Monday, April 22, 2013

" احمقوں کی جنّت سے "

منجانب فکرستان:احمقوں کی جنّت میں رہائش پزیر شخص کی باتیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کپتان کا مقصد ایسا نظام رائج کرنا ہے کہ کرپٹ آدمی بھی کرپشن نہ کرسکے۔جیسے شوکت خانم کو ایک نظام دیا،جیسے ڈرون کے خلاف اُنکی حکمت عملی نے دُنیا کو متاثر کیا۔۔اسی طرح کپتان دیگرممالک میں رائج دیہی، قصباتی اور شہری نظام کو پاکستان میں لانا چاہتے ہیں، مثلاً ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈ نہیں دیے جائیں گے 90 دن میں بلدیاتی الیکشن کراکے ترقیاتی فنڈ دیہی، قصباتی اور شہری حکومتوں کے مقامی لوگوں کو دیے جائیں گے۔۔۔تمام صوابدیدی فنڈ ختم کردیے جائیں گے ۔۔مفت یا رعائتی داموں پلاٹ دینے کا سلسلہ بند کردیا جائے گا ۔۔۔ 50 ایکڑ سے زیادہ اراضی پر 5 تا 15 فیصد  ٹیکس کا نفاذ  بھی ملک کیلئے بڑی تبدیلی لائے گا۔۔۔ غرض کہ یہ نظام  دیہی،قصباتی اور شہری حکومتوں کو بڑی حد تک خود مختار بنا دیگا۔۔۔
نیا نظام۔۔نیا پاکستان۔۔ دوتہائی اکثریت سے مشروط ہے ۔۔جو حقیقت میں مشکل بات ہے ۔۔بہرحال کپتان کوشش تو کر رہے ہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔۔۔میرا تو یہ کہنا ہے کہ اگر کپتان اپوزیشن میں بھی آگئے تو کم سے کم فرینڈلی اپوزیشن سے بچ  جائیں گے، چونکہ فرینڈلی اپوزیشن سے پاکستان کو بُہت نقصان پہنچا ہے۔۔۔اب اگر فرض کریں اقتدار میں ن لیگ اور اپوزیشن میں پی پی پی آتی ہے تو پھر وہی فرینڈلی اپوزیشن کی کہانی دوہرائی جائے گی۔۔۔اور عوام کو دلفریب  کہانیاں سُنائی جائیں گی۔۔۔
خُدا جانے کیا بات ہوئی کہ  PTI کی جماعت اسلامی سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہوسکی لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ اڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی تو   PTI اور اُسکے سپوٹروں پرتنقید کی جائے  ۔۔بلفرض اگر جماعت اسلامی سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوجاتی تو کیا پھر بھی PTI پر اسی طرح سے تنقید کی جاتی جیسی کہ اب ہورہی ہے ؟؟؟؟
قائد اعظم کے جیب میں بھی کھرے سکوں کے ساتھ کھوٹے سکے آگئے تھے ۔۔۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔
 ن لیگ پر بھی اسی طرح کی تنقید پڑھنے کو مل رہی ہے،اُسے بھی بُرا بھلا کہا جا رہا ہے چونکہ ن لیگ سے بھی جماعت اسلامی کی سیٹ اڈجسٹمنٹ نہیں ہوسکی ہے۔۔۔ دلیل یہی دی جارہی ہے کہ جماعت اسلامی سے  سیٹ اڈجسٹمنٹ کرنے سے انِ پارٹیوں کو فائدہ ہوتا  چونکہ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے۔۔۔ 
21 اپریل روزنامہ دُنیا میں حالیہ سروے رپورٹ شائع ہوئی ہے جس مطابق 70 فیصد مقبولیت کی نوید ہے۔اِس خبر میں تجزیہ کاروں کی حقیقت پر مبنی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے اسلیے لنک دے رہا ہوں ۔۔۔منشور کا اردو پی ڈی ایف لنک بھی دے رہا ہوں ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔{پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔رب راکھا} 

Friday, April 19, 2013

"اوور سیز پاکستانی "

  منجانب فکرستان : 45 لاکھ: 70لاکھ: 13 بلین ڈالر :معیشت : ڈوبتی کشتی 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ خبر نہ صرف بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے خوشخبری ہے بلکہ  پاکستان کیلئے بھی خوش آئند بات  ہےکہسیکرٹری الیکشن کمیشن جناب اشتیاق احمد خان نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صدارتی حکم نامے یا آرڈینس کے زریعے   بیرونی ملک مقیم  پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق دیا جا ئے گا۔۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بیرونِ ملک مقیم باقاعدہ تصدیق شُدہ ووٹروں کی کُل تعداد تقریباً 45 لاکھ کے قریب ہے ۔۔ ( تفصیل لنک پر)
 اس وقت کم وبیش 70 لاکھ پاکستانی دُنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم ہیں۔۔جو ہر سال تقریباً 13 بلین ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں، یہ زر مبادلہ کمانے کا دوسرا بڑا زریعہ ہے ،یوں پاکستان کی معیشت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے والے یہ ہی اوور سیز پاکستانی ہیں۔۔ اب اجازت دیں۔۔۔

{پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔رب راکھا}

Thursday, April 18, 2013

" جمہوریت کا پاکستانی ورژن "

منجانب فکرستان :رؤف کلاسرا:  ایاز امیر : عمران خان؛  ہارون الرشید:حسن نثار: اثاثے: غلطیاں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رؤف کلاسرا: کاآج 18اپریل کا کالم پڑھا تو ایسا لگا کہ جیسے شادی کا کھانا کُھل گیا ہے(لنک پر)۔۔ ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ این اے 61 سے ن لیگ کے امیدوار ایاز امیر  کے بجائے جنرل عبدالمجید کے داماد  میجر(ر) جناب طاہر اقبال صاحب ہونگے جو سابق صدر مشرف کے وزیر رہ چُکے ہیں ۔۔۔  پیرصاحب پگارا سے  ملاقات کے بعد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی لائیں۔۔۔نواز شریف بھی ممتاز بھٹو سے ملکر تبدیلی لانے کی بات کر چُکے ہیں ۔۔۔
 یوں سرمایا دار اور جاگیر دار ملکر جو تبدیلی لائیں گے میرے خیال میں   پاکستان کی تاریخ کی مثالی تبدیلی ثابت ہوگی ۔۔۔چونکہ اب 5 سالہ دورِ جمہوریت والا پیٹرن برداشت کرنے کی سکت نہ ملک میں ہے اور نہ ہی قوم میں ۔۔۔ اگر ن لیگ کی حکومت بنتی ہے تو وہی 5 سالہ دورِ جمہوریت والا پیٹرن زوروشور سے چلے گا۔۔۔چونکہ برادری وہی ہے۔۔۔اثاثے بڑھانے کی دوڑ شروع ہوجائے گی ۔۔۔ٹکٹ کے ہنگامے کس لیے تھے؟؟؟۔۔۔
 ٹکٹ پر ہنگامے پی ٹی آئی میں بھی دیکھنے میں آئے جو اچھی بات نہیں ہے۔۔۔ عمران خان ون میں شو ہونے کی وجہ سے ایک انار سو بیمار جیسی حالت ہے ۔۔  پی ٹی آئی میں ہرشخص کہہ رہا ہے کہ میرے مشورے پر عمل کرو ورنہ ؟؟ اور جس کے مشورے پر عمل نہ ہو وہ ناراض ۔۔۔ حتٰی کہ  ہارون الرشید صاحب بھی ناراض  اور حسن نثار بھی خفا۔۔۔میرے خیال میں اِن کالم نگاروں کو  کپتان کو آزمائے بغیر اُسکا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئیے ۔۔۔ انِ دانشوروں کو سوچنا چاہئیے کہ  عمران ایک انسان ہے فرشتہ نہیں ہے کہ غلطیاں نہ کرے ۔۔۔
دوستو: پڑھنے کا شُکریہ قبول فرمائیں ۔۔رب راکھا

