Friday, February 7, 2014

" ان دیکھی طاقت "

منجانب فکرستان 
عزیز دوستو! انسان کی شخصیت کا یہ کیسا عجیب پہلو ہے کہ:جس راستے پر نہ چلنے کی قسمیں کھاتا ہے، وعدے کرتا 
ہے،اپنے آپ سے سنجیدہ عہد کرتا ہے، لیکن پھر اُسی راستے پر چلنے پر اپنے آپ کومجبور پاتا ہے ۔۔
 وہ کونسی طاقت ہے جو اِرادوں کو شکست دے دیتی ہے؟ قسموں، وعدوں اور سنجیدگی سے کئے گئے عِہدوں کو بھی
 کسی خاطر میں نہیں لاتی۔۔۔
مجاز یا منٹو کو ڈاکٹروں نے وارننگ دے دی تھی کہ اب وہ اسٹیج آگئی ہے شراب نہ چھوڑی تو زندگی تمہیں چھوڑ
 دے گی۔۔ اسکے باوجود اُنہوں نے شراب نہ چھوڑی، یوں زندگی اُنہیں چھوڑ کر چلی گئی۔۔
اسی طرح بعض حضرات سگریٹ نہ پینے کی قسمیں ،وعدے اور عہد توڑ کر سگریٹ پینے لگتے ہیں۔۔آجکل تو سگریٹ کے پیکٹوں پر سگریٹ پینے کے نقصانات بھی لکھے ہوتے ہیں۔۔
یہ ساری باتیں اسلئیے یاد آرہی ہیں کہ ہمارے جاننے والوں میں ایک کے جوان بھائی کو ہیروئن پینے کی لت ایسی پڑگئی تھی کہ:  نہ پینے کی قسمیں ،وعدے اور علاج سب بیکار ثابت ہوئے ۔۔۔یہ عادت بالآخر جان لیکر ہی ٹلی۔۔۔۔۔۔خُدا مغفرت فرمائیں ۔۔آمین ۔
دوستو: اس زبردست پُر اسرار اَن دیکھی طاقت کے بارے میںذرا غور تو کریں ، جو انسانوں کو نہ چاہتے راستوں پر چلواتی ہے، یوں یہ طاقت انسانی عقل ،پکے ارادے سب کو دُھول چٹواتی ہے۔۔۔میرا ایسا خیال ہے کہ اس زبردست طاقت نے ہر انسان سے کبھی نہ کبھی اپنی طاقت کا لوہا ضرور منوایا ہے، چاہے وہ انسان عقلی طور پر کتناہی طاقتور کیوں نہ ہو۔۔۔
بلکہ بعض دوستوں کا تو یہاں  تک کہنا ہے کہ: یہ ان دیکھی طاقت روز ہمیں ہمارے ارادوں کے برعکس ہمیں چلا تی ہے !!!        
 اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Monday, February 3, 2014

" امن " آمین"

منجانب فکرستان
معلوم نہیں کہ دُنیا کے دیگر ممالک کے لوگوں کا موضوعِ گفتگو کیا ہے؟؟لیکن پاکستان میں جہاں چلے جائیں
 ایک ہی لفظ سُنائی دیتا ہے وہ ہے "مذاکرات" پان کی شاپ ہو کہ دودھ کی دُکان یا پھر ہو کوئی آفس سب  
جگہیہی لفظسُنائی دیتا ہے۔۔یہاں تک کہ دودھ پیتا بچّہ بھی اپنی چمکتی آنکھوں کو اُچکا اُچکا کر اشاروں اشاروں  
میں ہنس کر ماں کو بتاتا ہے، مذاکرات ہو رہے ہیں ،ماں بھی مُسکرا دیتی ہے،،دُنیا کا حسین ترین رشتہ۔۔
توقع ہے کہ دیگر پاکستانی حضرات کی طرح دُعا کے اسپشلسٹ  عامر لیاقت صاحب بھی مذاکرات کی کامیابی کیلے خصوصی دُعا مانگ رہے ہیں ہونگے۔۔ہم بھی سر بسجود ہوکر خُدا سے دُعا گو ہوئے ہیں کہ پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے۔ 
 (آمین)
اب اپنے دوست کو اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }        

