Wednesday, July 24, 2013

" یہ آنسو میرے دل کی زبان ہے "

 منجانب فکرستان:بابر اعوان کے آنسو: کالم: زعمِ تقویٰ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ناچنے،گانے، بجانے والوں کو مذہبی لوگ اچّھی نظر سے نہیں دیکھتے۔۔عارف لوہار پی ٹی وی پروگرام میں مہمان تھے ، میزبان خورشید ندیم نے وقفہ ہونے پر غیر رسمی گفتگو میں عارف سے ادائیگی عمرے کی کیفیت پوچھی  تو عارف لوہار کے آنکھوں سے بے اختیار آنسوجاری ہوگئے الفاظ اِتنے رُوند گئے کہ ادائیگی مشکل ہوگئی۔ اِن آنسوؤں   سے پیدا ہونے والے احساسات کو میزبان نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ:
 میں مذہبی لوگوں میں پلا بڑھا ہوں، مجھ سمیت کتنے اہل مذ ہب ہیں جنہیں یہ کیفیت نصیب ہوتی ہے ؟؟
ہم جو خود کو مذہبی کہتے ہیں اور دوسرے کے کفروایمان کا فیصلہ کرتے ہیں ،بعض طبقات کے بارے میں بزعمِ خویش یہ طے کر رکھا ہے کہ دین اور آخرت سے انکا کوئی واسطہ نہیں، آخرت تو ہمارے لیے ہے جو دین کے علمبردار بن کر جیتے ہیں۔دین کا بھرم تو ہم سے ہے ۔ہم نہ رہے تو اِس زمین میں  کون ہے جو اُسکا نام لیوا ہوگا ۔ لیکن عارف لوہار کے آنسو تو ایک دوسری کہانی سُنا رہے تھے ۔۔۔انسانوں کے ظاہر کیا معلوم کہ اُن کے باطن  سے کتنے مختلف ہیں ۔۔
عارف لوہار کے آنسوؤں کا پیغام یہی ہے، جو چار دن سے میرے دل پر ٹپک رہے ہیں ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 عمرے کے ایک سفر میں خورشید ندیم کے ساتھ بابر اعوان بھی اُنکے ہمسفر تھے وہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ:
 حجرہ عائشہ  کے سامنے کھڑے ہوکر بابراعوان نے دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے تو آنسو الفاظ پر سبقت لے گئے ،اور بلک بلک کے رونے لگے ۔۔۔مزید لکھتے ہیں کہ:
ہم اپنی دانست میں افراد کے بارے میں ایک فیصلہ صادر کرتے ہیں، یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہم اپنی نیکی اور تقویٰ کے باعث عدالت کی کرسی پر برجمان ہیں،جہاں سے دوسروں کے ایمان اور اُخروی انجام کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ رویہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنی ذات سے بے خبر زعمِ تقویٰ کے مرض کا شکار ہوجاتے ہیں ۔۔۔ہمیں کیا معلوم جسے ہم بہ زعمِ خویش راندہء درگاہ سمجھ بیٹھے ہوں وہ اپنے آنسوؤں کی بدولت پار ہوجائے اور ہمارا زعم ہمیں لے ڈوبے ۔۔۔
درج ذیل لنک کالم میں عارف لوہار کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔۔۔
درج ذیل لنک کالم میں ذوالفقار علی بھٹو اور بابراعوان کا تذکرہ  پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے

 نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔   
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, July 22, 2013

بھائیو: بحث کیوں کر رہے ہو؟؟

منجانب فکرستان: ساتھی ؛ دشمن؛ مذہبی جہات  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 کُچھ لوگوں کا انداز فکر سائنسی  کٹر پن کا حامل ہے، تو کُچھ لوگ مذہبی کٹر پن میں مبتلا ہیں، دونوں ایک دوسرے کے اندازِِ فکر کو باطل قرار دیتے ہیں، جبکہ انسانوں کا  تیسرا  گروہ کہتا ہے بھائیو: بحث کیوں  کر رہے ہو ؟ تم دونوں ایک ہی بات کہہ رہے ہو، فرق صرف کہنے کے اندازکا ہے۔۔۔
The da vinci codeاور Inferno بیسٹ سیلر کتابوں  کے مصنف "ڈین براؤن"  کا تعلق اِسی تیسرے گروہ سے ہے اُن کے خیالات کُچھ اسطرح کے ہیں۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اپنی کتابوں میں ڈین براؤن نے جس  (نئے) انداز سے مسیحیت کو پیش کیا ہے۔۔۔ اُس پر ویٹی کن کے نمائندے اُن سے کافی ناراض ہیں۔ خود براؤن ہرگز نہیں سمجھتے کہ مذہب اور سائنس کے درمیان کوئی تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جتنا زیادہ اُنھوں نے الجبرا یا طبیعیات پر غور کیا ہے، اتنا زیادہ اُن پر مذہبی جہات کے دَر وَا ہوتے چلے گئے ہیں۔۔
وہ کہتے ہیں ’’ آج کل اُنھیں اس بات کا یقین ہے کہ سائنس اور مذہب در حقیقت دو مختلف زبانیں ہیں، جو ایک ہی کہانی بیان کرتی ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، دشمن نہیں‘‘۔
 ڈین براؤن 1964ء میں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد الجبرا کے پروفیسر تھے جب کہ والدہ موسیقار تھیں۔ ہنگامہ خیز ناولوں سے شہرت پانے سے پہلے اُنھوں نے انگریزی زبان کے اُستاد کے طور پر کام کیا۔ اپنے سنسنی خیزی، سائنسی اور تاریخی موضوعات اور سازشی نظریات سے عبارت ناولوں کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں گزشتہ چند عشروں کے کامیاب ترین ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔ 
 ڈین براؤن کے بارے میں درج بالا حقائق ذیل لنک سے حاصل کئے ہیں مزیدتفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔۔۔
http://www.dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-07-17/4943#.UeYbY9Jge5w
    نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Saturday, July 20, 2013

