پیچھے لگالیا ہے،اب پیچھے ہٹنا عوام سے دھوکا کہلائے گا ۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔۔۔مجھے اجازت دیں۔۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔          

٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }   

Sunday, November 16, 2014

پاکستانی نوجوان خاطر جمع رکھیں۔۔۔

 منجانب فکرستان 
بھارت ریپ کے حوالے سے دُنیا بھر میں بدنام ہے۔۔ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ  کے مطابق ہر 30 ویں منٹ پر ریپ کا ایک کیس رجسٹر ہوتا ہے۔جبکہ ریپ کی ایک  بُہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے کہ جو رپورٹ نہیں ہوتی ہے۔۔
بھارت میں ایک طرف تو ریپ کے خلاف آئے دن بڑے سے بڑے احتجاج ہوتے رہتے ہیں،نتیجے میں سخت سے سخت قوانین بنائے جاتے ہیں، تو دوسری جانب بھارتینوجوانوں کے طرف سے جس میں لڑکیاں پیش پیش تھیں نے 2 نومبر کو   پبلک پلیس پرمُورل ویلیوز کو روندتے ہُوئے کسنگڈے   منایا گیا  لڑکیوں کی طرف سے اسطرح کے پیغامات دئیے جانے کے بعد ریپ کیسیس میں مزید اضافہ ہوگا۔جبکہ قوانین اور مورل ویلیوز سب دیکھتے رہ جائیں۔۔
 بلکہ خدشہ یہ بھی ہے کہ کِسنگ ڈے وائرس کہیں پڑوسی ممالک میں بھی سرایت نہ کرجائے، تاہم پاکستانی نوجوان خاطر جمع رکھیں کہ پاکستان میں یہ وائرس نہیں آپائے گا ۔۔۔ اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 

٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }

Thursday, November 13, 2014

" خُدا کی پھونکی ہوئی روح، انسانی غور و فکر " ایک اور انسانی کار نامہ "


منصوبے پر کام کرنے والی ٹيم کے ارکان
خوشی سے ہنستے۔۔مسکراتے۔۔ چمکتے ۔۔دمکتے۔۔چہرے
 سورۃ السجدۃ آیت9 کے مطابق خالقِ کائنات نے اپنی روح انسان میں پھونکی، تدبر اور غور و فکر کے نتیجے میں یہ روح۔۔ کائنات میں موجود حقیقتوں و قوانین سے پردہ اُٹھاتی ہے، مثلاً سائنسداں تو رہے ایک طرف عام انسانی تجربہ ہے کہ جب انسان کسی مسئلے پر یکسو ہوکر جتنا غور و فکر کرتا ہے مسئلے کے اُتنے ہی مگر مختلف قسم کے حل پاتا ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ قُرآن میں ایک بڑی تعداد میں ایسی آیات ہیں کہ جس میں خُدانے انسان کو کائنات پر غور و فکر اور تدبر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ انسان اپنے مسائل قوانینِ قدرت کے زریعے حل کرسکے مثلاً آج بانجھ جوڑے بچے پیدا کر رہے ہیں فارمی مرغیاں انڈے انسان کی پروٹین کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں  فصلوں سے زیادہ  اناج حاصل ہورہا ہے۔۔معزور چل پھر رہے ویکسین بچوں کو بیماریوں محفوظ رکھتیں ہیں غرض کہ دُنیا میں جتنے انسانی مسائل حل ہورہے ہیں وہ سب انسان میں خالقِ کی پھونکی ہوئی روح اور انسانی غور و فکر کا نتیجہ ہے ۔۔۔
تصویر میں خوشیوں سے بھر پور جو چہرےنظر آرہے ہیں یہ سائنسدانوں کی وہ ٹیم ہے کہ جنہوں نے کائنات کی تخلیق سے متعلق خُدا کی حکمت کو خُدا کی پھونکی ہوئی روح اور غور و فکر کے زریعے جاننے کے ایک ایسے منصوبے پر کام کیا کہ جسکی کامیابی /ناکامی کا نتیجہ دس سال بعد آنا تھا ۔۔۔یہ سائنسدانوں کی ٹیم ہے جو یہ کہنا نہیں جانتی  ہے کہ"کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک" 
 ٹیم کا سال ،مہینے،گھنٹے، سیکنڈ گننے کے دن ختم ہوئے اور اُس تذبزب سے بھی آزاد ہوئے کہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں چونکہ خلائی تحقیقاتی گاڑی سیارچے پر کامیابی سے اُتر گئی ۔۔اگر ہم سیارچے کی سطح کو دیکھیں تو محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے کامیابی کی امید کم ہو بہرحال انسان کامیاب رہا ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
  مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں ۔پڑھنے کا شُکریہ
http://www.dw.de/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE%DB%8C-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%AF%D8%A7%DA%91%DB%8C-%D8%A8%D9%84%D8%A2%D8%AE%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DA%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%AA%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%8C/a-18059663?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }
  

