Sunday, May 4, 2014

"مختلف تحریروں کے منتخب حصّے"


 منجانب فکرستان:مختلف تحریروں کے منتخب حصّے غوروفکر کیلئے
 ٹیگز: مرد و عورت؛ وِل ڈیورانٹ؛ موازنہ فہرست
روزنامہ دُنیا نیوز میں محترم جناب رؤف کلاسرا کا کالم پڑھ کر مجھے اپنا وہ قریبی دوست یاد آگیا،جوامریکہ شفٹ ہوگیاہے۔۔
امریکہ میں ایک پاکستانی کے چین اسٹور پر بطور کیشئیر  کام کررہا ہے۔۔اسٹور میں اسٹاف سے متعلق ایک شکایتی بکس بھی
رکھا ہُوا ہے۔۔اگر کسی کسٹومر کو  کسی قسم کی شکایت ہو تو  درج کرکے اُس بکس ڈال دے۔۔ ہمارا  یہ دوست نوکری چھوڑ
 کر گیا ہُوا تھا۔۔اس لیے بڑی مستعدی اور سعادت مندی سے کا م کرہا تھا تاکہ کسی کو کوئی شکایت کا موقع نہ ملے۔۔تقریباً
 پندرہ دنوں بعد اسٹور کے مالک کا آنا ہُوا اُس نے بکس کھولا تو ہمارے دوست کے خلاف کافی تعداد میں شکایتی لیٹر ملے اور
 تقریباً سب میں ایک ہی قسم کی شکایت درج تھی کہ آپکا کیشئیر مُسکرا کے بات نہیں کرتا ہے ۔۔ہلو ہائے نہیں کہتا ہے 
۔۔( پاکستانی کلچر)۔
  رؤف کلاسرا نے اپنے کالم جو کچھ لکھا اُن ہی کے الفاظ میں۔۔۔
ریاست ڈلیور کا شہر لیوس واشنگٹن سے ڈھائی گھنٹے کی دوری پر ہے۔وہاں سے کہیں جانے کو جی نہیں چاہتا ۔ یہ علاقہ ایک پرسکون گاؤں کی طرح لگتا ہے۔ لوگ بہت اچھے ہیں۔ ممکن ہی نہیں وہ آپ کو دیکھ کر مسکرائیں یا ہاتھ نہ ہلائیں "۔( امریکی کلچر )۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭ 
دُنیا کے اسٹیج ڈرامے میں مرد اورعورت مرکزی کردار ہیں، اِن مرکزی کرداروں کے بارے میں مشہورمورخ ولِ ڈیورانٹ رقمطراز ہیں کہ:
 "انسانی زندگی میں اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی کہ مرد بڑھا پے تک عورتوں کے پیچھے بھاگنے پرمائل رہتے ہیں۔جبکہ عورتیں بھی مرنے سے پہلے تک مرد کو پیچھا کروانے پر پر مائل رہتی ہیں۔۔۔انسانی کردار میں اس سے زیادہ کوئی مستقل صفت نہیں کہ مرد کی نگاہ ہر لمحہ عورت پر پڑتی رہتی ہے ۔۔
اِس عیار مرد کو دیکھو بظاہر اخبار پڑھ رہا ہے، لیکن اس کی نظر یں اپنے شکار پر لگی ہیں، جبکہ اس کا تصور بے تابی سے اُس مقناطیسی شعلہ کا طواف کر رہا ہے" ۔۔The Pleasures of Philosophy۔ (نشاطِ فلسفہ)۔
 یہ پڑھ کر ایک ذاتی واقعہ یاد آگیا۔۔ایکسپو سینٹر کُتب میلے میں ایک ضعیف خاتون کو دیکھا کہ شاید 65۔70 کی ہونگیں فُل میک اپ اور ہاتھ میں جدید پرس اور لباس اتنا باریک تھا کہ جسم جھلک رہا تھا۔۔۔لیکن اسکے ہرگز معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ  خاتون کسی مرد کو اپنے پیچھے لگانا چاہتی تھیں۔۔۔ بلکہ یہ عورت کی فطرت کا وہ حصّہ ہے جو عورت کو بھرپور مسرت عطا کرتا ہے۔۔یہی تو عورت کی زندگی ہے، میت پر بھی سج بن کے جاتی ہے۔۔سرخی گنوا گہیوں تہ منگھہم اُدھاری کہتی ہے (فکرستان
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
 لندن( رپورٹ: آصف ڈار) عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ نئی سپربگ کی وجہ سے اینٹی بائیوٹک ادویات کی تاثیر ختم ہوگئی ہے اور معمولی سی انفیکشن بھی ایڈز سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ WHOکا کہنا ہے کہ سپربگ کی و جہ سے معمولی زخمی ہونے والے افراد کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، اس سلسلے میں برطانوی اخبارات میں شائع ہو نے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بچہ سائیکل سے گر کر معمولی زخمی ہوجائے یا کسی معمر شخص کی ہیپ کی تبدیلی کا معمول کے مطابق آپریشن ہو، اس دوران ہوجانے والا کوئی بھی انفیکشن ان افراد کا قاتل بن سکتا ہے۔(جنگ نیوز)۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
قابلِ رحم ممالک کی موازنہ فہرست ملاحظہ ہو:مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں 
Doom and gloom: The Cato Institute's Misery Index Scores
 نوٹ: آپ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپکا حق ہے۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


