Thursday, March 28, 2013

" سولہ / اٹھارہ "

منجانب فکرستان: ماہرینِ نفسیات کیا کہتے ہیں ؟  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بالی ووڈ کے بولڈ سین اورآئٹم سونگ سے بھارت کے پُرشوں کے ہارمون  کچھ زیادہ ہی متحرک  ہوگئے ہیں ، چلتی بس ہوکہ کار، جنگل ہوکہ ہوٹل، یہاں تک کہ اپنے تو رہے  ایک طرف غیر مُلکی سیاح بھی محفوظ نہ رہے۔تاج محل دیکھنا،ٹانگیں تڑوانا ایک جیسی بات ہوگئی۔۔۔جبکہ پچھلے دنوں بھارت کی پارلیمنٹ اس مخمصے میں  رہی ہے کہ لڑکیوں کی جنسی خودمختاری کی عُمر 16 سال ہونی چاہئیے کہ 18سال ٹھیک رہے گی ۔۔۔
 3 دھائیوں سے 16 سال ہی چلی آرہی تھی لیکن فروری میں ایک آرڈینینس کے زریعے 18 سال کردی گئی تھی۔۔ میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں ریپ کے حوالے سے بھارت کے ایوانِ زیریں میں جو بل منظور ہُوا ہے اُس میں بھی 18 سال عمر  ہی رکھی گئی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق  کی کُچھ تنظیمیں یہ اعتراض اُٹھا رہی ہیں کہ لڑکیوں کی 18 سال کی عُمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہے جنسی خودمختاری کی عُمر پہلے کی طرح 16 سال ہی ہونا چاہئیے۔۔۔   
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ حواس خمسہ کے زریعے انسان کے دماغ  میں جو کُچھ فیڈ ہورہا ہے، اُسی کے اثر کا فیڈ بیک انسان کے رویوں میں ملتا ہے،اس لئے  بھارت کے سنسر  بورڈ کو فلم میں بولڈ سین اور آئٹم سونگ جیسے مسئلہ کا حل نکالنا چاہئیے کہ بھارت دُنیا میں ریپ کے حوالے سے بُہت بدنام ہورہا ہے۔۔دوستو اب اجازت دیں۔ 
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔ 

Tuesday, March 26, 2013

" خُدا شناسی "

منجانب فکرستان: کتاب:"تلاش۔اللہ۔ماورا کا تعین" کے بارے میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جیساکہ پوسٹ "تفسیر/ ترجمہ" میں کہا تھا  کہ جس دماغ میں قُرآن کو سمجھنے کا خیال نہیں آتا وہ تلاوت کے زریعے  خُدا سے جڑُجاتا ہے،ثواب وسکون حاصل کرتا ہے۔لیکن بعض اشخاص علماء کے ذہن کے زریعے جبکہ بعض خودسمجھنا چاہتے ہیں کہ قُرآن سمجھنے کیلئے اُتارا گیا ہے۔ مشہور ادیب ممتاز مفتی کے بیٹے عکسی مفتی بھی ایک ایسے ہی شخص ہیں جو خود سمجھنا چاہتے ہیں۔۔۔
 عکسی مفتی نے خُدا کی ہستی کو سمجھنے کی خاطر تاریخ ، فلسفہ، مذاہب ، سائنس تصوف و دیگر علوم اور اِن کی شاخوں  کا مطالعہ کیا  ہے۔ جسکے حوالے اُنہوں نے اپنی کتاب میں جا بجا دیے ہیں، وہ کہتے ہیں مطالعے کا یہ سفرعرصہ چالیس سال پر مُحیط ہے ۔۔۔اِن علوم کے زریعے خُدا کے حوالے سے اُنہوں نے جو کُچھ کشید کیا، وہ اُنکی  سوچ کا محور بنا جس سے اُنکا  فلسفہ"اللہ۔ماورا کا تعین"تشکیل پایا جسکی جھلک وہ پوری کائنات کی ہر چیز میں دیکھتے ہیں، اِس دیکھنے کو وہ مختلف علوم سے دلائل بھی فراہم کرتے ہیں اور اپنی سوچ سے جواز بھی تراشتے  ہیں۔۔
  یہ کتاب میں نے پڑھی ہے  میرے خیال میں  جس طرح سائنسدانوں کی زماں اورمکاں  کی یکجائی کی کوشش کے بعد اب زماں مکاں  بن گئے ہیں، اسی طرح  یہ کتاب بھی سائنس، مذاہب اور تصوف کی یکجائی کی کوشش ہے جس کے زریعے خُدا شناسی کا پیغام دیتی نظر آتی ہے۔۔۔عکسی صاحب کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔۔۔ 
نوٹ: عکسی مفتی صاحب کے خیالات جاننا چاہیں تو لنک پر جائیں اُنکا انٹرویو بغور پڑھیں کافی معلومات حاصل ہونگی اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=18709