Wednesday, November 12, 2014

" کشکول "

 منجانب فکرستان  
 غور و فکر کیلئے۔۔۔ بشکریہ جنگ نیوز

Friday, October 31, 2014

" مذہب کو سائنسی جامہ پہنا نا"

منجانب فکرستان: غور و فکر کے قابل دو خبروں کی شئیرنگ
پہلی خبریہ ہےکہ پوپ فرانسس نے سائنسی نظریہ بگ بینگ اور اِس بھی بڑھ کر مذہب کے حوالے سے متنازعہ نظریئے اِرتقاء کو حقیقی کہہ کر قبولیت بخشی یوں مذہب پر سائنسی جامہ چڑھانے کی کوشش کی ہے۔۔ اپنی بات میں وزن ڈالنے کیلئے پوپ فرانسس کہتے ہیں کہ
When we read about creation in Genesis, we run the risk of imagining God was a magician, with a magic wand able to do everything
پوپ کا نظریہ بیگ بینگ،نظریہ ارتقاء اور خُدا کے بارے میں یوں رائے دینا مذہب کے حوالے سے کہاں تک صحیح ہے ؟؟؟ 
دوسری خبر یہ ہے کہ ایپل کے سربراہ ٹمِ کُک نے کہا ہے کہ" مجھے ہم جنس پرست ہونے پر فخر ہے۔۔
میں اِسے خُدا کی جانب سے دیئے گئے عظیم تحفوں میں سے ایک تحفہ خیال کرتا ہوں " مسٹر کُک کے یہ خیالات دماغ میں جگہ بنا نہیں پارہے ہیں۔۔
اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوپ کی خبر کا لنک۔  
http://www.washingtonpost.com/blogs/worldviews/wp/2014/10/28/pope-francis-backs-theory-of-evolution-says-god-is-no-wizard/
ٹم کُک کی خبر کا لنک۔
http://www.reuters.com/article/2014/10/30/us-apple-ceo-idUSKBN0IJ19P20141030
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  

Wednesday, October 29, 2014

" انسانی سوچ کا جوار بھاٹا "

منجانب فکرستان
کہاں تو اسمبلی میں پہنچنے کیلئے تگ و دو اور کہاں مزارات پر دن گُذارنے کی آرزو
"ایاز امیر" اپنے کالم میں کہتے ہیں"
میرے ذہن میں بہت عرصے سے یہ خیال ہے کہ میں سڑک پر چلتے چلتے ایک مزار سے 

دوسرے مزار تک حاضری دوں۔ میں نے فقیروں کی عبازیب تن کی ہواور دنیاوی رخت و 

مال پاس نہ ہو۔ قسمت کی خیرات پر جیوں۔تیس سال پہلے میں لال شہباز قلندرؒ کے عرس پر 

سہون شریف گیا تھا۔ اُ س وقت میرے پاس قیام کی کوئی جگہ نہ تھی۔ ایک مہربان اسسٹنٹ 

اسٹیشن ماسٹر نے مجھے اپنے گورنمٹ کوارٹر کا ایک کمرہ دے دیا۔ تین دن تک میں سہون کی 

گلیوںمیں چلتا رہا یا مزار کے احاطے میں بیٹھ جاتا۔ سندھ بھر سے خانہ بدوش لڑکیاں عرس 

میں شرکت کرتیں اور ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈالتیں۔مجھے قلندر کے مزار سے جو دولت 

ملی وہ ذہنی سکون ہے۔
یہ تجربہ میری یاداشت کا انمٹ حصہ ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر اس سفر کو دہرانا چاہتا ہوں، 

صرف سہون شریف ہی نہیں بلکہ بھٹ شاہ بھی جانے کو دل چاہتا ہے۔ میں وہاں جانا چاہتا

 ہوں اور میرے ساتھ کچھ دنیاوی متاع بھی ہو… بہت مال ودولت نہیں  بلکہ کتابیں اور لیپ ٹا 

لیپ    ٹاپ کیونکہ ان کے بغیر شامیں زیادہ تنہا ہوجاتی ہیں۔ 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭ 
مکمل کالم پڑھنے کیلئے لنک پر جائیں ۔بشکریہ جنگ
http://jang.com.pk/jang/oct2014-daily/29-10-2014/col1.html