"مجبوری۔ اور۔ لطف اندوزی"

 منجانب فکرستان ٹیگز:  کانگریس؛ عآپ
کیجری وال نے نہ صرف کانگریسی وزراء کو بدعنوان ٹھرایا، بلکہ لگے ہاتھوں اسی طرح کا الزام راہول گاندھی
 پر بھی دھردیا ۔۔۔
کانگریس کے ساتھ اتنا سب کرنے کے باوجود کانگریس کیجری وال کو حمایت دینے پر مجبور ہے۔۔ اسی مجبوری
 کو کیجری وال انجوائے کر رہے ہیں :grin: :grin:۔۔۔
 کانگریس "عآپ" کو حمایت دینے پر کیوں مجبور ہے؟؟؟ وہ اسلئیے کہ اگر کانگریس اپنی حمایت واپس لے لیتی
 ہے،توایسی صورت میں جُگاڑو بی جے پی سے یہ خطرہ لاحق ہے کہ کہیں وہ حکومت نہ بنا بیٹھے اور اگر  بیجے
پی حکومت نہیں بھی بناپاتی ہے تو  بھی ایسی صورت میں دوبارہ الیکشن ہونگے جس کے صاف معنی اکثریت سے دوبارہ "عآپ" کی حکومت یقینی ہے۔۔۔اسی لیے تو کیجری وال بات بے بات کانگریس سے اکڑ کر کہتے ہیں اپنی حمایت واپس لے لو ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے ۔۔۔ہے نا سینے پر مونگ دلنے جیسی بات ۔۔۔۔  
کانگریس کو یقین سا ہے کہ آنے والے الیکشن میں اُنکی دال نہیں گلے گی، تاہم اُنکی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ: کسی طرح بھی ممکن ہو  بی جے پی حکومت میں نہ آنے پائے۔۔ شاید اِسی سوچ کے پیشِ نظرکانگریس" ننّھے بالک" عآپ" کے لاڈ اُٹھانے پر خود کو مجبور پاتی ہے ۔۔
اب اپنے دوست کو اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }        
     

Thursday, January 30, 2014

" خُدا اور انگوٹھا "

