Friday, July 19, 2013

یہ شرم کی بات نہیں ہے ؟؟؟

 منجانب فکرستان:: خود ساختہ: بالآخر: عمران خان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جمہوریت جمہوریت الاپنے والے جمہوریت کی روح  بلدیاتی انتخابات کا سالوں سے  گلا دبائے بیٹھے ہیں کہ:ہمارے اختیارات میں کمی ہوجائیگی، خدشہ یہ بھی ہے کہ: مبادا جمہوریت کی اِس نرسری سے اپنی  کارکردگی کی بنیاد پر کچھ نئے چہرے اسمبلیوں میں نہ پہنچ جائیں، جس سے سدا  کیلئے ہم ہی  خادمِ پنجاب ہم ہی قائمِ سندھ رہنے کا خواب نہ بکھر جائے۔۔۔
 سابقہ پانچ سالوں میں عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کے خودساختہ بے وزن حیلے بہانے گھڑ تے رہے ،اور اب بھی آنا کانی کر رہے ہیں کہ حلقہ بندیوں کا سیٹ اپ تیار نہیں ہے ۔۔سوچنے کی بات یہ کہ پانچ سال تک اِنکی حکومت رہی ہے،اس دوران عوام کو دلاسے دیتے  رہے کہ  ہم جلد بلدیاتی انتخابات کرا رہے ہیں!!! لیکن 5 سالوں میں بلدیاتی الیکشن کرا کے  نہ دئیے ۔۔۔: کیا یہ آمرانہ عمل نہیں ہے ؟؟ کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟؟ کیا یہ جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ دھوکہ نہیں ہے ؟؟؟
  بالآخر صوبائی حکومتوں  کی پینترے بازیوں  کو دیکھتے ہوئے، سپریم کو کہنا پڑا ہے کہ " حکومت بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دے ورنہ ہم دیں گے"۔۔جمہوریت کی دعویدار حکومتوں کیلئے : یہ شرم کی بات نہیں ہے؟؟؟
اب بھی کوشش یہ کی جارہی ہے کہ ٹال مٹول سے کام لیکر اتنا وقت گُذارا جائے کہ چیف جسٹس صاحب ریٹائرد ہوجائیں۔۔۔ یا پھر بلدیاتی نظام  میں  قومی مفاد کے نام پر اپنے مفاد کی ایسی ترمیمات  شامل کی جائیں  کہ بلدیاتی نظام کا چہرہ مسخ ہوکر رہ جائے۔۔۔
خواص کی اسمبلیاں ہیں خواص مفاد قانون سازی کریں گی ۔۔۔۔عوام کا کیا ہے سابقہ 5 سالوں کی طرح آئندہ 5 سالوں کیلئے بھی بے بس رہیں گے ۔۔۔
اگرعمران خان کی  "پی ٹی آئی "حقیقی عوامی بلدیاتی نظام رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقیناً اِسکا کچھ نہ کچھ اثر دوسروں پر بھی پڑے گا کیونکہ:  یہ قدرت کا قانون ہے۔۔ 
    نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


     

