Monday, May 26, 2014

پارٹی فیصلے یا مودی فیصلے ؟؟

  منجانب فکرستان
مجھے اُن لوگوں پر رشک آتا ہے: جنہیں خُدا پر بڑا گہرا یقین و ایمان ہے( کلدیپ نائر)
 سعودی قانون کے تحت لڑکیاں اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتیں۔ لیکن شادی  نہ کرانے پر
 والدین کے خلاف مقدمہ درج کراسکتی ہیں،لہٰذا 2 سال میں 382 لڑکیوں نے شادی نہ کرانے پر اپنے والدین کے
 خلاف مقدمات درج کرائے ۔( ایک خبر)
کیا مودی اپنا امیج سُدھار نا چاہتے ہیں۔۔مثلاً  بی جے پی والے مہاتما گاندھی سے پَرخاش رکھتے ہیں،ایسے میں مودی  کا
 حلف برداری سے پہلے مہاتماگاندھی کی سمادھی پر حاضری دینا  پارٹی فیصلے کے بجائے مودی فیصلہ لگتا ہے، اسی طرح سے
پاکستانی وزیر اعظم کو تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے مدعو کرنا بھی پارٹی فیصلے کے بجائے  مودی فیصلہ لگتا ہے، الیکشن کمپین بھی بی جے پی منشور کو ہائی لائٹ کرنے کے بجائے،گجرات شائن، مودی اور صرف مودی کو ہی ہائی لائٹ کرتے رہے ہیں،گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی نے پارٹی پر اپنی گرفت  بہت  زیادہ مظبوط  بنالی ہے، اعلیٰ جیت نے بھی اعتماد بخشا ہے ، اسی لیے بولڈ فیصلے کر رہے ہیں۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے  جو کچھ پڑھا ہے وہ ذاتی رائے ہے،جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں
"پڑھنے کا بُہت شُکریہ "   
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  



Sunday, May 25, 2014

غیب سے آتے ہیں !!۔

  منجانب فکرستان
مرزا اسداللہ خاں غالب نے انسانی ذہن کی کیا خوب عکاسی کی ہے کہ:"آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں" کیا اس
بات سے کوئی انکار کرسکتا ہے ؟ہر شخص اِس  تجربے سے گُزرتا ہے ۔بعض شُعرا  اور نثر نگار قلم کاغذ اپنی جیب میں رکھتے
 ہیں کہ خُدا جانے کب غیب سے کوئی  خیال وارد ہوجائے تاکہ بھولنے سے پہلے اُس خیال کو لکھ لیں، یوں مختلف ذہنوں
 سے نکلے مختلف خیالات ہمیں  پڑھنے کو ملتے ہیں،جن سے ہم محظوظ ہوتے  ہیں،سائنسدانوں کا بھی یہی کہنا ہے،
پال ڈیویز نے اپنی کتاب"ذہنِ خُدا وندی" میںایک سائنسداں کا ذکر کیا ہے کہ جسکو کئی دنوں سے کسی سائنسی مسئلے کا حل نہیں مل رہا تھا  کہ: ایک دن  کار چلاتے میں اچانک اُس کے ذہن میں مسئلے کا حل غیب سے خیال میں آیا ۔۔۔ 
  عزیز دوستو شایدآپ سوچ رہے ہوں کہ یہ ساری تمہید ہے کس بات کی ؟ تو عرض ہے کہ : ارادہ یہ ہے کہ اپنے خیالاتی پوسٹ کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف شخصیات مثلاً کسی فلسفی، شاعر، نثرنگار، دانشور، سیاستداں، مذہبی رہنما  یا پھر کسی عام آدمی  کے  ذہن سے نکلے جملے، پیرائیے جنہیں  کسی اخبار، کسی کتاب یا پھر کسی ویب سائٹ پر پڑھا ہو سے انتخاب دوستوں سے شئیر کروں۔۔ مقصد وہی ہے یعنی "غوروفکر"میرے خیال میں غور و فکر سے زیادہ لذت کسی اور چیز میں نہیں  ہے۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے جو کچھ پڑھا ہے، وہ ذاتی رائے ہے، جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ  کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں۔
"  پڑھنے کا بُہت شُکریہ"  
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Monday, May 19, 2014

