Thursday, October 17, 2013

۔{۔"خُدا " کی دُنیا}{دلائل سے بھر گئی ہے }۔

 منجانب  فکرستان 
{دلائل پر ہُوا مکالمہ}
ایم ڈی: یونانی دورِ دلائل میں ایسے سوفسطائی گروہ بھی نمودار ہوگئے تھے جنہوں نے دلائل کو ایک پیشہ ورانہ فن بنادیا تھا۔
یہ آج جس چیز کو دلائل کے زریعے سفید ثابت کرتے تھے کل اُسی چیز کو دلائل ہی کے زریعے کالی ثابت کرادیتے تھے۔
سوشل میڈیا ہو کہ ٹی وی ٹاک شوز اِسی سوفسطائی "دلائلی فن" کا بول بالا ہے۔۔سیاسی لیڈر ہو کہ مذہبی رہنما یا پھر عام سا 
 آدمی سب ہی اس فن کے ماہر ہیں اور دلائل دیتے نظر آتے ہیں مثلاً ملالہ کو گولی نہیں لگی دلائل موجود ہیں۔۔ملالہ کو 
 گولی لگی دلائل موجود ہیں۔۔  خود کش حملے جائز کے فتوے موجود ہیں۔۔ ناجائز کے بھی فتوے موجود ہیں ،ڈرون حملے جائز،
 ناجائز کے اپنے اپنے دلائل ہیں  رشوت لینے والے رشوت لینا جائز کے دلائل رکھتے ہیں، چیزوں میں ملاٹ کرنے والوں کے پاس بھی ملاوٹ جائز کے معقول دلائل ہیں۔۔اور تو اور محسوسات کی ہر حس سے محسوس خُدا کے روشن جلوے  کائنات میں ہر سو ہر جا،موجود ہیں،  لیکن پھربھی خُدا کو نہ ماننے والوں کے پاس۔خُدا کو نہ ماننے کے سوفسطائی دلائل موجود ہیں ۔۔۔
غرض میں نہ مانوں والے کے آگے دلائل کی لاکھ  بیِنیں  بجائیں سب  بیکار ثابت ہونگی۔۔ اس لیے دوستوں سے گُذارش ہے کہ ہر قسم کی تعصبی بحث سے بچیں کہ اسِکا حاصل  زیرو پلس زیرو ہے،البتہ یہ تعصبی بحیثیں دُنیا میں تعصبی نفرت میں اضافہ کا باعث ثابت ہوتی ہیں ۔۔۔
نور: اگر زندگی  میں سے بحث کو خارج کردیں گے تو پھر زندگی میں جینے کا مزہ کیا رہ جائے گا، پھر ہم وہ لذت کیسے حاصل کر سکیں گے کہ ہم اعلیٰ ہیں، دلائل اور بحث کے زریعے ہی تو ہم بتاتے ہیں کہ ہم خُدا کی منتخب قوم ہیں، ہمارا مذہب ، ہمارا فرقہ، ہماری قوم، ہماری نسل، ہماری زبان، ہمارا علاقہ، دوسروں سے اعلیٰ ہیں ۔۔    
ایم ڈی: میں نے تو آپ سے صرف گذارش کی تھی عمل کرنا نہ کرنا آپکی مرضی پر منحصر ہے یہ مشورہ میں اپنے اُس تجربے کی روشنی میں دے رہا تھا  کہ میں نے یہی دیکھا ہے کہ ہر مذہب والے اپنے کو خُدا کی منتخب قوم، اپنے فرقے، اپنے علاقے، اپنی قوم اور اپنی زبان کے اعلیٰ ہونے کے دلائل دیتے ہیں،چلو یہاں تک بھی ٹھیک،لیکن اپنے آپکو کو اعلیٰ دکھانے  کیلئے دوسرے کو کمتر سمجھنا  پڑتا  ہے، اور دوسروں کو کمتر دِکھانے کیلئے۔ اوچھے، تعصبی اور نفرت بھرے ہتھکنڈے استعمال کرنا پڑتا ہے، اسی سبب دُنیا میں نفرت کا گراف اُنچے سے اونچا ہوتا جا رہا ہے ،آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسی سبب دُنیا  بھر میں نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں ، نتیجتاً  دُنیا آج  تباہی کا منظر پیش کررہی ہے۔۔
نور: مگر ایم ڈی صاحب آپ کون ہوتے ہو ہمیں مشورہ دینے والے ؟کیا ہمارے پاس عقل نہیں ہے ، صرف آپ ہی کے پاس عقل ہے۔۔۔
ایم ڈی: بھائی صاحب اچّھا کیا جو آپ نے مجھے اسطرح ٹوک دیا،  میں اپنا نصیحتی مشورہ واپس لیتا ہوں ، واقعی آپ صحیح کہہ رہے ہیں، آپ کے پاس بھی تو عقل ہے، پھر میں کیوں اپنے آپکو آپ سے برتر عقل والا  ثابت کرانے کیلئے آپکو نصیحتی مشورہ دے رہا ہوں ؟ شاید یہ میری اُسی" انا " کی کارستانی ہے جو  مجھے برتر عقل کے مغالطے میں مبتلا کرانے کیلئے اکثر ایسی حرکتیں کرتی ہے۔۔ 
درج بالا خیالات سے اختلاف/اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Thursday, October 10, 2013

