Saturday, March 1, 2014

" مادی خوشی، روحانی خوشی" کون بنے گا کروڑ پتی"

 منجانب فکرستان
حالات سے باخبر رہنے کیلئے خبروں کی چلتی پٹیاں  دیکھتا ہوں، ورنہ  تو ایک عرصہ دراز بیت گیا : کسی قسم کا  کوئی
ٹی وی  پروگرام نہیں دیکھا۔۔کل بھی چینل بدل شغل میں مصروف تھا کہ"  کون بنے گا کروڑ پتی پر رُک گیا" یا 
یوں کہیں کہ حصّہ لینے والی نوجوان لڑکی کے بھولپن نے مجھے چینل تبدیل کرنے سے روک دیا، پروگرام دیکھا، 
مادی  خوشی، روحانی خوشی کو دیکھا !!۔۔
میں نے دیکھا  کم عُمر (نو جوان) بھولی بھالی لڑکی  25 لاکھ کا چیک جیت جاتی ہے، جس سے لڑکی کے چہرے پر خوشی کی جھلک نظر آتی  ہے ۔۔پیسہ یعنی مادی خوشی کی جھلک ۔۔۔ لیکن دل ہی دل میں وہ روحانی خوشی حاصل کرنے کیلئے۔۔۔ منصوبہ بندی بھی  کر رہی تھی ۔۔ بالآخر اُس نے امیتابھ بچن سے کہا سر میں آپ کے ساتھ رقص کرنا چاہتی ہوں، امیتابھ بچن نہ صرف قد میں بڑے ہیں، بلکہ اخلاقی قدر میں بھی  بُلند ہیں، اُنہوں نے لڑکی کی پیش کش کو قبول کیا ،۔۔۔ امیتابھ کے ساتھ رقص، لڑکی  کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی، رقص کرتے میں یہ دمک قابلِ دید تھی، بہت معصوم بُہت روحانی تھی ۔۔۔یہ ویسی ہی روحانی تھی، جیسے کسی  کیوٹ بچّے کو دیکھ کر انسان کے اندر جاگتی ہے جو دوسرے لمحے بچّے کو بھینچ لیتی ہے ۔۔۔ اِس روحانی خوشی کا مذہبی روحانیت سے کوئی تعلق نہیں  ہے ۔۔۔۔
ممکن  ہے کہ: قارئین دوستوں میں سے کسی دوست نے ہفتہ کے دن دُنیا چینل پر وہ شو اور اُس نوجوان لڑکی کا امیتابھ کے ساتھ کیا گیا  مختصر مگر خوبصورت رقص دیکھا ہو۔۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں جو محسوس کرتا ہوں،  وہ لکھ دیتا ہوں۔۔ اِس شو میں بھی لڑکی کے تاثرات و احساسات کو جیسا میں نے محسوس کیا ویسا لکھ دیا ۔اب اجازت دیں ۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 بلاگ: ذاتی دلچسپیوں، خیالات اور احساسات کے اظہار کا زریعہ ہے اِن سے  اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         

" پہلا پتھر وہ مارے"

منجانب فکرستان
جمشید دستی یا بدعتی سے ہر کوئی  یہ کہہ رہا ہے۔۔ اِدھر اُدھر جھانکنے سے پہلے، اپنے گریبان میں جھانکتے ۔۔
 یعنی:  پہلا پتھر وہ مارے ۔۔۔۔۔ اورکسی نے پتھر نہ  مارا ، کہانی ختم ۔۔ 

بشکریہ روزنامہ دُنیا لاہور
نوٹ: درج بالا باتوں سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے

Thursday, February 27, 2014

کیا یہ چھوٹی خبر ہے؟؟ کیا یہ چھوٹا ہندسہ ہے؟؟

منجانب فکرستان 
کیا یہ ایک چُھوٹی خبر ہے ؟؟؟ "غور کا مقام ہے"

5 ہزار 400: کیا یہ ایک چُھوٹا ہندسہ ہے ؟؟؟ "غور کا مقام ہے"

بشکریہ روز نام جنگ کراچی

" یہ ہی قانونِ قدرت ہے "

 منجانب فکرستان 
مسئلہ کا  بر وقت حل نہ کرنا نئے مسائل پیدا کرتا ہے/مرض کا بروقت علاج نہ کرنا جان لیوا بھی بنتا ہے،" یہ ہی قانون قدرت ہے" ۔۔۔
 حکومت میں ہوں کہ اپوزیشن میں امیر طبقے کا آپس کا مفاداتی "غیر مری اتحاد ہوتا ہے" 
 بشکریہ دُنیا نیوز/ جنگ نیوز
نوٹ: درج بالامیرے خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے

Tuesday, February 25, 2014

"میڈیا اورسرمایا " خطوں کو جہنم زار بنا رہا ہے "

منجانب فکرستان:66سال؛ پُھوک
میڈیا نے انسانوں کو کچھ زیادہ ہی ابلاغی  بنا دیا ہے۔۔۔میڈیا پر ہر مسئلے پر لا تعداد ذہنوں کی دھماچوکڑی مچتی ہے،
جس میں سے کئی طرح کے سچ برآمد ہوتے ہیں،یوں اپنے اپنے سچ کے  گروہ بن جاتے ہیں۔۔(جیسے مذاہب میں
 اپنےاپنے سچ کے فرقےپھر مفاداتی ممالک یا دشمن ممالک اِن گروہوں یا فرقوں پر سرمایا کاری کرتے ہیں،جس
 کا خمیازہ اُنممالک کی عوام کو بھگتنا پرتا ہےکہ جن ممالک کے حکمران طبقے کی نظر مُلکی اور عوامی مفادات کو بجائے
 صرف ذاتی مفاداتپر ہوتی  ہے، یہ عوامی و مُلکی مسائل سے چشم پوشی کرتے ہیں، یوں مُلکی و عوامی مسائل کے حجم کو بڑھا تے ہیں، عوام میں بیچینی پیدا کرتے ہیں، اِسی بیچینی کو مفاداتی ممالک اور دشمن ممالک  اپنے اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں، اس صورتِحال نے کئی خطوں  کو جہنم زار بنادیا ہے،  شام، عراق، مصر، نائجیریا، افغانستان، پاکستان وغیرہ کی عوام ہی جانتی ہے کہ وہ کس عذاب سے گُذررہی ہے ۔۔۔
 کیا یہ  پاکستانی حکمران طبقے کی مفاداتی ہوس نہیں ہے؟ جو مُلک کو چلانے کیلئے 66  سالوں میں مہنگائی بڑھا  بڑھا کر غریب سے دو وقت کی روٹی تو چھین لی، لیکن 66 سال سے اپنے طبقے پر ٹیکس نہ لگا سکی،صرف نوکری پیشہ کو ٹیکس کیلئے نچھوڑ نچھوڑکر اُسے"پُھوک" بنادیا ہے۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     

Sunday, February 23, 2014

" آئینِ اور شریعت "

 منجانب فکرستان 
 ای میل رابطہ دوستوں نے کہا ہے کہ : تلنگانہ پر لکھنا چھوڑیں پاکستان پر لکھیں۔۔  تو عرض ہے کہ : پاکستان میں جو بحث
 چل رہی ہے وہ سمجھ باہر ہے، مثلاً جتنے لوگ کہتے ہیں کہ  پاکستان کا آئین اسلامی ہے، اُتنے ہی لوگ انصار عباسی سمیت
 کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے۔۔۔ایف سی اہل کار وڈیو  پر حکومت نے سوال اُٹھایا کہ یہ کونسی شریعت ہے؟ جسکا جواب جماعت
 اسلامی کے منور حسن نے دیا کہ طالبان کے بچوں اورعورتوں کو قید میں رکھنا یہ کونسی شریعت ہے؟منور حسن نےحکومت
 سے کہا ہے کہ مذاکرات کی میز دوبارہ بچھائیں۔۔۔ 
February 22, 2014 - Updated 1230 PKT
راولپنڈی…پاک فوج کے ترجمان نے کالعدم تحریک طالبان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حراست میں کوئی خاتون اور بچہ نہیں ہے، طالبان دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کیلئے پروپیگنڈا کررہے ہیں۔آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں کہ طالبان رہنماؤں کی خواتین اور بچے سیکورٹی فورسز کے تحویل میں ہیں۔ترجمان نے اسے کالعدم طالبان کا پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کی باتوں کا مقصد ملک میں جاری دہشت گردی اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ خواتین اور بچوں کو کبھی بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔
 بشکریہ روزنامہ جنگ" نیٹ سائٹ"۔ (کاپی پیسٹ)۔