Friday, March 22, 2013

"زندگی صرف ایک بار ملتی ہے "

منجانب فکرستان: عمران خان کے حامی عرفان صاحب کا انٹر ویو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایم۔ڈی: جو شخص اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل حل نہ کر سکا وہ پاکستان کے مسائل کیسے حل کرسکتا ہے ؟ 
عرفان صاحب:محترم یہ اُسکی پاکستان کیلئے بُہت بڑی قربانی ہے، چونکہ انسان کو زندگی صرف ایک بار ہی ملتی ہے اُس نے جو وقت اپنی ازدواجی زندگی کی خوشیوں کو دینا تھا وہ وقت اُس نے  پاکستان کو دیا ،  یوں اُس کا جُھکاؤ پاکستان کی طرف زیادہ  ہوگیا ،جس کا نتیجہ بیوی بچّے اُس سے جُدا ہوگئے۔۔بلکہ ممکن ہے کہ عمران خان خود اِس احساس میں مبتلا ہوگئے ہوں کہ وہ  بیوی بچّوں سے زیادتی کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہو کہ طلاق جیسا مسئلہ خوش اسلوبی سے طے پایا کہ بیوی بچّے آج بھی عمران کے کردار کی بلندی کے  معترف ہیں ۔۔۔۔ 
ایک ایسا شخص جس نے پاکستان کی خاطر اپنی ازدواجی زندگی تج دیا ہو۔۔ یقیناً وہ پاکستان کیلئے مخلص ہے۔۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان دشمن فرسودہ ظالمانہ نظام کے خلاف صف آرا ہوگیا ہے ۔۔جسکو دونوں بڑی پارٹیاں بچانا چاہتی ہیں ۔۔ دونوں پارٹیاں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔۔ جس کے ثبوت رؤف کلاسرا آئے دن اپنے کالم میں بمع چیلنج فراہم کرتے رہتے ہیں کہ دونوں پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔ لیپ ٹاپ اور  بینظیر سپورٹ اسکیم کی تشہیر کچھ اس انداز کی جاتی ہے جیسے وہ اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں سے کُچھ دے رہے ہوں، قوم کا پیسہ قوم کو دیکر ذاتی شُہرت کی تشہیر کرتے ہیں۔۔۔
ایم۔ڈی: کیا آپ عمران کو ایک جذباتی شخص نہیں سمجھتے جو پانی پت کی جنگ کے حوالے دیتا ہے،اور کہتا ہے کہ میں وزیراعظم بنا تو صدر زرداری سے حلف نہیں لوں گا۔
عرفان صاحب: محترم یہ آپکے نقطہ نظر کی بات ہے۔۔ میں اسی بات کو اسطرح سے دیکھتا ہوں کہ پاکستان کو منافقت اور مفاہمت کی پالیسی نے بُہت نقصان پہنچایا ہے۔۔عمران، زرداری کو این آر او زدہ غیر آئینی صدر سمجھتے ہیں ،وہ منافقت یا مفاہمت کے بجائے صاف،سچی اور کھری بات کہہ رہے ہیں تو اس میں کونسی بُرائی ہے ۔۔۔
ایم ۔ڈی: آپ عمران خان کے حامی ہونے کی کوئی معقول وجہ بتانا پسند فرمائیں گے۔۔
