منجانب فکرستان
مقتول بنگلہ دیشی پروفیسر رضاالکریم صدیق کی بیٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد خدا انکاری نہ تھے، وہ خُدا پر یقین رکھتے تھے ۔
یقیناً رکھتے ہوں گے اسلئے کہ انسانی ذہن کیلئے یہ بات مشکل ہے کہ وہ خُدا اِنکاری ہو ۔۔۔تاہم گوتم بدھ نے بغیر خُدا فلسفہ/مذہب متعارف کرایا، لیکن گوتم کے مرنے پر پیروکارں نے اُسے ہی دیوتا بنادیا۔۔۔کیوں کہ یہ انسانی ذہن کی مجبوری ہے۔
بعض اشخاص اپنے حاصل مطالعے کی بنیاد پر اپنا تصورخُدا تشکیل دے لیتے ہیں اور اپنے تئیں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے ایک اعلیٰ فہم تصورخُدا تشکیل دے لیا ہے، لیکن ذرا سا غور کرنے پر اسِ تصور خُدا میں سےبھی وہی مذہبی خُدا والی صفات صاف نظر آنے لگتیں ہیں۔۔۔
اِس لئے کہ کائنات میں بغیر صفت کسی چیز کا تصورممکن نہیں تو تصورخُدا بغیر صفت خُدا کیسے ممکن ہوسکتا ہے
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف کرنا آپ کا حق ہے ۔۔
مقتول بنگلہ دیشی پروفیسر رضاالکریم صدیق کی بیٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد خدا انکاری نہ تھے، وہ خُدا پر یقین رکھتے تھے ۔
یقیناً رکھتے ہوں گے اسلئے کہ انسانی ذہن کیلئے یہ بات مشکل ہے کہ وہ خُدا اِنکاری ہو ۔۔۔تاہم گوتم بدھ نے بغیر خُدا فلسفہ/مذہب متعارف کرایا، لیکن گوتم کے مرنے پر پیروکارں نے اُسے ہی دیوتا بنادیا۔۔۔کیوں کہ یہ انسانی ذہن کی مجبوری ہے۔
بعض اشخاص اپنے حاصل مطالعے کی بنیاد پر اپنا تصورخُدا تشکیل دے لیتے ہیں اور اپنے تئیں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے ایک اعلیٰ فہم تصورخُدا تشکیل دے لیا ہے، لیکن ذرا سا غور کرنے پر اسِ تصور خُدا میں سےبھی وہی مذہبی خُدا والی صفات صاف نظر آنے لگتیں ہیں۔۔۔
اِس لئے کہ کائنات میں بغیر صفت کسی چیز کا تصورممکن نہیں تو تصورخُدا بغیر صفت خُدا کیسے ممکن ہوسکتا ہے
سائنسدان بھی خُدا انکاری نہیں ہوتے البتہ اپنے سائینسی ماحول اور سائینسی فکر کے زِیراثر کائنات میں موجود مادہ/تونائی کے قوانینِ ربط کی بنیاد پر اپنے تصور خُدا میں کوئی گریٹ ڈزائنر تک پہنچا ، تو کوئی کائناتی ذِہن تک پہنچ سکا ۔۔۔۔
صوفی کا تصورِ خُدا وحدۃالوجود ہو یا کہ وحدۃالشہود ، اس تصورِ خُدا میں خُدا کی تمام صفات ضم ہوجاتیں ہیں،اب جو کچھ بھی ہے اللہ ہی اللہ ہے یا جو بھی نظر آرہا ہے سب اللہ ہی ہے اِس کے سوا کُچھ بھی نہیں ۔۔۔۔مادہ ہو کہ توانائی سب اللہ ہی اللہ ہے ذرے میں دیکھو یا کہ لہر میں اللہ ہی کو دیکھو گے۔۔۔ نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف کرنا آپ کا حق ہے ۔۔
اب مُجھے اجازت دیں۔
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں}