Tuesday, August 27, 2013

کوؤں کی ذہانت !!!۔

منجانب فکرستان: ذہانت؛آسمان؛ مثالیں: دوستی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپنے کوّے کی ذہانت کی علامتی کہانی "پیاسا کوّا " پڑھی ہوگی۔۔شاید آپنے کوّے کی وہ ذہانت بھی دیکھی ہو کہ جس میں وہ تنکوں کی مدد سے درختوں کے تنوں کے سوراخوں میں سے کیڑے نکال کر کھاتا ہے۔۔ اور شاید یہ بھی دیکھا ہو کہ گِدھوں کے دُموں میں ٹھونگیں مارکر گوشت کا ٹکڑا لے اُڑتا ہے۔۔تاہم ممکن ہے کوّے کی جس ذہانت کا ذکر میں کر رہا ہوں وہ شاید آپکی نظر سے نہ گُذری ہوں ۔۔
ہوتا یہ ہے کہ جب میں آزاد کبوتروں (جنگلی کبوتروں) کو باجرہ ڈالتا ہوں تو کچھ دیر بعد ایک دو کوّے بھی آجاتے ہیں۔۔اور پھر کبوتروں کو بھگا کر باجرے کے دانے منہ میں بھر لیتے ہیں اور پھر آسمان کی طرف منہ کرکے باجرے کے دانے اپنے پیٹ میں اُتار لیتے ہیں ۔کیا آپنے کبھی کوّؤں کو باجرہ کھاتے دیکھا ہے ؟؟
اِس کے علاوہ کوّؤں کے ذہانت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ سوکھی روٹی کا ٹکڑا کہیں سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور پھر  پانی کے اُس برتن میں ڈال دیتے  ہیں جو پرندوں کے پینے کیلئے رکھا  ہُوا ہے۔۔ پھر اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں ۔اور کچھ دیر بعد آکر جب سوکھی روٹی کاٹکڑا پانی میں پڑے پڑے نرم ہوجاتا ہے تو مزے لیکر کھاتے ہیں۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"تراشہ" بشکریہ  جنگ اخبار 
 واقعی کوّے بُہت ذہین ہوتے ہیں۔ ۔ آپکا کیا خیال ہے؟؟۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         



Sunday, August 25, 2013

زمرد ہو کہ سکندر !!۔

 منجانب فکرستان:لو لیٹر: معاوضہ: ڈاکومینٹری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈرامہ سیریز "ساس بھی کبھی بہو تھی " سے شہرت پانے والی فنکارہ سمرتی ایرانی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ :
بیوی شوہر کی آدھی ماں ہوتی ہے۔ ۔ یہ جملہ یوں یاد آیا کہ :مشہور مصنف سارتر کی لائف پارٹنر  مصنفہ سیمون ڈی بیووئیر (دونوں نے اکھٹے زندگی گُذاری لیکن شادی کا ٹھپہ نہیں لگوایا) نے اپنے لو لیٹر میں لکھا کہ:
 میرے پیارے محبوب : میں تمہاری اچّھی طرح دیکھ بھال کروں گی ۔ ۔ 
 سیمون ڈی کے اس جملے میں مامتا کی جھلک صاف نظر آرہی ہے ۔۔ اب سمرتی ایرانی کے جملے کا موازنہ کریں کہ : بیوی شوہر کی آدھی ماں ہوتی ہے ۔۔
عورتوں میں مامتا کا جذبہ ہوتا ہےاس سے انکار نہیں ۔۔ لیکن  کیا مردوں میں بھی سدا بچّہ رہنے  اور مامتا کی طلب رہتی ہے ؟؟؟ اس سلسلے میں جاپان کی ایک ڈاکومینٹری فلم دیکھی تھی کہ جس میں دکھایا گیا تھا کہ وہاں ایسے ادارے قائم  ہیں کہ جہاں معاوضہ کے عیوض  مردوں سے عورتیں مامتا بھرا سلوک (اداکاری) کرتی ہیں جس سے وہ بُہت سکون حاصل کرتے ہیں ۔۔یہاں تک دکھایا گیا ہے کہ بعض مرد حضرات بچّوں والی چوسنی چوسنا  تک پسند کرتے ہیں ۔۔
 سچ ہے کہ :ہر فرد اپنے آپ میں ایک منفرد جہاں لئے پھر رہا ہے چاہے وہ۔۔۔زمرد ہو یا کہ سکندر۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں،آپکا بُہت شُکریہ۔لولیٹر کا لنک۔http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=20587
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Friday, August 23, 2013