استثنیٰ ؟؟

 منجانب فکرستان: خواص؛ قُرآن و سُنت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سابقہ پوسٹ "کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے؟؟؟" میں لکھا تھا کہ خواص کی اسمبلیاں ہیں خواص مفاد قانون سازی کرتی ہیں۔۔ جیسے آجکل یوسف رضا گیلانی خواص کیلئے بنے قانون کا حوالہ دیکر کہہ رہے ہیں، مجھے کوئی گرفتار نہیں  کر سکتا ہے؟؟مجھے پارلیمنٹ سے استثنیٰ حاصل ہے۔۔ مزید کہہ رہے ہیں کہ: مجھے گرفتار کرنا آئین اور پارلیمنٹ کی تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔۔۔       
آئین کے بارے میں میری معلومات اخبارات میں پڑھی باتوں تک محدود ہے ۔۔۔کہا جاتا ہے کہ آئین میں کوئی بات ایسی نہیں ہوسکتی ہے، جو قُرآن اور سُنت سے متصادم ہو پھر یہ استثنیٰ کا قانون کیا قُرآن و سُنت کے مُطابق ہے یا متصادم ہے ؟؟؟
  نوٹ: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Friday, July 19, 2013

یہ شرم کی بات نہیں ہے ؟؟؟

 منجانب فکرستان:: خود ساختہ: بالآخر: عمران خان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جمہوریت جمہوریت الاپنے والے جمہوریت کی روح  بلدیاتی انتخابات کا سالوں سے  گلا دبائے بیٹھے ہیں کہ:ہمارے اختیارات میں کمی ہوجائیگی، خدشہ یہ بھی ہے کہ: مبادا جمہوریت کی اِس نرسری سے اپنی  کارکردگی کی بنیاد پر کچھ نئے چہرے اسمبلیوں میں نہ پہنچ جائیں، جس سے سدا  کیلئے ہم ہی  خادمِ پنجاب ہم ہی قائمِ سندھ رہنے کا خواب نہ بکھر جائے۔۔۔
 سابقہ پانچ سالوں میں عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کے خودساختہ بے وزن حیلے بہانے گھڑ تے رہے ،اور اب بھی آنا کانی کر رہے ہیں کہ حلقہ بندیوں کا سیٹ اپ تیار نہیں ہے ۔۔سوچنے کی بات یہ کہ پانچ سال تک اِنکی حکومت رہی ہے،اس دوران عوام کو دلاسے دیتے  رہے کہ  ہم جلد بلدیاتی انتخابات کرا رہے ہیں!!! لیکن 5 سالوں میں بلدیاتی الیکشن کرا کے  نہ دئیے ۔۔۔: کیا یہ آمرانہ عمل نہیں ہے ؟؟ کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟؟ کیا یہ جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ دھوکہ نہیں ہے ؟؟؟
  بالآخر صوبائی حکومتوں  کی پینترے بازیوں  کو دیکھتے ہوئے، سپریم کو کہنا پڑا ہے کہ " حکومت بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دے ورنہ ہم دیں گے"۔۔جمہوریت کی دعویدار حکومتوں کیلئے : یہ شرم کی بات نہیں ہے؟؟؟
اب بھی کوشش یہ کی جارہی ہے کہ ٹال مٹول سے کام لیکر اتنا وقت گُذارا جائے کہ چیف جسٹس صاحب ریٹائرد ہوجائیں۔۔۔ یا پھر بلدیاتی نظام  میں  قومی مفاد کے نام پر اپنے مفاد کی ایسی ترمیمات  شامل کی جائیں  کہ بلدیاتی نظام کا چہرہ مسخ ہوکر رہ جائے۔۔۔
خواص کی اسمبلیاں ہیں خواص مفاد قانون سازی کریں گی ۔۔۔۔عوام کا کیا ہے سابقہ 5 سالوں کی طرح آئندہ 5 سالوں کیلئے بھی بے بس رہیں گے ۔۔۔
اگرعمران خان کی  "پی ٹی آئی "حقیقی عوامی بلدیاتی نظام رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقیناً اِسکا کچھ نہ کچھ اثر دوسروں پر بھی پڑے گا کیونکہ:  یہ قدرت کا قانون ہے۔۔ 
    نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


     

Monday, July 15, 2013

ایسا کیوں ہے ؟؟؟

منجانب فکرستان:: خودکشی : قومی : مذہبی : اضطراب 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
افغانستان میں 2012 کے دوران خودکشی کرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد طالبان سے لڑائی میں مرنے والے فوجیوں سے زیادہ ہے (بی بی سی)۔۔۔
جبکہ اِسی جنگ کے دوسرے فریق طالبان میں خود کشی کا ایسا رحجان نہیں پایا جا تا ہے۔۔ ممکن ہے میری طرح آپکے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہُوا ہو کہ ایسا کیوں  ہے؟۔۔ 
جس طرح رب نے آنکھ کو دیکھنے کی، کان کو سُنے کی،زبان کو ذائقہ محسوس کرنے کی فطرت عطا کی ہے اِسی طرح انسانی عقل کو یہ فطرت عطا کی ہے کہ وہ عقل سے دلیل مانگتی رہتی ہے اور پوچھتی رہتی ہے۔۔ایسا کیوں ہے ؟؟ عقلی فطرت کے اسی سوال ایسا کیوں ہے ؟ انسان کی ساری ترقی ایساکیوں ہے؟؟ کے سوال پر مشتمل ہے۔۔ 
اِس تمہید کی روشنی میں میری رائے یہ ہے کہ دلیل کی طالب عقل کو طالبان نے مذہبی اور غاصبانہ جارحیت کی دلیل فراہم کی ہوئی ہے ۔۔ اُنہوں نے عقل کو بتا دیا ہے کہ وہ نان مسلم سے آزادی کیلئے جہاد کر رہے ہیں، گویا قومی اور مذہبی جواز۔۔ یہ دونوں جواز انسانی عقل کیلئے نہایت طاقتور دلائل ہیں۔۔۔
 یوں طالبان کیلئے یہ جنگ بِلا وجہ کی جنگ نہیں کہلاتی ہے، دلیل پر مبنی جنگ کی وجہ سے طالبان کو عقلی، اخلاقی اور جذباتی سپورٹ حاصل ہے، یوں اِنکی عقل اضطراب میں مبتلا نہیں ہوتی ہے۔۔ اسلئیے خودکشی کا رحجان بھی اِن میں نہیں پایا جاتا ہے ۔۔
  جبکہ برطانوی فوج کیلئے یہ جنگ بِلا وجہ کی جنگ ہے۔۔یوں برطانوی فوج کو اِس جنگ میں عقلی، اخلاقی اور جذباتی سپورٹ حاصل نہیں ہے ۔۔اِن فوجیوں کو جنگ میں جھونکنے والوں نے جو خودساختہ جواز تراشے ہیں وہ اتنے کمزور ہیں کہ عقل کو مطمئین نہیں کرتے ہیں یوں اِن فوجیوں کی عقل اضطراب میں مبتلا ہوکر ڈس آرڈر والی سطح پر آجاتی ہے۔۔ جو بالآخر  خودکشی کا باعث بنتی ہے۔۔ 
    مزید یہ کہ جن ملکوں میں مذہب کی گرفت مظبوط ہے وہاں معاشی بدحالی کے باوجود خودکشیوں کی تعداد کم ہے۔۔ اور جن ملکوں میں مذہب کی گرفت ڈھیلی پر گئی ہے، وہاں معاشی بدحالی نہ ہونے کے باوجود خودکشیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔۔ایسا کیوں ہے ؟؟؟۔۔
ایسا اِسلئیے ہے کہ مذاہب زندگی کو معنی دیتے ہیں یعنی زندگی کو عقلی جواز فراہم کرتے ہیں، مذاہب کے پیروکار مذہب کے فراہم کردہ دلائل کو قبول کرتے ہیں جس سے اُنکی  زندگی کو مقصد مل جاتا ہے ۔۔جبکہ لامذہب کو زندگی بے مقصد لگتی ہے، اُسکو زندگی میں معنی نہیں ملتے ہیں( جسطرح برطانوی فوجیوں کو افغان جنگ کے معنی نہیں ملتے ہیں) یوں اُسکی عقل اضطراب میں مبتلا رہتی ہے،  بعض کو یہ اضطراب خودکشی کی جانب راغب کرتا ہے ۔۔یہی وجہ ہے کہ لا مذہب لوگ زیادہ خودکشیاں کرتے ہیں ۔۔۔ 
  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, July 8, 2013