" آپکو بھی غصّہ آجائے گا "

 منجانب فکرستان :ـ بیشک  خُدا  کے  سامنے ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے/ یہ بھی صحیح کے پہلا پتھر وہ مارے۔۔ تو  عرض ہے کہ مجھے صراط مستقیم پر چلنے کا کوئی بڑا دعویٰ نہیں، ہاں اپنی سی کوشش کرتا ہوں۔۔۔لیکن جناب میں روزانہ رات کو بجلی چوری کرکے رات بھر اپنے گُناہ میں مسلسل اضافہ نہیں کرتا رہتا ہوں، اور نہ ہی میرا کوئی کار خانہ ہے جو بجلی کی چوری سے چلتا ہے ۔۔  
یہ جواب اُس اعتراضی ای میل کے جواب میں لکھ رہا ہوں ہے  جو مجھے " ٹھائیں ٹھائیں پُھس" پر ملی،۔۔
 پوسٹ ُٹھائیں ٹھائیں پُھسُ لکھنے کی نوبت یوں آئی تھی کہ  جب میں محلے کے نمازی پرہیز گار شُرفا کو رات میں کُنڈے ڈال کر بجلی چوری کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے اِن بجلی چوروں اور حکومت پر یوں غصّہ آتا ہے کہ حکومت ان چوروں کو پکڑنے کے بجائے ان چوروں کا بل ہمارے بل میں اضافہ کرکے  ہم سے وصول کرتی ہے۔۔
 اگر میری جگہ آپ ہوتےآپ بجلی چوروں کے بِل اور اپنے بِل کے فرق کا موازنہ کرتے تو  آپکو بھی میری طرح غُصہ آجاتا اور میری طرح  آپ بھی بِلبلا اُٹھتے کہ: بجلی چوری نہ کرنے کی، یہ کیسی سزا ہے ؟؟؟
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Wednesday, October 9, 2013

" ٹھائیں ٹھائیں پُھس "

 منجانب فکرستان: بجلی چوری کاذرا تناسبی اندازہ تو لگائیں صرف لیسکو 0.17 فیصد چیکنگ پر 31 کروڑ ریکوری ہوئی۔پاکستان میں 95.98 فیصد مسلمان ہیں، چوری کرنے والوں میں نمازی بھی ہونگے۔جو مسجد میں  بیٹھ کر نماز میں  صراطِ مستقیم پر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ کیا یہی صراطِ مستقیم ہے؟ خُدا مجھے بھی دیکھ رہا اگر میں خود بجلی چوری کرکے دوسروں پر حیرت زدہ ہورہا ہوں تو۔۔۔

Saturday, October 5, 2013

" ۔5 اکتوبر 2013 "

منجانب فکرستان چنیدہ چنیدہ 
٭٭٭٭٭
میڈونا آجکل قرآن پاک کا مطالعہ کررہی ہیں، جیلوں میں اسلام پھیل رہا ہے۔۔۔پیوریسرچ کےمطابق امریکی مسلمانوں میں سے ایک چوتھائی نو مسلم ہیں،سالانہ 5200برطانوی حلقہٴ اسلام میں داخل ہورہےہیں۔ غرض کہجن ممالک میں جتنا زیادہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اُن ممالک میں اسلام اُتنا ہی زیادہ مقبول ہورہا ہے،
کیا یہ معجزہ خُدا کی طرف سے ہے۔۔ یا جو لوگ مسلمان ہورہے ہیں انکا سابقہ مذہبی نظریہ  اب اُن  کیلئے اطمینان بخش نہیں رہا ۔۔یا   مسلمانوں  کی دینی طرز زندگی نے اُنہیں متاثر کیا ۔۔یا ۔۔۔؟۔۔۔یا۔۔۔؟اب آپ بھی تو کّچھ سوچیں!۔
٭٭٭٭٭
  وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اسمبلی تقریر میں یقین دلایا تھا کہ  آئی ا یم ایف سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لیں گے ‘ ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی جائے گی’آئی ایم ایف سے ہم اپنی شرائط پر قرضہ لیں گے ۔۔۔