اعتراف

منجانب فکرستان:اکثریت: احمقانہ جراءت 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واشنگٹن کی ایک فوجی عدالت میں بیان دیتے ہوئے امریکی فوجی سارجنٹ  رابرٹ بیلز نے کہا " میں سچے دل سے تمام خاندانوں سے معذرت خواں ہوں جن کے پیارے لوگوں کو میں نے چھین لیا ۔میں نے ان کے خاندان کے لوگوں کو قتل کیا مزید کہنا تھا کہ " جو کچھ میں نے کیا وہ خوف کے پردے کے پیچھے بزدلی کا اقدام تھا جوانتہائی فضول اور احمقانہ جراءت تھی" ۔۔
امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز نے مارچ 2012 میں افغان صوبہ قندھار میں رات کے وقت مختلف گھروں پر حملے کرکے 16 افراد کو قتل کردیا تھا جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی ۔۔۔
خبر کی مکمل تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر جائیں ۔۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Wednesday, August 21, 2013

" خطِ غُربت "

 منجانب فکرستان ::10 فیصد: آثار: پاکستان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارتی حکومت 80کروڑ افراد کو چاول 3، گندم 2 اور باجرہ ایک روپئے کلو قیمت پر فراہم کرے گی (ایک خبر)
 خبر پڑھنے پر دماغ نے اِس خیال کو کِلک کیا کہ:
 سیاستدانوں کی نااہلی اور کرپشن کے طُفیل خطِ غربت سے نیچے افراد کا اضافہ ہونا بھی سیاستدانوں کے مفاد میں ہے، چونکہ الیکشن کے قریب غُربت کے مارے لوگوں کو لُبھانا آسان ہوتا ہے، مُلک میں غریبوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو اُتنا اچّھا ہے۔ ۔
 بھارت میں الیکشن ہونے والے ہیں، 80 کروڑ غریب ووٹروں کو سستے اناج کے بہانے لُبھایا جا رہا ہے ۔ ۔ جیسے پاکستانی الیکشن میں کسی نے انکم سپورٹ تو کسی نے لیپ ٹاپ اور میٹرو بس کے زریعے غریبوں کو لُبھایا تھا۔ ۔ ۔               
بھارت میں 70فیصد اور پاکستان میں 60فیصد عوام  خطِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گُذار رہے ہیں،پاکستان میں یہ جو 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ،اسکی وجہ فوجی حکومتیں (ایوب خان،پرویز مشرف دور)ہیں، اگر پاکستان میں بھی 66 سال تک سیاسی حکومتیں ہوتیں تو پاکستان خطِ  غربت افراد کے معاملے میں  بھارت کو پیچھے چھوڑ دیتا۔ ۔
 اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان  کی سابقہ سیاسی حکومت نے افراد کی ایک بڑی تعداد  کو خطِ غربت کے نیچے پُہنچایا ہے۔ ۔ امید واثق ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے۔ ۔ ۔  کم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی افراد کو خطِ غُربت کے نیچے دھکیل دے گی ۔ ۔ ۔جس کےآثار ابھی سے نمایاں ہونے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ اب مُجھے اجازت دیں ۔ 
"آپ کا بُہت شُکریہ"  
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    


