Tuesday, August 30, 2016

پہچان ۔۔۔

منجانب  فکرستان:
" فِضا " میں پہچان !!!
 عقل کہتی ہے ناممکن!!!  
  تحقیق کہتی ہے، اگر شک ہے تو  خود مشاہدہ کرلو 
 حدیثِ قدسی  " میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا "۔۔۔
 پہچان کیلئے،خالق نے نوعِ  انسانی میں ایسی کھوجی  فطرت ودیعت کی،جو کائنات کی  ہر  شے کے بارے میں سوال اُٹھاتی ہے،ابرکیا چیز  ہے، ہوا کیا  ہے؟
یہ سیمابی  فطرت انسان  کوکبھی تو  ذرے کا دل چیرنے پر اکُساتی  ہے ،تو کبھی خلُیے کے اندرجھانکنے کی ترغیب دیتی  ہے،،، انسان  جب اپنی  کھوجی فطرت کے تحت ذرے کا دل چیرتا  ہے یا  خلُیے کے نظام میں جھانکتا  ہے  تو اندر سے۔۔۔خُدا کی پہچان کی  صدا  صاف  سُنائی دینے لگتی ہے۔۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 دوستو،اب ذرا درج  ذیل بائیوجیکل پہچان  رنگ  پرغور  کریں ، جس نے مُجھے  یہ پوسٹ لکھنے کے ترغیب دی، ممکن  ہے آپ بھی کہہ اُٹھیں !
تیرے  رنگ رنگ تیرے رنگ رنگ
 ہر سو ہر جاہ  تیرے رنگ رنگ
  مُجھے اجازت دیں ۔پڑھنے  کا  شُکریہ  ۔۔۔۔
نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق یا اختلاف   کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
A study published in 2013 showed Alpine swifts can spend over six months flying without having to land.[7] All vital physiological processes, including sleep, can be performed while on air.
https://en.wikipedia.org/wiki/Alpine_swift

Wednesday, July 6, 2016

َِِِ" عیِد مُبارک "

 "۔۔۔۔اگرچہ یہ  سچ ہےکہ  عالمی واقعات نے اِنسان کے دل  کو  کرِچی کرِچی کر دِیا ہے،،،پھربھی "
عزیز  قارئین،بلاگرساتھی،سیارہانتظامیہ،اور مسلم اُمہ کو
  منِجانب  فکرستان

Paper Flower Bouquet
   ( ایم  ڈی۔نور )

Tuesday, June 7, 2016

۔92 سال جینے کیلئے !!۔

منجانب  فکرستان
 مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے، یہ دنیا ہویا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے۔
 لیکن جبلی تقاضا تو یہ ہےکہ جان کو کئی طرح کے روگ کیوں نہ لگے ہوں،پھر بھی خواہشِ دنیا کم نہیں ہوتی، ہر مرنے والا مزید  زندگی چاہتا  ہے۔۔تاہم مزید زندگی چاہنے  کے بھی کچھ دُکھ ہوتے ہیں،مثلاً  گلوکاری میں تقدس جیسا مقام حاصل کرنے والی لتا منگیشکر کو" نام نہاد گلوکارہ" کہے جانے کا دُکھ سِہنا  پڑا۔۔اِس ڈھلتی  عُمر میں، تمنے بھٹ جیسے لوگوں  کے  ریمارک تو  روح کوبھی دُکھی کر ڈالتے ہیں۔۔
 امریکی مصنف  Dan Buettner  کا دُکھ  یہ کہ سُپرقوم ہو  نے کے باوجود  اوسطاً سے 13سال پہلےمر جاتے ہیں۔  امریکا میں اوسط عمر 79 سال ہے،اُن کے حساب سے امریکیوں کواوسطاً 92 سال تک زندہ رہنا چاہیے، امریکیوں کی اوسط کو 92 سالہ بنانے  کیلئے  اُنہوں نے تحقیق بھی کی اور کتاب بھی لکھی ۔۔۔جسکی تفصیل کیلئے درج ذیل لنک ایڈریس پر  ۔۔۔۔
http://www.odditycentral.com/travel/ikaria-the-greek-island-of-longevity.html
نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ  رب  کی  مہربانیاں  رہیں}

Sunday, May 22, 2016

مرتے سمے ۔۔

غوروفکر  کیلئے !! منجانب فکرستان  
آپ کتنے فیصد؟ اِنسانی صفات کے حامل  ہیں۔۔   
یہ فیصلہ تواُس محتسب  کے ہاتھ میں ہے، جسے اِنسانی ضمیر کہتے  ہیں،اور جو لوگ  اعلیٰ  ضمیر  ہوتے ہیں وہ  اپنی تو کیا، اپنے کسی ساتھی یا دوست کی  جانب  سے  کسی  کمیونٹی کے خلاف  نا مناسب تبصرہ ہونے پر  خود اپنے  ضمیر پر بوجھ محسوس کرتے ہیں اور  اُنہیں  مرتے سمے بھی ضمیر کی خلش  محسوس ہوتی ہے،جب تک  معافی نہ  مانگ لیں سکون سے مر بھی نہیں سکتے ۔۔اِسکی تازہ  مثال امریکی سینیٹر باب بینئٹ ( Senator Bob Bennett)  کی  ہے۔۔
بسترِ مرگ پر پڑے ریپبلکن سینیٹر باب بینئٹ نے اپنی موت سے چند گھنٹے پیشتر اپنے عزیزوں سے کہا کہ اس ہسپتال میں اگر کوئی مسلمان ہے تو اُس سے  میری  بات کرائو، جس پر  ہسپتال میں موجود ایک مسلمان خاتون اُنکی مُلاقات کرائی گئی تو اُنہوں نے  خاتون  سے اپنی پارٹی کےریپبلکن  صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف دیئے گئے بیانات پر معافی  چاہی۔۔۔
 اور  دُنیا سے کُوچ   کر گئے ۔۔۔ذرہ  ہو کہ آفتاب،سب کا  مُقدر کوُچ کرنا ہے۔۔
مکمل آگاہی  کیلئے لنک پر جائیں۔۔۔۔ میری  رائے ہے کہ لنک پر ضرور جائیں۔۔  
http://www.nbcnews.com/politics/2016-election/gop-senator-bob-bennett-apologized-muslims-trump-while-deathbed-n576566
نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ  رب  کی  مہربانیاں  رہیں

