Monday, September 16, 2013

" غور طلب بات "

 منجانب فکرستان:ایس ایم ظفر ؛ اقتباس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئی ایم ایف سے 6.7  بلین ڈالر قرضے کی منظوری سے حکومتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔۔ اب 12 ارب ڈالر سے ایک نیا شہر تعمیر ہوگا ۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اِس قرض کو ادا کون کرے گا ؟؟ جواب ہے کہ ہمیشہ کی طرح تنخواہ دار مڈل کلاس اور غریب طبقہ ادا کرے گا۔۔ چونکہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ  تا  ہیلری کلنٹن  تک کہہ چُکی ہیں کہ پاکستان کے جاگیر دار اور امیر طبقے کی ایک بڑی تعداد ٹیکس نہیں دیتی ہے۔۔پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچّے کو 86 ہزار روپئے کا قرض ادا کرنا ہے ۔۔غریب کا بچّہ یہ قرض کیسے ادا کرے گا ؟؟
محترم جناب ایس ایم ظفر (سابق وزیر قانون) کی کتاب  سے بمع شُکریے کے مختصر اقتباس پیش ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
" اب ہمارے یہاں کوئی ادارہ ایسا دِکھائی نہیں دیتا جسے کرپشن نے مفلوج نہ کردیا ہو ۔۔جس طرح ایڈز کے وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سو بھیس بدل لیتا ہے اور نئے طریقوں سے اچانک حملہ کرتا ہے ،اسی طرح کرپشن نے بھی کئی رنگ بدلے ہیں نئے نئے انداز میں آگے بڑھی ہے " ۔کتاب کا نام ( پاکستان بنام کرپشن عوام کی عدالت میں صفحہ نمبر 10۔
  ۔درج ذیل لنک پر 15 ستمبر 2013 محترمہ انجم نیاز صاحبہ کا لکھا  کالم پڑھنے کے قابل ہے جو نئے تعمیرِ ہونے والے شہر پر روشنی ڈالتا ہے۔۔ اب  مجھے اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 http://e.dunya.com.pk/colum.php?date=2013-09-15&edition=LHR&id=16228_80042217
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, September 9, 2013

جاری رہے گی !!!۔

 منجانب فکرستان: ھیری ؛ زرداری ؛ مائیں: ولیم جیمز؛ سائنس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آسٹریلیا کےانتخابات میں ھیری (مگر مچھ) نے جب اپوزیشن لیڈر ٹونی کی تصویر کو اپنے منہ  میں لیا تو ٹونی کے سپوٹروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،گویا ٹونی کی جیت یقینی ہوگئی۔۔ہیری پر اعتقاد  کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض ووٹروں نے اخباری نمائندوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ چونکہ ہیری نے ٹونی کو منتخب کیا ہے اسلئیے ہم بھی ٹونی کوئی ہی ووٹ دیں گے۔۔بالآخر ہیری کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی ٹونی جیت گئے ۔۔۔ہیری زندہ باد
زرداری صاحب کے 5 سال تک بحثیت صدر رہ پانے کے پیچھے پیر اعجاز چوہدری  کے 5 سالہ ٹھیکے کا نام لیا جاتا ہے۔۔۔یہ بھی خبر آئی تھی کہ پیر صاحب تو مزید دو تین سال ٹھیکے میں اضافہ کرنا چاہتے تھے لیکن زرداری صا حب تیار نہیں ہوئے۔۔اور یہ بھی کہ الیکشن کے دوران پیر صاحب کے مشورے پر سمندر کے قریب رہنے کی وجہ سے سندھ میں حکومت بنانے میں پی پی کامیاب ہوئی ۔۔ورنہ یہ بھی ممکن نہ ہوتا ۔۔ پیر اعجاز زندہ باد
امریکی صدر رونالڈ ریگن بھی ایسی باتوں پر یقین رکھتے تھے ۔کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کوئی کام  کرنے سے پہلے پیش گوئی کرنے والوں کی رائے لیتے تھے۔۔ اور جو رائے وہ  دیتے تھے اُسی پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔۔۔
بالی ووڈ اداکاراور اداکارائیں فلموں کی کا میابی کیلئے مندروں، مزاروں میں جاکر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔۔  
مائیں فریاد کرتی ہیں کے بیٹے کے سسرالیوں نے بیٹوں پر ایسا کّچھ کرادیا ہے کہ۔۔ ماں کو بھول کر بیوی کا ہوگیا ہے۔۔
میرے جاننے والے کی نوکری چھوٹ گئی ہے ، ملاقات پر کہنے لگا نوکری ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے۔۔ لگتا ہے کسی نے کچھ کرادیا ہے (موصوف گریجویٹ ہیں) ۔۔
شادیوں میں رکاوٹ اور کاروبار میں بندشوں کا رونا تو ہمیشہ کا ہے ۔۔۔
 اپنے اطراف ایسی ہی باتیں دیکھ کر، سنُ کر، اور پڑھ کر۔۔ مشہور امریکی نفسیات داں پروفیسر ولیم جیمز کی کہی ہوئی بات پر یقین سا آنے لگتا ہے ۔۔۔  جو کہ میں نے کسی سے سُنی نہیں۔۔۔۔ پڑھی ہے۔۔ وہ یہ ہے کہ" انسان کتناہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوجائے ، سائنس کچھ بھی کہتی رہے۔۔۔آخری دور کے انسانوں تک ضعیف الاعتقادی جاری رہے گی"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔ آپکا بُہت شُکریہ 
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