Monday, July 15, 2013

ایسا کیوں ہے ؟؟؟

منجانب فکرستان:: خودکشی : قومی : مذہبی : اضطراب 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
افغانستان میں 2012 کے دوران خودکشی کرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد طالبان سے لڑائی میں مرنے والے فوجیوں سے زیادہ ہے (بی بی سی)۔۔۔
جبکہ اِسی جنگ کے دوسرے فریق طالبان میں خود کشی کا ایسا رحجان نہیں پایا جا تا ہے۔۔ ممکن ہے میری طرح آپکے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہُوا ہو کہ ایسا کیوں  ہے؟۔۔ 
جس طرح رب نے آنکھ کو دیکھنے کی، کان کو سُنے کی،زبان کو ذائقہ محسوس کرنے کی فطرت عطا کی ہے اِسی طرح انسانی عقل کو یہ فطرت عطا کی ہے کہ وہ عقل سے دلیل مانگتی رہتی ہے اور پوچھتی رہتی ہے۔۔ایسا کیوں ہے ؟؟ عقلی فطرت کے اسی سوال ایسا کیوں ہے ؟ انسان کی ساری ترقی ایساکیوں ہے؟؟ کے سوال پر مشتمل ہے۔۔ 
اِس تمہید کی روشنی میں میری رائے یہ ہے کہ دلیل کی طالب عقل کو طالبان نے مذہبی اور غاصبانہ جارحیت کی دلیل فراہم کی ہوئی ہے ۔۔ اُنہوں نے عقل کو بتا دیا ہے کہ وہ نان مسلم سے آزادی کیلئے جہاد کر رہے ہیں، گویا قومی اور مذہبی جواز۔۔ یہ دونوں جواز انسانی عقل کیلئے نہایت طاقتور دلائل ہیں۔۔۔
 یوں طالبان کیلئے یہ جنگ بِلا وجہ کی جنگ نہیں کہلاتی ہے، دلیل پر مبنی جنگ کی وجہ سے طالبان کو عقلی، اخلاقی اور جذباتی سپورٹ حاصل ہے، یوں اِنکی عقل اضطراب میں مبتلا نہیں ہوتی ہے۔۔ اسلئیے خودکشی کا رحجان بھی اِن میں نہیں پایا جاتا ہے ۔۔
  جبکہ برطانوی فوج کیلئے یہ جنگ بِلا وجہ کی جنگ ہے۔۔یوں برطانوی فوج کو اِس جنگ میں عقلی، اخلاقی اور جذباتی سپورٹ حاصل نہیں ہے ۔۔اِن فوجیوں کو جنگ میں جھونکنے والوں نے جو خودساختہ جواز تراشے ہیں وہ اتنے کمزور ہیں کہ عقل کو مطمئین نہیں کرتے ہیں یوں اِن فوجیوں کی عقل اضطراب میں مبتلا ہوکر ڈس آرڈر والی سطح پر آجاتی ہے۔۔ جو بالآخر  خودکشی کا باعث بنتی ہے۔۔ 
    مزید یہ کہ جن ملکوں میں مذہب کی گرفت مظبوط ہے وہاں معاشی بدحالی کے باوجود خودکشیوں کی تعداد کم ہے۔۔ اور جن ملکوں میں مذہب کی گرفت ڈھیلی پر گئی ہے، وہاں معاشی بدحالی نہ ہونے کے باوجود خودکشیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔۔ایسا کیوں ہے ؟؟؟۔۔
ایسا اِسلئیے ہے کہ مذاہب زندگی کو معنی دیتے ہیں یعنی زندگی کو عقلی جواز فراہم کرتے ہیں، مذاہب کے پیروکار مذہب کے فراہم کردہ دلائل کو قبول کرتے ہیں جس سے اُنکی  زندگی کو مقصد مل جاتا ہے ۔۔جبکہ لامذہب کو زندگی بے مقصد لگتی ہے، اُسکو زندگی میں معنی نہیں ملتے ہیں( جسطرح برطانوی فوجیوں کو افغان جنگ کے معنی نہیں ملتے ہیں) یوں اُسکی عقل اضطراب میں مبتلا رہتی ہے،  بعض کو یہ اضطراب خودکشی کی جانب راغب کرتا ہے ۔۔یہی وجہ ہے کہ لا مذہب لوگ زیادہ خودکشیاں کرتے ہیں ۔۔۔ 
  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, July 8, 2013

" جواز زندگی "

 منجانب فکرستان:: عقل: دلائل: لینن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی عقل میں رب نے ایسی فطرت رکھی ہوئی ہے کہ بغیر دلیل (جواز) وہ کسی بات کو قبول نہیں کرتی ہے، عقلی فطرت  کی  اِس طلب کو عقل ہی پورا کرتی رہتی ہے۔ لیکن کائنات میں بُہت سی باتیں ایسی  ہیں جس کا احاطہ عقل نہیں کرسکتی ہے۔۔ لیکن عقلی فطرت اُن کیلئے بھی دلیل مانگتی ہے ۔۔۔
چاہے وہ کائنات کی تخلیق ہو کہ انسان کی پیدائش یا موت یا پھر زندگی میں معنی تلاش کرنا اِن جیسی دیگر کئی باتوں کو  مذاہب قابلِ فہم دلائل فراہم کرتے ہیں ۔۔انسانوں کی ایک بڑی تعداد کی عقلی فطرت مذاہب کے فراہم کردہ اِن دلائل کو  قبول کرتی ہے ۔۔اور اِن پر پکا یقین رکھتی ہے،  پکے یقین سے ہی  انہیں اطمینانِ  ِقلب حاصل ہوتا ہے۔۔ اوراطمینان قلب اِس لیے حاصل ہوتا ہے کہ دلائل کی طالب عقلی فطرت کو دلائل مل جاتے ہیں ۔ یوں بے معنی  زندگی کو  معنی مل جاتے ہیں۔۔
 اور جن  لوگوں کی عقلی فطرت مذاہب کے فراہم کردہ  دلائل سے مطمئن نہیں ہوتی ہے، اُنہیں زندگی کے معنی بھی نہیں ملتے ہیں۔ اُنکی عقلی فطرت  بھٹکتی  رہتی ہے۔۔ علامہ اقبال نے تذبزب کی اِس کیفیت کو ( لینن کے حوالے سے ) ِاس شعر میں ڈھالا ہے۔۔
میں  کیسے سمجھتا   کہ تو  ہے  یا  کہ نہیں ہے 
ہر   دم   متغیر   تھے   خرد     کے    نظریات
نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
    { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Wednesday, July 3, 2013