پوسٹ میں  دی گئی رائے سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں } 

" حیرانگی جاتی رہی "

منجانب فکرستان
دوستو ایک وضاحت، جمال صاحب کا یہ مشاہدہ کہ سُناروں کی دُکانوں کے پٹ کُھلے جبکہ دیگر اشیائے فروخت کی دُکانوں کے پٹ بند رہتے ہیں،عام شاپنگ سینٹروں کے بارے میں تھا جبکہ حرم کے قریب واقع ہر قسم کی تمام دُکانوں کے پٹ کُھلے رہتے ہیں کہ ہر نماز کے بعداِن دُکانوں میں خریداروں کا رش پڑتا ہے۔
سب سے زیادہ انڈونیشیا سے ایک لاکھ 68 ہزار،فریضہ حج کی  ادائیگی کیلئے پہنچے، لیکن وہ کہیں نظر نہیں آرہے تھے، نہ منیٰ میں، نہ جمرات میں اور نہ ہی طواف کے دوران ،جمال صاحب اور اُن کے ساتھیوں کیلئے یہ ایک حیران کُن بات تھی،لیکن    مکّہ سے مدینہ پہنچے تو اُنہیں ایسا محسوس ہُوا کہ جیسے وہ مدینے میں نہیں جکارتا میں گھوم رہے ہیں ہر طرف انڈونیشئین گھوم پھر رہے تھے، یوں اُنکی حیرانگی جاتی رہی اور جمال صاحب کے سمجھ میں یہ بات آئی کہ اُن کے اور انڈونیشئین کے درمیان وقت اور رہائشی علاقے کا فرق آڑے آیا ہوگا کہ اُنہیں انڈونیشئین نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔ اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }   
     

Thursday, October 23, 2014

کیا وڈیو میشل کومشتعل کرسکتی ہے ؟؟

منجانب فکرستان: قہقہے، تبادلہ خیالات اور جونز کی وارننگ 
جیسا کہ وڈیو دِکھاتی ہے( لنک موجود ہے) صدر اوباما تو مائک جونز کی گرل فرینڈ کو  چھوُنا تو دور کی بات، وہ بیچارے تو ایک شریف مرد کی طرح آنکھیں نیچی کئے  وسط مدتی اپنا ووٹ بُھگتا رہے تھے، لیکن اوباما کو دیکھ مائک جونز کو کیا سوجھی کہ اُس نے کہا جنابِ صدر میری محبوبہ کو مت چُھونا!! جونز کی اِس بات پر (امریکی خواتین کی سائیکی کے مطابق) اُسکی محبوبہ کے قہقہے گونجے تو اوباما متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے، پھر دونوں میں تبادلہ خیال شروع ہُوا۔۔۔۔
 قہقہے، تبادلہ خیال اور جونز کی وارننگ نے اوباما کی مردانگی کو اِتنا جگادیا کہ میشل بھی یاد نہ رہی، اوباما نے نہ صرف جونز کی محبوبہ کو چُھوا بلکہ گلے سے بھی لگایا یہی کُچھ جونز کی محبوبہ نے اوباما سے کیا۔۔۔اب خُدا جانے اوباما کی بیوی میشل وڈیو دیکھ کر میشل ہی رہتی ہیں کہ مشتعل ہوکر مشعلبن جاتیں ہیں ؟؟جبکہ جونز اور اُسکی محبوبہ خوب خوش ہیں کہ وہ اتنے مشہور ہوگئے ہیں کہ ٹی وی والے اُن کے انٹرویو لے رہے ہیں ۔۔۔۔
"وڈیو دیکھنا چاہیں تو لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ"  

http://urdu.alarabiya.net/ur/editor-selection/2014/10/22/-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%84-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D9%86%DA%88-%D9%86%DB%81-%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%DB%8C%DA%BA-%D8%8C-%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%85%D8%A7-%DA%A9%D9%88-%D8%AF%DA%BE%D9%85%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%86%D9%86%DA%AF.html
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }        

Monday, October 20, 2014

" کوئی روایتی عقیدہ ہوسکتا ہے"

