Friday, July 18, 2014

"شادی کی رات: قرآنی آیات "

  منجانب فکرستان: مثلثی رشتوں کا احوال اورحل 

مثلثی رشتہ: ساس ،بہو اور بیٹا 
اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی
 شادی  کے نتیجہ  میں  ایسا  مثلثی  رشتہ وجود  میں آجاتا  ہے  کہ جس نے برمودہ  ٹرائنگل   کی  طرح   کئی 
خاندانوں  کو اپنے بھنور میں غرق کردیا ہے۔۔
 تصویر میں ماں (اندرا گاندھی) نے جس انداز سے بیٹے کو پکڑا  ہُوا  ہے،ایسا لگتا  ہے جیسے کہہ رہی ہو ں، 
میں تمہیں سونیا کی طرف جانے نہیں دونگی۔۔ماں بڑے شوق سے بہو لاتی ہے، لیکن شادی کے دوسرے 
دن ہی اُسے احساس ہونے لگتا ہے کہ شاید کچّھ غلط ہوگیا ہے۔۔تاہم بیٹے کی شادی بھی تو کرنی تھی ۔۔
مشہور لکھاری خشونت سنگھ نہرو خاندان کے بہت قریب تھا، اِسی سبب وہ  خاندانی جھگڑوں کے بارے میں 
دوسروں کی نسبت  زیادہ جانتا تھا ، ویسے تو ساس (اندرا گاندھی)  بہو مانیکا ( سنجے کی بیوی)  کا یہ جھگڑا ڈھکا 
چُھپا نہیں تھا، اخباروں کی زینت بن چُکا تھا ، جسکا تذکرہ خشونت سنگھ نے بھی اپنی آپ بیتی میں  کیا ہے۔۔
 ساس (اندراگاندھی) بہو (مانیکا گاندھی)  کےدرمیان  تُو تُو،  میں میں اور ایکدوسرے پر  چیخ پُکار کے ساتھ 
الزام تراشیاں کرتی تھیں اور ایکدوسرے سے  کہتی تھیں کہ تم جھوٹ بول رہی ہو ، جواباً  نہیں  تم جھوٹی 
 ہو۔۔۔سننے والوں کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے  غیر تعلیم یافتہ عام  گھرانوں کی ساس بہو جھگڑ رہی ہیں،
ناکہدنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کی وزیراعظم اور انکی تعلیم یافتہ بہو۔۔۔
اندرا گاندھی کو اپنے بیٹے سنجے  سے شکایت  رہتی تھی کہ سسرال (یعنی بیوی) کا ہوگیا ہے۔۔۔شاید یہ ہی 
خوف  ہے کہ تصویر میں اپنے بیٹے راجیو گاندھی کو یوں پکڑی ہوئی ہیں کہ یہ بھی سونیا کا نہ ہوجائے، جس 
طرح ماں کو خوف ہوتا ہے کہ بیٹا بہو کہ نہ ہوجا ئے۔۔یہ ہی خوف  بہو کوبھی ہوتا ہے کہ میرا شوہر ماں
 کا نہ ہوجا ہے،دونوں خواتین کے خوف درمیان مرد بیچارہ   پِس جاتا ہے چونکہ ایک خاتون کے پاؤں تلے
 جنت ہے تودوسری خاتون کے بارے میں ارشادہے کہ تم ایکدوسرے کا لباس ہو،اب مرد بیچارہ کرےتو
 کیا کرے؟؟ کئی  گھرانوں میں ساس بہو کے یہ جھگڑے اِس درجہ بدمزگی پیدا کرتے ہیں کہ نوبت طلاق، 
خودکشی اور قتل تک جا پہنچتی  ہے۔۔اِس سلسلے میں مسلمان چاہیں تو قُرآن سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
درج ذیل میں بیٹے کو والدین کے بارے میں ہدایت دی گئی ہے
 ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگےاُف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا۔[17:23]..
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔[46:15].
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔[31:14].
درج ذیل آیات میں شوہر کو بیوی کے بارے میں ہدایت دی گئی ہے
 وه تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو. [2:187 ].

