Thursday, March 6, 2014

" دُنیا میں پھیلتا ناسور "

منجانب فکرستان  
"سروں کے مینار سجانا درج بالا ظلم و بربریت کے آگے" ہیچ "ہے"
پوری کائنات میں اس نوعیت (ہیئت) کی غیر انسانی ظلم و بربریت کی کوئی دوسری مثال
 موجودنہیں ہے۔۔۔
امیرو غریب کے درمیان بڑھتے فرق کے ساتھ غیر انسانی  ظلم و بربریت کا یہ ناسور بھی 
بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے۔۔۔ایسے میں کوئی حِساس شاعر شکوہ کر بیٹھتا ہے ۔۔
 "دُنیا بنانے والے: کیا تیرے من میں سمائی: کاہے کو دُنیا بنائی؟؟ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Wednesday, March 5, 2014

"بلا عنوان "

منجانب فکرستان 
 وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ = ایک رنگ درج ذیل ہے۔
  چھوٹے بچے،سمجھ نہیں پارہے تھے،بڑوں کا دھاڑیں مار کر یوں رونا دیکھ کر ڈر گئے سمجھے کہ:اب
 کوئی بڑی آفت آنے والی ہے ۔۔۔زور زور سے چیخیں مار کر رونا  شروع کردیا۔۔۔
 لطیفہ: دیدی آپ نے کہا تھا جب تیری شادی ہونے والی ہوگی، تُجھے ایک گُر کی بات سمجھاؤں گی،
 اب میری شادی ہونے والی ہے مجھے وہ گُر کی بات سمجھاؤ نا۔۔
دیدی: دیکھ شوہر سے چھوٹا موٹا مطالبہ منوانا ہو تو ایک بار رونا پڑتا ہے اور اگر مطالبہ بڑا ہو اور شوہر مطالبہ پورا کرنے میں آنا کانی کررہا ہو تو ایک بار اور رونا پڑتا ہے۔۔۔ بس یہ گُر کی بات اپنے پلو میں باندھ لے ۔۔۔ 
نوٹ: بلاگ ذاتی دلچسپیوں، خیالات و احساسات  کی شیئرنگ ہے، اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

   

Tuesday, March 4, 2014

کس نے کیا کہا ؟؟

 منجانب فکرستان 
صوبائی ترجمان جماعت اسلامی جناب اسراراللہ نے  کہا  کہ اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر عمران خان نے نیٹو سپلائی
 کا دھرنا ختم کردیا،صحت کا انصاف پروگرام بھی حکومتی کی بجائے پارٹی پروگرام میں تبدیل کردیا،اتحادی حکومتیں
 اسطرح نہیں چلائی جاتیں ۔۔۔
جمشید دستی کے بارے میں جنگ کے کالم نویس جناب حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ:2010-11  کے بدترین سیلاب
 کی میڈیا کوریج کے دوران  میں نے دیکھا  کہ  ہر چیز ڈوب رہی تھی ، ایسے میں جمشید دستی جان کی پرواہکئے بغیر
 خود تیراکی کرکے عوام کی زندگیاں بچانے میں لگے ہوئے تھے " مزید آگاہی کیلئے کالم مکمل پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں۔۔۔
اخبار جنگ کے ہی ایک اور کالم نویس جناب عدنان رندھاوا اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ:" اراکینِ اسمبلی اور پارٹی قائدین کے کچھ کارنامے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں جو جمشید دستی والے الزامات کا احاطہ کرتے ہیں ، جی چاہتا ہے بلاجھجک تفصیل لکھ دوں، پھر سوچتا ہوں کہ اگر مجھ سے بھی ثبوت مانگ لئے گئے تو کہاں سے لائوں گا"۔۔
مزید آگاہی کیلئے  کالم مکمل  پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں۔۔۔ مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
جناب حذیفہ رحمان http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=176962 
 جناب عدنان رندھاوا  http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=177512
نوٹ: بلاگ ذاتی دلچسپیوں، خیالات و احساسات کے اظہار کا زریعہ ہے، اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Saturday, March 1, 2014

" مادی خوشی، روحانی خوشی" کون بنے گا کروڑ پتی"