Friday, September 6, 2013

نئے دور کے نئے رشتے

منجانب فکرستان: شاہ رخ خان پھوپھا جان 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بملا نے مُسکرا تے ہوئے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی سے پوچّھا: تمہارا نام کیا ہے ؟ شاید وہ بھی اسی انتظار میں تھی، جھٹ سے جواب دیا: پونم    
بملا تعریف کرتے ہوئے : واہ ، بڑا ہی پیارا نام ہے ، کس نے رکھا ہے ؟ 
پونم مسکراتے ہوئے : میری حیاتیاتی مما نے یہ نام رکھا ہے 
بملا چونکتے ہوئے : حیاتیاتی مما، میں کچھ سمجھی نہیں ۔۔۔( رشتوں کے حوالے سے حیرت زدہ کرنے  کیلئے پونم کو ایک اچّھا شکار مل گیا )۔
پونم نے مسکراتے ہوئے کہا : میری جینیاتی مما کو ڈاکٹروں نے اولاد کے نہ ہونے کا اندیہ دیا تو مما پریشان ہوگئیں پھر مما نے میری پیدائش( سروگیٹ مادر) کیلئے اپنی بہن کو تیار کیا یوں میری جینیاتی خالہ میری حیاتیاتی مما ہیں اور میری جینیاتی مما میری حیاتیاتی خالہ بھی ہیں ۔۔۔اب تو بملا کا سر۔۔مارے حیرت کے چکرانے لگا۔۔۔
پونم محظوظ ہوتے ہو ئے : چلو یہ بات میں شاہ رخ خان کے حوالے سے سمجھاتی ہوں شاہ رخ خان کی بیوی گوری نے اپنے بچّے کی پیدائش (سروگیٹ مادر) کیلئے اپنی بھابی کو تیار کیا یوںگوری کی بھابی اُس بچّے کی حیاتیاتی ماں ہیں  جبکہ گوری بچّے  کی جینیاتی ماں اور حیاتیاتی پھوپھی ہیں  اسی طرح شارخ خان اُس بچّے کے جینیاتی باپ اور حیاتیاتی پھوپھا  ہیں ۔۔۔پونم نت نئے رشتوں کے حوالے دیکر بملا کو مزید حیرت زدہ کرنے کے فُل موڈ میں تھی کہ اتنے میں انٹرویو کیلئے اُسکا  بُلاوا  آگیا  یوں  وہ بملا کو حیرت زدہ چھوڑ کو انٹرویو دینے چلی گئی ۔۔۔
 بملا کچھ سوچتے ہوئے من ہی،  من میں کہنے لگی : ھے بھگوان۔۔۔یہ سب کیا ہورہا ہے  ۔۔۔کیا یہ سب کّچھ تیری مرضی سے ہورہا ہے ؟؟؟   
نوٹ: نئے رشتوں کو جسطرح میں سمجھ پایا ہوں اُسی طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے اگر غلط ہیں  تو بزریعے تبصرہ نشان دہی کریں نوازش ہوگی۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

