Friday, November 9, 2012

خطباتِ اقبال

 منجانب فکرستان : سرن اور علامہ اقبال 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علامہ اقبال نے اپنے خطبات   The Reconstration Of  Religious Thought in Islam یا "تشکیلِ جدید الہٰیاتِ اسلامیہ" 1928تا 1929 میں مذہب اسلام اور سائنس علوم کے حوالے سے جو بات کہی تھی  وہی بات سرن والے بھی گذشتہ مہینےمنعقدہ سائنس اور دین مباحث کانفرنس  میں کی  ہے۔ یعنی سائنس اور مذہب میں ہم آہنگی ہو ۔۔علامہ اقبال نے ان خطبات میں قُرآنی آیات کے حوالوں سے  یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذہبِ اسلام اور سائنس علوم میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔۔۔ مکمل تفصیل کیلئے  لنکس پر جائیں
 ۔۔مجھے دیں اجازت ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی)


Wednesday, November 7, 2012

ماہرین غلط تجزیے کرتے ہیں ؟؟

منجانب فکرستان: ہندسے کیا کہتے ہیں؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تجزیہ کار کہتے تھے امریکی ووٹر میچیورڈ تعلیم یافتہ ہے،ووٹ دیتے وقت اقتصادی پالیسی کو پیشِ نظر رکھے گا، لیکن درجہ ذیل تناسبی ہندسے کچھ اور ہی حقیقت عیاں کرتے ہیں، جس کو ماہرین میں سے شاید ہی کسی نے پیش کیا ہو۔دیہی علاقے جوکہ قدیم روایات سے جُڑے ہوتے ہیں 60 فیصد لوگوں نے رومنی کو ووٹ دئیے اور صرف 38 فیصد نے اوباما کو دئیے،شہری علاقوں میں 60 فیصد لوگوں نے اوباما کو ووٹ دیئے  اور صرف 38 فیصد نے مسٹر رومنی کو دئیے۔۔۔
چرچ جانے والے 61 فیصد افراد نے رومنی کو ووٹ دئیےاور صرف 37 فیصد نے اوباما کو ووٹ دئیے جبکہ چرچ نہ جانے والے 62 فیصد افراد نے اوباما کو ووٹ دئیے اورصرف 34 فیصد نے رومنی کو دئیے ۔۔۔ انِ تناسبی ہندسوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ مقابلہ بنیادی طور پر پارٹی آئڈیالوجی یعنی کنزروٹیو سوچ اور لبرل سوچ کے درمیان تھا ۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کے سامنے اقتصادی یا خارجہ پالیسی بنیاد کی حامل نہیں تھی جبکہ ماہرین اس کو بنیاد قرار دے رہے تھے، لیکن نتائجی ہندسے اُن کی سوچ کی حمایت نہیں کرتے اِس  کے بجائے کنزر ویٹو اور لبرل سوچ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔ ۔ (ایم۔ڈی) 

Tuesday, November 6, 2012

آنگ سان سوچی

منجانب فکرستان: سُوچی کی نئی اخلاقیات؟  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 سوچی کو امن کا نوبیل ایوارڈ دیتے ہوئے کمیٹی کے ممبر فرانسس سجسٹیڈ نے  سوچی کو" کمزوروں کی طاقت" قرار دیا تھا، لیکن 3نومبر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمزوروں کی طاقت بننا تو درکنار سوچی نے  کمزور روہینگیا مسلمانوں کے حق میں بات کرنے تک سے  انکار کردیا اور ساتھ میں اخلاقیات کی نئی تشریح کی کہ  وہ  مظلوموں کے حق میں بول کروہ اپنی اخلاقیات کا غلط استعمال نہیں کریں گیں ۔۔۔ اُن کی اخلاقیات یہ ہے کہ ظالم اور مظلوم دو فریق ہیں  اس لیے کسی کے  بھی حق میں بولنا اخلاقیات کا غلط استعمال ہوگا۔۔  
خُدا جانے یہ کس قسم  کی اخلاقیات ہے جو ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہنے سے روکتی ہے؟؟؟ جبکہ اقوام متحدہ نے روہینگیا مسلمانوں  کو  دنیا کی مظلوم ترین  اقلیت کے زمرے میں رکھا ہے۔۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی رپورٹ کے مطابق  سوچی  کا مسلمانوں کو مظلوم نہ ٹھرانے والی تعصبی  اخلاقیات پر سخت قسم کی تنقید ہورہی ہے ۔۔۔۔
سوچی کی نئی اخلاقیات کے بعد۔  کیا سوچی امن  کا نوبیل انعام اپنے پاس  رکھنے کی حقدار ہیں ؟؟؟
مکمل تفصیل لنک پر ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Saturday, November 3, 2012