تبصرہ: بھائی میرے نیچر کا قانون تو ایک بچّہ بھی جانتا ہے ،آپ چاہے کچّھ بھی کہتے رہیں۔ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے َََ۔۔۔۔
 اور نیچے والا ہاتھ کس کا ہے، لوگوں کو اب صاف نظر آرہا ہے ۔۔
٭٭٭٭٭
 کورٹ نے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرشاد یادو کو بد عنوانی کے جرم میں  پانچ سال کی سزا کے ساتھ 25 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سُنادی ہے۔۔ 

خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج پرواس کمار سنگھ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ،

 ‘ ہم سب سنتے تھے کہ خدا تعالٰی،  ہر جگہ ہے ، لیکن اب 

دیکھ رہے ہیں کہ خدا لفظ کی جگہ بدعنوانی لفظ کو دلانے 

کی کوشش ہو رہی ہے .
 یہ تب ہے جب روزانہ بدعنوانی روپی شیطان کو لے کر خطبہ ہوتے ہیں.
 یہ معاملہ اس کی مثال ہے کہ کس طرح بڑے سیاستدان ، نوکرشاہی اور بزنس مین نے سازش کے تحت سرکاری خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔

تبصرہ : ہمارے یہاں بھی ایسی ہی لوٹ مار ہے لیکن ہمارے یہاں تو سینہ ٹھوک کر کہا جاتا ہے کہ ہمیں استثنیٰ حاصل ہے ،کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کرکے دِکھائے !!! 

 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Sunday, September 22, 2013

" سوشل میڈیا "

منجانب فکرستان: جہادالنکاح؛دلائل کا انبار؛حضورﷺ کی سُنت؛کونسا فرقہ صحیح ہے ؟ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹوئٹر یا گوگل پلس پر ابھی تک میرا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔۔ آج پہلی بار بی بی سی کے فیس بک صفحہ پرگیا، جہادالنکاح پر لوگوں کے تبصرے پڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ۔۔ تبصروں کا مزاج بدلنے لگا پہلے متعہ اور پھر باقاعدہ شعیہ سُنی معرکہ شروع ہوگیا اور جہادالنکاح پسِ پشت چلا گیا۔ جس سے مجھے وہ دور یاد آگیا کہ جب بلاگروں کے بلاگ پر اصل موضوع سے ہٹ کر اسی طرح کے تبصرے آتے تھے جسکی وجہ سے ہی مجھے تبصروں کا آپشن ختم کرنا پڑا حالانکہ کُچھ دوستوں نے مجھ سے کہا کہ تبصرہ کا آپشن ختم کرنے سے بلاگ کی ریٹنگ کم ہوجائے گی۔۔۔
بی بی سی پر فیس بک کے تبصرے پڑھ کر دو باتوں کا اندازہ ہُوا: پہلی بات یہ کہ قوم کا مزاج کس جانب بڑھ رہا ہے اور دوسری بات یہ  کہ سوشل میڈیا کے زریعے سے فرقہ واریت،انتہا پسندی کی نفرت بھری آگ کو خوب ہَوا مل رہی ہے ۔۔۔ 
جہاں تک فرقہ پرستانہ دلائل کی بات ہے تو عرض ہے کہ: ہر فرقے والے کے پاس فرقہ پر ستانہ دلائل موجود ہوتے ہیں، جن پر اُنہیں کامل یقین ہوتا ہے۔۔چونکہ یہ فرقے بنتے ہی دلیلوں کی بنیاد پر ہیں، بغیر دلیل کوئی فرقہ بن ہی نہیں سکتا ہے ۔اس لیے کسی جانب سے بھی دلائل کا انبار لگانا بیکار ہے ۔۔۔رہا یہ سوال کہ  کون سا فرقہ صحیح ہے؟؟ اسکا فیصلہ خُدا پر چھوڑ کر فرقوں کوآپس میں اتحاد  اور بھائی چارہ قائم کرلینا چاہئیے کہ یہ حضورﷺ کی سُنت بھی ہے، تاکہ مسلمان آپس میں لڑنے  کے بجائے خوب ترقی کریں۔۔۔
 مسلمانوں کی بھلائی کیلئے، یہ بات عُلماء حضرات کو سوچنا چاہئیے۔۔۔مگرمگر مگر ۔۔۔ یہ کیسی آوازیں ہیں۔۔۔انا انا انا ؟؟؟
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(جہادالنکاح کی تفصیل کیلئے لنک پر جائیں)۔۔
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ 
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Friday, September 20, 2013