عرفان صاحب: ایسی تو کئی وجوہات ہیں جیسے شوکت خانم ہاسپیٹل وغیرہ لیکن میں   اُسکے کردار کے حوالے سے حالیہ پڑھی ہوئی بات کی مثال دینا چاہتا ہوں،  اتوار کو ایکسپریس اخبار کے سنڈے میگزین میں مشہور ایمپائر محبوب شاہ  کا انٹرویو پڑھا  جس میں عمران خان کی شخصیت کی سائیکی دیکھی جاسکتی ہے۔ محبوب شاہ نے اپنی ایمپائرنگ لائف میں نہ جانے کتنے ہی کھلاڑیوں کو آؤٹ دیے ہونگے۔۔ یقیناً اُن کھلاڑیوں کے طرز عمل  سے بھی اُنہیں واسطہ پڑا ہوگا۔۔ لیکن اتنے  سارے کھلاڑیوں کے طرز عمل میں سے اُنہوں نے صرف اکیلے عمران خان کے طرز عمل کی تعریف  کی عمران کا یہ طرز عمل عمران کی  شخصیت کا آئینہ ہے۔۔
ایم۔ڈی: آپ کا کیا خیال ہے عمران خان جیت جائیں گے ؟  
عرفان صاحب:آپ کے اس سوال کا جواب میں اسطرح سے دونگا کہ ہمیں پاکستان کو بچانا ہے۔۔آنے والی نسل کو بچانا ہےاور بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کو بُلانا ہے،  تو پی ٹی آئی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چوائز نہیں ہے۔۔ اس لیے جس طرح  بھی ممکن ہوسکے۔۔ ہمیں اپنے لیے۔۔ اپنی نسل کیلئے۔۔ پی ٹی آئی کی مدد ضرور کر نا چاہئیے اور  کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔ 
ایم۔ڈی: کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں ۔
عرفان صاحب: میرا پیغام اہلیانِ لاہور کیلئے ہے کہ کل یعنی 23 مارچ کے جلسے کو کامیاب بنائیںِ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب شاہ کے انٹرویو کا منتخب حصہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــ
سوال: کبھی کسی کھلاڑی نے آپ پر غالب آنے کی، فیصلے پر اثر انداز ہونے کی   کوشش کی؟
محبوب شاہ: سچ تو یہ ہے کہ تمام کھلاڑی، کسی نہ کسی سطح پر ایسا کرتے تھے، یا کرتے ہیں۔ یہ ایک حکمت عملی تھی، مگر میری کبھی کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ پھر میری تکنیک یہ تھی کہ میں اس وقت کھلاڑیوں کے رویے کو نظرانداز کرتا تھا، جب تک وہ قانون کے دائرے میں ہوں۔ میرے کیریر میں خوش گوار لمحات زیادہ آئے۔
سوال: تو خوش گوار لمحات ہی کی بات کرتے ہیں۔ کئی کھلاڑیوں کی اپیلیں آپ نے رد کی ہوں گی۔ ایسا کون تھا، جس نے ہمیشہ مثبت ردعمل ظاہر کیا؟
محبوب شاہ: پاکستانی ٹیم میں عمران خان ایک ایسا کھلاڑی تھا، جس سے میری زیادہ بات چیت نہیں تھی۔ مگر میں جب بھی اُس کی اپیل رد کرتا، وہ ہمیشہ مثبت ردعمل دیتا۔ اور اپنے اشاروں اور رویے سے یہ تاثر دیتا کہ میرا فیصلہ دُرست تھا۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محبوب شاہ صاحب کا مکمل انٹرویو پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں ،اور مجھے اجازت دیں ۔۔
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔


Monday, March 18, 2013

" کنگ کوبرا "

منجانب فکرستان: لڑائی کا اصول : شکست کا اصول 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نیشنل جغرافک چینل پر دیکھا کہ تحقیق کاروں نے " مادہ کنگ کوبرا " کو آلہ نصب کرکے جنگل میں چھوڑدیا اور اینٹینے کی مدد سے اُسکا پیچھا کرتے رہے۔ خالق نے سانپ کی زبان کویہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ دُور  ہی سے شکار اور ساتھی کی بوُ کو محسوس کرتی ہے۔ایک نر کو مادہ کی بوُ آگئی وہ اُسکی طرف کھنچا چلاآیا  مادہ سے رضامندی حاصل کی (حدِادب) اور کامیاب رہا، پھر ایک اور نر کو بھی مادہ کی بُو آگئی اور وہ بھی  مادہ کی طرف دوڑا چلا آیا لیکن وہاں پر پہلے ہی ایک نر کو پایا تو اُسنے اُسکو چیلنج دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نر گتھم گتھا ہوگئے۔بقول تحقیق کار لڑائی کا اصول یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی کسی کو زخمی نہیں کرے گا، صرف  چتِ کرنے کی کوشش کرے گا،شکست  کا اصول یہ ہے کہ جو چتِ ہوگیا وہ ہار گیا اور پھر وہ وہاں سے چَلا جائے گا ، افسوس کہ مادہ کے پیٹ میں جس نر کی نسل کو بقا ملنی تھی وہ چتِ ہو گیا اور وہ وہاں سے چَلا گیا اب نیا نر مادہ کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ رضامند نہیں ہوئی پھر نہ جانے کیا ہُوا کہ اُس نے پوری طاقت سے اپنے دانت مادہ کے جسم میں پیوست کردیے مادہ نے بھی اپنے دانت نر کے جسم میں پیوست کردیے ،طاقت میں نر کو برتری حاصل ہے ،کچھ ہی دیر میں مادہ  کی آنکھیں پتھرا گئیں اوروہ ڈھیر ہوگئی ۔۔ ۔اب نر نے اُسے کھانا شروع کیا لیکن وہ اتنی لمبی تھی کہ نگلنے میں کامیاب نہ ہُوسکا اور اُگل کر چلتا بنا ، اب مادہ کی لاش کسی اور جاندار کے پیَٹ میں جاکر اُسے زندگی کی حرارت فراہم کرے گی کہ یہی قانونِ فطرت ہے۔ کہ:
جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔"الوداع" مادہ کوبرا " 
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, March 7, 2013

" آنکھیں بھر آئیں "

منجانب فکرستان : معصوم چہرہ: شاہویز:پسندیدگی: غُبار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی اور موت کی کشمکش کی خبریں تو آرہی تھیں شاید یہی وجہ ہو کہ موت  کی تصدیق ہونے پر مجھ پر تھوڑی دیر کیلئے خاموشی کی کیفیت طاری ہوئی پھر دُنیاوی مشغولیت حاوی ہوگئی۔۔خواہش: خوش فہمی میں مبتلا کرتی ہے، اِسی سبب ایک پوسٹ لکھی  تھی کہ شاہ ویز کی قوتِ ارادی نے بیماری کو شکست دےدی ہے۔ یہ سمجھ نہ پایا  کہ شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا بھی ہے۔۔ یہ پوسٹ میں نے اُن کے علاج کے بعد ملک واپس آنے اور چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر لکھی تھی ۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے دُنیا اخبار میں جناب سید عاصم محمود کا مضمون " الوداع کمانڈر " پڑھا   تو آنکھیں بھر آئیں ۔۔ کل کی خاموشی کا دل پر چھایا غُبار اِس مضمون نے آج آنکھوں کے راستے نکال دیا۔۔۔
اگر آپ" معصوم چہرہ شاہویز" (ممکن ہے کہ یہ میری پسندیدگی کا تعصب ہو کہ اُنکا چہرہ مجھے معصوم اور بھولا لگتا ہے) کے بارے میں میری سابقہ پوسٹ نہیں پڑھی ہے تو آپ لنک پر جائیں پوسٹ میں شاہویز کے ساتھ عمران خان اور اُنکی سابقہ محبوبہ  کرسٹائن بیکر کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, February 28, 2013