 عورتوں کا حق مردوں پر ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق مردوں کا حق عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔[2:228].
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
شادی کا موسم شروع  ہونے والا ہے۔ مسلمان  دولہے  کیلئے  تجویز  ہے  کہ درج  بالا  ترجمہ  کی  ایک 
 کاپی  دلہن کو دیں (شادی کی رات دینا ممکن نہ ہو تو خالی  تذکرہ کردیں بعد میں دیں)اور  ایک   کاپی 
 اپنے  والدین  کو دیں ،دلہن اور اپنے والدین کو صاف صاف بتا دیں کہ : میں خُدا  کے اِن احکام کی 
پیروی کرونگا تاکہ گناہ گاروں  میں شمار نہ کیا جاؤں۔
امید ہے کہ آپ( بیوی،والدین ) اِس پیروی میں میری مدد فرمائیں گے اور گھر کے ماحول کو خوشگوار 
 بنائیں  گے۔۔۔۔۔یہ تجویز صرف نئے  وولہوں  کیلئے نہیں پرانے دولھے بھی اِس تجویز پر عمل کرکے
 دیکھ سکتے،۔۔۔۔۔یہ بات یاد رہے کہ اِس تجویز میں مین کردار آپ ہی کا ہے،اب یہ آپکی ذہانت پر 
ہے کہ والدین کی سائکی اور بیوی کی سائکی کو مدنظر رکھ کر آپکو ایسا کردار  ادا کرنا  ہوگا  کہ  والدین 
 اور بیوی  دونوں  میں  سے  کسی  کو آپ سے  شکایت  نہ ہو نے پائے: ہے تو  یہ مشکل کام:لیکن آپ 
ذہین ہیں تو ناممکن نہیں ہے۔ 
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Sunday, July 13, 2014

" احتجاج احتجاج احتجاج "

اسرائیل کی جانب سے سولین آبادی پر دوبارہ وحشیانہ بمباری
 اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف 
احتجاج احتجاج احتجاج احتجاج احتجاج احتجاج احتجاج احتجاجاحتجاج احتجاج احتجاج
 نیو یارک ٹائمز امیج
اپیل اپیل اپیل اپیل اپیل اپیل اپیل اپیل اپیل اپیل 
اقوام متحدہ  کے بانکی مون اور دُنیا کےملکوں کے سربراہان سے درد مندانہ اپیل ہے کہ
انسان  ہونے  کے  ناطے انسانوں کی ہلاکتوں پر:اسرائیل کی جانب سےجاری گُنجان سِول 
آبادی پراِس وحشیانہ بمباری کو رُکوانے کیلئے: اپناانسانی کردار ادا کریں
منجانب فکرستان

Thursday, July 10, 2014

" والدین کا یقین "

  منجانب فکرستان

تعصب سے مبّرا شاید ہی کوئی شخص ہو۔۔۔ کیا تعصب سے چُھٹکارا ممکن ہے؟؟ اِسکا جواب اسطرح ہوسکتا 
ہے کہ : پہلا پتھر وہ مارے جس نے کوئی گُنّاہ نہ کیا ہو۔۔۔ہے کوئی ایسا شخص ؟؟ 
مدرسہ "اور گرام چتسپلّی" کے  1400 طلبہ و طالبات میں سے 60 فیصد سے زیادہ ہندو ہیں، جبکہ مدرسے 
میں قُرآن اوراسلامی تعلیمات کا درس ہوتا ہے،اُستانی جھوما مکرجی کہتی ہیں شروع میں ہندو والدین کواسلامی 
 تعلیم سے خدشات ضرور  تھے جو دور ہوگئے ہیں، جبکہ پرنسپل انورحسین کا کہنا ہے کہ مدرسے کے بارے 
میں جو روایتی خیال تھا وہ اب بدل  چُکا  ہے، یہاں آنے کے بعد سب کواحساس ہوجاتا ہے کہ مذاہب کے
 درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔۔
کیا واقعی ایسا ہے ؟ ؟ بابری مسجد،گجرات فسادات اور آئے دن مذہبی تہواروں  میں ہونے والے فسادات،
پرنسپل صاحب کی بات کی نفی کرتے نظر آتے  ہیں، تاہم  مدرسے میں 60  فیصد سے زیادہ  ہندو طلباء  کا 
قُرآن اور اسلامی تعلیمات کا درس لینا۔۔ پر نسپل صاحب کی بات میں وزن ڈالتا ہے۔
1400 طلباء  میں  سے 60  فیصد  ہندو  طلباء  کے والدین  کا یہ یقین کرلینا کہ: مدرسے میں اُنکے بچّوں کی
 مذہب اسلام کی بابت برین واشنگ نہیں ہوگی۔۔۔والدین کے اِس یقین پر مجھے حیرت ہے؟؟ 
بشکریہ:http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/07/140708_west_bengal_madrasa_hindu_teacher_student_mb.shtml
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     