Monday, September 2, 2013

آشرم اور شرم

 منجانب فکرستان:: جنات : منتر : 5منٹ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارت کی فضاؤں میں ایسی کیا جِنس زدگی شامل ہوگئی ہے کہ جس کے سامنے اخلاق، مذہب، قانون ،سب بے بس نظر آتے ہیں ، اِسی لیے آئے دن نت نئے اسکینڈل سامنے آتے ہیں،جس میں عام آدمی تا ارکانِ پارلیمنٹ ،سنت ،سادھو،باپو تک ملوث پائے جاتے ہیں ۔۔
حالیہ اسکینڈل ایک ایسے 72 سالہ آسارام باپو  کا ہے کہ جِس کے لاکھوں پیروکار اورسیکڑوں آشرم تو ہیں، لیکن شرم نام کو نہیں ہے۔۔۔۔ڈوئچے ویلے سائٹ پر شائع رپورٹ کے مُطابق : 
"آسارام نے بچی کے والدین کو بتایا کہ بچی پر جنات کا سایہ ہے، لہذا اسے بچی سے اکیلے میں ملنے کی ضرورت ہے۔ اسکے بعد وہ لڑکی اور اس کے والدین کو ایک جھونپڑی کی طرف لے گیا اور والدین سے جھونپڑی کے باہر منتر پڑھنے کو کہا اور لڑکی کو اندر کمرے میں لے گیا اور وہاں مبینہ طور پر لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا"۔۔
زیادہ سے زیادہ 5 منٹ کے اِس عمل کیلئے سادھو نے: اپنی غیرت ۔۔مذہب کی تعلیمات۔۔ قانون کا احترام۔۔ عظمتِ انسانیت ۔۔اور اپنے لاکھوں پیروکاروں کا اعتماد سب کُچھ خاک میں ملا دیا ۔۔۔ 
خبر کی مزید تفصیل اگر پڑھنا چاہئیں تو لِنک پر جائیں ،اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, August 29, 2013

محبت کی مثلث

 منجانب فکرستان: خوار ہونا:باچھیں کھِلنا: چار بچّے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرد کو عورت سے محبت ہوگئی،عورت کو بھی ہوگئی ۔۔اِسی عورت سے ایک اور مرد کو محبت ہوگئی۔۔عورت کو اِس دوسرے مرد سے بھی محبت ہو گئی ۔۔ محبت  بھی ایسی کہ خاتون دونوں  میں سے کسی ایک کو چھوڑنے تیار نہیں ۔۔ کسی فیصلے پر پہنچنے  کیلئے صورتِ حال اتنی پیچیدہ ہوگئی کہ  دن پہ دن گذرتے چلے گئے یہاں تک 4 سال کا عرصہ گُذر گیا۔
تینوں نے سوچا کہ بہت خوار ہولئیے  ہیں اب اِس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہئیے ۔۔تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔۔ تینوں کی نیت صاف تھی اور اِس بات پر فوکس تھی کہ حل ضرور نکالنا ہے، یوں حل نکانے میں کامیاب ہوگئے  کہ قانونی دستاویز تیار کریں گے کہ دونوں مرد خاتون سے شادی کریں گے اور باری باری خاتون کے ساتھ رہیں گے اور ہونے والے  بچوں کے باپ دونوں مرد کہلائیں گے ۔۔۔
یہ حل اُنہیں ایسا سُوجھا کہ تینوں کی باچھیں کِھل گئیں ۔۔۔ البتہ افسوس اس بات کا ہُوا کہ یہی فیصلہ چار سال پہلے کر لیتے تو اب تک چار بچوں کے باپ  ہوتے۔۔  
درج بالا کہانی درج ذیل لنک پر حقیقی خبر سے متاثر ہوکر لکھی گئی ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