Monday, August 19, 2013

بیچارہ کیسے ثابت کرے گا ؟؟

منجانب فکرستان:: مولانا فضل الرحمان:منشور: نئی اصطلاح
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مصری عوام کے ٹکروں پر پلنے والی مصری فوج کے جنرل جناب عبدالفتح اپنی نہتی عوام کو تشدد کے زریعے فتح کرنا چاہتے ہیں۔ اور چور مچائے شور کے مصداق جنرل صاحب پوری دُنیا کی آنکھوں میں ناقابلِ قبول دُھول جھونکنے کی کوشش میں  یہ شرم ناک لطیفہ سُنا  رہے ہیں کہ فوج  مزید تشدد برداشت نہیں کرے گی،(گویا اب تک فوج تشدد برداشت کرتی رہی ہے) ۔ ۔ جنرل صاحب کے اِس بے شرمانہ لطیفے پر داد نہ دینا بد ذوقی کہلائے گی ۔ ۔
 پاکستان کی سیاسی جماعتیں منشور میں جو باتیں لکھتی ہیں وہ عوام کو دھوکہ دینے کیلئے لکھتی ہیں ، اسکی واضع مثال مسلم لیگ ن کا بلدیاتی الیکشن غیر جماعتی بنیاد  کرانے کا اعلان ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے منشور میں بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیاد پر کرانے کا لکھا ہے ۔۔یہ ہے مسلم لیگ ن کے قول و فعل کا کھلا تضاد،گویا کہی ہوئی باتوں کو تو چھوڑیں ، یہ تو لکھی ہوئی باتوں پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، تو پھر عوام اِن سے آئندہ کے بارے میں کیا توقع رکھیں ؟؟؟
مولانا فضل الرحمان نے لیڈر ہونے  کیلئے  لازمی شرط کی ایک بالکل ہی  نئی اصطلاح وضع کی ہے، وہ یہ ہے کہ لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک اچّھا شوہر ہو، لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایک کنوارہ لیڈر بیچارہ اپنے آپ کو ایک اچّھا شوہر کیسے ثابت کرے گا ؟؟؟
"آپ کا بُہت شُکریہ"  
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    


Monday, August 12, 2013

" ہولی پیچھے ٹر "

منجانب فکرستان: ہولی : کہانی: لندن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 محاورہ عید پیچھے ٹر سُنا ہوگا، ہولی پیچھے ٹر لندن والوں کی ایجاد ہے، جس میں لندن کی خواتین اِس بات کو  سچ ثابت کرکے دِکھا  رہی ہیں کہ:
 "وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ"  ۔۔اور اگر کسی "سپائی نوزا " ٹائپ شخص کو اِس بات پر شک ہے تو یقین کریں کہ تصاویر کو دیکھ کر وہ بھی ایمان لے آئے گا۔۔ 
ہولی "ہولیکا" کے جل مرنے کی کہانی  ہے، جس میں بادشاہ " ہرنا کشیپ " اپنے آپکو پر ماتما (خُدا ) متعارف کرواتا ہے جس پر ایک بڑی تعداد ایمان لے آتی ہے ۔۔لیکن بیٹا "بھگت پر ہلاد" ایمان نہیں لاتا ہے اسلئیے بیٹے کو جلاکر مارنے کی ترکیب سوچی جاتی ہے ۔ 
بادشاہ کی بہن" ہولیکا " کو یہ شکتی ملی ہوئی تھی کہ آگ اُسے جلا نہیں سکتی تھی  فیصلہ ہُوا کہ "ھولیکا "  بھگت پر ہلاد " کو گود میں لیکر دھکتی آگ میں بیٹھے گی ہولیکا پر آگ اثر نہیں کرے گی اور "بھگت پر ہلاد " جل کر خاک ہوجائے گا۔ ۔ ۔
مگر ہُوا یہ کہ ھولیکا ہی جل مری اور "بھگت پر ہلاد" زندہ  صحیح سلامت آگ میں سے نکل آیا ۔۔گویا حق صحیح سلامت رہا اور باطل جل مرا ۔۔۔اسی روایت کی یاد میں ہولی کا تہوار رسمی طور پر پھاگن کے مہینے میں منایا جاتا ہے، پہلے دن " ہولیکا " کو جلایا جاتا ہے اور دوسرے  دن ہولیکا کے جل مرنے کی خوشی میں ایک دوسرے پر رنگ اُچھالتے ہیں ۔ہندوستان کا یہ تہوار ہندوستان میں مارچ کے مہینے میں منایا جا چُکا ہے ۔۔لیکن ہولی پیچھے ٹر کے طور پر لندن میں گوریوں نے اگست کے مہینے میں اس تہوار کو خوب انجوائے کیا، جسکی تصاویر لنک پر موجود ہیں ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ 
نوٹ :رائے سے اختلاف / اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Friday, August 2, 2013

