Saturday, March 8, 2014

" عورت میں ہمت "

منجاب فِکرستان : 8مارچ  خواتین کا عالمی دن
 
خالق نے مرد کو جسمانی طاقت زیادہ دی ہے جبکہ ہمت کی طاقت عورت کو زیادہ دی ہے،ظلم سہنے کی ہمت کا
 روپ عافیہ صدیقی ،شجاعتی ہمت کا روپ  چاند بی بی، جھانسی کی رانی، ڈاکو پن میں ہمت کا روپ پھولن دیوی: (ایک
 دیہاتن نے حکومت کو ناک چنے چبوادِیئے)۔ ہمت کی ایک اور مثال :اگر عورت بیمار ہوکر پڑ جائے تو اُس کے
کان کے قریب جاکر کہیں بیگم شاپنگ کیلئے جانا ہے۔ وہ اُٹھ کر پرس اور میک اپ کا سامان ڈھونڈنے لگے گی ۔ 
آزمودہ نسخہ ہے جب چاہیں آزمالیں ۔۔۔ 
"ا حتجاج کا میدان ہو یا کھیل کا، یا ہو کوئی شاپنگ سینٹر خواتین ہر جگہ اکٹیو ملیں گی"
  
اب ہم عورت کے اُس عظیم ترین روپ کا ذکر اِس وڈیو میں کریں گے ۔۔۔اِس روپ کو دیکھنے کیلئے آپکو صرف یہ کرنا ہے کہ آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں اور اپنی ماں کو تصور مین لائیں ،سب کچھ بھول جائیں وڈیو کے بولوں میں کھو جائیں ۔۔۔مجھے اجازت دیں۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔                                                                                        
 
نوٹ: بلاگ ذاتی،خیالات و احساسات کا اظہار ہے، اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Thursday, March 6, 2014

جنسی حملوں کا گراف بلند کیوں ہورہا ہے؟؟

 منجانب فکرستان 

زمین پر چلتی بس ہوکہ فضاء میں تیرتا جہاز یہاں تک کہ اُوپر جاتی لفٹ ہوکہ نیچے آتی ،یہ حملہ ہوجاتا 
ہے،  دُنیا میں اب کوئی جگہ  ایسی  خالی بچی نہیں رہی کہ: جہاں پر  اس طرح کے حملوں نہ ہوتے ہوں 
،سوال یہ ہے کہ : آجکل کے مردوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ وہ نہ چلتی بس دیکھتا  ہے، نہ اُڑتا جہاز، نہ 
معاشرے کی طرف دیکھتا ہے نہ قانون کی طرف اور نہ  ہی اپنی 61 سالہ ڈھلتی عُمر کی طرف دیکھتا 
ہے۔۔ آخر اِس اندھے پن کی کیا وجہ ہے ؟؟ کیوں ان حملوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ؟؟ 
 اِن سوالوں کے جوابات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ میرے نزدیک اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں، ایک میڈیا اور دوسری وجہ خود عورت ہے۔۔۔۔ ہر قسم کا میڈیا  رات دن جنسی ترغیبات دیتا رہتا ہے، یوں انسان اصول ہپناٹیزم کے زیر اثر آجاتا ہے ۔۔۔۔۔سونے پہ سہاگہ عورتیں ایسا لباس پہنتی ہیں کہ جس سے جسمانی خدوخال نظر آتے ہیں ، سولہ سنگار کرتی ہیں گویا  پورا سامان تیار ہے مرد کے جنسی جذبات کو  بھڑکانے کا ۔میڈیا کی ترغیباتِ جنسی اور عورت کا حشرسامانیانِ جنسی تیج پال (تہلکہ ڈاٹ کام کے بانی مدیر ) جیسا شریف بااخلاق،اصول پرست انسان بھی  بیٹی کی ہم عُمر  ساتھی صحافی پر جنسی حملہ کر بیٹھا ۔۔۔۔
میڈیا کی ترغیباتِ جنسی جہاں نوجوان کو جنسی شوقِ تجسس میں مبتلا کرتی ہیں، وہیں بڑوں کو بھی ورغلاتی ہیں ۔۔۔میڈیا پوری دُنیا کو جنسیات کی آگ میں جھونک رہا ہے، انگریزی فلمیں تو رہیں ایک طرف، بھارت کی ہندی (اردو) فلموں کی پہچان بھی  ہاٹ سین ، ہاٹ ڈانس ہیں اور تو اور مذہبی سائٹس پر بھی یہ آگ نظر آتی ہے، اور کلک کرو کہتی ہے، تب یوں لگتا ہے جیسے یہ آگ منہ چُڑاکر کہہ رہی ہو کہ: بچ کے کہاں جاؤ گے بچو: جہاں  بھی جاؤگے ، وہیں مجھے پاؤ گے ۔۔۔ غرض کہمیڈیا کی ترغیباتِ جنسی اور عورت کی حشرسامانیانِ جنسی (لباس میک اپ) مل کر  جنسی حملوں کے گراف کو بڑھاوا دے رہے ہیں ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔  
نوٹ: بلاگ ذاتی دلچسپیوں، خیالات و احساسات  کی شیئرنگ ہے، اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      
   