ڈاکومنٹری چینل اور خُدا کا شُکریہ

منجانب فکرستان:  گینڈا: شیر: کہانی نہیں حقیقت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈاکومنِٹری چینل پر دیکھا کہ گینڈے کے جسم کے ایک حصے پر خراشیں آئی ہوئی ہیں، جن سے خون رِس رہا ہے ،رِستا خون مکھیوں کیلئے گویا دعوت تھی۔۔ مکھیاں جسم پر بیٹھ کر خون پیتیں۔گینڈا جسم تھرتھراکر اُنہیں بھگاتا۔۔ کُچھ اُڑجاتیں کُچھ ڈھیٹ بیٹھی رہتیں ،جو اُڑتیں، دوبارہ خون پینے آ بیٹھتیں۔۔ غرض کہ گینڈا پریشانی میں جسم  کو تھرتھراتے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگتا ہے ،لیکن مکھیاں اُسے چین لینے نہیں دیتیں ، آخرِکار گینڈا بے چین ہو کر  رِستے  خون کی جانب اپنے آپ کو زمین پر گرا لیتا ہے یوں مکھیوں سے نجات پاتا ہے ،مگر کب تک؟؟؟
یہ کہانی نہیں حقیقت کہ  ڈاکومنٹری فلم بنانے والوں نے دیکھا کہ ایک دبلا پتلا شیر مرا پڑا ہے۔۔ قریب جانے  اور کھوج لگانے پر معلوم ہُوا کہ  کچھ ہی دیر پہلے مرا ہے ۔۔مرنے کی وجہ  پیر میں کانٹا   چُبھا  ھُوا ہے۔۔ لیکن جنگل کا بادشاہ کانٹا نکالنے سے لاچار رہا۔۔ اُسکے ساتھی بھی اُسکی کوئی مدد نہ کر سکے ۔۔ وہ بھوکا پیاسا  پڑے پڑے مر گیا۔۔
گینڈا زخموں کی مرہم پٹی نہیں کرسکتا ہے۔۔۔شیر پاؤں میں چُبھا کانٹا نہیں نکال سکتا ہے ۔۔۔۔۔
 میرے خالق۔۔  میرے مالک۔۔  میرے پرور دِگار   بے انتہا شُکریہ کہ  مجھے انسان بنایا ۔۔۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, July 1, 2013

" ویاگرا کے اثرات "

 منجانب فکرستان:: کلدیپ نیر: FDA : نابیناپن : وارننگ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جماعت اسلامی فحاشی کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی ہے، جسے کُچھ لوگ سیاست کے  کی نظر سے دیکھتے ہیں۔۔ تاہم کشور ناہید کا اپنے کالم (جنگ) میں فحاشی پر تشویش کا اظہار کرنا معنی خیز  بات ہے گویا، پانی سر سے اُونچا ہورہا ہے۔۔
 انسانوں میں سرایت کرتی ایک اور بے حسی اور بے شرمی کی جانب  اشارہ جناب کلدیپ نیر نے اپنے کالم میں  بھارت  کے اُترا کھنڈ میں آئے سیلاب  کو حوالہ  بناکر   کیا ہے کہ 
 "زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ملک کے کسی بھی حصے میں ہونے والی تباہی پر پورے ملک سے ردعمل آتا تھا۔ لوگ گھر گھر جا کر پیسے‘ کپڑے‘ برتن اور روز مرہ کے استعمال کی بہت سی چیزیں اکٹھی کر کے مختلف تنظیموں کو دیتے تھے جو متاثرین کی بحالی کے کام میں مصروف ہوتی تھیں۔ لیکن  گزشتہ چند برسوں میں یہ رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔
 یعنی اب جذبے اور احساس کی وہ فراوانی دکھائی نہیں دیتی جو کہ ایک زمانے میں محسوس ہوا کرتی تھی" مزید تفصیل   کے خواہش مند لنک پر جائیں