"غلطیاں "

 منجانب فکرستان: خبر کے لنکس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصرہ کا آپشن بند  ہونے کی وجہ سے بعض دوستوں کی تبصرہ ای میل آجاتی ہیں جن میں" جناب افتخار اجمل بھوپال" بھی شامل ہیں۔سابقہ پو سٹ "اصول پرستی لچک پرستی" پر اُنکی جو ای میل ملی اُس سے مجھے ایسا تاثر ملا کہ شاید میری سابقہ پوسٹ نے ایسا تاثر قائم کیا ہو کہ جیسے میں عمران خان سے مایوس ہوگیا ہوں ۔۔
تو عرض ہے کہ میں عمران خان سے بالکل بھی مایوس نہیں ہُوا  ہوں، مایوس ہونے کا میرے پاس آپشن نہیں ہے،اس لیے کہ عمران خان کے علاہ میری نظر میں کوئی دوسرا عوامی لیڈر نہیں ہے ۔۔
 البتہ میں اُنہیں ایک انسان سمجھتے ہوئے سمجھتا ہوں کہ وہ غلطیاں بھی کررہے ہیں۔۔مثلاً میرے خیال میں ممتاز بھٹو کو پی ٹی آئی  میں شمولیت کی دعوت دینا، ایک بڑی غلطی ہے، اس سے پارٹی کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا۔۔بس اتنی سی بات ہے ۔۔
"ممتاز بھٹو شمولیت دعوت کی خبر کیلئے لنکس پر جائیں "

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, August 1, 2013

" اصول پرستی " لچک پرستی "

منجانب فکرستان : جیل: منشور : متصادم 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی شخصیت بھی بڑی عجیب ہے۔۔ کبھی تو اُصول پرستی پر سب کچھ بھسم کرنے پر اڑ جاتی ہے ۔۔تو کبھی لچک پرستی پر ،اُصول پرستی کو خاک میں ملا نے تیار  رہتی ہے، اِسکی بہترین مثال  پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان صاحب کی شخصیت ہے جو ایک طرف تو کہہ رہے ہیں کہ:
 توہینِ عدالت نوٹس پر معافی نہیں مانگوں گا، چاہے جیل  ہی جانا کیوں نہ پڑ جائے، یعنی لچک نہیں دِکھاؤں گا، تو دوسری طرف ممتاز بھٹو کے بارے میں اپنی اصول پرستی کو خاک میں ملا کر لچک پرستی دکھا رہے ہیں۔۔پی ٹی آئی منشور سے متصادم خیالات کے حامل جناب ممتاز بھٹو کو پارٹی میں شمولیت کے لیئے دعوت  دی جا رہی ہے،  پی ٹی آئی منشور  بڑے زمینداروں پر ٹیکس کی بات کرتا ہے جبکہ ممتاز بھٹو صاحب اِس ٹیکس کے سخت خلاف ہیں۔۔
"اگر مزید تفصیل پڑھنا چاھیں تو لنک پر جائیں"
  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Tuesday, July 30, 2013