   
  


Thursday, May 1, 2014

" مزدوروں کا عالمی دن"

  منجانب فکرستان 
یکم مئی شکاگوجدوجہد: مزدوروں کا عالمی دن:
 آج کے دن بھی۔۔۔ چوراہوں   کے فٹ پاتھوں پر آس لگائے بیٹھے ہیں مزدور۔۔کوئی تو آجائے ۔۔۔مزدوری کا خریدار۔۔
 تاکہ اُس کے گھر بھی جل جائے چولہا ۔ ۔۔تاکہ گُذر جائے ایک دن اور زندگی کا ۔۔
آخر ایک آجاتا ہے ۔۔مزدوری کا خریدار ۔۔سب اپنی اپنی قسمت لئیے ۔۔اُسکی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔۔۔ہر ایک آس
بھری آواز میں صدا لگا تا ہے ۔۔۔صاب جی مجھے لے جائیں ۔۔۔میں اچّھا کام کروں گا ۔۔۔دوسرا کہتا ہے صاب جی مجھے
 لے جائیں ۔۔۔آپ جو کہیں گے، میں وہ کروں گا۔۔۔تیسرا جس کے گھر دودن سی چولہا نہیں جلا ۔۔۔ مسکینی آواز میں
 صاب جی آپ مجھے لے چلیں۔۔۔مجھے دیہاڑی سے کم پیسے دینا۔۔۔جتنا چاہے کام کرالینا۔۔۔
 یہی ہے سچّی حقیقت ہے۔۔۔یکم مئی کی ۔۔۔مزدوروں کے عالمی دن کی۔۔۔۔باقی سب فسانہ ہے ۔۔۔ڈرامہ ہے ۔۔۔ 
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


Monday, April 28, 2014

" پرائمری مادر "