منجانب فکرستان :مکّہ یا جدہ
بیوی ساتھ ہو تو شوہر کو شاپنگ سینٹرز  کے  چکر لگانے  ہی پڑتے  ہی ہیں،  جمال صاحب کےمشاہدے میں یہ بات آئی کہ مکہ یا جدہ میں کاسمیٹکسکی شاپس ہوں یا کہ گارمنٹس کی غرض کہ ہر قسم کی شاپس کے دروازے بند ہوتے ہیں لیکن سونے کے زیورات کی کسی بھی شاپ کے دروازے بند نہیں ہوتے ہیں اِن شاپس  کے دروازے ہمیشہ  کھُلے رہتے ہیں، اِن کھُلے دروازے زیوارات کی شاپس پر کوئی سیکورٹی گاڈز بھی نہیں ہوتے ہیں جمال صاحب کیلئے یہ اچمبے کی بات تھی ۔۔اُن کے ذہن میںیہ خیال بھی آیا کہ زیورات شاپس کے دروازے یوں کھُلے رکھنا کسی روایتی عقیدے کا حصہ بھی تو ہو سکتا ہے جس پر آج بھی عمل ہورہا ہو۔۔
ساتھ میں یہ خیال آیا بھی کہ ہمارے جمہوری ملک میں یوں کھُلے دروازے سونے کے زیورات کی شاپس وہ بھی بغیر کسی سیکورٹی گارڈز کے تصور میں بھی آنا نہ ممکن ہے۔۔
 اِس بادشاہت میں لوگوں کو جان و مال کا تحفظ حاصل ہے جبکہ ہمارے جمہوری ملک میں یہ تحفظ نہ پید ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟؟ ہمارے جمہوری ملک میں تو یوٹیوب پر بھی پابندی ہے جبکہ سعودی عرب میں پابندی نہیں ہے۔۔کوئی دوست یہ نہ سمجھے کہ میں جمہوریت کی مخالفت کررہاہوں"گلوبل پیس انڈیکس ممالک جمہوریت بہترین طرز حکومت کی گواہی دیتے ہیں "رہی پاکستانی جمہوریت کی بات تو اس بارے میں روز نامہ دُنیا کے سنڈے میگزین میں معروف شاعر ،نقاد ،مترجم،اوراستادمحترم ڈاکٹر سعادت سعید صاحب کا انٹرویو شائع ہُوا ہے جس میں اُنہوں نے پاکستان میں رائج جمہوری نظام کے بارے میں کہا ہے کہ "موجودہ جمہوری نظام جاگیرداروں، سرمایاداروں،اور لٹیروں کا اکٹھ ہے یہ جمہوریت نہیں سول مارشل لاء ہے۔یہ جمہوریت دیو استبداد ہے " 
محترم جناب ڈاکٹر سعادت سعید کا انٹرویو پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں اور مجھے اجازت د یں۔  http://mag.dunya.com.pk/index.php/interviews/1776/2014-10-12 
نوٹ:دوستو نئے لیپ ٹاپ کو اردو لکھنے سے کچھ الرجی ہے لکھائی کی لائنیں آرڈر میں نہیں آتی ہیں یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ میرا اناڑی پن ہے  بہرحال کوشش میں لگا ہُوا ہوں دیکھیں کب کامیاب ہوتا ہوں ۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }        





   

Sunday, October 19, 2014

سوال یہ ہے کہ

منجانب فکرستان :کِردار حقیقی نام فرضی
جمال صاحب بمع بیوی ادائیگی حج کیلئے جدہ ائیرپورٹ پہنچے جہاں دیگر ممالک سے آئے افراد بھی
موجود تھے۔ صدا آئی کہ پاکستانی خواتین و حضرات ایک طرف ہوجائیں انہیں پولیو کے قطرے
 پِلائے جائیں گے، جمال صاحب نے قطرے پِلانے والے سے کہا (جو کہ اردو جانتا تھا)"ہم پولیو
کے قطرے پاکستان سے پی کر آئیں ہیں پاسپورٹ سے منسلک سرٹیفیکیٹ آپ دیکھ سکتے ہیں"
اُن صاحب نے جمال صاحب کی ایک نہ سُنی،قطروں کا ڈراپر جمال صاحب کے مُنہ کے قریب
لے گیا تو جمال صاحب کا مُنہ خودبخود کھُل گیا اور قطرے زبان پر ٹپکنے لگے یوں سارا احتجاج
دھرے کا دھرہ رہ گیا،تاہم اُنہیں اِس بات کا رنج ہے کہ پاکستان سے لائے اُن کے پولیو کے
سرٹیفیکیٹ کو قبول نہیں کیا گیا ۔۔۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانیوں کو اِس حال میں کس نے پہنچایا ؟؟؟
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  


Sunday, September 21, 2014

" زیادہ ثواب "