" فرق صاف ظاہر ہے "

  منجانب فکرستان
مودی : کیجری وال: عمران خان
گجرات فسادات نے مودی کی شبیہہ بگاڑ دی تھی،غلطی کا احساس ہوگیا،  تو گجرات میں پھر کوئی ہندومسلم فساد نہ ہُوا،اپنی
بگڑی شبیہہ سدھار کیلئے مودی ساری توجہ صوبے کو خوشحال بنانے پر صرف کرنے لگے،محنت رنگ لائی، گجرات دیگر 
صوبوں کے مقابلے خوشحال ترقی یافتہ کہلانے لگا، الیکشن سے پہلے گجرات میں نمائشی میلے لگا کر میڈیا کے زریعے گجرات 
شائن ماڈل بھارتیوں کو دِکھانے لگے جس سے بھارتی  متاثر ہوئے۔ یوں میدان مار لیا۔۔
پارٹی سینئیرز کو کھڈے لائن لگانے بطور وزیراعظم جیت سے پہلے ہی اپنے آپکو  متعارف کرادیا ۔۔
 کیجری وال نے میکش امبانی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بات کر کے سرمایا داروں کو اپنے خلاف کرلیا، میڈیا کے خلاف  سخت بیان دیکر میڈیا والوں کو بھی ناراض کردیا، یوں سرمایا دار اور میڈیا دو طاقتیں آپس میں مل گئیں ۔۔میڈیا والوں نے کیجری وال سے ایسے ایسے اُلٹے سیدھے آڑے ترجھے   سوالات کر کر کے  عوام کو یہ باور کرادیا کہ کیجری وال نا اہل ہیں۔۔یہاں تک کہ کیجری وال سے قبول وادیا کہ دہلی حکومت سے استعفیٰ دینا اُنکی غلطی تھی ۔۔اب غلطیاں کرنے والے کو حکومتی باگ ڈور دینا کون پسند کرے گا ؟؟
عمران خان کو اپنے جوہر دِکھانے،عوام سے کئے وعدے پورے کرنے ، خیبرپختونخوا  کی حکومت ملی ہے،وہ بھی مودی کی طرح اپنی توجہ کا فوکس  صوبے کی خوشحالی اور ترقی  پر مرکوز کرکے ، گجرات کی طرح خیبرپختونخوا کو پاکستان کیلئے ایک ماڈل بنا سکتے تھے، (جیسا کہ الیکشن سے پہلے عوام کو سُنہری خواب دکھاتے رہے ہیں) ،گجرات کی طرح  خیبرپختونخوا شائن ماڈل عوام کے سامنے آتا تو آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے سامنے کوئی جماعت نہیں ٹھر سکتی تھی ،ایک سال کا عرصہ گُذرچُکا ہے، لیکن بلدیاتی انتخابات  تک نہیں کرا پائے  ہیں، جبکہ 90 دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے دعویدار تھے۔۔۔
 اِن دِنوں مختلف قسم کے لاحاصل محاذ کھول کراپنی انرجی فضول ضائع کر رہے ہیں۔۔۔
نوٹ:آپ نے جو کُچھ پڑھا ہے،اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔
پڑھنے کا بُہت شُکریہ   
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں

Saturday, May 17, 2014

توقع سے زیادہ اور توقع سے کم !!۔

  منجانب فکرستان
سارے اندازے دھرے رہ جاتے ہیں !!۔
ایاز امیر اسمبلی ممبر رہ چُکے ہیں، اچّھی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، سیاسی تجزیے کرتے ہیں، اُنکا تجزیہ تھا کہ عمران خان کے
 جلسے میں زیادہ لوگ نہیں آئیں گے(جلسے کے بارے میں میری رائے بھی یہی تھی) لیکن جلسے کے بعد اعتراف کرنا پڑا کہ
 رکاوٹوں کے باوجود جلسے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد آئی،اسی طرح  بی جے پی کے بارے میں اندازہ تھا  کہ جیت جائے
 گی، لیکن اتنے بڑے مارجن سے جیت جائیگی اِس کا اندازہ تو  کلدیپ نائر کو بھی نہیں تھا۔۔۔ اور یہ اندازہ بھی کسی کو نہیں
 تھا کہ کیجری وال کی " آپ " ا ور کانگریس  کو اتنی کم تعداد میں ووٹ پڑیں گے ۔۔۔ 
نوٹ: آپ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے، اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔۔اب مجھے اجازت دیں۔
پڑھنے کا بُہت شُکریہ 
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں

Tuesday, May 13, 2014

" آگہی اور غور و فکر کیلئے "

  منجانب فکرستان:آگہی اور غوروفکر کیلئے

نوٹ:آ پ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے اُس سے اختلاف/ اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔اب مجھے اجازت دیں۔۔
 پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Sunday, May 11, 2014

" میری ماں ۔۔۔ میرا عقیدہ "


منجانب فکرستان: Mother day۔۔
جس نے لاہور نہیں دیکھا ،وہ پیدا ہی نہیں ہُوا۔۔اسی طرح میرا عقیدہ ہے کہ:
میری ماں جیسی، اچّھی ماں : دُنیا میں کوئی اور کہاں 

Monday, May 5, 2014

انسانی شعور : کتنا بالغ ؟

 منجانب فکرستان: انسانی شعورِ بلوغت کی چند جھلکیاں 

بھارت راجستھان:لوگوں کا ماننا ہے کہ اس موٹر سائیکل مندر میں دعا کرنے کے بعد ان کا سفر محفوظ ہوجاتا ہے۔
(پوسٹ کے آخر میں اِسکی وڈیو لنک ہے)۔ جہاز مندر کی تصویر غور سے دیکھیں


اب آپ لاس اینجلس یعنی دُنیا کے اعلیٰ تعلم یافتہ شہریوں کے عقیدے کی جھلک دیکھ کر انسان کی شعوری بلوغیت پر غور
 کریں ۔۔۔چونکہ ذہانت کے بل بوتے پر تو ہم مریخ پر پہنچ چکے ہیں !!! 
لاس اینجلس (جنگ نیوز) بچوں کوبیما ریوں اور بُرے اثر ات سے بچا نے کے لیے تو اکثر بزرگوں سے د َ م کر وایا جا تا ہے لیکن امریکی شہر لاس اینجلس میں سینکڑوں افراد پالتو جانوروں پر دَم کر وانے پہنچ گئے ہیں ۔ایسٹر کے موقع پر جانوروں پر دَم کروانے کی84ویں سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں سینکڑوں افراد اپنے پالتو پرندوں سے لیکرگائیں، مگرمچھ،سانپ،بلی،بکری اور خرگوش سمیت دیگر جانوروں کے ہمراہ پہنچے ۔اس موقع پر مقامی پا دری نے ان جانوروں پر مقد س پا نی کا چھڑ کا ئو کیا اور انکے لیے دعائیہ رسومات ادا کی گئیں۔مقامی عقیدے کے مطا بق اس رسم سے جا نور بیماریوں سے محفو ظ اور لمبی عمر تک زندہ رہتے ہیں ۔
 پوسٹ کی تیاری میں: سماء ٹی وی، دُنیا نیوز،اور جنگ نیوزسے مدد لی ہے، اسلئیے اِن اداروں کا شُکریہ
وڈیو لنک:http://urdu.samaa.tv/international/05-May-2014/15352
نوٹ:آپ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپکا حق ہے۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔
 پڑھنے کا بُہت شُکریہ 

 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


Sunday, May 4, 2014

"مختلف تحریروں کے منتخب حصّے"