Monday, July 7, 2014

"گنگا بیچاری "

 منجانب فکرستان 

مونسون کی بارش کی امید
بارش کیلئے بادلوں کو بُلانے کی پوجا ہورہی ہے۔۔ عقیدے میں عقل کا کیا دخل
عقیدے میں عقل کے داخلے سے،فرقے پیدا ہوجا تے ہیں، یعنیجھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں 
 یہعقلی استدلال ہی تو کہتا ہے: ہمارا فرقہ سچّا، ہم جنتّی: باقی سب جہنمی
"پیش گوئیاں"   

مصری سائنٹسٹ آسٹرونومی محترمہ Joy Ayad نے مصر میں برف باری کی پیش گوئی کی تو۔۔کسی کو بھی یقین
  نہ آیا۔۔مصری شہریوں نے کہا کہ ہم نے مصر میں برف باری کبھی نہیں دیکھی۔۔لیکن پھرسب نے دیکھا کہ
 مصر  میں شدید قسم کی برف باری شروع ہوگئی،  اِس برف باری  نے  Joy Ayad   کی شہرت کو عروج  بخشا 
۔۔۔۔محترمہ نے جاری ورلڈ کپ فٹبال میں جرمنی کو فاتح قرار دے رہیں ہیں، جبکہ فکرستان کا  خیال ہے کہ 
ارجنٹائن بازی مار لے گا  
٭ََ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 گنگا بیچاری: پاپ دھوتے دھوتے خود کینسر میں مبتلا ہوگئی  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
٭٭٭٭
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے قومی ادرے کا کہنا ہے کہ ملک میں روزانہ اوسطاً جنسی زیادتی کے 92 مقدمے درج ہوتے ہیں جبکہ دہلی میں جنسی زیادتی کے معاملات کی شرح ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے حساب سے 2013ءمیں دہلی میں ریپ کے 1636 مقدمات درج ہوئے جو ملک میں درج ہونے والے مقدمات کا 4.85فیصدتھے ۔
دہلی میں خواتین کی کل تعداد 87 لاکھ 80 ہزار ہے اور اس حساب سے 2013ءمیں یہاں ریپ کے مقدمات کی شرح 18.63 فیصد رہی۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ریپ کے واقعات میں دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر میزورام رہا جہاں ایسے معاملات کی شرح 17.8 فیصد رہی جو کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں تین فیصد کم ہے۔
جنسی زیادتی کے معاملات میں کئی سال سے خبروں میں رہنے والی ریاست مدھیہ پردیش میں اس سال بھی سب سے زیادہ 4335 کیس درج ہوئے مگر یہاں ایک لاکھ خواتین کے حساب سے ان کی شرح بارہ فیصد رہی۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }






Thursday, July 3, 2014

نئی گھڑی کے زریعے: شہریوں کو پیغام

 منجانب فکرستان 

 جی 77  کا  پچاس واں اجلاس بولیویا  کے شہر سانتا کروز میں ہُوا ،جس میں شریک مندوبین کو تحفتاً بولیویا 
کی  ٹیبل گھڑیاں دی گئیں،بولیویا گھڑیوں میں نہ صرف ہندسوں کی ترتیب اُلٹ ہے ،سوئیاں بھی دائیں کے
 بجائے بائیں گھومتی ہیں،اس بارے میں بولیویا وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ"ہم دوسروں کی کہی باتوں پر کیوں 
چلیں،  نئے  طریقے  کیوں  نہ سوچیں۔ہم نے  نئی  گھڑی کے زریعے شہریوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ:وہ پہلے 
سے قائم شُدہ روایتی عقائد کوچیلنج  کرسکتے  ہیں اورنئیتخلیقی سوچ اپنا سکتے ہیں،ہم اپنے شہریوں سے یہ نہیں
کہہ رہے ہیں کہ وہ ان  گھڑیوں کو ضرور اپنائیں ،یہ ہم نے اپنے شہریوں کی مرضی پر چھوڑا ہُوا ہے،چاہے
 وہ پرانی  گھڑی پہنیں یا نئی اپنائیں،ہمارا  کوئی عمل دخل نہیں،ہمیں چیزوں کو پیچیدہ نہیں بنانا  چاہئیے، وزیر 
خارجہ نے  گھڑی کو"جنوبی گھڑی" کا نام دیا۔۔ وہ اس لیے کہ بولیویا  جنوبی امریکہ میں  واقع ہے۔۔
مزید تفصیل کے خواہش مند دوست بی بی سی لنک پر جائیں ۔۔ 
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں  

Wednesday, July 2, 2014

" جزا سزا "

 منجانب فکرستان : جزا سزا
 ٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
یاسر پیرزادہ  کا  یہ  کالم خُدا  کی عظمت  کا  مظہر  ہے :انسان کہ جس میں خُدا  نے  اپنی  روح  پھونکی کیسے 
کیسے کارنامہ ہائے  سرانجام دے رہا  کہ زمین پر بسنے  والے تمام انسانوں کی  ہرحرکت پر نظر رکھے ہوئے
 ہے۔ تو  ایسے  میں لا محالہ ذہن  میں خیال آتا ہے کہ : صرف  پھونکی  ہوئی  روح  کا  یہ مظہر ہے تو ۔۔۔
 پھونکنے والے کی حکمت و عظمت  کا  کیا کوئی اندازہ ہوسکتا ؟؟ قطعاً ناممکن،پیرزادہ  کا  یہ  کالم اِس بات  کی 
 گواہی  کا  ثبوت مہیا   کرتا ہے  کہ اللہ  سے بندے کی کوئی بات  پوشیدہ نہیں ہے، چاہے وہ  ظاہری بات 
ہوکہ انسان کے دل میں آیا ہُوا خیال اور خیال کی نیت بھی کہ: جس پر جزا سزا  کا دار و مدار  ہے ۔۔۔   
  [32:9] ابوالاعلی مودودی 
پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو
 ٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Tuesday, July 1, 2014

" بلیک میلنگ کاروبار"

منجانب فکرستان 
 برازیلیوں نے جب پینلٹی کک کےزریعے چلی پر فتح پائی تب اُنہوں نے کہا: پیلی سبز شرٹ ہمارے لیے
  مقدس ہے، اور یہ کہ "خُدا" ہمارے ساتھ ہے ۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
 عالم دین  کا یہ دعویٰ پڑھ کر ذہن میں خیال آیا کہ: کیا مستقبل قریب میں جنگیں جِنات کی فراہم کردہ
  معلومات کی بُنیاد پر لڑی جائیں گی ؟؟
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
 بانکی مون کینیا سیمینار میں ،گویا  لڑکیوں کو  پسند کی شادی کرنے کی  ترغیب دے رہے  ہیں، جبکہ پاکستان 
میں آئے دن پسند کی  شادی  کرنے والے جوڑوں  کی غیرتکے نام پرقتل  کئے جانے کی خبریں پڑھنے کو 
 ملتی ہیں،ایسے میں بانکی مون کا یہ مشورہ پاکستان کیلئے  کتنا صائب کہلانے کا حقدار ہے؟؟
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
وکیل کا کہنا ہے کہ: فلم میں ہندو دیویوں کی کی توہین کی گئی ہے اسلئیے فلم کے تمام ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئیے،جبکہ دیوئیں بیچاری خاموش ہیں : کہیں یہ بھی بلیک میلنگ کاروبار تو نہیں ہے؟:grin:  
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, June 30, 2014