 منجانب فکرستان
 دوستو: پہلے کچھ عمران خان کے بارے میں:
 ایک بلاگر نے دوران الیکشن لکھا تھا:عمران خان کے حمایتی احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں،اب سوچتا ہوں شاید
 ٹھیک ہی لکھا تھا:مثلاً کئی کالم نگاروں نے لکھا تھا کہ جماعت اور عمران کی سوچ میں تضادموجودہے ملکر حکومت
 بنانا عمران کا احمقانہ فیصلہ ہے۔۔۔
مزید احمقانہ پن یہ کہ کے پی کے کی حکومت سے اپنی برہمی کا اظہارکر کے جہاں وہ اپنی ساکھ خراب کررہے
 ہیں،وہیں یہ پیغام بھی دے رہے ہیں،جیسےاب پارٹی پر اُنکی گرفت نہیں رہی۔۔مزید یہ کہ دُنیا نیوز کےمطابق
تحریک انصاف کےضلعی صدر جناب رانا نعیم خان نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ میں کارکنوں سے خطاب کے دوران بتایا کہ کے پی کے کی حکومت بلدیاتی انتخابات سے فرار چاہتی ہے ۔۔۔۔دوسری جانب حمزہ شریف طعنے دے رہے ہیں خان صاحب کچھ کرکے دکھاؤ۔۔۔۔ایسے میں پی ٹی آئی کے ہمدردوں میں مایوسی کا پھیلنا  قدرتی بات ہے۔۔۔ 
 ٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
انگوٹھے پر ایسی چوٹ لگی کہ انگوٹھے کو باندھنا پڑا ۔۔۔لیکن بِنا انگوٹھا اُنگلیاں بے معنی ہوگئیں، گویا اِن اِنگلیوں میں معنی انگوٹھا ہی ڈالتا ہے ،بلکہ ذرا سا غور کرنے پر معلوم ہُوا کہ پورا ہاتھ انگوٹھے بِنا اپنے معنی کھو بیٹھا ہے۔۔یعنی یہ چھوٹا سا انگوٹھا پورے ہاتھ کو معنی عطا کرتا ہے ۔۔۔یعنی خُدا کی حکمت و عظمت اِس چھوٹے سے انگوٹھے میں شاندار طریقے سے جلوہ گر ہے۔۔۔
 (بے شک جسمانی فنکشن کا ذرہ ذرہ اُسکی حکمت و عظمت کی گواہی ہے ) 
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
ایک پُرانا واقعہ گھر میں کوئی نہیں تھا انڈا فرائی کرنے کیلئے تیل گرم کیا، گرم تیل میں انڈا ڈالتے ہی تیل کا چھینٹا اُڑا کہ سیکنڈ کے ہزارویں یا لاکھویں لمحے میں پلک جھپک گئی اور گرم تیل کا چھینٹا پلک کے اُوپر پڑا ۔۔یہ سب کچھ اتنی سرعت سے ہُوا کہ اِس  کلکولیشن پر مولا کی شان نے مجھے حیرت زدہ کردیا،اگر پلک جھپکنے والی کلکولیشن میں سیکنڈ کے ہزارویں یا لاکھویں لمحے کا  بھی فرق آجاتا تو گرم تیل کا چھینٹا آنکھ کے اندر چلا جا تا اور میں اِس سوچ میں پڑگیا کہ اگر یہ پلکیں نہ ہوتیں تو کتنی ہی خواتین پکاتے میں اندھی ہوجاتیں ۔۔۔میں نے وائف کو سارا واقعہ سُنا یا تو اُسنے :grin: ہنس کر کہا: پتا چلا انڈا کیسے تلا جاتا ہے؟ پھر کہا یہ تو ہمارے ساتھ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟؟ ۔۔۔لو کرلو گل :grin: :grin:  
اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }        

Monday, January 27, 2014

" موت کا خوف "

منجانب فکرستان 
ہمارے دوست کے والد صاحب جن کی عُمر 75-80 کے قریب ہوگی، تمام ذمہ داریوں سے عہدہ براں
 ہوچُکے ہیں، بیوی بھی مر چُکی ہے، حج بھی کر چُکے ہیں، دُل میں درد اُٹھا، ٹیسٹ رپورٹوں نے دل کے
 وال خراب کی گواہی دی، یوں آپریشن ناگُزیر ٹھہرا۔۔۔جس دن وہ آپریشن کیلئے جارہے تھے ،اتفاق سے
 رشتے داروں کے ساتھ میں بھی انکے گھر میں موجود تھا، اُنکی حالت کافی خوف زدہ تھی ،ہر رشتے دار کا
 ہاتھ پکڑ   پکڑ  کر بار بار کہہ رہے تھے،دُعا کرنا میں بچ جاؤں، دُعا کرنا میں بچ جاؤں، اُنکا حد درجہ موت کا خوف اور جینے کی خواہش نے میرے ذہن کو خود کشی کرنے والوں کی جانب موڑ دیا کہ: وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کرلیتے ہیں۔۔۔ خودکشی کرنے والوں کے ذہنوں میں ہمارے دوست کے والد کی طرح کا مرنے کا خوف یا جینے کی آرزو والے جذبے کیوں دم توڑ دیتے ہیں؟؟
 ایک سوال اور وہ یہ کہ اعدادوشمار کے مطابق خودکشی کرنے والوں کی اکثریت تعلیم یافتہ اور مناسب آمدنی والے لوگ ہوتے ہیں، پھر ایسا کیوں کرتے ہیں ؟؟؟  یعنی یہ بھی ایک معمہ ہے، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔۔۔ ارے بڑے میاں کا قصہ تو رہ گیا!!!آپریشن تو کامیاب رہا لیکن بڑے میاں نے بیڈ اور دواؤں کی شیشیاں پکڑ لیں، بیڈ اور دواؤں کی شیشیاں پکڑنا گویا نئی بیماریوں کو جنم دینا ہے۔ بے انتہا کمزور ہوگئے ہیں ،ایسے میں بیوی کا نہ ہونا تکلیف دہ بات ہے، کس سے بات کریں، بہوؤں سے کیا کہیں؟؟ 
جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ،اِس آنے جانے کے بیچ ایک شاہکار ڈرامہ ہے :grin: :grin:۔۔  
اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }        