" افراط و تفریط "

 منجانب فکرستان: بچوں کی پرورش؛ جدید تحقیق ؛ الزائمر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
21 ستمبر عالمی دن الزائمر
 پُوری  کائنات میں توازن کا قانون رائج ہے۔۔اِسی کو دیکھتے ہوئے ارسطو روز مرہ زندگی میں بھی اسی قانون کو رواج دینے کو کہتا ہے، وہ اپنی بات واضع کرنے کیلئے مثالوں  کا سہارا لیتا ہے، مثلاً غرور اور عجز کے درمیان خودداری اپناؤ، شرمیلا پن اور بے شرمی کےدرمیان حیا اپناؤ، اسراف اور بخل کے درمیان سخاوت اپناؤ،شہوت پرستی اور بے حسی کے درمیان عفت اپناؤ ، تہور اور بزدلی کے درمیان شجاعت اپناؤ۔۔۔
اگر آپنے پڑھا نہیں ہے تو پھر آپکو  یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ جن ملکوں میں صفائی ستھرائی کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔۔اُن ملکوں کے شہری زیادہ تعداد میں الزائمر کی بیماری میں  مبتلا ہوتے ہیں ۔۔یہ نتیجہ ہے کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کی نئی تحقیق کا ہے، اس تحقیق میں 192 قوموں کی صحت کے کوائف پر مبنی اعدادوشمار کے تجزیہ کو شامل کیا گیا ہے۔۔۔
بچوں کی پرورش میں ضرورت سے زیادہ صاف ستھرا ماحول اور دھول مٹی سے احتراز ان کے قدرتی مدافعتی نظام کوغیرمتوازن بنانے کا سبب بنتا ہے جس  سے بچوں کی قوت مدافعت کمزور رہتی ہے اور جسم بہت سے جراثیم کے خلاف لڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

محقیقین اسی نظریہ کو دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ جراثیم سے کم سامنا ہونے کی وجہ سے جسم میں خون کے سفید خلیوں کے بننے کا عمل سست پڑجاتا ہے۔ خاص طور پرریگولیٹری T سفید خلیہ جو مدافعتی نظام کا انتہائی اہم ترین جزو ہےسب سے زیادہ متاثر ہوتا ہےجن کا کام جسم پرحملہ آور بیکٹریا سے لڑنا اور انھیں ختم کرنا ہوتا ہےٹی خلیوں کی کمی سےدماغ میں سوزش پیدا ہوتی ہےجو دماغی امراض کا باعث بنتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ مالی فاکس کہتی ہیں کہ ہمارے مدافعتی نظام کو قاعدہ سے چلانے کے لیے فرینڈلی بیکٹریا سے دوستی کرنا انتہائی ضروری ہے ضرورت اس بات کیا ہے کہ ، ہم متوازن حد تک اپنی صفائی کا خیال رکھیں ۔۔یعنی افراط و تفریط سے بچیں، اور نیچر کے رائج قانونِ اعتدال کو اپنائیں ۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 جسطرح آج کی پوسٹ کیلئے  جدید تحقیق اور نیچر کو حوالہ بنایا ہے۔۔ اسی طرح 21 ستمبر 2012 کو الزائمر کے بارے میں جو پوسٹ لکھی تھی  اُس میں مشہور مصنف ہمینگوئے کی خودکشی اور اسکے مشہور ناول بوڑھا اور سمندر کو حوالہ بناکر لکھا تھا ،اسکے علاوہ الزائمر کے علاج اور معلومات کیلئے پاکستانی سائٹس کی لنکس بھی فراہم کیں تھیں ۔۔۔اگر پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں ۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