سینڈی کی توجیح

منجانب فکرستان: خُدا کی صفات کو متعارف کرانے کےمختلف انداز
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سمندری طوفان "سینڈی" سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ،جبکہ 90 سے زیادہ افرادہلاک بھی ہوئے ہیں ، ماہرین ماحولیات، ماحول کو خراب کرنے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ہمارے یہاں کے بعض کالم نگار تک اپنے کالموں میں اسکی توجیح گستاخانہ فلم سے جوڑ کر کر رہے ہیں کہ  گستاخانہ فلم بنانے یا  گستاخانہ فلم بنانے والوں کو سزا نہ دینے  پر خُدا نے سینڈی سمندری طوفان کے زریعے اُنہیں سزا دی ہے۔۔۔
 کالم نگار ایسی بات کریں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خُدا گستاخانہ فلم بنانے والے ملعونوں  کی سزا ایسے لاکھوں بے گُناہ افراد کو دے رہا ہے جِنکا اس فلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔  جبکہ فلم بنانے والے ملعونوں کو اس سمندری طوفان سے کوئی گزند تک نہیں پہنچتی ہے۔۔۔ ۔۔۔ کالم نگاروں پر انسانی شعور بلند کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔
اب دیکھیں  کہ انگریز دانشور نے اپنی قوم کو خُدا کی صفت کا  تعرف کس انداز میں کرایا ہے ۔ 
.God created the laws of nature and does not interfere with them 
اسکا نتیجہ سائنس دانوں نے کہا "سینڈی"  کا قانون دریافت کریں گے۔
بلاگ کے ہیڈر اور گھومتے گلوب کے نیچے بھی خُدائی صفاتی  تعرف موجود ہے۔۔۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔

Thursday, November 1, 2012

تتلیاں اور حُور

٭ منجانب فکرستان: پُروف: شک پرست:سائنس:وڈیو ٭
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 تمام اقِسام میڈیا نے مل کر انسانی ذہن کو ایسا بنادیا ہے کہ اگر کوئی جلتے توے پر بیٹھ کر کہے  کہ یہ بات/یہ واقعہ سچ ہے ، تو بھی کوئی سچ نہیں مانے گا مثلاً خادمِ پنجاب نے خدمتی جذبہ کےتحت ہاتھ میں پنکھا،بس میں سفراور خیمہ میں قیام تک کرڈالا لیکن میڈیا کا صرف ایک جملہ" ٹوپی ڈرامہ" نے سب پر پانی پھیر دیا ،ایسے غیر یقینی دور میں۔
 کوئی نیرو سرجن یہ کہے کہ اُس نے 7دن کومے کی حالت میںحقیقی جنّت دیکھی،تتلیاں دیکھیں، حُور دیکھی ، تو اِس بات کو ، کون مانے گا ؟ اور پھر اُنہوں نے اپنی جنّتی سیرکی تاثراتی امیج پر مبنی کتاب بھی لکھ ڈالی اور کتاب کا نام رکھا " پروف آف ہیون"۔۔۔
 نیرو سرجن ایک طرف تو اپنے آپ کو سائنس کے پیرو کار کہہ رہے ہیں ،تو دوسری طرف کومے کی حالت میں دیکھی گئی باتوں کو پروف آف ہیون  کہہ رہے ہیں !!
 سچی بات یہ ہے کہ میڈیا نے ہمارے ذہنوں کو شک پرست بنا ڈالا ہے۔۔( ملالہ جیسا صاف واقعہ بھی شک کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہے)۔۔اس لیے ذہن سے یہی آواز آئے گی کہ نیرو سرجن کتاب لکھ کر اپنے 7دن کومے کے زریعے کیش بٹورنا چاہتے ہیں۔۔ممکن ہے ایسا نہ ہو۔۔لیکن ہم کیا کریں ۔۔
میڈیا نے ہمارا" مائنڈ سیٹ" ایسا ہی بنا دیا ہے :grin:۔:sad:۔۔
اب اجازت دیں۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی) 