 منجانب فکرستان
حالات سے باخبر رہنے کیلئے خبروں کی چلتی پٹیاں  دیکھتا ہوں، ورنہ  تو ایک عرصہ دراز بیت گیا : کسی قسم کا  کوئی
ٹی وی  پروگرام نہیں دیکھا۔۔کل بھی چینل بدل شغل میں مصروف تھا کہ"  کون بنے گا کروڑ پتی پر رُک گیا" یا 
یوں کہیں کہ حصّہ لینے والی نوجوان لڑکی کے بھولپن نے مجھے چینل تبدیل کرنے سے روک دیا، پروگرام دیکھا، 
مادی  خوشی، روحانی خوشی کو دیکھا !!۔۔
میں نے دیکھا  کم عُمر (نو جوان) بھولی بھالی لڑکی  25 لاکھ کا چیک جیت جاتی ہے، جس سے لڑکی کے چہرے پر خوشی کی جھلک نظر آتی  ہے ۔۔پیسہ یعنی مادی خوشی کی جھلک ۔۔۔ لیکن دل ہی دل میں وہ روحانی خوشی حاصل کرنے کیلئے۔۔۔ منصوبہ بندی بھی  کر رہی تھی ۔۔ بالآخر اُس نے امیتابھ بچن سے کہا سر میں آپ کے ساتھ رقص کرنا چاہتی ہوں، امیتابھ بچن نہ صرف قد میں بڑے ہیں، بلکہ اخلاقی قدر میں بھی  بُلند ہیں، اُنہوں نے لڑکی کی پیش کش کو قبول کیا ،۔۔۔ امیتابھ کے ساتھ رقص، لڑکی  کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی، رقص کرتے میں یہ دمک قابلِ دید تھی، بہت معصوم بُہت روحانی تھی ۔۔۔یہ ویسی ہی روحانی تھی، جیسے کسی  کیوٹ بچّے کو دیکھ کر انسان کے اندر جاگتی ہے جو دوسرے لمحے بچّے کو بھینچ لیتی ہے ۔۔۔ اِس روحانی خوشی کا مذہبی روحانیت سے کوئی تعلق نہیں  ہے ۔۔۔۔
ممکن  ہے کہ: قارئین دوستوں میں سے کسی دوست نے ہفتہ کے دن دُنیا چینل پر وہ شو اور اُس نوجوان لڑکی کا امیتابھ کے ساتھ کیا گیا  مختصر مگر خوبصورت رقص دیکھا ہو۔۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں جو محسوس کرتا ہوں،  وہ لکھ دیتا ہوں۔۔ اِس شو میں بھی لڑکی کے تاثرات و احساسات کو جیسا میں نے محسوس کیا ویسا لکھ دیا ۔اب اجازت دیں ۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 بلاگ: ذاتی دلچسپیوں، خیالات اور احساسات کے اظہار کا زریعہ ہے اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         

" پہلا پتھر وہ مارے"

منجانب فکرستان
جمشید دستی یا بدعتی سے ہر کوئی  یہ کہہ رہا ہے۔۔ اِدھر اُدھر جھانکنے سے پہلے، اپنے گریبان میں جھانکتے ۔۔
 یعنی:  پہلا پتھر وہ مارے ۔۔۔۔۔ اورکسی نے پتھر نہ  مارا ، کہانی ختم ۔۔ 

بشکریہ روزنامہ دُنیا لاہور
نوٹ: درج بالا باتوں سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے

Thursday, February 27, 2014

کیا یہ چھوٹی خبر ہے؟؟ کیا یہ چھوٹا ہندسہ ہے؟؟

منجانب فکرستان 
کیا یہ ایک چُھوٹی خبر ہے ؟؟؟ "غور کا مقام ہے"

5 ہزار 400: کیا یہ ایک چُھوٹا ہندسہ ہے ؟؟؟ "غور کا مقام ہے"

بشکریہ روز نام جنگ کراچی

" یہ ہی قانونِ قدرت ہے "

 منجانب فکرستان 
مسئلہ کا  بر وقت حل نہ کرنا نئے مسائل پیدا کرتا ہے/مرض کا بروقت علاج نہ کرنا جان لیوا بھی بنتا ہے،" یہ ہی قانون قدرت ہے" ۔۔۔
 حکومت میں ہوں کہ اپوزیشن میں امیر طبقے کا آپس کا مفاداتی "غیر مری اتحاد ہوتا ہے" 
 بشکریہ دُنیا نیوز/ جنگ نیوز
نوٹ: درج بالامیرے خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...