"خوا ہش "

 منجانب فکرستان :جمائما؛ رسل برانڈ؛ عمران خان؛ ممکن ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمران خان سے کبھی  ملاقات نہیں ہوئی، نہ ہی پارٹی ممبر ہوں، پھر بھی،  پاکستان میں  عوامی تبدیلی لانے کے حوالے سے اُسکی تڑپ، جدوجہد اور اُسکےخلوص کو دیکھتے ہوئے، مجھ سمیت کئی لوگوں کا عمران سے جذباتی تعلق بنا۔۔
خبر پڑھی، تصاویر دیکھیں جمائما رسل برانڈ سے تعلقات بڑھا رہی ہیں۔۔ یہ سب دیکھ کر مجھے جذباتی شاک سا لگا !۔۔  کس لیے لگا ؟؟؟
 اس لیے لگا کہ میری جذباتی خواہش اور ذہنی کلکولیشن دونوں ہی  غلط ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔۔اخبارات میں پڑھتا تھا کہ جمائما اور عمران خان کے درمیان ابھی بھی اچھّے تعلقات قائم ہیں ، جس نے میرے ذہن میں اِس خواہش کو جنم دیا کہ برطانیہ میں قائم کئی حلالہ سینٹر میں سے ایک سینٹر جمائما اور عمران خان کو دوبارہ ملانے کی راہ دیکھ رہا ہے۔۔لیکن: اے بسائے آرزو کہ خاک شُد: 
 میری اِس جذباتی خواہش نے ابھی دم نہیں توڑا ہے، وہ ابھی بھی آس لگائے بیٹھی ہے کہ ممکن ہے کہ رسل برانڈ ہی حلالہ کا زریعہ ثابت ہو !!!۔۔"خوش فہمی زندہ باد"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میرے دل میں جمائما اور عمران خان دوبارہ ازدواجی زندگی گُذاریں کی خواہش کنِ وجوہات کی بنا پر قائم ہوئی اسکی مکمل  تفصیل اپنی سابقہ پوسٹ بعنوان "عمران خان، جمائما خان"  میں لکھی ہے ۔۔۔ پڑھنا  چاہیں تو لنک پر جائیں ۔ مجھے کچّھ یقین سا ہے کہ پوسٹ آپکو ضرور پسند آئے گی ۔۔چونکہ اِس پوسٹ میں آپکو وقت کا فلسفہ ملے   گا اسکے علاوہ  فلم اسٹار الزبیتھ ٹیلر اور ریچرڈ برٹن ۔ سے ملاقات بھی ہوگی۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔   
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, September 16, 2013

" غور طلب بات "

 منجانب فکرستان:ایس ایم ظفر ؛ اقتباس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئی ایم ایف سے 6.7  بلین ڈالر قرضے کی منظوری سے حکومتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔۔ اب 12 ارب ڈالر سے ایک نیا شہر تعمیر ہوگا ۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اِس قرض کو ادا کون کرے گا ؟؟ جواب ہے کہ ہمیشہ کی طرح تنخواہ دار مڈل کلاس اور غریب طبقہ ادا کرے گا۔۔ چونکہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ  تا  ہیلری کلنٹن  تک کہہ چُکی ہیں کہ پاکستان کے جاگیر دار اور امیر طبقے کی ایک بڑی تعداد ٹیکس نہیں دیتی ہے۔۔پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچّے کو 86 ہزار روپئے کا قرض ادا کرنا ہے ۔۔غریب کا بچّہ یہ قرض کیسے ادا کرے گا ؟؟
محترم جناب ایس ایم ظفر (سابق وزیر قانون) کی کتاب  سے بمع شُکریے کے مختصر اقتباس پیش ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
" اب ہمارے یہاں کوئی ادارہ ایسا دِکھائی نہیں دیتا جسے کرپشن نے مفلوج نہ کردیا ہو ۔۔جس طرح ایڈز کے وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سو بھیس بدل لیتا ہے اور نئے طریقوں سے اچانک حملہ کرتا ہے ،اسی طرح کرپشن نے بھی کئی رنگ بدلے ہیں نئے نئے انداز میں آگے بڑھی ہے " ۔کتاب کا نام ( پاکستان بنام کرپشن عوام کی عدالت میں صفحہ نمبر 10۔
  ۔درج ذیل لنک پر 15 ستمبر 2013 محترمہ انجم نیاز صاحبہ کا لکھا  کالم پڑھنے کے قابل ہے جو نئے تعمیرِ ہونے والے شہر پر روشنی ڈالتا ہے۔۔ اب  مجھے اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 http://e.dunya.com.pk/colum.php?date=2013-09-15&edition=LHR&id=16228_80042217
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, September 9, 2013