پھر میرا نام کس لیے ؟؟

  منجانب فکرستان : یہ ہماری طرح کیوں نہیں سوچتے ؟؟؟
دوستو: کوسٹا ریکا  کے فٹبال  ورلڈکپ  کواٹر فائنل  میں  پہنچنے پر میں اتنا  زیادہ  حیرت زدہ  نہیں ہُوا۔جتنا 
کے  وہاں  کے  نو  منتخب  صدرِ  جناب  Luis  Guillermo Solis   کی  بدعتی  باتوں  نے  کیا۔۔۔
 اب آپ خود اندازہ  لگائیں  کہ صدر  بنتے  ہی  حکم جاری کردیا  ہے  کہ کسی دفتر میں میری تصویر نہ لگائی 
جائے، ( حالانکہ تصویر ڈراؤنی نہیں ہے) تصویر کی  پوجا  نہیں ہونا چاہئیے اور یہ بھی کہ کسی  پُل  یا   شاہراہ 
 وغیرہ  کی افتتاحی  پلیٹ  پر میرا  نام  نہ لکھا جائے، افتتاحی پلیٹ  پرصرف افتتاح  کی تاریخ   لکھ دی جائے 
کافی ہے  چونکہ شاہراہ  یا  پُل بنانے میں میرا کوئی کردار نہیں ہوتا۔۔ پھر میرا نام کس لیے ؟ 
خُدا جانے  یہ کیسے لوگ ؟ ؟ جبکہ ہمارے لیڈرز تو تقریباً  روز ہی اخبارات میں کسی بھی بہانے اپنی تصاویر 
کی اشاعت چاہتے ہیں ۔ ہمارے  ملک میں تو ایسی خبریں بھی سُننے کو ملتی ہیں کہ:موجودہ با اثر لوگوں نے سابقہ با اثر لوگوں کی  افتتاحی نیم پلیٹ اُکھاڑ پھینک اپنے نام کی نیم پلیٹ بمع بھنگڑہ لگادی ہے ۔۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
بشکریہ بی بی سی سائٹ:http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/06/140628_costa_rica_leader_rwa.shtml
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Sunday, June 29, 2014

"غور طلب باتیں"

  منجانب فکرستان: محترم جناب خورشید ندیم کا کالم: غوروفکر کیلئے

٭۔۔٭۔۔٭۔۔٭۔۔٭ 

Friday, June 27, 2014

" ترقی یافتہ ممالک "