منجانب فکرستان
یہ کیسا معاشرہ ہے؟؟
 مثلاً 12سالہ برٹش "پرائمری مادر" کو بُہت زیادہ میڈیا کوریج  ملی ہےلیکن یہ کوریج تُھو تُھو والی نہی ہے،ہنسی خوشی اور
 مُسکراہٹوں والی  ایسی ہے کہ اِس کو حاصل کرنے کیلئے11سالہ ماں بننے کی قابل ہونے والی لڑکی بھی کمسن ماں بننے کی سوچ
 میں مبتلا ہوجائے ۔۔
  لڑکی کے والدین خوش ہیں اور لڑکے کے والدین بھی خوش ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ پورا معاشرہ ہی خوش ہے ،لعنت ملامت کوئی بھی نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی جان سے مارنے کی بات کر رہا ہے بلکہ معاشرہ کمسن ماں سے نفرت کے بجائے بہتر سلوک کر رہا ہے ۔۔۔کمسن والدین  کا نام اسکول سے نہیں کا ٹا  گیا، وہ اب دوبارہ اسکول جائیں گے ۔۔۔جبکہ کمسن والدین کے والدین کم سن جوڑے  کی شادی کی بات بھی قانونی طور پر نہ سہی اپنے طور پر  پکی کر رہے ہیں۔۔۔ 
لگتا ایسا ہے کہ مغربی دُنیا اب اُس ایج میں داخل ہوتی جارہی ہے جس میں۔
٭  پہلے ہوگا بچّہ: بعد میں ہوگی شادی ٭
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

  

Sunday, April 27, 2014

" بھارت PEW RESERCH جمہوریت "

منجانب فکرستان
شیئرنگ for انفارمنگ
٭: آئی جی سندھ اقبال محمود نے تجویز کیا ہے کہ کراچی میں ایس ایچ او کا عہدہ ختم کر دیں تو نہ قبضہ ہو
 گا نہ کوئی بھتہ لے گا۔ دنیا نیوز
٭: عمران خان نے کہا ہے کہ : طالبان سے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، کیونکہ ملک میں امن آگیا ہے۔بی بی سی اردو
٭:اسلام مخالف فلم کےڈسٹری بیوٹر ارونڈ وین ڈرون کے قبول اسلام کے بعد ان کے بیٹے نے بھی اسلام
 قبول کرلیا۔نوائے وقت نیوز
٭:تحقیق کہتی ہے  کہ ٹوتھ برش پر اتنے ہی جراثیم ہو سکتے ہیں جتنے کہ کسی ٹوائلٹ میں پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ٹوتھ برش کو باتھ روم میں رکھتے ہیں۔جنگ نیوز
٭: جنگ نیوز میں شائع منو بھائی کے کالم سے انتخاب
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اگر دنیا کی سب سے بڑی غربت اور کرپشن بھی ہو گی تو اس سے بڑی جمہوریت کی بدنامی اور کیا ہو سکتی ہے؟ امریکہ کے مشہور ’’تھنک ٹینک‘‘ PEW RESERCHکی جانب سے کئے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے ستر فیصد لوگ کسی بہتر مستقبل کے امکان کی توقع نہیں رکھتے اور ہر دس میں سے آٹھ لوگ خاص طور پر معاشی صورتحال سے بری طرح تنگ ہیں۔ بھارتی ووٹر کے لئے ہر معاملہ ایک مسئلہ بن چکا ہے جو ناقابل حل دکھائی دیتا ہے۔
بھارت میں ارب پتی لوگوں کی تعداد جاپان کے ارب پتی لوگوں کی تعداد سے بڑھ چکی ہے۔ خوفناک حد تک یہ امیر لوگ اگرچہ مٹھی بھر ہیں مگر پوری معیشت کو اپنی مٹھی میں لئے ہوئے ہیں اور نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے بے تاب ہیں۔ اوپر بیان کئے گئے تھنک ٹینک کے ایک سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے سو امیر ترین لوگوں میں سے 74مودی کے پرجوش حامی ہیں جو سرمایہ داروں کے شرح منافع میں اضافہ کے لئے مزید ڈی ریگولیشن، منڈی کی آزادی اور ٹیکسوں میں چھوٹ اور عوام پر معاشی حملوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو دی جانے والی ’’سب سڈی‘‘ کا خاتمہ کر دیں گے۔ 
بھارت کے محنت کش طبقے نے جو حقوق و مراعات کئی دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کئے ہیں انہیں مودی کی حکمرانی واپس چھین لے گی اور یوں ہندوستان کو خونی انقلاب کے اور خونی انقلاب کو ہندوستان کے اور قریب لے آئے گی۔ 
٭: پاکستان میں بھی "سب سڈیز" ختم کی جارہی ہیں، پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں کا امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا ہے، جس کا بوجھ غریبوں پر پڑتا ہے یوں پاکستان میں بھی  خطِ  غربت سے نیچے زندگی گُزارنے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی تناسب سے مختلف قسم کے جرائم میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ فکرستان
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Friday, April 25, 2014