جاری رہے گی !!!۔

 منجانب فکرستان: ھیری ؛ زرداری ؛ مائیں: ولیم جیمز؛ سائنس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آسٹریلیا کےانتخابات میں ھیری (مگر مچھ) نے جب اپوزیشن لیڈر ٹونی کی تصویر کو اپنے منہ  میں لیا تو ٹونی کے سپوٹروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،گویا ٹونی کی جیت یقینی ہوگئی۔۔ہیری پر اعتقاد  کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض ووٹروں نے اخباری نمائندوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ چونکہ ہیری نے ٹونی کو منتخب کیا ہے اسلئیے ہم بھی ٹونی کوئی ہی ووٹ دیں گے۔۔بالآخر ہیری کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی ٹونی جیت گئے ۔۔۔ہیری زندہ باد
زرداری صاحب کے 5 سال تک بحثیت صدر رہ پانے کے پیچھے پیر اعجاز چوہدری  کے 5 سالہ ٹھیکے کا نام لیا جاتا ہے۔۔۔یہ بھی خبر آئی تھی کہ پیر صاحب تو مزید دو تین سال ٹھیکے میں اضافہ کرنا چاہتے تھے لیکن زرداری صا حب تیار نہیں ہوئے۔۔اور یہ بھی کہ الیکشن کے دوران پیر صاحب کے مشورے پر سمندر کے قریب رہنے کی وجہ سے سندھ میں حکومت بنانے میں پی پی کامیاب ہوئی ۔۔ورنہ یہ بھی ممکن نہ ہوتا ۔۔ پیر اعجاز زندہ باد
امریکی صدر رونالڈ ریگن بھی ایسی باتوں پر یقین رکھتے تھے ۔کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کوئی کام  کرنے سے پہلے پیش گوئی کرنے والوں کی رائے لیتے تھے۔۔ اور جو رائے وہ  دیتے تھے اُسی پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔۔۔
بالی ووڈ اداکاراور اداکارائیں فلموں کی کا میابی کیلئے مندروں، مزاروں میں جاکر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔۔  
مائیں فریاد کرتی ہیں کے بیٹے کے سسرالیوں نے بیٹوں پر ایسا کّچھ کرادیا ہے کہ۔۔ ماں کو بھول کر بیوی کا ہوگیا ہے۔۔
میرے جاننے والے کی نوکری چھوٹ گئی ہے ، ملاقات پر کہنے لگا نوکری ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے۔۔ لگتا ہے کسی نے کچھ کرادیا ہے (موصوف گریجویٹ ہیں) ۔۔
شادیوں میں رکاوٹ اور کاروبار میں بندشوں کا رونا تو ہمیشہ کا ہے ۔۔۔
 اپنے اطراف ایسی ہی باتیں دیکھ کر، سنُ کر، اور پڑھ کر۔۔ مشہور امریکی نفسیات داں پروفیسر ولیم جیمز کی کہی ہوئی بات پر یقین سا آنے لگتا ہے ۔۔۔  جو کہ میں نے کسی سے سُنی نہیں۔۔۔۔ پڑھی ہے۔۔ وہ یہ ہے کہ" انسان کتناہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوجائے ، سائنس کچھ بھی کہتی رہے۔۔۔آخری دور کے انسانوں تک ضعیف الاعتقادی جاری رہے گی"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔ آپکا بُہت شُکریہ 
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