کہتے ہیں کہ "رب جب دینے پر آتا ہے  تو  چھپر  پھاڑ  کر  دیتا  ہے " حقیقتاً  یہ  جملہ  فائزر  کمپنی  پر  فٹ  بیٹھتا ہے۔۔۔۔۔۔ ویا گرا  ( سیلڈنفل سائٹریٹ)  اِس  کمپنی  کیلئے  ایک  ایسا  ہی  پارس پتھر  ثابت  ہُوا  ہے  جس  نے  چھپر پھاڑ کر دینے کی  بات  کو  پورا  کیا۔۔۔
اندازہ  اِس  بات  سے  لگا یا  جا سکتا  ہے  کہ فائزر  کی  اجارہ داری  (پیٹنٹ)  کے  ختم  ہونے  پر  اِس  گولی  کی  قیمت  10 پونڈ  فی  گولی  سے  کم  ہو کر  ایک  پونڈ  سے  بھی  کم  رہ  جائے  گی ۔۔۔
   فائرز  نے  یہ   کیمیائی  مرکب  ہائی بلڈ پریشر  مریضوں  کے  علاج   کیلئے  تیار  کیا  تھا۔۔۔  لیکن  تجرباتی  مراحل میں ہی  سیلڈ نفل  نے اپنے میں موجود  اثر  کو  گرتے  سیب  کی  طرح  چُھپے  راز  سے  پردہ  اُٹھا  دیا  وہ یہ  کہ  حقِ زوجیت  ناکارہ  مریضوں   کیلئے  رب نے  اِس  میں  شفا  رکھی  ہے۔۔
اس  انکشاف  نے  ویاگرا کو  فائزر  کیلئے  پارس پتھر  اس لیے بنادیا  کہ ویاگرا کا  استعمال  مریض  سے  کہیں  زیادہ  دُنیا بھر کے عیاش  لوگ استعمال کر تے ہیں ۔۔۔
 تاہم عیاش  لوگوں  کو متنبع  کرنے  کیلئے   سیلڈنفل مرکب اپنا  ایک  اور   اثر  دکھانے  لگا  ہے  جسکی  تحقیق  ہورہی  ہے وہ یہ ہے کہ۔۔
"امریکہ میں صحت عامہ سے متعلق حکام دوا ویاگرا استعمال کرنے والے چند افراد میں نابینا پن کے مختلف درجات پائے جانے کی خبروں کا معائنہ کر رہے ہیں۔دی فوڈ اینڈ ڈرگ اڈمنسٹریشن نے نابینا پن کے ایسے پچاس کیسوں کا پتہ چلایا ہے ۔۔۔ کمپنی فائزر کا کہنا ہے کہ وہ دوا کے لیبل پر درج وارننگ کو تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ " مزید  تفصیل   کے خواہش مند لِنک پر "
نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔

Wednesday, June 26, 2013

" بُرجوں کے جھگڑے "