" تخلیق کار کی پہچان "

منجانب فکرستان
بمع قُرآنی آیات غور و فکرکیلئے
روزنامہ دُنیا سنڈے سپیشل میں ملحدانہ کتاب "THE GOD DELUSION" کا خُلاصہ اور اسکے حق میں 59فیصد
کا رائے دینا، پڑھ کر حیرت ہوئی اور خُدا کی انسان سے شکایت والی قُرآنی آیات یاد آنے لگیں۔
 خالق نے اپنی پہچان کیلئے کائنات تخلیق کی، پہچان  کیلئے انسان کو اعلیٰ عقل  سے نوازا، تاکہ وہ کائنات میں
 موجود حیرت انگیزیوں سے خُدا کی عظمت کو پہچان کر سجدہ ریز ہوجائے، مگر انسان اِس عطا کردہ اعلیٰ عقلی
 کسوٹی پر خُدا ہی کے ہونے نہ ہونے کو پرکھنے لگاہے،وہ اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں پارہا ہے کہ : کیا کوئی
 مجسمہ یا روبوٹ اپنے بنانے والے  کو پہچان سکتا ہے؟؟ 
اس بارے میں چند قُرآنی آیات
 [67:23] (ابوالاعلی مودودی) اِ
ان سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو 
[32:9] (ابوالاعلی مودودی)
 پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

[7:10] (ابوالاعلی مودودی)

ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار  ہوتے ہو 
  ابوالاعلی مودودی) [2:164)] 
۔(اِس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو ) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جوا نسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اِسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭ 
  اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: میرے خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Thursday, April 17, 2014

"فیصلہ تو " خُدا " نے کرنا ہے"

منجانب فکرستان: بشُکریہ "محدث فورم"
غور و فکر کیلئے
 بمع لنک:مولانا سید محمد شاہ کشمیری 
Wahdat-e-Ummat_14.jpg


Wahdat-e-Ummat_15.jpg
Wahdat-e-Ummat_16.jpg

٭٭٭٭٭
 ٹرین میں دو مسافروں کے درمیان گفتگو شروع ہوتے ہی یکساں خیالات نے بے تکلفانہ پن پیدا کردیا۔۔۔
 ایک کا لڑکا (سی۔ اے) ہے تو دوسرے کی لڑکی (ایم ۔کام) ہے۔
لڑکی کا باپ: بھائی صاحب آپکا تعلق کس فرقے سے ہے۔
لڑکے کا باپ مسکراتے ہوئے: بھئی میرے فرقے کا نام اِسلامی گلدستہ ہے۔
ہائیں یہ بھی کوئی فرقہ ہے کیا؟ لڑکی کا باپ چونکتے ہوئے
لڑکے کا باپ مسکراتے ہوئے: نہیں جناب دراصل جب سے وحدتِ امت کے صفحات پر مولانا مفتی محمد شفع
  کا بیان کردہ واقعہ پڑھا ہے۔۔۔۔دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کاش کہ تمام فرقوں کے علمائے کرام سر جوڑ
 کر بیٹھیں اور بیان کردہ واقعے کو مثال بناکر ختمِ نبوت پر یقین رکھنے والے تمام فرقوں کو  پھولوں سے
 تشبیہہ دیکر  وحدتی اسلامی گلدستہ بنائیں ۔۔۔تاکہ فرقہ پرستی  سے مسلمانوں کو جو شدید قسم کا نقصان پہنچ رہا ہے اُس سے بچا جا سکے اسلامی وحدت سے مسلمانوں کیلئے کئی طرح کے  فائدے ہی فائدے ہیں۔۔ جبکہ نقصان کچھ بھی نہیں ۔۔۔
اسلامی گلدستے کا  ہر پھول (فرقہ) اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرے صحیح / غلط کا فیصلہ تو خُدا نے ہی کرنا ہے: تو پھر مسلمان آپس میں کیوں جھگڑ رہے ہیں؟؟ اسلام دشمنوں کو کیوں موقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا سکیں ؟؟؟ 
لڑکی کا باپ بھی مسکراتے ہوئے: بھائی صاحب آپ اس طرح کے صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔  
لڑکے کا باپ: بجا فرمایا آپ نے 
لڑکی باپ: جناب اگلا اسٹیشن میری منزل ہے ۔۔اگر مناسب سمجھیں تو میرا یہ کارڈ رکھیں اور اپنا موبائل نمبر عنایت فرمائیں تاکہ (ہنستے ہوئے) آپکے فرقے "اسلامی گلدستے " سے متعلق مزید گفتگو کریں گے ۔۔۔(باہر جھانکتے ہوئے)۔لیجئے اسٹیشن آگیا  میں سامان سمیٹ لوں ۔۔۔آپ کے ساتھ وقت اچّھا گُذرا: ۔۔۔ گلے مل کر ٹرین سے اُتر تے ہوئے ۔
کہتے ہیں ٹرین کی دوستیاں۔۔۔پائدار دوستیاں ہوتی ہیں ۔خُدا حافظ 
لڑکے کا باپ: خُدا حافظ
لنک: مولانا سید محمد شاہ کشمیری۔  http://www.banuri.edu.pk/en/node/1204
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