مذہب عیسائیت میں یہ کیسا انقلاب آیا ہے ؟؟

منجانب فکرستان :  گُناہِ کبیرہ : خون : سچ ہےکہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانوں کو اِسی دُنیا میں  "جنّتی / دوزخی"  کا سر ٹیفیکٹ دینے والے گویا خُدا کے کرنے کے فیصلے خُود کرنے والے عیسائی مذہب کے ٹھیکیدار پادریوں کے سربراہ پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ " ہم جنس پرستی" پر فیصلہ دینے والا میں کون ہوتا ہوں ؟؟؟
 اُنہوں یہ بات اِس تناظر کی روشنی میں کہی ہے کہ " اگر کوئی شخص ہم جنس پرست ہے اور خُدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اُس کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے والا
 جبکہ:اِسی مذہب نے کسی شخص  کی کہی ہوئی بات پر/ لکھی ہوئی بات پر/ دوسرے فرقوں پر / دوسرے مذاہب پر جہنمی ہونے کے فیصلے دئیے ہیں، اِن فیصلوں نے خُدا کی مخلوق کو کس طرح سے خونمیں نہلایا تاریخ گواہ ہے ۔۔   
مگر آج اُسی عیسائیت میں یہ کیسا انقلاب آگیا ہے کہ: پوپ صاحب  کہہ رہے  ہیں،  اگر کوئی شخص ہم جنس پرست  یعنی  گُناہ کبیرہ  کا  ہی مرتکب کیوں نہ ہُوا ہو لیکن خُدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اُس  کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے والا۔۔
  " سچ ہے کہ فیصلہ رب ہی نے دینا ہے" 
پوپ کے بیان کی مزید تفصیل اگر پڑھنا چاہیں تو لنک پرجائیں 

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Saturday, July 27, 2013

" شادی کی رسمیں" طلاق سے بچاتی ہیں "

 منجانب فکرستان: سندھ ؛ کُنڈ جی رسم؛ زیادہ طلاقیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد رمضان شادیوں کا موسم شروع ہوجائے گا۔۔ شادی بیاہ کی رسموں کو بُہت سے لوگ فُضول سمجھتے ہیں، جبکہ میرے خیال میں  شادی کی یہ رسمیں طلاق کی شرح میں کمی کا باعث ثابت ہوتی ہیں۔۔ زیادہ تر رسمیں لڑکی سے متعلق ہوتی ہیں اور  اِن رسموں میں اسرار  پایا جاتا ہے، ۔
 سندھ کے بعض حصّوں میں "کُنڈ جی رسم" یعنی" کونے کی رسم" ادا کی جاتی جو دراصل مایوں کی ہی رسم  ہے۔۔ اِس رسم میں دُلہن بننے والی کا چہرہ گوٹے کناری لگے کپڑے کے نقاب سے  چُھپا دیا جاتا ہے جس میں دیکھنے کیلئے دو سوراخ ہوتے ہیں اور اسے کمرے کے ایک کونے میں بٹھادیا جاتا ہے جس بنا پر اس رسم کو کُنڈ جی رسم کہتے ہیں۔۔
 لڑکی جب مایوں ،مہندی و دیگر رسوماتی مرحلوں سے گُذر کر شادی کا مرحلہ طے کرتی ہے،تو یہ تمام باتیں اُسکے ذہن پر اثر پزیری اثر چھوڑتی ہیں جو طلاق لینے کا سوچتے  وقت لاشعوری مزاحمت  کا کردار ادا کرتی ہیں ، اسطرح طلاق لینے سے باز رکھتی ہیں ۔۔
"  ثبوت یہ  ہے کہ جن قوموں  میں شادی کی رسومات نہیں ہوتی ہیں،اُن قوموں  میں طلاقیں زیادہ ہوتی ہیں"۔۔

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, July 25, 2013

" عذابِ قبر سے متعلق " امام غزالی کی رائے "