  منجانب فکرستان
علمانیہ کا قتل: غوروفکر کیلئے
جن بیرئیرز کو ہٹانے پر 13ہلاکتیں 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے،حکومت نے وہ بیریئر دوبارہ لگوا دیے
اب اِس سانحہ کی اِس کے سِوا کیا توجیہہ ہوسکتی ہے کہ 13 لوگوں  کی موت اور 100 افراد  کا  زخمی  ہونا
  لکھا تھا: اسلئیے یہ سانحہ ہوگیا۔
 سانحہ پر لکھاریوں کا فوکسقانون محافظوں کاقانون شکن،گلوبٹ کو گرفتار نہ کرنا،شاباشیدینا اور سانحہپر ہونا 
چاہئیے تھا لیکنفوکس طاہرالقادری کی ذات پررہا،قانون محافظوں کی شاباشی نےممتاز قادری کی یادتازہ کردی
 جسے وکیلوں نے ہار پہنائے تھے اور شاباشی بھی دی تھی ۔۔
میرے  خیال  میں  کسی ترقی یافتہ  ملک کی  پولیس  کے  ذہن میں کسی قانون شکن کو قانون شکنی پر شاباشی 
دینے کا تصور تک نہیں آسکتا ہے اور نہ ہی وکیلوں کے ذہن میں کسی مجرم کو ہار پہنانے کا خیال آسکتا ہے
۔۔۔میرے خیال میں یہی پیمانہ ہے کہ: وہ ترقی یافتہ ہیں اور ہم غیر ترقی یافتہ ۔۔
اسکا ثبوت: رضا علی عابدی کے لکھے اِس  کالم سے بھی مل سکتا ہے جسکی چیدہ چیدہ باتیں درج ذیل ہے :
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭
''ایک اور تازہ واقعہ برطانیہ ہی کاہے۔ سعودی عرب سے تیس برس کی ایک لڑکی ناہید علمانیہ اعلیٰ تعلیم کے لئے یہاں آئی۔ ابھی ایک روز وہ اپنے کالج کی طرف جارہی تھی کہ کسی نے اس پر چاقو سے حملہ کیا اوراس کے بدن میں چاقو سولہ مرتبہ گھونپا۔ لڑکی مر گئی۔ اس کی لاش تو والدین کے پاس بھیج دی گئی لیکن اب پولیس نے خطرناک قاتل کی تلاش میں رات دن ایک کر دیئے ہیں۔ اس کو آلۂ قتل کی تلاش ہے اور اس کا خیال ہے کہ قاتل نے چاقو کسی قریبی جھیل میں پھینکا ہے اور وہاں تین جھیلیں ہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ جھیلوں کا سارا پانی نکال کر انہیں خالی کیا جار ہا ہے۔ 
میں نے ایک روز انٹرنیٹ پر ایک اخبار کھولا۔وہ اخبار ایک نام سے اردو میں اور مختلف نام سے انگریزی میں نکلتا ہے۔ میرے سامنے جو صفحہ کھلا اس کا دایاں حصہ اردو میں اور بایاں حصہ انگریزی میں تھا۔ دونوں میں سب سے اوپر ان کی شہ سرخیاں تھیں۔ اردو حصے کی سب سے بڑی خبر یہ تھی۔’’دشمن نفاق اور انتشار پھیلانے میں سرگرم ہے۔ صدر ممنون حسین‘‘اور اس ادارے کے انگریزی اخبار کی شہ سرخی کچھ یوں تھی۔ ’’کراچی۔ منگھوپیر سے سات لاشیں برآمد ہوئی ہیں‘‘۔یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ہمارے نزدیک کون سی بات زیادہ اہم ہے۔ایک سیاستدان کے وہ گھسے پٹے فقرے جو صبح شام کانوں میں ڈالے جاتے ہیں اور وہ بھی کسی اور کے لکھے ہوئے، یا پھر آدھے درجن سے زیادہ شہریوں کا قتل اور وہ بھی پراسرار؟ کس نے مارا، کیسے مارا اور کیوں مارا، یہ ہماری ترجیحات میں نیچے آتا ہے اور وہ بھی بہت نیچے۔ اس کے بعد یہ واقعہ کہیں وقت کے غبار میں دب کر رہ گیا اور قاتل ملک کے ہجوم میں نہایت آسانی سے گم ہو گیا۔پکڑا بھی گیا تو کچھ روز بعد ہی شہر کی سڑکوں پر سینہ تان کر گھومتا نظر آیا۔یہ اندازِ فکر چند افراد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔۔ ایک شخص کی ہلاکت پوری انسانیت کی ہلاکت ہے۔ جس کتاب میں یہ ہیرے اور موتی میں تولی جانے والی بات لکھی ہے وہ کتاب جھوم جھوم کر پڑھنے ہی کے کام آتی ہے اور بس''۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭
نوٹ: وہ  دوست  جو  رضا علی عابدی  کا  پورا  کالم  پڑھنا  چاہیں، درج  ذیل لنک  پر  جائیں ۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...