   

" دُنیا میں پھیلتا ناسور "

منجانب فکرستان  
"سروں کے مینار سجانا درج بالا ظلم و بربریت کے آگے" ہیچ "ہے"
پوری کائنات میں اس نوعیت (ہیئت) کی غیر انسانی ظلم و بربریت کی کوئی دوسری مثال
 موجودنہیں ہے۔۔۔
امیرو غریب کے درمیان بڑھتے فرق کے ساتھ غیر انسانی  ظلم و بربریت کا یہ ناسور بھی 
بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے۔۔۔ایسے میں کوئی حِساس شاعر شکوہ کر بیٹھتا ہے ۔۔
 "دُنیا بنانے والے: کیا تیرے من میں سمائی: کاہے کو دُنیا بنائی؟؟ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Wednesday, March 5, 2014

"بلا عنوان "

منجانب فکرستان 
 وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ = ایک رنگ درج ذیل ہے۔
  چھوٹے بچے،سمجھ نہیں پارہے تھے،بڑوں کا دھاڑیں مار کر یوں رونا دیکھ کر ڈر گئے سمجھے کہ:اب
 کوئی بڑی آفت آنے والی ہے ۔۔۔زور زور سے چیخیں مار کر رونا  شروع کردیا۔۔۔
 لطیفہ: دیدی آپ نے کہا تھا جب تیری شادی ہونے والی ہوگی، تُجھے ایک گُر کی بات سمجھاؤں گی،
 اب میری شادی ہونے والی ہے مجھے وہ گُر کی بات سمجھاؤ نا۔۔
دیدی: دیکھ شوہر سے چھوٹا موٹا مطالبہ منوانا ہو تو ایک بار رونا پڑتا ہے اور اگر مطالبہ بڑا ہو اور شوہر مطالبہ پورا کرنے میں آنا کانی کررہا ہو تو ایک بار اور رونا پڑتا ہے۔۔۔ بس یہ گُر کی بات اپنے پلو میں باندھ لے ۔۔۔ 
نوٹ: بلاگ ذاتی دلچسپیوں، خیالات و احساسات  کی شیئرنگ ہے، اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

   

Tuesday, March 4, 2014

کس نے کیا کہا ؟؟

 منجانب فکرستان 
صوبائی ترجمان جماعت اسلامی جناب اسراراللہ نے  کہا  کہ اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر عمران خان نے نیٹو سپلائی
 کا دھرنا ختم کردیا،صحت کا انصاف پروگرام بھی حکومتی کی بجائے پارٹی پروگرام میں تبدیل کردیا،اتحادی حکومتیں
 اسطرح نہیں چلائی جاتیں ۔۔۔
جمشید دستی کے بارے میں جنگ کے کالم نویس جناب حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ:2010-11  کے بدترین سیلاب
 کی میڈیا کوریج کے دوران  میں نے دیکھا  کہ  ہر چیز ڈوب رہی تھی ، ایسے میں جمشید دستی جان کی پرواہکئے بغیر
 خود تیراکی کرکے عوام کی زندگیاں بچانے میں لگے ہوئے تھے " مزید آگاہی کیلئے کالم مکمل پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں۔۔۔
اخبار جنگ کے ہی ایک اور کالم نویس جناب عدنان رندھاوا اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ:" اراکینِ اسمبلی اور پارٹی قائدین کے کچھ کارنامے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں جو جمشید دستی والے الزامات کا احاطہ کرتے ہیں ، جی چاہتا ہے بلاجھجک تفصیل لکھ دوں، پھر سوچتا ہوں کہ اگر مجھ سے بھی ثبوت مانگ لئے گئے تو کہاں سے لائوں گا"۔۔
مزید آگاہی کیلئے  کالم مکمل  پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں۔۔۔ مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
جناب حذیفہ رحمان http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=176962 
 جناب عدنان رندھاوا  http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=177512
نوٹ: بلاگ ذاتی دلچسپیوں، خیالات و احساسات کے اظہار کا زریعہ ہے، اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Saturday, March 1, 2014