Friday, September 6, 2013

نئے دور کے نئے رشتے

منجانب فکرستان: شاہ رخ خان پھوپھا جان 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بملا نے مُسکرا تے ہوئے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی سے پوچّھا: تمہارا نام کیا ہے ؟ شاید وہ بھی اسی انتظار میں تھی، جھٹ سے جواب دیا: پونم    
بملا تعریف کرتے ہوئے : واہ ، بڑا ہی پیارا نام ہے ، کس نے رکھا ہے ؟ 
پونم مسکراتے ہوئے : میری حیاتیاتی مما نے یہ نام رکھا ہے 
بملا چونکتے ہوئے : حیاتیاتی مما، میں کچھ سمجھی نہیں ۔۔۔( رشتوں کے حوالے سے حیرت زدہ کرنے  کیلئے پونم کو ایک اچّھا شکار مل گیا )۔
پونم نے مسکراتے ہوئے کہا : میری جینیاتی مما کو ڈاکٹروں نے اولاد کے نہ ہونے کا اندیہ دیا تو مما پریشان ہوگئیں پھر مما نے میری پیدائش( سروگیٹ مادر) کیلئے اپنی بہن کو تیار کیا یوں میری جینیاتی خالہ میری حیاتیاتی مما ہیں اور میری جینیاتی مما میری حیاتیاتی خالہ بھی ہیں ۔۔۔اب تو بملا کا سر۔۔مارے حیرت کے چکرانے لگا۔۔۔
پونم محظوظ ہوتے ہو ئے : چلو یہ بات میں شاہ رخ خان کے حوالے سے سمجھاتی ہوں شاہ رخ خان کی بیوی گوری نے اپنے بچّے کی پیدائش (سروگیٹ مادر) کیلئے اپنی بھابی کو تیار کیا یوںگوری کی بھابی اُس بچّے کی حیاتیاتی ماں ہیں  جبکہ گوری بچّے  کی جینیاتی ماں اور حیاتیاتی پھوپھی ہیں  اسی طرح شارخ خان اُس بچّے کے جینیاتی باپ اور حیاتیاتی پھوپھا  ہیں ۔۔۔پونم نت نئے رشتوں کے حوالے دیکر بملا کو مزید حیرت زدہ کرنے کے فُل موڈ میں تھی کہ اتنے میں انٹرویو کیلئے اُسکا  بُلاوا  آگیا  یوں  وہ بملا کو حیرت زدہ چھوڑ کو انٹرویو دینے چلی گئی ۔۔۔
 بملا کچھ سوچتے ہوئے من ہی،  من میں کہنے لگی : ھے بھگوان۔۔۔یہ سب کیا ہورہا ہے  ۔۔۔کیا یہ سب کّچھ تیری مرضی سے ہورہا ہے ؟؟؟   
نوٹ: نئے رشتوں کو جسطرح میں سمجھ پایا ہوں اُسی طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے اگر غلط ہیں  تو بزریعے تبصرہ نشان دہی کریں نوازش ہوگی۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

Monday, September 2, 2013

آشرم اور شرم

 منجانب فکرستان:: جنات : منتر : 5منٹ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارت کی فضاؤں میں ایسی کیا جِنس زدگی شامل ہوگئی ہے کہ جس کے سامنے اخلاق، مذہب، قانون ،سب بے بس نظر آتے ہیں ، اِسی لیے آئے دن نت نئے اسکینڈل سامنے آتے ہیں،جس میں عام آدمی تا ارکانِ پارلیمنٹ ،سنت ،سادھو،باپو تک ملوث پائے جاتے ہیں ۔۔
حالیہ اسکینڈل ایک ایسے 72 سالہ آسارام باپو  کا ہے کہ جِس کے لاکھوں پیروکار اورسیکڑوں آشرم تو ہیں، لیکن شرم نام کو نہیں ہے۔۔۔۔ڈوئچے ویلے سائٹ پر شائع رپورٹ کے مُطابق : 
"آسارام نے بچی کے والدین کو بتایا کہ بچی پر جنات کا سایہ ہے، لہذا اسے بچی سے اکیلے میں ملنے کی ضرورت ہے۔ اسکے بعد وہ لڑکی اور اس کے والدین کو ایک جھونپڑی کی طرف لے گیا اور والدین سے جھونپڑی کے باہر منتر پڑھنے کو کہا اور لڑکی کو اندر کمرے میں لے گیا اور وہاں مبینہ طور پر لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا"۔۔
زیادہ سے زیادہ 5 منٹ کے اِس عمل کیلئے سادھو نے: اپنی غیرت ۔۔مذہب کی تعلیمات۔۔ قانون کا احترام۔۔ عظمتِ انسانیت ۔۔اور اپنے لاکھوں پیروکاروں کا اعتماد سب کُچھ خاک میں ملا دیا ۔۔۔ 
خبر کی مزید تفصیل اگر پڑھنا چاہئیں تو لِنک پر جائیں ،اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, August 29, 2013