Monday, October 29, 2012

سروے کلچر ۔

منجانب فکرستان: جبکہ ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں !!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ترقی یافتہ معاشروں میں بات بات پر سروے ہوتا ہے، پچھلے دنوں میں نے ڈاکو مینٹری چینل پر  اِس بات پر سروے دیکھا کہ انسان ایک دن میں کتنی گیس خارج کرتا ہے،سروے یہاں تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اس سروے میں اِس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ آیا عورت گیس زیادہ خارج کرتی ہے کہ مرد گیس زیادہ  خارج کرتا ہے۔۔۔
ہمارے ُملک میں سروے کلچر نہیں ہے اس لیے میں سمجھتا تھا کہ یہ کیا فضولیات ہے کہ فضول قسم کی باتوں پر سروے ہو، لیکن غور کرنے پر معلوم ہُوا کہ ترقی یافتہ معاشروں کے انسانوں کے ذہنوں پر اس سروے کلچر نے بڑ ے ہی مثبت اثرات مرتب کئے ہیں، سروے کلچر نے وہاں کے لوگوں  کے ذہنوں کو کھوجی تجسس میں مبتلا کردیا اُن کے ذہن ہر بات کی اصلیت  جاننے کے تجسس میں پڑ کر کھوجی بن جاتے ہیں،۔۔۔یوں انکا ذہن/ ذہنی ارتقائی عمل  میں بہتر انداز میں ترقی کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
جبکہ ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں ۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔۔۔ (ایم۔ڈی)

Saturday, October 20, 2012

دنیا کا " امن " مسلسل برباد ہو رہا ہے ۔

 منجانب فکرستان:سوشل میڈیا، طالبان، امریکہ،امن، فاتح ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخابات کے دنوں میں لیڈر برائیوں کو ختم کرنے کے وعدے کرتے ہیں،سابقہ انتخابات میں اوباما نے امریکی ظلم کا نشان اور انسانی حقوق پامالی کا سیاہ دھبہ "گوانتا نامو بے" کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن انہوں نے وعدے کو وفا سے ہمکنار آج تک ہونے نہیں دیا، اب پھر انتخابات کے دن آگئے ہیں اسلئیے اوباما بھی ایک بار پھر سابقہ وعدے کا اعادہ کر رہے ہیں ۔۔
متشدد وار اگینسٹ ٹیرر پالیسی نے امریکی چہرے کو بگاڑدیا ہے جسکی جھلک ملالہ واقعے پر سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں میں امریکہ مخالف جذبات میں دیکھی جاسکتی ہے ۔۔امریکہ شاید حیران ہو کہ ملالہ حملے کی ذمہ داری تو طالبان نے قبول کی، پھر سوشل میڈیا میں نفرت کا نشانہ امریکہ کیوں بن رہا ہے ؟؟۔آپکی یہ حیرانگی تب دور ہوگی جب آپ نوم چومسکی قبیل کے دانشوروں کی داشمندانہ باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کرنے والے مٹ جاتے ہیں ،جیسے آجکل ہنری کسنجر کی یہ پیش گوئی خبروں کی زینت بنی ہوئی کہ آئندہ دس سالوں میں اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا۔۔( اسرائیل کا تازہ ترین ظلم لنک پر ملاحظہ فرمائیں ) امریکہ کیلئے بہتر یہی ہے کہ اپنی اسرائیلی پالیسی اور  وار اگینسٹ ٹیرر پالیسی پر نظرثانی کرے، متشددانہ پالیسی ترک کرے چونکہ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ جواباً  بھی متشددانہ کاروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یوں دنیا کا  امن مسلسل برباد ہوتا جا رہا ہے۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...