  منجانب فکرستان:- عذابِ قبر؛ امام غزالی؛ احیاءالعلوم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عذابِ قبر سے متعلق  کچھ لوگوں کے دل میں یہ خیال آتا ہوگا کہ ہندو مت میں لاش جلا دی جاتی ہے ،پھر عذابِ قبر کیسا ؟ ؟ پارسی لاش چیل کوؤں کو کِھلا دیتے ہیں پھر عذابِ قبر کیونکر ممکن ؟؟ ڈوب کر مرنے والوں کی لاش مچھلیاں کھاجاتی ہیں پھر عذابِ قبر کس طرح ؟؟
اِسبارے میں امام غزالی نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں وضاحت کی ہے ۔جس کے اردو ترجمہ کا خلاصہ اسطرح سے ہے کہ:
بے شک لوگوں نے کافروں کی قبریں کھول کر دیکھیں ہیں، تاہم ان قبروں میں سانپ بچھو کہیں نظر نہیں آئے ایسے میں عذاب ِ قبر کا کیسے یقین آئے ؟ اِس بارے میں تین احتمال ہیں :
پہلا احتمال یہ ہے کہ کافروں کی قبروں میں سانپ بچھو ہوتے ہیں اور یہ کاٹتے بھی ہیں چونکہ یہ عالمِ ملکوت کے واقعات ہیں اور عالمِ ملکوت کے واقعات اِن آنکھوں سے نہیں دیکھے جاسکتے ہیں۔۔۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ عذابِ قبر کو خواب کے واقعات پر قیاس کیا جائے ،خواب میں سانپ  بچھو کاٹنے پر جو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ یہی تکلیف عذابِ قبر ہے۔۔
تیسرااحتمال یہ ہے کہ مرنے کے بعد اُسکو روحانی تکلیفیں ہونگی  جِسے سانپ بچھو کے کاٹنے  سے تعبیر کیا گیا ہے ۔۔۔  
 نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔   
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Wednesday, July 24, 2013

" یہ آنسو میرے دل کی زبان ہے "

 منجانب فکرستان:بابر اعوان کے آنسو: کالم: زعمِ تقویٰ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ناچنے،گانے، بجانے والوں کو مذہبی لوگ اچّھی نظر سے نہیں دیکھتے۔۔عارف لوہار پی ٹی وی پروگرام میں مہمان تھے ، میزبان خورشید ندیم نے وقفہ ہونے پر غیر رسمی گفتگو میں عارف سے ادائیگی عمرے کی کیفیت پوچھی  تو عارف لوہار کے آنکھوں سے بے اختیار آنسوجاری ہوگئے الفاظ اِتنے رُوند گئے کہ ادائیگی مشکل ہوگئی۔ اِن آنسوؤں   سے پیدا ہونے والے احساسات کو میزبان نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ:
 میں مذہبی لوگوں میں پلا بڑھا ہوں، مجھ سمیت کتنے اہل مذ ہب ہیں جنہیں یہ کیفیت نصیب ہوتی ہے ؟؟
ہم جو خود کو مذہبی کہتے ہیں اور دوسرے کے کفروایمان کا فیصلہ کرتے ہیں ،بعض طبقات کے بارے میں بزعمِ خویش یہ طے کر رکھا ہے کہ دین اور آخرت سے انکا کوئی واسطہ نہیں، آخرت تو ہمارے لیے ہے جو دین کے علمبردار بن کر جیتے ہیں۔دین کا بھرم تو ہم سے ہے ۔ہم نہ رہے تو اِس زمین میں  کون ہے جو اُسکا نام لیوا ہوگا ۔ لیکن عارف لوہار کے آنسو تو ایک دوسری کہانی سُنا رہے تھے ۔۔۔انسانوں کے ظاہر کیا معلوم کہ اُن کے باطن  سے کتنے مختلف ہیں ۔۔
عارف لوہار کے آنسوؤں کا پیغام یہی ہے، جو چار دن سے میرے دل پر ٹپک رہے ہیں ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 عمرے کے ایک سفر میں خورشید ندیم کے ساتھ بابر اعوان بھی اُنکے ہمسفر تھے وہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ:
 حجرہ عائشہ  کے سامنے کھڑے ہوکر بابراعوان نے دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے تو آنسو الفاظ پر سبقت لے گئے ،اور بلک بلک کے رونے لگے ۔۔۔مزید لکھتے ہیں کہ:
ہم اپنی دانست میں افراد کے بارے میں ایک فیصلہ صادر کرتے ہیں، یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہم اپنی نیکی اور تقویٰ کے باعث عدالت کی کرسی پر برجمان ہیں،جہاں سے دوسروں کے ایمان اور اُخروی انجام کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ رویہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنی ذات سے بے خبر زعمِ تقویٰ کے مرض کا شکار ہوجاتے ہیں ۔۔۔ہمیں کیا معلوم جسے ہم بہ زعمِ خویش راندہء درگاہ سمجھ بیٹھے ہوں وہ اپنے آنسوؤں کی بدولت پار ہوجائے اور ہمارا زعم ہمیں لے ڈوبے ۔۔۔
درج ذیل لنک کالم میں عارف لوہار کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔۔۔
درج ذیل لنک کالم میں ذوالفقار علی بھٹو اور بابراعوان کا تذکرہ  پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے

 نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔   
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, July 22, 2013

بھائیو: بحث کیوں کر رہے ہو؟؟

منجانب فکرستان: ساتھی ؛ دشمن؛ مذہبی جہات  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 کُچھ لوگوں کا انداز فکر سائنسی  کٹر پن کا حامل ہے، تو کُچھ لوگ مذہبی کٹر پن میں مبتلا ہیں، دونوں ایک دوسرے کے اندازِِ فکر کو باطل قرار دیتے ہیں، جبکہ انسانوں کا  تیسرا  گروہ کہتا ہے بھائیو: بحث کیوں  کر رہے ہو ؟ تم دونوں ایک ہی بات کہہ رہے ہو، فرق صرف کہنے کے اندازکا ہے۔۔۔
The da vinci codeاور Inferno بیسٹ سیلر کتابوں  کے مصنف "ڈین براؤن"  کا تعلق اِسی تیسرے گروہ سے ہے اُن کے خیالات کُچھ اسطرح کے ہیں۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اپنی کتابوں میں ڈین براؤن نے جس  (نئے) انداز سے مسیحیت کو پیش کیا ہے۔۔۔ اُس پر ویٹی کن کے نمائندے اُن سے کافی ناراض ہیں۔ خود براؤن ہرگز نہیں سمجھتے کہ مذہب اور سائنس کے درمیان کوئی تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جتنا زیادہ اُنھوں نے الجبرا یا طبیعیات پر غور کیا ہے، اتنا زیادہ اُن پر مذہبی جہات کے دَر وَا ہوتے چلے گئے ہیں۔۔
وہ کہتے ہیں ’’ آج کل اُنھیں اس بات کا یقین ہے کہ سائنس اور مذہب در حقیقت دو مختلف زبانیں ہیں، جو ایک ہی کہانی بیان کرتی ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، دشمن نہیں‘‘۔
 ڈین براؤن 1964ء میں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد الجبرا کے پروفیسر تھے جب کہ والدہ موسیقار تھیں۔ ہنگامہ خیز ناولوں سے شہرت پانے سے پہلے اُنھوں نے انگریزی زبان کے اُستاد کے طور پر کام کیا۔ اپنے سنسنی خیزی، سائنسی اور تاریخی موضوعات اور سازشی نظریات سے عبارت ناولوں کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں گزشتہ چند عشروں کے کامیاب ترین ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔ 
 ڈین براؤن کے بارے میں درج بالا حقائق ذیل لنک سے حاصل کئے ہیں مزیدتفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔۔۔
http://www.dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-07-17/4943#.UeYbY9Jge5w
    نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Saturday, July 20, 2013