 منجانب فکرستان:مختلف تحریروں کے منتخب حصّے غوروفکر کیلئے
 ٹیگز: مرد و عورت؛ وِل ڈیورانٹ؛ موازنہ فہرست
روزنامہ دُنیا نیوز میں محترم جناب رؤف کلاسرا کا کالم پڑھ کر مجھے اپنا وہ قریبی دوست یاد آگیا،جوامریکہ شفٹ ہوگیاہے۔۔
امریکہ میں ایک پاکستانی کے چین اسٹور پر بطور کیشئیر  کام کررہا ہے۔۔اسٹور میں اسٹاف سے متعلق ایک شکایتی بکس بھی
رکھا ہُوا ہے۔۔اگر کسی کسٹومر کو  کسی قسم کی شکایت ہو تو  درج کرکے اُس بکس ڈال دے۔۔ ہمارا  یہ دوست نوکری چھوڑ
 کر گیا ہُوا تھا۔۔اس لیے بڑی مستعدی اور سعادت مندی سے کا م کرہا تھا تاکہ کسی کو کوئی شکایت کا موقع نہ ملے۔۔تقریباً
 پندرہ دنوں بعد اسٹور کے مالک کا آنا ہُوا اُس نے بکس کھولا تو ہمارے دوست کے خلاف کافی تعداد میں شکایتی لیٹر ملے اور
 تقریباً سب میں ایک ہی قسم کی شکایت درج تھی کہ آپکا کیشئیر مُسکرا کے بات نہیں کرتا ہے ۔۔ہلو ہائے نہیں کہتا ہے 
۔۔( پاکستانی کلچر)۔
  رؤف کلاسرا نے اپنے کالم جو کچھ لکھا اُن ہی کے الفاظ میں۔۔۔
ریاست ڈلیور کا شہر لیوس واشنگٹن سے ڈھائی گھنٹے کی دوری پر ہے۔وہاں سے کہیں جانے کو جی نہیں چاہتا ۔ یہ علاقہ ایک پرسکون گاؤں کی طرح لگتا ہے۔ لوگ بہت اچھے ہیں۔ ممکن ہی نہیں وہ آپ کو دیکھ کر مسکرائیں یا ہاتھ نہ ہلائیں "۔( امریکی کلچر )۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭ 
دُنیا کے اسٹیج ڈرامے میں مرد اورعورت مرکزی کردار ہیں، اِن مرکزی کرداروں کے بارے میں مشہورمورخ ولِ ڈیورانٹ رقمطراز ہیں کہ:
 "انسانی زندگی میں اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی کہ مرد بڑھا پے تک عورتوں کے پیچھے بھاگنے پرمائل رہتے ہیں۔جبکہ عورتیں بھی مرنے سے پہلے تک مرد کو پیچھا کروانے پر پر مائل رہتی ہیں۔۔۔انسانی کردار میں اس سے زیادہ کوئی مستقل صفت نہیں کہ مرد کی نگاہ ہر لمحہ عورت پر پڑتی رہتی ہے ۔۔
اِس عیار مرد کو دیکھو بظاہر اخبار پڑھ رہا ہے، لیکن اس کی نظر یں اپنے شکار پر لگی ہیں، جبکہ اس کا تصور بے تابی سے اُس مقناطیسی شعلہ کا طواف کر رہا ہے" ۔۔The Pleasures of Philosophy۔ (نشاطِ فلسفہ)۔
 یہ پڑھ کر ایک ذاتی واقعہ یاد آگیا۔۔ایکسپو سینٹر کُتب میلے میں ایک ضعیف خاتون کو دیکھا کہ شاید 65۔70 کی ہونگیں فُل میک اپ اور ہاتھ میں جدید پرس اور لباس اتنا باریک تھا کہ جسم جھلک رہا تھا۔۔۔لیکن اسکے ہرگز معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ  خاتون کسی مرد کو اپنے پیچھے لگانا چاہتی تھیں۔۔۔ بلکہ یہ عورت کی فطرت کا وہ حصّہ ہے جو عورت کو بھرپور مسرت عطا کرتا ہے۔۔یہی تو عورت کی زندگی ہے، میت پر بھی سج بن کے جاتی ہے۔۔سرخی گنوا گہیوں تہ منگھہم اُدھاری کہتی ہے (فکرستان
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
 لندن( رپورٹ: آصف ڈار) عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ نئی سپربگ کی وجہ سے اینٹی بائیوٹک ادویات کی تاثیر ختم ہوگئی ہے اور معمولی سی انفیکشن بھی ایڈز سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ WHOکا کہنا ہے کہ سپربگ کی و جہ سے معمولی زخمی ہونے والے افراد کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، اس سلسلے میں برطانوی اخبارات میں شائع ہو نے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بچہ سائیکل سے گر کر معمولی زخمی ہوجائے یا کسی معمر شخص کی ہیپ کی تبدیلی کا معمول کے مطابق آپریشن ہو، اس دوران ہوجانے والا کوئی بھی انفیکشن ان افراد کا قاتل بن سکتا ہے۔(جنگ نیوز)۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
قابلِ رحم ممالک کی موازنہ فہرست ملاحظہ ہو:مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں 
Doom and gloom: The Cato Institute's Misery Index Scores
 نوٹ: آپ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپکا حق ہے۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


