Thursday, November 28, 2013

لمحاتی لذتی جذبہ" عقل " کو" دُھول " چَٹا دیتا ہے۔

منجانب فکرستان
کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟؟ "امریکی صدر، اسرائیلی صدر،اٹلی کے وزیر اعظم، آئی ایم ایف کے سربراہ:اعلیٰ عقلی
 قابلیت کی بِنا پر اعلیٰ عُہدوں پر پہنچے (لیکن)لمحاتی لذتی جذبہ نے انکی عقلوں کو لمحہ بھر میں دُھول چَٹادی:سزا کی تفصیل
آگے آئے گی۔"ترون تیج پال"جس نے اپنے  اعلیٰ آدرش  اوربے باک صحافت کی بنیاد پر جریدے "تہلکہ" کو عُروج پر پہنچایا:
معاشرےمیں اپنی ایک صاف سُتھری شبیہہ بنائی:عزت، شُہر ت پائی: پھر ایسا ہُواکہ تیج پال کے ساتھ کام کرنے والی 
ایک صحافی لڑکی کے جسم نے لمحاتی لذتی جذبہ کو ایسا اُبھارا کہ عقل دُھول چاٹنے لگی:
 یوں لمحاتی جذبے نے تیج پال کی عزت، شُہر ت اور صاف سُتھری شبیہہ کو خاک میں ملا دیا، اب وہ بیٹی، بیوی، خاندان، دوست احباب اور معاشرے  کا سامنا کیسے کرے پائے گا؟؟
تیج پال کی بیوی اور بیٹی بھی اپنے دوست احباب سے کیسے آنکھیں ملائیں گی ؟؟۔۔۔ پھر متا ثرہ لڑکی اور اُسکا خاندان بھی  بِنا کئے جرم کی سزا کاٹیں گے  ۔۔۔۔۔۔ اے بھگوان : چند لمحوں میں یہ سب کیا ہوگیا ؟؟؟ میری مذہبی تعلیم، انسانی اخلاقیات ، خاندان کا خیال ، معاشرے کا خوف  یہ سب کے سب اُس لمحے کہاں چلے گئے تھے ؟؟؟ 
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
لمحاتی لذتی جذبہ نے سزا دی :
 بل کلنٹن کو پوری دُنیا کے سامنے رُسوا ئی اور شرمندگی  کا  سامنا کرنا پڑا۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
 سابق اسرائیلی صدر موشے کاٹساو  کو بدنامی کے ساتھ صدارتی عہدے سے استعفیٰ اور 7 سال قید جس میں سے 2سال بامشقت سزا ہوئی ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
اٹلی کے سابق وزیر اعظم بر لو سکونی کو 7 سال کی  سزا ہوئی تھی  یوں  سکونی بے سکونی ہُوا  ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کو استعفیٰ دینا پڑا ، جیل کی ہؤا کھانی پڑی اور فرانس کے صدر بننے کا خواب ٹوٹ کر چکناچور ہُوا ۔۔گو بعد میں عورت سے مُک مُکا ہُوگیا۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Sunday, November 24, 2013