 بشکریہ روزنامہ جنگ 23 فروری  شہ سرخیوں  سے منتخب( کاپی پیسٹ)۔
 پشاور…امیرجماعت اسلامی منورحسن نے تجویز دی ہے کہ پاکستان مذاکرات کیلئے افغان طالبان سے مدد لے اور ملاعمرکے پاس اپنا وفد بھیجے،پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں،آپریشن سے لاکھوں لوگ بے گھرہوجائیں گے،فوجی آپریشن کے باعث پاکستان کا ایک حصہ بنگلادیش بن چکا ہے۔مذاکرات سے متعلق وزیراعظم خود آگے بڑھیں اور حکومتی اور طالبان کمیٹی کا اجلاس بلائیں۔منور حسن نے کہا کہ حالات سازگار ہوئے توحکومت اورطالبان میں براہ راست مذاکرات ہوسکتے ہیں، محب وطن لوگوں کو مذاکرات کیلئے حالات سازگار بنانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ 23 فروری "نیٹ سائٹ" ( کاپی پیسٹ)۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
جو لوگ پاکستان کے آئین کو اسلامی کہہ رہے ہیں وہ بھی ٹھیک ٹھاک اپنے دلائل دے رہے  ہیں اور جو پاکستان کے آئین کو غیر اسلامی ثابت  کر رہے ہیں وہ بھی خوب وزنی دلائل دے رہے ہیں ،جب اس قسم کی بحث چل رہی ہو، وزنی دلائل دئیے جا رہے ہوں۔۔ تو مجھ جیسے کو جو کہ اس موضوع پر کم معلوماتی ذخیرہ رکھتا ہو نہیں لکھنا چاہئیے۔۔۔کیا خیال ہے ؟؟ اب اجازت دیں۔۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
انصار عباسی  کے دلائل کا لنک: http://jang.com.pk/jang/feb2014-daily/20-02-2014/col1.html
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Saturday, February 22, 2014

" اِنٹرویو یا آؤٹرویو "

منجانب فکرستان: سنکی دانشور کا انٹرویو
ایم ڈی: محترم آپ انٹرویو دینے سے کتراتے کیوں ہیں؟
دانشور:انٹرویو یعنی میرےخیالات لیکن پوچھا کیاجاتاہے سبزی کونسی پسند ہے، خوشبو کونسی،موسم کونسا کے جوابات دینے
 سے  میری شخصیت کیسے آشکار ہوسکتی ہے ؟؟ جبتک کہ آپ وہ سوالات نہ پوچھیں  کہ جن کے بارےمیں ہرانسان سوچتا 
 ہے ، یعنی کائنات کے بارے میں،خُدا کے بارےمیں،جسم اور روح کےبارے میں ، حیات بعد موتکے بارے میں یا 
پھرخُدا انسانوں کےمعاملات میں  کتنا دخیل ہے؟مذاہب میںرائج عباداتی رسوم کے بارے میں،عباداتی رسوم کی اہمیت اور
 فائدے کے بارےمیں۔۔مذاہب میں فرقے در فرقے کیوں بنتے جارہے ہیں۔۔
 صوفی ازم کے بارے میں میرے خیالات جانتے، خُدا اور انسان کے تعلق کے حوالے سے میرے خیالات جانتے ۔۔۔میرے خیال میں تو جس شخص کا بھی انٹرویو  (اندرونی خیالات) لینا مقصود ہو اُسکی شخصیت جاننے کیلئے اِسی قِسم کے سوالات ضرور پوچھے جانے چاہئیں ۔۔۔اِن ہی سوالات کے جوابات  اُس انسان کی شخصیت کا انٹرویو کہلائےگا ۔۔۔دیگر قسم کے انٹرویو میرے نزدیک شخصیت کے انٹرویو نہیں آؤٹرویو کہلائیں گے۔۔۔
ایم ڈی : محترم میں آپ کا نقطہ نظر بالکل اچّھی طرح سے سمجھ گیا ہوں، میں آپ سے کوئی ایسا سوال نہیں پوچھوں گا، جو آپ کے نقطہ نظر سے آؤٹرویو کے زمرے میں آتا ہو۔۔۔بس آپ میرے ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دے دیجئے ۔۔۔وہ یہ کہ آپ کو پھول کونسا پسند ہے ؟؟
دانشور: لاحول ولاقوۃ ۔۔ اب میں یہاں ایک منٹ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔۔ آپ نے بھی وہی بیہودہ سوال کیا ہے۔۔۔
ایم ڈی : ارے جناب سُنئیے ۔۔۔سُنئیے تو سہی ۔۔ارے۔۔۔ارے۔۔۔ بھئی۔چلے کہاں ۔۔۔
 او ہو۔۔چلے گئے۔۔خُدا حافظ بھی نہ کہا :sad: ۔۔۔
دوستو:( outerview) ڈکشنری میں کوئی لفظ نہیں ہے۔۔۔لیکن اپنی بات واضع انداز میں آپ تک پہنچانے کیلئے انٹرویو کے مقابل آؤٹرویو کو استعمال کیا ہے۔۔  
 اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }       
   

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...