محبت کی مثلث

 منجانب فکرستان: خوار ہونا:باچھیں کھِلنا: چار بچّے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرد کو عورت سے محبت ہوگئی،عورت کو بھی ہوگئی ۔۔اِسی عورت سے ایک اور مرد کو محبت ہوگئی۔۔عورت کو اِس دوسرے مرد سے بھی محبت ہو گئی ۔۔ محبت  بھی ایسی کہ خاتون دونوں  میں سے کسی ایک کو چھوڑنے تیار نہیں ۔۔ کسی فیصلے پر پہنچنے  کیلئے صورتِ حال اتنی پیچیدہ ہوگئی کہ  دن پہ دن گذرتے چلے گئے یہاں تک 4 سال کا عرصہ گُذر گیا۔
تینوں نے سوچا کہ بہت خوار ہولئیے  ہیں اب اِس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہئیے ۔۔تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔۔ تینوں کی نیت صاف تھی اور اِس بات پر فوکس تھی کہ حل ضرور نکالنا ہے، یوں حل نکانے میں کامیاب ہوگئے  کہ قانونی دستاویز تیار کریں گے کہ دونوں مرد خاتون سے شادی کریں گے اور باری باری خاتون کے ساتھ رہیں گے اور ہونے والے  بچوں کے باپ دونوں مرد کہلائیں گے ۔۔۔
یہ حل اُنہیں ایسا سُوجھا کہ تینوں کی باچھیں کِھل گئیں ۔۔۔ البتہ افسوس اس بات کا ہُوا کہ یہی فیصلہ چار سال پہلے کر لیتے تو اب تک چار بچوں کے باپ  ہوتے۔۔  
درج بالا کہانی درج ذیل لنک پر حقیقی خبر سے متاثر ہوکر لکھی گئی ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

میرٹ قانونِ قدرت

 منجانب فکرستان: معیار؛ ثبوت؛ ناسور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عظیم درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فنڈ کی خاطر میرٹ کو نظرانداز کرکے کچھ داخلے دئیے گئے تھے،نتیجاً  ادارہ کا معیار گِرگیا۔۔ رپورٹ کے مطابق امیروں کے یہ نا اہل بچّے درسگاہ کی بدنامی کا باعث بنے ہیں (ایک خبر)
پاکستان اِسی قانونِ قدرت کی مار جَھیل رہا ہے، میرٹ کہ جگہ ہمارے بندے ہیں کہہ کر۔ ۔ نا اہل  لوگوں سے ادارے بھر دئیے گئے  ہیں ،اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نگراں حکومت جس کا کام صرف الیکشن کرانا تھا ، اُسنے بھی موقع کو غنیمت جان کر تھوک کے بھاؤ سے اداروں میں اپنے لوگوں کو لگایا تھا۔۔ 
جس طرح آکسفورڈ درسگاہ نااہل بچوں کے داخلوں سے بدنام ہوئی ہے ۔۔(خبر کی تفصیل آخر میں لنک پر ہے)  اسی طرح پاکستان کے اداروں میں نا اہل لوگوں کی بھرتیوں نے پاکستانی ادراوں کو تباہ کردیا ہے۔۔
 ثبوت: کئی سالوں سے کراچی کے حالات کو کنٹرول نہ کر پانا، ڈی آئی خان جیل کا واقعہ، کرپشن کا بڑھتا ہُوا ناسور اور جرائم کا تیزی سے بڑھتا ہُوا گراف کیا کم ثبوت ہیں ؟؟؟ 
گذشتہ 5 سالوں میں۔۔ قائم علی شاہ کی کار کردگی کیسی رہی ہے، سب کے سامنے تھی ۔۔اِسکے باؤجود تعلقات کی بنیاد پر اُنہیں آئندہسالوں کیلئے وزیراعلیٰ بنادیا  گیا۔۔۔ کر لو جو کرنا ہے !! ۔
میرٹ کا قانون انسانوں کا نہیں قدرت کا بنایا ہُوا ہے۔۔ اس لیے قدرت نے قانون توڑنے والوں کیلئے اِس میں سزا بھی رکھی ہوئی ہے۔ ۔ ۔سزا کا ثبوت: آکسفورڈ درسگاہ والی خبر اور پاکستان آپکے سامنے ہیں۔۔۔
میرٹ کا تناسبی  معیار ہی کسی ملک کی ترقی /تنزلی کا گراف ہوتا ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...