منجانب فکرستان:"حج پیکیج"
جمال صاحب نے سوچا کہ پیسے اتنے ہوگئے ہیں کہ حج پر جایا جاسکتا ہے، آج کی دُنیا پیکیج
 کی دُنیا ہے:ہراشتہاری پیکیج کایہی دعویٰ ہے کہکم پیسوں میں بہترینسہولت وہی فراہم کرتے
ہیں، جمال صاحب نے جب پیکیج اشتہارات دینے والوں سے ملاقات کی اورہرپیکیج کا حساب 
 لگایا تو پیکیجوں کا راز یہ کُھلا کہتین 20 ساٹھ ہوتے ہیں،باقی سب کُچھ فسانہ ہے۔
مجبوری یہ ہےکہ حج پر جانا ہے تواِنہیں میں سےایک کے پاس جانا ہوگا،لہٰذا اُنہوں نے بھی
ایک کو منتخب کیا،پیسے اور پاسپورٹ جمع کرا کے انتظار کرنے لگے کہ فون آیا کہ تین دن
 حج کا تربیتی کورس ہے، عشاء کی نماز میں شرکت کریں کہ بعدنماز فوراً  تربیتی کورس شروع 
ہوجائے گا،بعد نماز تین گھنٹے تک بغیر وقفے کے تربیت کم اورتبلیغی واعظ زیادہ رہا،واعظ میں 
وہی کئی بارسُنی ہوئی باتیں دوبارہ سُننے سے کُچھ حضرات اُونگھے توکچھ باقاعدہ سوگئے تھے،واعظ
ختم ہونے پر جمال صاحب نے انتظامیہ کے ناظم سے کہاکہ بھائی آپ نے نماز کے فوراًبعد
  تربیت اورواعظ میں تین گھنٹے لگا دئیے ذرا سا وقفہ لیکرایک پیالی چائے ہی پِلا دیتے تو کیا 
ہی اچھّا ہوتا۔۔۔جس پر ناظم صاحب نے کہا جناب یہ تربیت حج کا ہی حصّہ ہے،اور 
اس میں راہ میں جتنی تکلیفیں برداشت کریں گے اُتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا۔۔۔
ناظم کا یہ جواب سُن کر جمال صاحب لاجواب ہوگئے اور اُن کے دِماغ میں پیکیج اشتہارات
  کےوہ الفاظ گردش کرنے لگےکہ"ہم حج پر جانے والوں کو زیادہ سہولتیں فراہم کراتے ہیں
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  

Tuesday, September 16, 2014

سائنس چل پڑی ہے: مذہب سے گلے ملنے کو !!۔

منجانب فکرستان
پہلےسیلاب اور بلدیاتی انتخابات پر بات ہوگی پھر (Technische Universität Berlin
 944 افراد کی
 رضاکارانہ تجرباتی کلینکل موت اور زندگی

 یکساں تجربات کے حامل اِن افراد میں عیسائی، مسلمان، ہندو، یہودی اور
بےدین شامل ہیں اور دوسری دُنیا کا سائنسی ثبوت فراہم کراتے ہیں
ساتھ میں مختلف مذاہب والوں کے تبصرے بھی شامل ہیں۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
اگرپاکستان میں حقیقی جمہوریت ہوتی توسیلاب سے تباہی اتنی نہ ہوتی اس لئیےکہ بلدیاتی نمائندے مقامی ہوتے ہیں وہ مقامی مسائل سےآگاہ ہوتے ہیں، 
اسی لئیے وہ اِن کے بہترین حل سے بھی آگاہ ہوتے ہیں،۔۔۔۔۔
 نمائندے ہونے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو مسائل کے حل کا ذمہ دار بھی
 سمجھتے ہیں۔۔اس کےعلاوہ مقامی لوگوں کی اُن تک رسائی بھی آسانی سے
 ہوتی ہے۔۔ یوں  مسائل کو سمجھنے، لوگوں کو سمجھانے اورمسائل کو حل 
کرنے میں مزید آسانیاں پیدا ہوتی ہیں ۔۔۔
  غرضکہ اگرحقیقی جمہوریت ہوتی تو سیلاب سےجتنی تباہی ہوئی ہےاس سےکم ازکم 50 فیصد کم تباہی ہوتی. 
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
Technische Universität Berlin میں کئے گئے تجربات نے ثابت 
کردیا ہے کہ مرنے کے بعد زندگی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ ایک نئی دُنیا کا آغاز
 شروع ہوجاتا ہے ۔۔۔ مکمل تفصیل اور تبصروں کیلئے لنک پرجائیں۔۔۔
http://worldnewsdailyreport.com/german-scientists-prove-there-is-life-after-death/
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  




یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...