Wednesday, May 11, 2016

کُچھ " تصورِخُدا " کے بارے میں۔

منجانب  فکرستان
 مقتول  بنگلہ دیشی  پروفیسر  رضاالکریم صدیق   کی بیٹی نے  بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد خدا انکاری نہ تھے، وہ خُدا پر یقین رکھتے تھے ۔
یقیناً رکھتے ہوں گے اسلئے کہ انسانی ذہن  کیلئے  یہ بات مشکل ہے  کہ وہ  خُدا  اِنکاری ہو ۔۔۔تاہم گوتم بدھ نے بغیر خُدا  فلسفہ/مذہب  متعارف کرایا،  لیکن  گوتم کے مرنے  پر  پیروکارں نے اُسے ہی  دیوتا بنادیا۔۔۔کیوں کہ  یہ انسانی ذہن کی مجبوری  ہے۔
بعض  اشخاص  اپنے حاصل مطالعے کی بنیاد پر اپنا  تصورخُدا تشکیل  دے لیتے ہیں اور اپنے  تئیں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے ایک اعلیٰ فہم تصورخُدا  تشکیل دے لیا ہے، لیکن  ذرا سا غور کرنے پر اسِ  تصور خُدا  میں  سےبھی وہی مذہبی خُدا والی  صفات  صاف نظر آنے  لگتیں  ہیں۔۔۔
 اِس لئے کہ  کائنات میں  بغیر  صفت کسی  چیز کا تصورممکن نہیں تو تصورخُدا بغیر صفت خُدا کیسے ممکن ہوسکتا ہے 
سائنسدان  بھی خُدا انکاری نہیں ہوتے البتہ  اپنے  سائینسی ماحول اور سائینسی  فکر کے زِیراثر  کائنات میں  موجود مادہ/تونائی  کے  قوانینِ  ربط  کی  بنیاد  پر اپنے  تصور خُدا   میں کوئی  گریٹ  ڈزائنر تک پہنچا ، تو کوئی  کائناتی ذِہن تک پہنچ سکا  ۔۔۔۔
   صوفی کا  تصورِ خُدا  وحدۃالوجود   ہو یا کہ وحدۃالشہود ، اس تصورِ  خُدا میں خُدا کی  تمام  صفات  ضم ہوجاتیں ہیں،اب جو  کچھ  بھی ہے  اللہ  ہی اللہ ہے   یا  جو بھی  نظر  آرہا ہے  سب  اللہ   ہی  ہے  اِس کے  سوا  کُچھ بھی  نہیں ۔۔۔۔مادہ  ہو کہ  توانائی  سب  اللہ  ہی  اللہ ہے  ذرے  میں  دیکھو یا کہ  لہر  میں  اللہ ہی کو دیکھو گے۔۔۔   
   نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ  رب  کی  مہربانیاں  رہیں

Tuesday, March 22, 2016

دوستی کا اثر ؟؟۔۔

 منجانب فکرستان : برائے غوروفکر کیلئے  
 فلمی نغمہ : "اِک  لڑکی  کو دیکھا تو  ایسا  لگا " مارکیٹ میں آیا تو ایسا لگا جیسے شاعر نے رُومانس کی ماؤنٹ ایورسٹ  چوٹی  سرکرلی ہو ۔۔۔
جاوید اخترکی وجہ  شُہرت  رومانس  بھری  شاعری  ،تاہم  شبانہ  اعظمی  نے  اپنے  حالیہ  انٹرویو  میں کہا ہے  کہ اُنہیں  ایسا محسوس ہوتا  ہے، جیسے  جاوید میں تو  رومانس کی  ہڈی ہی  نہیں ہے۔۔۔۔اِسی طرح ریحام خاننے بھی  برطانوی جریدے  کو دئیے   اپنے انٹرویو  میں کہا  تھا   کہ عمران خان بالکل بھی رومانٹک نہیں ہیں ۔۔  عمران  خان  کے  حوالے  سے مان  لیتے  ہیں  کہ  پارٹی  کے معاملات  کی وجہ  سے  رومانٹک موڈ نہ بن پاتا ہو۔۔۔۔ البتہ جاوید اختر یعنی رُومانی  شاعر کے بارے انکی اہلیہ کا تبصرہ سوچنے والوں کو غوروفکر کی دعوت فراہم کرتا ہے  کہ  کہیں یہ  ساحر  کی دوستی کا  ذہن پر  پڑنے والا اثر تو نہیں ؟؟؟ جس نے کہا  تھا کہ۔۔
زندگی صرف مُحبت نہیں کچھ اور بھی ہے
زُلف و رُخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ہے 
بھوک اور پیاس کی ماری ہوئی اس دُنیا میں 
عشق ہی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ہے
----------------------------------------------------------------------------------------------------

نوٹ:پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
اب  مُجھے  اجازت دیں :  ہمیشہ رب کی  مہربانیاں  رہیں

Thursday, February 18, 2016

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...