Tuesday, April 14, 2015

Saturday, March 7, 2015

" وراۓ عقل ہے ۔۔۔۔ تیری خدائ "

فکرستان  کی شیئرنگ : برائےغوروفکر کیلئے باقی مادہ کہاں چلا گیا؟؟ 

بِگ بینگ کے بعد باقی مادہ کہاں گیا؟
جوں جوں ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ کو مرمت کے بعد دوبارہ سٹارٹ کرنے کا وقت قریب آ رہا ہے اور دنیا کی اس سب سے بڑی میشن سے ذرّاتی سائنس کی تاریخ میں تیز ترین رفتار سے نکلنے جا رہے ہیں، ماہرین طبیعات کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کی خواہش ہے کہ اس مرتبہ کائنات کی تخلیق کے بنیادی ذرّے اتنی تیزی سے ایک دوسرے سے ٹکرائیں کہ اس سے خود طبیعات کی بنیادیں ہِل جائیں۔
یونیورسٹی آف لوِر پول کے شعبۂ ذرّاتی طبیعات سے منسک ماہر تارا شیئرز کہتی ہیں کہ ’میں میشن کے دوبارہ چلنے کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہوں۔ ہم جنوری 2013 سے اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب اس مشین سے پروٹون کی شعاع دوبارہ نکلے گی۔‘
فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی درمیانی سرحد پر واقع اس تجربہ گاہ میں آپ کو جابجا بڑی بڑی تعیمراتی مشینیں دکھائی دیتی ہیں اور ہر تھوڑی دیر بعد ان کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس کے ساتھ ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ یا ’ایل ایچ سی‘ کی چلنے کی آواز بھی گونجتی رہتی ہے۔
ایل ایچ سی کا محیط 27 کلومیٹر بڑا ہے۔
منصوبے کے مطابق مارچ کے وسط میں اس مشین سے پروٹون کی دو شعاعیں فائر کی جائیں گی جو ایل ایچ سی کے طویل سرکٹ میں سے گزریں گی اور اگر یہ پروٹون کسی مسئلے کے بغیر پورا چکر کاٹ لیتے ہیں تو پھر مئی میں دو مختلف سمتوں سے آنے والی نہایت تیز رفتار پروٹونز کی شعاعوں کو آپس میں ٹکرایا جائے گا اور ماہرین ٹکراؤ کے نتائج کا مشاہد کریں گے۔
پروفیسر تارا شیئرز نے مجھے بتایا کہ ان پروٹونز کی رفتار اس قدر زیادہ ہوگی کہ جو فاصلہ ہم کار پر 10 سے بیس منٹ میں طے کرتے ہیں، پروٹونز ایک سکینڈ کے دس ہزارویں حصے میں طے کر لیں گے۔
انھوں نے مجھے مزید بتایا کہ جب اس قدر تیز رفتار پروٹونز آپس میں ٹکرائیں گے تو ایل ایچ سی کے اندر درجہ حرارت تاریخی حد تک زیادہ ہو جائے گا۔
’ہم اس مشین میں وہ درجہ حرارت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ’بِگ بینگ‘ کے بعد صفر اعشارہ ایک ارب سکینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ جہاں مادہ ٹوٹ کر ایٹموں میں اور ایٹم ٹوٹ کر نیوکلیس اور نیوٹرونز میں تقسم ہو جاتے ہیں۔
’یوں ہر مادہ اپنے بنیادی ذرات میں تقسیم ہو جاتا ہے اور یہی وہ ذرات ہیں جن کا مطالعہ ہم پارٹیکل فزکس میں کرتے ہیں۔
دو سال قبل ایل ایچ سی میں آخری بڑے تجربے کے بعد زیادہ تر وقت کولائیڈر کی مرمت ہوتی رہی اور ماہرین اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے
پروفیسر تارا شیئرز کے بقول اس دوران اس کے اندر لگے ہوئے بڑے بڑے مقناطیسوں کا جائزہ لیا گیا، ان مقناطیسوں کے درمیان کنکشنوں کو مضبوط بنایا گیا اور اس کے علاوہ مشین کے اندر لگے ہوئے تمام الیکٹریکل آلات کا جائزہ لے کر انھیں مزید بہر بنایا گیا ہے۔‘
’اس کام میں دس سے بیس لاکھ گھنٹوں کے برابر کام کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ایل ایچ سی اتنی توانائی کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئی ہے جس کی توقع اسے ڈیزائن کرتے وقت کی جا رہی تھی
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان ابھی تک کُل کائنات کے صرف پانچ فیصد سے ہی واقف ہے، تاہم اس پانچ فیصد میں ہمیں توازن کی شدید کمی دکھائی دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب کائنات کی تخلیق کے وقت ’بِگ بینگ‘ ہوا تو اس دوران مادے کے ذرات کی دونوں اقسام پیدا ہوئیں، یعنی مادہ اور ’مادہ مخالف‘ مواد برابر مقدار میں پیدا ہوا۔
ماہرین طبعیات کہتے ہیں کہ جب یہ دو قسم کے ذرات آپس میں ٹکراتے ہیں تو وہ ’اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔‘ اور ہمیں کائنات میں جو کچھ بھی دکھائی دے رہا وہ زیادہ تر ایسے ٹکراؤ کے بعد بچ جانے والا کچرا یا ٹکڑے ہیں۔
لیکن یہ سوال بہت حیران کن ہے کہ پیچھے بچ جانے والا یہ سارا مواد ’مادہ‘ ہے اور ہمیں کائنات میں اینٹی میٹر یا ’مادہ مخالف‘ مواد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
پروفیسر شیئرز کے بقول ’ آپ کو کائنات میں مادہ مخالف مواد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا صرف سائنس فکشن فلموں میں ہوتا ہے یا مادے کے تباہ ہونے کی صورت میں یہ آپ کو تابکاری کے شکل میں دکھائی دیتا ہے
’کائنات میں مادہ مخالف مواد کا موجود نہ ہونا، سب سے بڑا معمہ ہے، اور آئندہ ایل ایچ سی میں جو تجربات کیے جائیں گے ان کا بنیادی مقصد اسی بات کا کھوج لگانا ہے کہ
تخلیق کائنات کے وقت پیدا ہونے والا مادہ مخالف مواد آخر گیا کہاں؟

پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Sunday, February 8, 2015

" سیاسی باتیں "

 منجانب  فکرستان 

#DelhiPolls: If #exitpolls are to be believed... http://t.co/W04Pd4YnML | http://t.co/qVY1xPKxAX
صحیح نتیجہ10 فروری
سابقہ حکومت سے ناراض پاکستانیوں نے ن لیگی نعروں پر اعتبار کرلیا۔۔دو سال کا عرصہ بیت رہا ہے،بڑے دعوؤں کوچھوڑیں،حکومت بلدیاتی الیکشن کا نعرہ تک نبھا نہ سکی ،عمران نے بھی 90دنوں میں بلدیاتی الیکشن نہ کرا کے قوم کو حد درجہ مایوس کیااور جذباتی پن میں آکر اپنے تُرپ کے پتے بے موقع کھیل کر ضائع کردئیے۔ 
بے شک عمران عوام سے مخلص ہونگےلیکن پارٹی میں جمع ہونے والوں سے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پارٹی پی پی پی اور ن لیگ کا ملغوبہ بن کے رہ جائے گی پھراقتدار میں آنے پر وہی کُچھ ہوگا جو کل بھی ہُوا تھا اور آج بھی ہورہا ہے۔۔
ایسا لگتا ہے کہ سنجیدہ طبقہ مذکورہ تینوں  پارٹیوں میں سے کسی سے بھی خوش نہیں ہے۔۔شاید یہی وجہ ہے کہ چوہدری محمد سرور کو مشورہ دینے والے اِن پارٹیوں میں شامل ہونے کا مشورہ نہیں دے رہے ہیں، بلکہ مشورہ یہ دے رہے ہیں کہ ہمت کرکے مخلص لوگوں کو جمع کریں اور نئی پارٹی بنائیں کہ پاکستان میں رہبری کا خلا موجود ہے۔۔۔
مشورہ لنک پر جاکر دیکھیں اور مجھے اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا شُکریہ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }



Thursday, February 5, 2015

"Thaipusam festival"

 منجانب  فکرستان :غور و فکر کیلئے
 یہ  بہت ہی سوفٹ امیج ہےہارڈامیجز لنک پر  ہیں
گو کہ "تھائپو سم" ہندوؤں کا تہوار کہلاتا ہے،تاہم اِس تہوار کو"تمل ہندو کمیونٹی" کا تہوار کہنا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ تمل ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ  Muruganاُنکا خاص بھگوان ہے۔۔۔جو "خاص کر"تمل لوگوں کی سُنتا ہے۔۔۔(ویسے آپس کی بات ہے،ایساہی عقیدہ ہر مذہب ہر فرقے کا ہے)اُسی بھگوان کی خوشنودی کیلئے تمل ہندو کیسے کیسے جتن کرتے ہیں امیجز دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔
یہ تہوار تمل کیلنڈر کے تحت منایا جاتا ہے اِس سال 3فروری کو منایا گیا، سنگاپور میں جلوس میں شامل لوگوں سے پولیس کی اِس بات پر تکرارہوئی کہ میوزک ڈرم وغیرہ نہ بجایا جائے کہ 1973 سے میوزک  بجانے پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔
گوگل امیجز     
مکمل تفصیل اور مزید امیجز کیلئے لنک پر جائیں  http://en.wikipedia.org/wiki/Thaipusam
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Tuesday, January 27, 2015