استثنیٰ ؟؟

 منجانب فکرستان: خواص؛ قُرآن و سُنت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سابقہ پوسٹ "کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے؟؟؟" میں لکھا تھا کہ خواص کی اسمبلیاں ہیں خواص مفاد قانون سازی کرتی ہیں۔۔ جیسے آجکل یوسف رضا گیلانی خواص کیلئے بنے قانون کا حوالہ دیکر کہہ رہے ہیں، مجھے کوئی گرفتار نہیں  کر سکتا ہے؟؟مجھے پارلیمنٹ سے استثنیٰ حاصل ہے۔۔ مزید کہہ رہے ہیں کہ: مجھے گرفتار کرنا آئین اور پارلیمنٹ کی تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔۔۔       
آئین کے بارے میں میری معلومات اخبارات میں پڑھی باتوں تک محدود ہے ۔۔۔کہا جاتا ہے کہ آئین میں کوئی بات ایسی نہیں ہوسکتی ہے، جو قُرآن اور سُنت سے متصادم ہو پھر یہ استثنیٰ کا قانون کیا قُرآن و سُنت کے مُطابق ہے یا متصادم ہے ؟؟؟
  نوٹ: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Friday, July 19, 2013

یہ شرم کی بات نہیں ہے ؟؟؟

 منجانب فکرستان:: خود ساختہ: بالآخر: عمران خان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جمہوریت جمہوریت الاپنے والے جمہوریت کی روح  بلدیاتی انتخابات کا سالوں سے  گلا دبائے بیٹھے ہیں کہ:ہمارے اختیارات میں کمی ہوجائیگی، خدشہ یہ بھی ہے کہ: مبادا جمہوریت کی اِس نرسری سے اپنی  کارکردگی کی بنیاد پر کچھ نئے چہرے اسمبلیوں میں نہ پہنچ جائیں، جس سے سدا  کیلئے ہم ہی  خادمِ پنجاب ہم ہی قائمِ سندھ رہنے کا خواب نہ بکھر جائے۔۔۔
 سابقہ پانچ سالوں میں عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کے خودساختہ بے وزن حیلے بہانے گھڑ تے رہے ،اور اب بھی آنا کانی کر رہے ہیں کہ حلقہ بندیوں کا سیٹ اپ تیار نہیں ہے ۔۔سوچنے کی بات یہ کہ پانچ سال تک اِنکی حکومت رہی ہے،اس دوران عوام کو دلاسے دیتے  رہے کہ  ہم جلد بلدیاتی انتخابات کرا رہے ہیں!!! لیکن 5 سالوں میں بلدیاتی الیکشن کرا کے  نہ دئیے ۔۔۔: کیا یہ آمرانہ عمل نہیں ہے ؟؟ کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟؟ کیا یہ جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ دھوکہ نہیں ہے ؟؟؟
  بالآخر صوبائی حکومتوں  کی پینترے بازیوں  کو دیکھتے ہوئے، سپریم کو کہنا پڑا ہے کہ " حکومت بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دے ورنہ ہم دیں گے"۔۔جمہوریت کی دعویدار حکومتوں کیلئے : یہ شرم کی بات نہیں ہے؟؟؟
اب بھی کوشش یہ کی جارہی ہے کہ ٹال مٹول سے کام لیکر اتنا وقت گُذارا جائے کہ چیف جسٹس صاحب ریٹائرد ہوجائیں۔۔۔ یا پھر بلدیاتی نظام  میں  قومی مفاد کے نام پر اپنے مفاد کی ایسی ترمیمات  شامل کی جائیں  کہ بلدیاتی نظام کا چہرہ مسخ ہوکر رہ جائے۔۔۔
خواص کی اسمبلیاں ہیں خواص مفاد قانون سازی کریں گی ۔۔۔۔عوام کا کیا ہے سابقہ 5 سالوں کی طرح آئندہ 5 سالوں کیلئے بھی بے بس رہیں گے ۔۔۔
اگرعمران خان کی  "پی ٹی آئی "حقیقی عوامی بلدیاتی نظام رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقیناً اِسکا کچھ نہ کچھ اثر دوسروں پر بھی پڑے گا کیونکہ:  یہ قدرت کا قانون ہے۔۔ 
    نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


     

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...