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟؟؟

منجانب فکرستان:اب اوباما کے بیان کے اضافے کے ساتھ
نوٹ: ( دوستو )اوباما نے ایران سے جوہری معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے جواب میں جو کچھ کہا:
وہ اِس لکھی پوسٹ سے مِلتا جُلتا لگا :اسلئیے  بیان کو آخر میں شامل کیا گیا ہے۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭   
 لگتا ہے یہودی لابی کمزور پڑ گئی ہے۔ ورنہ زیادہ دن نہیں گُذرے کہ اسرائیل ا ور امریکہ دُنیا کو ایسا تاثر دے رہے تھے کہ :
ایران پر حملہ اب ہُوا کہ ہُوا۔۔اِس ممکنہ حملے کے بارے میں عام افراد تو رہے ایک طرف بعض دانشور و تجزیہ کار  بھی ایسے تبصرے کر رہے تھے کہ:
  جیسے ایران پر حملہ یقینی ہے َ۔۔اور اُس کے بعد کا نقشہ ایسا ہوگا ویساہوگا کی لن ترانیان سُناتے تھے ۔ ۔البتہ بعض ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ:
 امریکہ بُہادر کو جنگ  گلے لگانے کا اچّھا خاصا سبق مل چُکا ہے ۔۔ایران پر حملے کی بات صرف گیدڑ بھپکی کے سِوا  کّچھ نہیں ۔۔ یہی بات صحیح ثابت ہوئی ۔۔۔
  کیا امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لا رہا ہے ؟؟؟
بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے جسکا ثبوت ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے مابین جوہری ابتدائی معاہدہ طے پاجانا ہے۔۔معاہدے کے مطابق ایران کا یورینیم افزودگی کا پروگرام بند نہیں ہوگا: جاری رہے گا۔۔
بالکل اسی طرح شام پر امریکہ/ اسرائیل کا حملہ اب ہُوا کہ ہُوا کا تاثر دُنیا بھر کا موضوع رہا ہے ۔۔لیکن وہاں بھی جنگ سے بچا گیا ۔۔وہاں بھی معاہدہ طے پا  گیا ۔۔
ایران اور شام کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی گویا مشترکہ پالیسی تھی ۔۔۔لیکن ایران اور شام کے ساتھ۔۔۔ اسرائیل سعودی عرب  کی مخالفت کے باوجود معاہدے طے پاجانا ۔۔ گویا امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا واضع اشارہ ہے ۔۔۔ شاید دُنیا میں اب نئے اتحاد  وجود میں آئیں گے ۔۔۔۔۔اور اسکی وجہ ہوگی ۔۔
سکون محال ہے قدرت کے کار خانے میں٭ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭   
اوباما نے کہا: "ہم تشدد کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں نہیں پھنسنا چاہتے : شاید سیاسی طور پر سخت بات اور ہنگامہ کرنا آسان ہے : لیکن یہ ہماری سلامتی کیلئے ٹھیک نہیں ہے "۔ ( مزید تفصیل لنک پر)۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 




Thursday, November 21, 2013

" قاتلانہ کارستانی ۔۔۔ ماں چلی گئی "