Tuesday, April 16, 2013

ایسا بھی ہوتا ہے !!!۔

منجانب فکرستان: مہابھارت: ہندو روایت: Taboo
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اِس غیر معمولی خصوصیت کی حامل سچی کہانی کو ڈیلی" Mail online" نے اپنے پورے صفحے پر بمع تصاویر  جگہ دی ، کہانی کا تعلق بھارت کے ایک گاؤں سے ہے۔۔ جبکہ اسی طرح کی دوسری سچی کہانی،جِس کو نیشنل جغرافک چینل نے فلما کر، Taboo عنوان کے تحت
اپنے چینل پر دکھایا تھا جس کا تعلق جدید ترین معاشرے کے جدید  ترین شہر سے تھا۔۔۔
 پہلی سچی کہانی ایک لڑکی "راجوورما" کی ہے جس کاتعلق شمالی بھارت کے علاقے دھرادون کے قریب واقع ایک گاؤں سے ہے ۔۔ راجوورما کی جس شخص سے شادی ہوئی اُسکے چار بھائی تھے ۔۔۔یوں وہ ہر سال دُلہن بنتی گئی اورہر سال  ایک شوہر کا اضافہ ہوتا گیا 5 سالوں میں ایک ساتھ پانچ شوہروں والی بن گئی، پانچوں سگے  بھائیوں کی  اکلوتی بیوی۔۔۔ راجو ورما نے بتایا ، ہمارے گاؤں میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ،اسلیئے میرے لیے بھی کوئی عجیب بات نہیں ہے۔۔میرے باپ بھی تین سگے بھائی ہیں۔۔۔ (لو کرلو گل)۔۔۔ راجو ورما نے نمائندے کو بتایا کہ ہم ایک خوشگوار زندگی گُذار رہے ہیں۔
 میرے خیال میں راجو ورما جو کُچھ کہہ رہی ہے اُسکا سچ اُسکی تصاویر سے عیاں ہے۔ ۔۔۔مکمل تفصیل،راجوورما کی تصاویر، مہابھارت اور ہندو روایت وغیرہ کے بارے میں جاننے کیلئے: فوٹر لنک پر جائیں۔۔
دوسری کہانی کا تعلق جدید شہری زندگی سے ہے۔ جسے نیشنل جغرافک چینل نے اپنے پروگرام Taboo میں دیکھایا تھا ۔۔ایک 30،35 سالہ خاتون اپنے شوہروں کا تعرف یوں کرواتی ہیں کہ یہ مسٹر فلاں (نام یاد نہیں رہا) میرے پہلے شوہر ہیں اور یہ میرے دوسرے شوہر ہیں ، یہ دونوں آپس میں (حدِادب) دوست بھی ہیں، ہم سب ساتھ رہتے ہیں اور ہیپی لائف گُذار رہے ہیں اور ہاں یہ لڑکیاں میرے شوہروں کی گرلز فرینڈز ہیں ،ہم سب لائف کو انجوائے کر رہے ہیں۔۔۔
 دوستو: یقین کریں مجھے راجو ورما والا حقیقی سچ اِن کے چہروں پر نظر نہیں آیا ۔۔۔ہوسکتا ہے یہ میرے ذہن کا تعصب ہو ۔۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فلمانے کی وجہ سے مصنوی پن لگا ہو۔۔۔ بہر حال آپ لنک پر جائیں راجوورما اور اسکے پانچ شوہروں کو دیکھیں اور ہوسکے تو سماجی ماحولیاتی اثرات پرغور کریں۔۔  مجھے اجازت دیں۔۔
{پڑھنے کا شُکریہ ۔۔رب راکھا}

Friday, April 12, 2013

" انتخاب "