  منجانب فکرستان::ایٹم: خلائے مکانیحضرت موسیٰ ؑ: فلسفہ: سائنس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جناب  رؤف کلاسرا  کا  بُرجوں  پر  اعتماد بھرا  کالم  پڑھا۔۔ پڑھنے  کے بعد  مجھے  نیو یا رک میں  یوگا  کے  نام   پر  لگا  میلہ سمجھ  میں  آنے  لگا۔۔ مجھے فرانس میوزیکل فیسٹیول 2013   میں  شیطانی  شکلوں  کا  روپ  دھارے،  عجیب   بے آہنگ آوازیں نکالنے  کو گانے  کا نام دینا بھی  سمجھ میں آنے  لگا ۔۔ اِن  گانوں پر چیخ پکار   کرتی  اوڈین بھی سمجھ  آنے لگی ، مجھے  اخباری  اطلاع  کے  مُطابق صدر زرداری  کا  پِیر  کے  کہنے  پر کراچی  میں  رہنا  بھی سمجھ  میں آنے  لگا، غرض کہ اسی  سے ملتی جلتی بُہت سی باتیں سمجھ میں آنے لگیں وہ یوں  کہ جسکی فکر کو جو کُلیہ (نظریہ)    بھا گیا  وہی  پکا   سچ ہے۔ ۔۔دُنیا بھر میں کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ  بھی  اِن برجوں پر اعتقاد رکھتے ہیں۔۔
رؤف کلاسرا میرے پسندیدہ کالم نگاروں میں سے ایک ہیں اسکی  بڑی وجہ ،یہ  ہے کہ یہ  باضمیربے باک اور نڈر کالم نگار ہیں ۔ لیکن پسند کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں  کہ میں انکے ہر خیال سے اتفاق  بھی کروں ۔۔۔
ہوتا  یہ  ہے  کہ  جسکی  فکر  میں  جو  کلیہ (نظریہ) سما جاتا  ہے  اُسی  سے  وہ  پوری کائنات  کو  ہانکنے  لگتا  ہے جیسے  طالیس  نے  پانی  کو  کائنات  کی  اصل  ٹہرایا ، اناکسی منیس  نے  ہَوا  کو،  ہیریقلیس  نے آگ، تبدیلی، اور ضدین  کو (ہیگل کی جدلیات)  ایمپے دکلیس نے آگ، ہوا، پانی اور مٹی کو  جبکہ دیما قریطس کہتا ہے تم سب لوگ بھاڑ میں جاؤ  کائنات مادی ہے اور اسکی صرف دو حقیقتیں ہیں ایک ایٹم  دوسری خلائے مکانی اور تمام عالمِ مظاہر میں اندھے میکانیکی قوانین کا تصرف ہے ۔ ۔ 
  اسطرح فلاسفروں نے کائنات کو ایٹم اور خلائے مکانی تک پہنچادیا ۔۔۔ دیکھا آپنے ہر فلاسفر نے اپنی اپنی فکر کے کلیے (نظریے) کے تحت اِس کائنات کو چلایا ( یعنی تشریح کی)  ۔۔۔پھر سائنس نے اِن اندھے قوانین کو  کھوجنے کی ذمہ داری اپنے سر لی۔۔۔
 نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کے زریعے کائنات کی تشریح ہونے لگی ایسے میں آئین اسٹائین نئے نظریے لیکر آگئے ۔۔ابھی اِن نظریوں  کے زریعے کائنات کی تشریح ہوہی رہی تھی کہ ایسے میں میکس پلانک صاحب نظریہ" کوانٹم"( QUANTUM) لیکر پہنچ گئے جس  نے تمام  نظریوں کو یوں نِگل لیا  جیسے موسیٰ  کا  عصا سانپوں کو،  اب سائنس میں کچھ نہیں بچا ۔۔۔
 اب سائنس میں صرف  اللہ ہی  اللہ ہے ۔۔اللہ کےسوا کُچھ بھی نہیں۔۔۔
ایسے میں پاکستان کی بدحالی کو بُرجوں کے زریعے سے ظاہر کرنا، میرے خیال میں کچھ مناسب نہیں  کہ فلاں سیاستداں کا فلاں برج تھا جس کی بنا پراُنکی نہیں بنی جس سے پاکستان کو نقصان پہنچا۔۔ یعنی اِن برجوں کے جھگڑوں نے  پاکستان کو اس حال میں پہناچایا ۔۔۔یہ بات مجھے ہضم نہیں ہورہی ہے ۔۔۔ 
" لِنک کِلک پر رؤف کلاسرا کا کالم ہے"
نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Tuesday, June 25, 2013

اربی ڈوپسس۔

  منجانب فکرستان: جدید تحقیق :عقل:الکندی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سابقہ پوسٹ  "دوسری غلطی"  میں  جس  حیرت  انگیز  وِڈیو  کا  لِنک  فراہم  کیا  تھا، اُسکی  کی  خبر  آج   دُنیا  اخبار  نے  بھی  شائع  کی  ہے۔۔۔
اب  دوسری  حیرت  انگیز  خبر  کی  طرف  چلتے  ہیں،  کچھ  بچّے  ریاضی  کے مضمون  سے  بھاگتے  ہیں  اور  اِن  بھاگنے  والے  بچوں  میں،  میں  بھی  شامل  ہوں،  لیکن  جدید  تحقیق  کی  روشنی  میں حیرت انگیز  اربی ڈوپسس  نامی  پودے  ریاضی  سے بالکل  بھی  نہیں  بھاگتے  ہیں، بلکہ  دسویں  جماعت  کی  ریاضی  سے  ذرا  سا  کم درجے کا حساب کتاب  کرنے  کی  عقل رکھتے  ہیں ۔۔۔پرندوں میں بھی ایسی عقل پائی جاتی ہے،  مثلاً  ہجرتی پرندے فاصلوں کی دُوری کے حساب سے اپنے جسم میں غذا کا ذخیرہ کرلیتے ہیں۔۔ 
عقل کے بارے میں میرے خیال میں الکندی بھی کچھ ایسے ہی خیالات کے حامل نظر آتے ہیں: دیکھئیے صفحہ نمبر 19 کتاب روح کیا ہے؟ ڈاکٹر وحید عشرت۔۔۔
"  لِنک کلک پر "اربی ڈوپسس " کی مکمل خبر  "
نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...