منجانب فکرستان: پرندے : انسان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
چڑیا ، کبوتر، کوّے وغیرہ دن بھر دانے دُنکے  کیلئے زمین کا چپہ چپہ چھانتے ہیں۔۔
  لیکن چیلیں زمین پر خوراک تلاشتے نظر نہیں آتی ہیں:
 بادلوں کی طرح دن بھر آوارہ گردی آسمان پر ہی کرتی نظر آتی ہیں۔۔ 
 غذا زمین پر ہے بِنا غذا کیسے زندہ رہتی ہیں ؟؟ جبکہ انکا جسم چڑیوں، کبوتروں اور کوؤں سے بڑا ہے یقیناً غذا (توانائی)۔
 بھی زیادہ چاہئیے۔ گو کہ خُدا نے انہیں یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ پنکھ کو بِنا ہلائے پھیلا  کر ہوا میں تیر تی رہتی ہیں: یوں یہ توانا ئی کا استعمال کم سے کم کرتی ہیں۔۔
پھر بھی یہ الجھن تو اپنی جگہ باقی ہے کہ اتنے بڑے جسم کو غذا تو چاہئیے۔۔انکے بچوں کو بھی غذا چاہئیے۔۔
شاید میری اِس الجھن کو چیل کے ایک جوڑے نے پڑھ لیا:  کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے پڑوس سے دوسرا مکان جوکہ گراؤنڈ پلس2 منزلہ ہے اُسکی چھت پر بنی پانی کی ٹینکی پریہ جوڑا  آکر بیٹھنے لگا، دیکھا کہ یہ اپنے پنجوں میں گوشت کے ٹُکڑے لاتے ہیں اور چونچ سے نوچ نوچ کر کھاتے ہیں اور کبھی کبھی نسل کی بقا  کیلئے جبلی تقاضہ بھی پورا کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سارے نظارے اپنی  کھڑکی کے زریعے کئے۔۔ یوں اس جوڑے نے نہ صرف میری غذا والی الجھن کو دور کیا بلکہ توکل پر یقین کا درس بھی دیا:پرندے ذخیرہ نہیں کرتے توکل کرنے والوں کیلئے الرازق :مسبب الاسباب  غذاکے اسباب پیدا کرتا ہے اور ہم کبھی کسی پرندے یا چیل کوے وغیرہ کو بھوک سے مرتے نہیں دیکھتے ہیں:(لیکن)۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
 پچھلے دنوں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ: دُنیا میں غذائی اجناس وافر مقدار میں  ہونے کے باوجود  ایک منٹ میں 18 افراد بھوک سے مرجاتے ہیں۔۔۔ اسکی کیا وجہ ہے ؟؟ اسکی وجہ انسانوں کی خباثت ہے یعنی  یہ انسان ہی تو ہیں جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں: اجناس کا ضیاع کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر غریب  بُھوکے لوگوں کی قوتِ خرید سلب کر کے اپنی تجوریاں بھر تے ہیں۔۔ یہ ہوس پرست انسانوں کی قاتلانہ کارستانی ہے۔۔۔جسکا ثبوت فیصل آباد کا واقعہ:  
فیصل آباد میں بھوکے بچوں نے ماں سے کھانا مانگا۔۔ لیکن ماں کے پاس مہنگا آٹا خریدنے کے پیسے نہیں تھے :بالآخر بچوں کا  بھوک سے تڑپنا، ماں سے دیکھا نہیں گیا :اُسنے چُھری اُٹھائی اور اپنا گلا کاٹ ڈالا، بچوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا ۔ (خُدا مغفرت فرمائے۔آمین ) اِس خودکشی  پر وصی شاہ کا کالم (لنک پر)جس میں فیض کی احسا ساتی نظم بھی شامل ہے ۔۔۔۔
اب  مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔   
  نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: پڑھنے والے کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

  
  


Friday, November 15, 2013

" استثنیٰ "

 منجانب فکرستان:جمہوریت : شریعت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 تھائی لینڈ ایوانِ زیریں میں بھاری اکثریت سے جیسے ہی استثنیٰ کا بِل منظور ہُوا: بل کے خلافعوامی مظاہرے شروع ہوگئے:
 تھائی حکومت ہل گئی، فوراً سینیٹ  کا اجلاس بُلایا گیا:  منظور شُدہ بل کو بغیر مباحث تمام کے تمام سینیٹروں نے فوراً ہی مسترد کردیا:
 یوں یکم نومبرکا منظور بل 11نومبرکو مسترد بل بن گیا۔۔ جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں ہُوا بلکہ اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان، صدر اور وزیراعظم تا حیات کیلئے خصوصی مراعت اور خصوصی استثنیٰ  کا بل قانون کی شکل اختیار کر گیا ،عوام نے کسی قسم کا احتجاج نہیں کیا ؛ فرینڈلی اپوزیشن سے شکوہ بیکار ہے۔۔۔گرفتاری کے سلسلے میں یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں  کہا کہ کسی میں ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرکے دکھائے ۔۔مجھے استثنیٰ حاصل ہے۔۔
تب عام آدمی کو احساس ہُوا کہ اُسکی شناخت دھندھلا گئی ہے چونکہ اُسکے پاس استثنیٰ نہیں ہے۔۔یعنی  طاقت کا سمبل نہیں ہے  ؟۔۔  یہ استثنیٰ ہی کی آواز تھی جو کہہ رہی تھی کہ ہمارے پاس ڈگری ہے بس کافی ہے۔۔ جعلی اصلی کا سوال عام آدمی کیلئے ہے ؟؟؟ 
اب عام آدمی سوچتا ہے کہ اس جمہوری استثنیٰ سے اپنی جان چُھڑائے اور شریعت کو خوش آمدید کہے کہ کیونکہ شریعت میں اسطرح استثنیٰ کا تصورنہیں ہے۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
اصل میں جمہوریت نےمصلحتی اتحاد بن کر: فرینڈلی اپوزیشن بن کر عوام کو اتنے چرکے لگا دئیے ہیں کہ عوام سے قوتِ خرید دور ہوتی جارہی ہے،جسم وجاں کو بچانے کے لالے پڑ گئے ہیں، (لیکن) اس صورتِ حال  سے نجات دلانے والا اُنہیں پاکستان میں رائج جمہوریت  کے نظام  میں نظر نہیں آرہا ہے۔۔ اس لیے بھی اب عام آدمی شریعت کی طرف دیکھ رہا ہے ۔۔۔ آپکا کیا خیال ہے ؟؟؟
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: پڑھنے والے کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Wednesday, November 13, 2013