Sunday, January 26, 2014

"محبت کی سچّی کہانی "

منجانب فکرستان : کہانی کی تلخیص بمع تصاویر
دھلی کی رہائشی 15 سالہ" لکشمی" کو 32 سالہ شخص نے شادی کیلئے پرپوز کیا، انکار پر بھرے 
بازار میںچہرے پر ایسا مادہ پھینکا کہ چہرہ تیزی سے جلنے اور گلنے لگا،مدد کی پُکار پر مدد کو کوئی 
نہ آیا، جلد ہاسپیٹل پہنچ جاتی تو چہرے کو اتنا نقصان نہ پہنچتا ۔۔
واقعہ نے لکشمی کے دل میں مرد ذات کیلئے نفرت بٹھادی،لیکن قدرت کےاتفاق والے بھید کو 
 کون سمجھ پایاہے؟؟؟ لکشمی کی زندگی میں بھی، ایک ایسا ہی مسرت بھرا اتفاق "آلوک دکشت 
نامی وجیہہ نوجوان شخص کی صورت میں ظاہر ہُوا۔۔"آلوک معنی روشنی(سنسکرت)" اِس وجیہہ نوجوان صحافی نے لکشمی کی سیاہ زندگی میںروشنی بھردی۔۔ اسطرح لکشمی کیلئے بے معنی لفظ"محبت" بامعنی لفظ محبت میں ڈھل گیا۔۔۔۔۔اُنکی ملاقات تیزاب حملوں کی روک تھام مہم کی دوران ہوئی اور پھر وہ ایک دوسرے کےہوگئے۔۔
لکشمی کا کہنا ہے کہ میں نے دکشت کی زندگی میں بُہت سے رنگ شامل کئے ہیں، مثلاً پہلے وہ  سادے کپڑے پہنتے تھے، اب رنگین پہنے لگے ہیں، ہم نے سنڈریلا فلم دیکھی۔۔ میں نے دکشت کو بتا یا ہے کہ وہ ہی میرے لئیے سنڈریلا والے پرنس چارمنگ ہیں۔۔
 اکھٹے ساتھ رہتے، اِس جوڑے سے میڈیا والوں نے "شادی" کے بارے میں پوچھا، جسکا جواب دکشت نے یہ دیا کہ: ہم ساتھ رہیں گے، شادی نہیں کریں گے، چونکہ میں اسطرح کے سماجی بندھنوں کے سخت خلاف ہوں، تو پھر میں خود اِسکا حصّہ کیسے بن سکتا ہوں؟؟ جبکہ لکشمی کا کہنا ہے کہ: میں آلوک دکشت کے فیصلے کا احترام کرتی ہوں، اور اس پر عمل کرتی ہوں، لیکن مجھے یقین بھری امید ہے کہ ہماری دوستی، ہماری محبت، آہستہ آہستہ رنگ لائے گی اور  شادی کے بندھن میں بندھ جائے گی۔۔۔۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
دوستو:ذیل میں 3 تصاویر ہیں اگر کسی وجہ سے تصاویر اُڑ گئیں تو بی بی سی لنک پر جا کر دیکھ لیں۔۔۔ اب اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔ 
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }           
Laxmi