 منجانب فکرستان: مشہور دانشوروادیب طارق علی کی گفتگو سے انتخاب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 طارق علی کی دنیا ئے سیاست پر گہری نظر ہے وہ سیاست اور تاریخ پر 14 کتابیں لکھ چُکے ہیں۔۔ اِس سیر حاصل گفتگو میں ، بھٹوکی پھانسی ،متناسب نمائندگی ،پاکستانی سیاست،جنوبی امریکہ، ،عرب اسپرنگ،ترکی، سرمایا دارنہ نظام ،بھارت امریکہ تعلقات،اسٹیبلشمنٹ ، فوج، میڈیا غرض کہ کئی باتوں پر اپنی رائے دی ہے،

Tuesday, April 9, 2013

" حیرت انگیز باتیں "

 منجانب فکرستان: نٹور سنگھ: 5 سوال: مارگریٹ تھیچر 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیڈی آئرن تھیچر کو ایک سادھو کے سامنے موم بننے کا ذکر کیا ہے ، یہ واقعہ وہ اپنی کتاب میں بھی لکھ چُکے ہیں ۔۔ دوستو واقعہ پڑھ کر میں بھی حیرت زدہ رہ گیا اسی لیے اب یہ حیرت اپنے قارئین دوستوں سے شیئر کر رہا ہوں ۔۔  یہ واقعہ 1975 کا ہے کہ جب نٹور سنگھ برطانیہ میں بھارت کے نائب ہائی کمشنر تھے اور تھیچر کو پارٹی لیڈر بنے صرف 6 ماہ ہوئے تھے ۔۔۔نٹور صاحب کے پاس دوست کا حوالہ لیکر ایک سادھو آیا اور تھیچر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔۔نٹور سنگھ نے پوچھا کیا کام ہے ۔۔سادھونے کہا اُن ہی کو بتاؤں گا۔۔۔
بہر حال نٹور نے تھیچر سے سادھو کا تذکرہ کیا ، تھیچر کس موڈ میں تھیں کہ دس منٹ کا ٹائم دے دیا ۔۔سادھو انگلش نہیں جانتا تھا اسلئیے نٹور سنگھ ترجمان بنے  ۔۔ملاقات پرتھیچر نے سادھو سے پوچھا کہ تم کیوں مجھ سے ملنا چاہتے ہو ۔۔۔جواب میں سادھو نے ایک کاغذ منگوایا اس پر لکیریں لگا کر کاغذ کے 5 ٹکڑے کئے تھیچر سے کہا ان کاغذ کے ٹکڑوں پر سوالات لکھ کر موڑ کر رکھ دیں ۔۔تھیچر ایسا کر چُکیں۔۔ تو کہا اب ایک کاغذ اُٹھا کر کھولیں اور دل ہی دل میں لکھا سوال دوہرائیں ۔۔سادھوں نے سوال بتا دیا ۔۔۔ اسی طرح سادھوں نے پانچوں سوال بتادئیے تو نٹورسنگھ اور تھیچر دونوں حیرت زدہ ہوگئے، اسکے علاوہ تھیچر کے وزیر اعظم بننے  اور گیارہ سال وزیر اعظم رہنے کی پیش گوئی بھی سادھو نے کی تھی ۔۔۔
دوستو: اسکی عقلی توجیح کیا  ہوسکتی ہے؟ ۔۔ سادھو تھیچر سے ملنے کی خاطر نٹور سنگھ  کے پاس آیا تھا ۔۔لیکن سادھو نے تھیچر کا  ہی انتخاب کیوں کیا ؟؟؟ رب ہی جانے ۔۔اجازت دیں۔۔رب راکھا


" Lady Iron "

 منجانب فکرستان: زمین کی تھیچر پر لکھی کتاب سے منتخب چندقابلِ دید اوراق 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئرن لیڈی ہوکہ اِسٹیل وومن اُسنے ٹوٹ جانا ہے، جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔خُدا کی حکمت اور اُسکی سببیت سے گھومتی زمین جو کُچھ دیتی ہے ،پھر وہی سب کُچھ چھین بھی لیتی ہے۔۔۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...