عورت کی سائکی یا زمانے کی جبلت ؟

منجانب فکرستان ٹیگز: خواتین 25 فروری : اسپیکر: جتن : وقت : مرد : کافر : تبدیلی : وڈیو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت علامہ اقبال نے خواتین کے بارے میں کہا ہے  کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ  کائنات میں رنگ تو ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہا ہے۔۔ علامہ کی بات پر مجھ جیسے لوگوں کو تو ذرا بھی شک نہیں ہے۔۔اگر سپائی نوزا قبیل کی قسم کے کسی شخص کو شک ہے تو اِس مضمون کے پڑھنے پر اُسکا شک بھی دور ہوجائے گا۔۔۔
ایک جانب  ویلنٹائن ڈے والے دن دُنیا بھر کی خواتین نے رنگ برنگ سج دھج  کے ساتھ ویلنٹائن ڈے کی خوشیاں منارہی ہیں تھیں تو دوسری جانب اُسی طرح رنگ برنگ سج دھج کے ساتھ مَردوں کے روئیوں کے خلاف احتجاج کا رقص بھی کررہی تھیں۔۔ یعنی خواتین نے احتجاج بھی خوب بن سنور کر اور رقص کرکے کیا اگر خواتین کا احتجاج بھی اتنا رنگین اور رقص  سے بھرا ہو تو پھر کون کافر ہوگا جو علامہ کی کہی بات سے انکار کرے گا؟
احتجاج کی یہ تبدیلی 25 فروری کی اِس وڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ لبنانی خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف بطور احتجاج پارلیمنٹ اسپیکر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی رقص کیا۔ یوں خواتین نے احتجاج کے اُس روایتی اندازکو کہ جس میں بینر اُٹھائے گلا پھاڑ کر نعرے لگاتے جانے کی روایات کو خوبصورت رقص میں بدل دیا اب ذہن میں سوال آتا ہے کہ: کیا احتجاج کی یہ خوبصورت تبدیلی خواتین کی اُس سائیکی کا نتیجہ ہے  کہ جس کے تحت  وہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا جتن کرتی ہیں یا پھر یہ وقت کی اُس جبلت کا کار نامہ ہے کہ  جو ہر چیز کو تبدیل کردیتا ہے ۔۔۔
اگر آپ کا دل چاہے تو 2 منٹ کا لبنانی خواتین کا احتجاجی رقص دیکھنے کیلئے لنک پر چلے جائیں ۔۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
http://www.alarabiya.net/articles/2013/02/25/268229.html

Monday, February 25, 2013

" تیس لاکھ "

منجانب فکرستان ٹیگز: دُنیا : آخرت: بلاگر کا لِنک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 نرس برونی وئیر ایسی  بِلاگر ہیں۔جنہیں ایک پوسٹ نے،آسمانی بُلندیوں پر پہنچا دیا۔ 30 لاکھ افراد نے اُس پوسٹ کو پڑھا۔ اُنہیں  روحانیت سے دلچسپی ہے۔ وہ ساز پر روحانی گیت گاتی ہیں، وہ تیمارداری کے دوران ایسے بوڑھوں سے اُن کے خیالات معلوم کرتیں کہ جنہیں معلوم ہے کہ وہ اب اس دنیا میں چند دنوں کے مہمان ہیں۔۔برونی نے اپنی برسہا برس کی اِس معلومات  کو ایک پوسٹ میں سمویا۔۔ایمازون بک کی سائٹ پر لکھا ہے کہ اُس پوسٹ کو پہلے ہی سال 30  لاکھ سے زائد افراد نے پڑھا  کچھ نے تفصیلاً کتاب لکھنے کی فرمائش کرڈالی۔۔یوں بلاگر سے وہ صاحبِ کِتاب ہوگئیں۔۔۔
 تاہم موت کی وادی میں جانے والے اِن بوڑھوں کی باتوں نے شاید میری طرح برونی کو بھی حیرت زدہ کیا ہوگا،  کیونکہ اِنمرتے بوڑھوں نے مرتے وقت جزا و سزا اور آخرت سے متعلق کسی پچھتاوے کی بات نہیں کی جبکہ آسٹریلیا  میں61 فیصد عیسائی رہتے ہیں۔۔۔
اِن آسٹریلوی  بوڑھوں کے 5 بڑے پچھتاوے سب کے سب اِس موجودہ دُنیا سےمتعلق ہیں،یہی وجہ ہے کہ جب میں نے روزنامہ دُنیا میں سید عاصم محمود کا مضمون پڑھا تو کھوج میں برونی وئیر تک جا پہنچا  اگر آپ یہ مضمون  پہلے پڑھ چُکے ہیں تو اب اس زاوئیے سے دوبارہ  پڑھ کر دیکھیں،شاید کچھ نیا پن محسوس ہو ۔۔۔ آخر میں بلاگ اور کتاب کا پی ڈی ایف لنک موجود ہے ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔



یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...