 یہ 8سال پُرانی تیزابی حملے سے پہلے کی تصویر ہے جب لکشمی 15 سال کی تھی، اب وہ 23 سال کی ہے۔ لکشمی کی یہ کہانی بی بی سی نے 22 جنوری 2014 کو شائع کی، یہ اُس کہانی کی تلخیص ہے مکمل کہانی کیلئے لنک پر جائیں: http://www.bbc.co.uk/news/world-asia-india-25773382 

Alok and Laxmi
    Laxmi and Alok Dixit

Thursday, January 23, 2014

"جنسیات اور تحقیقاتی حقیقت "

منجانب فکرستان 
خاتون کالم نگار "محترمہ انجم نیاز صاحبہ"نے اپنے کالم"خوبصورتی اورصحافت"میں ایک ایسی معمر خاتون
 صحافی کا تذکرہ کیا ہے،جنہوں نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ:جبحُسن اُن کا سا تھ چھوڑ نے لگے
 تو جنس مخالف کواپنی طرفمتوجہ کرنے کیلئے بُہت سے زیورات پہنیں۔جہاں تک جنس مخالف کو متوجہ
 کرنے کی بات ہے۔ اِس بارے میں محترم جناب ڈاکٹر عطاءالرحمان صاحب نے ناقابلِ تصور لیکن
 تحقیقاتی حقیقت یوں بیان کی ہے:
جہاں کیمیا "انسا نی جسم" کے ہر کام میں شامل ہے وہاں کیا یہ "جنسی روّیوں" پر بھی اثر انداز ہوتی ہے ؟؟
 بہت سے جانوروں کے معاملے میں یہ بات طے ہے کہ مخالف جنس کو اپنی جانب متوجّہ کرنے کے لئے کسی خاص کیمیائی اجزاء کا اخراج ہوتا ہے مثلاً مکھّیوں اور کیڑوں میں مخالف جنس کو اپنی طرف متوجّہ کرنے کا بڑا ہی پیچیدہ نطام ِ موجود ہوتا ہے جس میں ایک خاص ہار مون ("pheromones"). کا اخراج ہوتا ہے۔ ان کیمیائی اجزاء کے اخراج کی طرف کیڑوں کی حسّاسیت اسقدر زبردست ہوتی ہے کہ آپ کا دماغ چونکا دیگی۔مثال کے طور پر اگر ایک چھوٹی سی بوتل میں کسی خاص کیڑے کا ہارمون موجود ہو تو سات سے آٹھ میل دورسے پتنگا اور تتلی اس ہارمون کی کشش محسوس کر کے پھڑ پھڑانا شروع ہو جاتی ہیں۔اسی حسّاسیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مادہ کیڑوں کو پکڑنے کے لئے ان ہارمونز کا جال بچھایا جاتا ہے تاکہ ان کیڑوں کی افزائش ِ نسل کو روکا جا سکے۔انسانوں میں کیا ہوتا ہے؟ بہت سی آرائشِ حسن کی کمپنیاں اس جستجو میں لگی ہوئی ہیں کہ مخالف جنس کو اپنی طرف متوجّہ کرنے والی خوشبوئیں دریافت کر لیں ۔بلکہ کچھ کیمیائی اجزاء تو بنانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں جو کہ خواتین کومخالف جنس کی سمت کھینچتے ہیں۔مثال کے طور پر مردوں کی بغلوں سے خارج ہونے والا مرکّب ("androstadienone") خواتین میں دباؤ کے ہارمون ("cortisol")کو بڑھادیتا ہے جس کی وجہ سے خواتین مردوں میں کشش محسوس کرتی ہیں۔۔۔
۔(مکمل کالم پڑھنے کے خواہش مند  درج ذیل لِنک پر جائیں)۔
 ٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
۔"  یہ سب فطرت کے کھیل تماشے ہیں :grin: :grin:  عبثہوتے ہم بدنام ہیں "۔

 اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ  
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }            

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...