   
  


Thursday, May 1, 2014

" مزدوروں کا عالمی دن"

  منجانب فکرستان 
یکم مئی شکاگوجدوجہد: مزدوروں کا عالمی دن:
 آج کے دن بھی۔۔۔ چوراہوں   کے فٹ پاتھوں پر آس لگائے بیٹھے ہیں مزدور۔۔کوئی تو آجائے ۔۔۔مزدوری کا خریدار۔۔
 تاکہ اُس کے گھر بھی جل جائے چولہا ۔ ۔۔تاکہ گُذر جائے ایک دن اور زندگی کا ۔۔
آخر ایک آجاتا ہے ۔۔مزدوری کا خریدار ۔۔سب اپنی اپنی قسمت لئیے ۔۔اُسکی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔۔۔ہر ایک آس
بھری آواز میں صدا لگا تا ہے ۔۔۔صاب جی مجھے لے جائیں ۔۔۔میں اچّھا کام کروں گا ۔۔۔دوسرا کہتا ہے صاب جی مجھے
 لے جائیں ۔۔۔آپ جو کہیں گے، میں وہ کروں گا۔۔۔تیسرا جس کے گھر دودن سی چولہا نہیں جلا ۔۔۔ مسکینی آواز میں
 صاب جی آپ مجھے لے چلیں۔۔۔مجھے دیہاڑی سے کم پیسے دینا۔۔۔جتنا چاہے کام کرالینا۔۔۔
 یہی ہے سچّی حقیقت ہے۔۔۔یکم مئی کی ۔۔۔مزدوروں کے عالمی دن کی۔۔۔۔باقی سب فسانہ ہے ۔۔۔ڈرامہ ہے ۔۔۔ 
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


Monday, April 28, 2014

" پرائمری مادر "

منجانب فکرستان
یہ کیسا معاشرہ ہے؟؟
 مثلاً 12سالہ برٹش "پرائمری مادر" کو بُہت زیادہ میڈیا کوریج  ملی ہےلیکن یہ کوریج تُھو تُھو والی نہی ہے،ہنسی خوشی اور
 مُسکراہٹوں والی  ایسی ہے کہ اِس کو حاصل کرنے کیلئے11سالہ ماں بننے کی قابل ہونے والی لڑکی بھی کمسن ماں بننے کی سوچ
 میں مبتلا ہوجائے ۔۔
  لڑکی کے والدین خوش ہیں اور لڑکے کے والدین بھی خوش ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ پورا معاشرہ ہی خوش ہے ،لعنت ملامت کوئی بھی نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی جان سے مارنے کی بات کر رہا ہے بلکہ معاشرہ کمسن ماں سے نفرت کے بجائے بہتر سلوک کر رہا ہے ۔۔۔کمسن والدین  کا نام اسکول سے نہیں کا ٹا  گیا، وہ اب دوبارہ اسکول جائیں گے ۔۔۔جبکہ کمسن والدین کے والدین کم سن جوڑے  کی شادی کی بات بھی قانونی طور پر نہ سہی اپنے طور پر  پکی کر رہے ہیں۔۔۔ 
لگتا ایسا ہے کہ مغربی دُنیا اب اُس ایج میں داخل ہوتی جارہی ہے جس میں۔
٭  پہلے ہوگا بچّہ: بعد میں ہوگی شادی ٭
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

  

Sunday, April 27, 2014

" بھارت PEW RESERCH جمہوریت "