" جواز زندگی "

 منجانب فکرستان:: عقل: دلائل: لینن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی عقل میں رب نے ایسی فطرت رکھی ہوئی ہے کہ بغیر دلیل (جواز) وہ کسی بات کو قبول نہیں کرتی ہے، عقلی فطرت  کی  اِس طلب کو عقل ہی پورا کرتی رہتی ہے۔ لیکن کائنات میں بُہت سی باتیں ایسی  ہیں جس کا احاطہ عقل نہیں کرسکتی ہے۔۔ لیکن عقلی فطرت اُن کیلئے بھی دلیل مانگتی ہے ۔۔۔
چاہے وہ کائنات کی تخلیق ہو کہ انسان کی پیدائش یا موت یا پھر زندگی میں معنی تلاش کرنا اِن جیسی دیگر کئی باتوں کو  مذاہب قابلِ فہم دلائل فراہم کرتے ہیں ۔۔انسانوں کی ایک بڑی تعداد کی عقلی فطرت مذاہب کے فراہم کردہ اِن دلائل کو  قبول کرتی ہے ۔۔اور اِن پر پکا یقین رکھتی ہے،  پکے یقین سے ہی  انہیں اطمینانِ  ِقلب حاصل ہوتا ہے۔۔ اوراطمینان قلب اِس لیے حاصل ہوتا ہے کہ دلائل کی طالب عقلی فطرت کو دلائل مل جاتے ہیں ۔ یوں بے معنی  زندگی کو  معنی مل جاتے ہیں۔۔
 اور جن  لوگوں کی عقلی فطرت مذاہب کے فراہم کردہ  دلائل سے مطمئن نہیں ہوتی ہے، اُنہیں زندگی کے معنی بھی نہیں ملتے ہیں۔ اُنکی عقلی فطرت  بھٹکتی  رہتی ہے۔۔ علامہ اقبال نے تذبزب کی اِس کیفیت کو ( لینن کے حوالے سے ) ِاس شعر میں ڈھالا ہے۔۔
میں  کیسے سمجھتا   کہ تو  ہے  یا  کہ نہیں ہے 
ہر   دم   متغیر   تھے   خرد     کے    نظریات
نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Wednesday, July 3, 2013

ڈاکومنٹری چینل اور خُدا کا شُکریہ

منجانب فکرستان:  گینڈا: شیر: کہانی نہیں حقیقت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈاکومنِٹری چینل پر دیکھا کہ گینڈے کے جسم کے ایک حصے پر خراشیں آئی ہوئی ہیں، جن سے خون رِس رہا ہے ،رِستا خون مکھیوں کیلئے گویا دعوت تھی۔۔ مکھیاں جسم پر بیٹھ کر خون پیتیں۔گینڈا جسم تھرتھراکر اُنہیں بھگاتا۔۔ کُچھ اُڑجاتیں کُچھ ڈھیٹ بیٹھی رہتیں ،جو اُڑتیں، دوبارہ خون پینے آ بیٹھتیں۔۔ غرض کہ گینڈا پریشانی میں جسم  کو تھرتھراتے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگتا ہے ،لیکن مکھیاں اُسے چین لینے نہیں دیتیں ، آخرِکار گینڈا بے چین ہو کر  رِستے  خون کی جانب اپنے آپ کو زمین پر گرا لیتا ہے یوں مکھیوں سے نجات پاتا ہے ،مگر کب تک؟؟؟
یہ کہانی نہیں حقیقت کہ  ڈاکومنٹری فلم بنانے والوں نے دیکھا کہ ایک دبلا پتلا شیر مرا پڑا ہے۔۔ قریب جانے  اور کھوج لگانے پر معلوم ہُوا کہ  کچھ ہی دیر پہلے مرا ہے ۔۔مرنے کی وجہ  پیر میں کانٹا   چُبھا  ھُوا ہے۔۔ لیکن جنگل کا بادشاہ کانٹا نکالنے سے لاچار رہا۔۔ اُسکے ساتھی بھی اُسکی کوئی مدد نہ کر سکے ۔۔ وہ بھوکا پیاسا  پڑے پڑے مر گیا۔۔
گینڈا زخموں کی مرہم پٹی نہیں کرسکتا ہے۔۔۔شیر پاؤں میں چُبھا کانٹا نہیں نکال سکتا ہے ۔۔۔۔۔
 میرے خالق۔۔  میرے مالک۔۔  میرے پرور دِگار   بے انتہا شُکریہ کہ  مجھے انسان بنایا ۔۔۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...