Sunday, April 6, 2014

" غور و فکر کیلئے "

 منجانب فکرستان 
السجدۃ : آیت:9: ترجمہ مولانا مودودی
"پھر اُسکو نک سک سے درست کیااوراُس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے،آنکھیں دیں 
اور دل دیے تم لوگ کم ہی شُکر گُذار ہوتے ہو"۔۔۔
 یہ خالقِ کائنات کی انسان میں پھونکی ہوئی اُسی تخلیقی روح  کا  ہی کرشمہ ہے کہ:انسان حیرت انگیز اور
 کرشماتی چیزیں مسلسل تخلیق کر تا چلا جا رہا ہے = (خام مال رب کی عطا + پھونکی ہوئی روح
 روزنامہ دُنیا میں شائع کالم  " غور و فکر کیلئے"۔

Saturday, April 5, 2014

" غور و فکر کیلئے "

منجانب فکرستان
    {غور و فکر کیلئے}  
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تمام شد

Saturday, March 29, 2014

" غور طلاب باتیں "

 منجانب فکرستان
 ٭:ایک طرف تو مذاکرات جاری ہیں تو دوسری جانب اخباری خبر کے مطابق دہشت گردی خطرات کے
 پیشِ نظر قائدِ اعظم،علامہ اقبال کے مزارات اور مینارِ پاکستان عوام کیلئے بند کردیے گئے ہیں۔۔
٭:محترم اثرچوہان صاحب کہتے ہیں:"مولانا فضل الرحمان کے والدمولانا مُفتی محمود صاحب نے آغا شورش
کاشمیری مرحوم کے گھر ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کی موجودگی میں کہا تھا کہ : ’’خُدا کا شُکر ہے کہ ہم پاکستان 
بنانے کے گُناہ میں شامِل نہیں تھے‘‘
٭ :محترم مستنصر حُسین تارڑ  خشونت سنگھ  کی مغفرت کے بارے میں  کہتے  ہیں  کہ: " خشونت سنگھ  کی 
مغفرت کہاں ہونی ہے "۔۔۔
محترم مستنصر حُسین تارڑ دانشور کہلاتے ہیں اُنکا  کا اسطرح  کہنا  کہاں تک صحیح ہے ؟؟؟ جملے پر غور کریں
٭محترم اسد مفتی صاحب کہتے ہیں"معلومات اور علم کے فرق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔محض معلومات
سے شخصیت کے جوہر نہیں کھلتے،علم کےحصول اور اسے انگیز کرنے سے کھلتے ہیں کہ معلومات سے صرف
حافظے کا تعلق ہے جبکہ علم ذہن کو روشنی،روشن خیالی،عصری سوچ، بھائی چارہ اورشخصیت کوتوانائی عطا کرتا 
 ہے۔میں جانتا ہوں میری یہ بات ارباب اختیار کے گلے سے نہیں اترے گی" ۔۔۔
 تفصیل پڑھنے کے خواہشمند دوست درج ذیل لنکز پر جا ئیں اور مجھے اجازت دیں۔۔ پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔
http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2014-03-29&edition=LHR&id=971103_86086769
http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/28-Mar-2014/291464
http://dunyapakistan.com/?p=7504
http://jang.com.pk/jang/mar2014-daily/26-03-2014/col12.htm
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 