" اگلا گِرا پِچھلا ہوشیار"

 منجانب فکرستان: مصلحت کوشی: مصلحتی اتحاد: فرینڈلی اپوزیشن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے قومی وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو وزراء کو کرپشن کے الزامات پر اُنہیں اُنکے عہدوں سے ہٹا دیا ۔
بِلا شُبہ  مُلکی سیاست میں پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ: مصلحت کوشی کو خیر باد کہا گیا ہے ۔۔(ورنہ  سابقہ پانچ سالہ دور  میں مصلحتی فرینڈلی اپوزیشن اور مصلحتی اتحاد سے ملک کو اور خاص کر کراچی کو بُہت نقصان پہنچا ہے)۔۔
دماغ میں  سوال گردش کرہا ہے کہ: کیا سندھ، پنجاب اور وفاق کے سب وزراء کرپشن سے پاک ہیں؟ جبکہ بلوچستان کے وزراء کیلئے جمعہ جمعہ آٹھ دن والی بات کہی جاسکتی ہے ۔۔
عمران خان نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مزید  یہ بھی کہا ہے کہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی کو حکومتی اتحاد سے خارج کردیں۔
اب اجازت دیں۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: پڑھنے والے کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

تو پھر تردید کیسی؟؟۔

منجانب فکرستان 
 "سیدمنور حسن نے وہ بات کہی ہی نہیں  کہ جسکا ذکر سارے فسانے میں ہے"
یہ بات ایک بلاگ پر پڑھ کر حیرت ہوئی: دماغ نے سوال اُٹھائے:  
اگر سید صاحب سے جھوٹا بیان منسوب کیا جا رہا ہے تو اُنکی جماعت جوکہ:
( ریلیاں نکالنے اور احتجاج  کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی)خاموش کیوں ہے؟
لیاقت بلوچ نے  پریس کانفرس میں سید صاحب سے جھوٹا بیان منسوب ہونے پر  احتجاج کیوں نہیں کیا ؟
سلیم صافی خود کالم نگار ہیں:اپنے کالم میں اِس غلطی فہمی سے پردہ کیوں نہیں اُٹھا رہے ہیں؟؟
 اور سب سے بڑھ کر خود منور حسن صاحب تردید کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ تردید کا نہ کرنا قبولیت کہلاتا ہے۔۔
 تردید تو کُجا وہ تو اپنے حالیہ خطاب میں کہہ رہے ہیں کہ میں اپنی بات پر قائم ہوں۔۔ تو پھر تردید کیسی ؟؟ 
 اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: پڑھنے والے کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Sunday, November 10, 2013

" غور طلب باتیں "

 منجانب فکرستان:ذرا توجہ سے پڑھیں کہ:  کالم میں کون  کونسی باتیں غور طلب ہیں ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
روز نامہ"دُنیا" 9 نومبر2013
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...