میرٹ قانونِ قدرت

 منجانب فکرستان: معیار؛ ثبوت؛ ناسور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عظیم درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فنڈ کی خاطر میرٹ کو نظرانداز کرکے کچھ داخلے دئیے گئے تھے،نتیجاً  ادارہ کا معیار گِرگیا۔۔ رپورٹ کے مطابق امیروں کے یہ نا اہل بچّے درسگاہ کی بدنامی کا باعث بنے ہیں (ایک خبر)
پاکستان اِسی قانونِ قدرت کی مار جَھیل رہا ہے، میرٹ کہ جگہ ہمارے بندے ہیں کہہ کر۔ ۔ نا اہل  لوگوں سے ادارے بھر دئیے گئے  ہیں ،اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نگراں حکومت جس کا کام صرف الیکشن کرانا تھا ، اُسنے بھی موقع کو غنیمت جان کر تھوک کے بھاؤ سے اداروں میں اپنے لوگوں کو لگایا تھا۔۔ 
جس طرح آکسفورڈ درسگاہ نااہل بچوں کے داخلوں سے بدنام ہوئی ہے ۔۔(خبر کی تفصیل آخر میں لنک پر ہے)  اسی طرح پاکستان کے اداروں میں نا اہل لوگوں کی بھرتیوں نے پاکستانی ادراوں کو تباہ کردیا ہے۔۔
 ثبوت: کئی سالوں سے کراچی کے حالات کو کنٹرول نہ کر پانا، ڈی آئی خان جیل کا واقعہ، کرپشن کا بڑھتا ہُوا ناسور اور جرائم کا تیزی سے بڑھتا ہُوا گراف کیا کم ثبوت ہیں ؟؟؟ 
گذشتہ 5 سالوں میں۔۔ قائم علی شاہ کی کار کردگی کیسی رہی ہے، سب کے سامنے تھی ۔۔اِسکے باؤجود تعلقات کی بنیاد پر اُنہیں آئندہسالوں کیلئے وزیراعلیٰ بنادیا  گیا۔۔۔ کر لو جو کرنا ہے !! ۔
میرٹ کا قانون انسانوں کا نہیں قدرت کا بنایا ہُوا ہے۔۔ اس لیے قدرت نے قانون توڑنے والوں کیلئے اِس میں سزا بھی رکھی ہوئی ہے۔ ۔ ۔سزا کا ثبوت: آکسفورڈ درسگاہ والی خبر اور پاکستان آپکے سامنے ہیں۔۔۔
میرٹ کا تناسبی  معیار ہی کسی ملک کی ترقی /تنزلی کا گراف ہوتا ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Tuesday, August 27, 2013

کوؤں کی ذہانت !!!۔

منجانب فکرستان: ذہانت؛آسمان؛ مثالیں: دوستی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپنے کوّے کی ذہانت کی علامتی کہانی "پیاسا کوّا " پڑھی ہوگی۔۔شاید آپنے کوّے کی وہ ذہانت بھی دیکھی ہو کہ جس میں وہ تنکوں کی مدد سے درختوں کے تنوں کے سوراخوں میں سے کیڑے نکال کر کھاتا ہے۔۔ اور شاید یہ بھی دیکھا ہو کہ گِدھوں کے دُموں میں ٹھونگیں مارکر گوشت کا ٹکڑا لے اُڑتا ہے۔۔تاہم ممکن ہے کوّے کی جس ذہانت کا ذکر میں کر رہا ہوں وہ شاید آپکی نظر سے نہ گُذری ہوں ۔۔
ہوتا یہ ہے کہ جب میں آزاد کبوتروں (جنگلی کبوتروں) کو باجرہ ڈالتا ہوں تو کچھ دیر بعد ایک دو کوّے بھی آجاتے ہیں۔۔اور پھر کبوتروں کو بھگا کر باجرے کے دانے منہ میں بھر لیتے ہیں اور پھر آسمان کی طرف منہ کرکے باجرے کے دانے اپنے پیٹ میں اُتار لیتے ہیں ۔کیا آپنے کبھی کوّؤں کو باجرہ کھاتے دیکھا ہے ؟؟
اِس کے علاوہ کوّؤں کے ذہانت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ سوکھی روٹی کا ٹکڑا کہیں سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور پھر  پانی کے اُس برتن میں ڈال دیتے  ہیں جو پرندوں کے پینے کیلئے رکھا  ہُوا ہے۔۔ پھر اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں ۔اور کچھ دیر بعد آکر جب سوکھی روٹی کاٹکڑا پانی میں پڑے پڑے نرم ہوجاتا ہے تو مزے لیکر کھاتے ہیں۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"تراشہ" بشکریہ  جنگ اخبار 
 واقعی کوّے بُہت ذہین ہوتے ہیں۔ ۔ آپکا کیا خیال ہے؟؟۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         



یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...