Thursday, March 27, 2014

"حُکمرانی"

  منجانب فکرستان  
 جھوٹ، بد اعتمادی اورشک کی حُکمرانی نے  سچ کی پہچان کو مشکل بنادیا ہےمثلاً  جناب سرتاج عزیر  صاحب 
نے کہا:ڈیڑھ ارب ڈالر تحفہ ہیں،لیکن لوگ یقین نہیں کر رہے ہیں،بلکہ تحفے میں سے نت نئے قسم کے سچ 
اور معنی تلاش کر رہے ہیں،یوں ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ شک اور بد اعتمادی کے دائرے میں سفر کر رہا ہے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم نے کہا طیارہ بحر ہند میں گر کر تباہ ہُوا،کوئی مسافر نہیں بچا،وزیر اعظم کی بات کو لوگوں
 نے سچ نہ مانا اور مطالبہ کیا کہ سچ بتاؤ :نتیجہ تلاش کا کام دوبارہ شروع  
امریکی سینٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سر براہ سینیٹر ڈیان فن سٹائن نے ۔ سی آئی اے پر الزام عائد کیا کہ وہ 
امریکی انٹیلیجنس کمیٹی کے ارکان کی جاسوسی کرتی رہی ہے۔۔۔۔ جبکہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جناب جان 
برینن نے اِن  الزامات کی تردید کی ہے ۔۔۔۔۔تو پھر سچ کیا ہے؟؟؟
سابق امریکی وزیرِدفاع رابرٹ گیٹس نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہپاکستان کو کبھی اتحادی ملک تسلیم 
نہیں کیا ۔۔۔۔۔اسکے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ امریکہ اور پاکستان نے کبھی ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کیا ۔۔
(رابرٹ گیٹس کے دور میں تو پاکستان کو اتحادی اور قابل اعتماد کہا جاتا رہا ہے ۔ کیا وہ سب جھوٹ تھا ؟)
حامد کرزئی نے کہا ہے کہ مجھے امریکہ پر اعتماد نہیں ہے، اِس لیے سیکورٹی کے معاہدے پر دستخط نہیں کرونگا
 ۔۔۔غرض کہ اسی طرح کی بیشمار مثالوں سے دُنیا بھری پڑی ہے۔۔۔کہنے مقصدیہ ہے کہ جھوٹ + ہر قسم 
کا میڈیا مل ملا کر انسان کے سامنے کئی قسم کے ایسے سچ پیش کرتے ہیں کہ: جس سے اصل اور حقیقی سچ  کی 
پہچان جاتی رہتی ہے یوں بداعتمادی اور شکوک جنم لیتے ہیں ۔۔۔
 اب اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
درج بالا خیالات سے اختلاف/اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 

Saturday, March 22, 2014

" حکمتِ خدا وندی "

منجانب فکرستان
غور و فکر کے معنی : خُدا کی قُربت
درج ذیل خبر سے، صرف نظر نہ کریں 10 کھرب پر غور کریں اور خُدا کے قریب ہوجائیں

 درج بالا ذاتی خیالات پر اختلاف /اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے
تمام شُد 


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...