" مادی خوشی، روحانی خوشی" کون بنے گا کروڑ پتی"

 منجانب فکرستان
حالات سے باخبر رہنے کیلئے خبروں کی چلتی پٹیاں  دیکھتا ہوں، ورنہ  تو ایک عرصہ دراز بیت گیا : کسی قسم کا  کوئی
ٹی وی  پروگرام نہیں دیکھا۔۔کل بھی چینل بدل شغل میں مصروف تھا کہ"  کون بنے گا کروڑ پتی پر رُک گیا" یا 
یوں کہیں کہ حصّہ لینے والی نوجوان لڑکی کے بھولپن نے مجھے چینل تبدیل کرنے سے روک دیا، پروگرام دیکھا، 
مادی  خوشی، روحانی خوشی کو دیکھا !!۔۔
میں نے دیکھا  کم عُمر (نو جوان) بھولی بھالی لڑکی  25 لاکھ کا چیک جیت جاتی ہے، جس سے لڑکی کے چہرے پر خوشی کی جھلک نظر آتی  ہے ۔۔پیسہ یعنی مادی خوشی کی جھلک ۔۔۔ لیکن دل ہی دل میں وہ روحانی خوشی حاصل کرنے کیلئے۔۔۔ منصوبہ بندی بھی  کر رہی تھی ۔۔ بالآخر اُس نے امیتابھ بچن سے کہا سر میں آپ کے ساتھ رقص کرنا چاہتی ہوں، امیتابھ بچن نہ صرف قد میں بڑے ہیں، بلکہ اخلاقی قدر میں بھی  بُلند ہیں، اُنہوں نے لڑکی کی پیش کش کو قبول کیا ،۔۔۔ امیتابھ کے ساتھ رقص، لڑکی  کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی، رقص کرتے میں یہ دمک قابلِ دید تھی، بہت معصوم بُہت روحانی تھی ۔۔۔یہ ویسی ہی روحانی تھی، جیسے کسی  کیوٹ بچّے کو دیکھ کر انسان کے اندر جاگتی ہے جو دوسرے لمحے بچّے کو بھینچ لیتی ہے ۔۔۔ اِس روحانی خوشی کا مذہبی روحانیت سے کوئی تعلق نہیں  ہے ۔۔۔۔
ممکن  ہے کہ: قارئین دوستوں میں سے کسی دوست نے ہفتہ کے دن دُنیا چینل پر وہ شو اور اُس نوجوان لڑکی کا امیتابھ کے ساتھ کیا گیا  مختصر مگر خوبصورت رقص دیکھا ہو۔۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں جو محسوس کرتا ہوں،  وہ لکھ دیتا ہوں۔۔ اِس شو میں بھی لڑکی کے تاثرات و احساسات کو جیسا میں نے محسوس کیا ویسا لکھ دیا ۔اب اجازت دیں ۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 بلاگ: ذاتی دلچسپیوں، خیالات اور احساسات کے اظہار کا زریعہ ہے اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         

" پہلا پتھر وہ مارے"

منجانب فکرستان
جمشید دستی یا بدعتی سے ہر کوئی  یہ کہہ رہا ہے۔۔ اِدھر اُدھر جھانکنے سے پہلے، اپنے گریبان میں جھانکتے ۔۔
 یعنی:  پہلا پتھر وہ مارے ۔۔۔۔۔ اورکسی نے پتھر نہ  مارا ، کہانی ختم ۔۔ 

بشکریہ روزنامہ دُنیا لاہور
نوٹ: درج بالا باتوں سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...