منجانب فکرستان
شیئرنگ for انفارمنگ
٭: آئی جی سندھ اقبال محمود نے تجویز کیا ہے کہ کراچی میں ایس ایچ او کا عہدہ ختم کر دیں تو نہ قبضہ ہو
 گا نہ کوئی بھتہ لے گا۔ دنیا نیوز
٭: عمران خان نے کہا ہے کہ : طالبان سے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، کیونکہ ملک میں امن آگیا ہے۔بی بی سی اردو
٭:اسلام مخالف فلم کےڈسٹری بیوٹر ارونڈ وین ڈرون کے قبول اسلام کے بعد ان کے بیٹے نے بھی اسلام
 قبول کرلیا۔نوائے وقت نیوز
٭:تحقیق کہتی ہے  کہ ٹوتھ برش پر اتنے ہی جراثیم ہو سکتے ہیں جتنے کہ کسی ٹوائلٹ میں پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ٹوتھ برش کو باتھ روم میں رکھتے ہیں۔جنگ نیوز
٭: جنگ نیوز میں شائع منو بھائی کے کالم سے انتخاب
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اگر دنیا کی سب سے بڑی غربت اور کرپشن بھی ہو گی تو اس سے بڑی جمہوریت کی بدنامی اور کیا ہو سکتی ہے؟ امریکہ کے مشہور ’’تھنک ٹینک‘‘ PEW RESERCHکی جانب سے کئے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے ستر فیصد لوگ کسی بہتر مستقبل کے امکان کی توقع نہیں رکھتے اور ہر دس میں سے آٹھ لوگ خاص طور پر معاشی صورتحال سے بری طرح تنگ ہیں۔ بھارتی ووٹر کے لئے ہر معاملہ ایک مسئلہ بن چکا ہے جو ناقابل حل دکھائی دیتا ہے۔
بھارت میں ارب پتی لوگوں کی تعداد جاپان کے ارب پتی لوگوں کی تعداد سے بڑھ چکی ہے۔ خوفناک حد تک یہ امیر لوگ اگرچہ مٹھی بھر ہیں مگر پوری معیشت کو اپنی مٹھی میں لئے ہوئے ہیں اور نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے بے تاب ہیں۔ اوپر بیان کئے گئے تھنک ٹینک کے ایک سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے سو امیر ترین لوگوں میں سے 74مودی کے پرجوش حامی ہیں جو سرمایہ داروں کے شرح منافع میں اضافہ کے لئے مزید ڈی ریگولیشن، منڈی کی آزادی اور ٹیکسوں میں چھوٹ اور عوام پر معاشی حملوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو دی جانے والی ’’سب سڈی‘‘ کا خاتمہ کر دیں گے۔ 
بھارت کے محنت کش طبقے نے جو حقوق و مراعات کئی دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کئے ہیں انہیں مودی کی حکمرانی واپس چھین لے گی اور یوں ہندوستان کو خونی انقلاب کے اور خونی انقلاب کو ہندوستان کے اور قریب لے آئے گی۔ 
٭: پاکستان میں بھی "سب سڈیز" ختم کی جارہی ہیں، پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں کا امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا ہے، جس کا بوجھ غریبوں پر پڑتا ہے یوں پاکستان میں بھی  خطِ  غربت سے نیچے زندگی گُزارنے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی تناسب سے مختلف قسم کے جرائم میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ فکرستان
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Friday, April 25, 2014

" تخلیق کار کی پہچان "

منجانب فکرستان
بمع قُرآنی آیات غور و فکرکیلئے
روزنامہ دُنیا سنڈے سپیشل میں ملحدانہ کتاب "THE GOD DELUSION" کا خُلاصہ اور اسکے حق میں 59فیصد
کا رائے دینا، پڑھ کر حیرت ہوئی اور خُدا کی انسان سے شکایت والی قُرآنی آیات یاد آنے لگیں۔
 خالق نے اپنی پہچان کیلئے کائنات تخلیق کی، پہچان  کیلئے انسان کو اعلیٰ عقل  سے نوازا، تاکہ وہ کائنات میں
 موجود حیرت انگیزیوں سے خُدا کی عظمت کو پہچان کر سجدہ ریز ہوجائے، مگر انسان اِس عطا کردہ اعلیٰ عقلی
 کسوٹی پر خُدا ہی کے ہونے نہ ہونے کو پرکھنے لگاہے،وہ اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں پارہا ہے کہ : کیا کوئی
 مجسمہ یا روبوٹ اپنے بنانے والے  کو پہچان سکتا ہے؟؟ 
اس بارے میں چند قُرآنی آیات
 [67:23] (ابوالاعلی مودودی) اِ
ان سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو 
[32:9] (ابوالاعلی مودودی)
 پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

[7:10] (ابوالاعلی مودودی)

ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار  ہوتے ہو 
  ابوالاعلی مودودی) [2:164)] 
۔(اِس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو ) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جوا نسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اِسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭ 
  اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: میرے خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...