" خوف جو سر چڑھ کر بولا "

 منجانب  فکرستان برائےآگہی اور غوروفکر کیلئے
تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود دُنیا کی اکثریت ایسے انسانوں پر مشتمل ہے کہ جو روایتی طور پر رائج سعداورنحس جیسے نظریات پر پکا یقین رکھتے ہیں۔۔۔
برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ نے تائیوان کے دارالحکومتی شہر ٹائی پے کے میئر کو تحفے میں گھڑی دینی چاہی تو،وہ حد درجہ خوف زدہ ہوگئے، مارے خوف کے کہنے لگے نہیں نہیں مجھے گھڑی نہیں چاہئیے۔۔
وجہ اسکی یہ ہے کہ چینی ثقافتی نظریے کہ تحت گھڑی کا تحفہ نحس علامت سمجھا جاتا ہے وہ یہ کہ'اب تمہارے دن پورے ہوگئے ہیں' جبکہ برطانیہ میں یہ تحفہ اچّھ سمجھا جاتا ہے کہ وقت ہی سب کچھ ہے۔۔مگر میئر نے تو خوف کے مارے یہاں تک کہہ دیا کہ تحفتاً گھڑی لے بھی لی تو اسے ردی والے کے حوالے کر دونگا۔۔۔
میئر کے رویئے پر تنقید ہونے لگی تو ترجمان نے بات بنائی کہ میئر مزاق کر رہے تھے، جبکہ تحفہ دینے والی برطانوی وزیر برائے ٹرانسپورٹ سوزن کریمر نے بھی اپنے بیان میں اِس انجان رویئے پر معافی چاہی ۔۔۔
 مزید تفصیل کے خواہش مند دوست لنک پر جائیں۔۔مجھے اجازت دیں، پڑھنے کا شُکریہ۔۔ 
 http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/01/150127_britain_taiwan_watch_gaffe_rh
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Thursday, January 22, 2015

عبادت گاہ ایک : مذاہب تین


فکرستان کی شئیرنگ
برائےآگہی اور غوروفکر کیلئے


برلن مسلم تنظیموں کی جانب سےمنعقدہ عوامی ریلی میں جرمن چانسلر اوراُنکی کابینہ کے وزراء نے شرکت کی۔۔
 میرکل نے اپنے خِطاب میں ایک بار  پھراِسلام مُخالف تنظیم"پیگیڈا"کواپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔۔






سروے رپورٹ
(روزنامہ جنگ  )لندن ( نیوز ڈیسک) ادھیڑ عمر برطانوی شہریوں پر کی گئی ایک بڑی سٹڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں خدا پر زیادہ یقین رکھتی ہیں، 9ہزار افراد پر کی گئی سٹڈی سے یہ بات سامنے آئی کہ مادہ پرستوں اور لادین افراد کی اکثریت مردوں پر مشتمل ہے جبکہ کم وبیش دوتہائی خواتین جنت اور زندگی بعدالموت پر یقین رکھتی ہیں۔سٹڈی سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مسلمانوں کا جدید برطانیہ پر زیادہ پختہ اعتقاد ہے جبکہ چھوٹے ایونجیلیکل چرچ سے تعلق رکھنے والے مسیحی گروپ کے یقین کی سطح بھی کم وبیش ان کے مساوی ہے۔جبکہ چرچ آف انگلینڈ اور دیگر پروٹسٹنٹس میں سے صرف 6میں سے ایک نے کہا کہ انھیں خدا پر پختہ یقین ہے۔ جبکہ ہر تیسرے رومن کیتھولکس نے خدا پر پختہ یقین کا اظہار کیا اس کے مقابلے میں 88فیصد مسلمانوںاور71 فیصد ایونجیلیکل چرچ سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں نے خدا پر پختہ یقین کااظہار کیا۔
روزنامہ جنگ میں شائع شُدہ  خلیل احمد نینی تال والا کے کالم سے اقتباس 
"میں پاکستانیوں کی اطلاع کے لئے   بتاتا   چلوں کہ کینیڈا میں ہر مذہب کو اتنی آزادی ہے جتنی شاید ہی کسی مسلمان ملک میں ہو۔ ہمارے محلے میں ایک گرجا گھر ہے جس میں جمعہ کی باقاعدہ نماز اور خطبہ ہوتا ہے ہفتہ کو وہی گرجا یہودی استعمال کرتے ہیں اور اتوار کواس میں عیسائی اپنی عبادت کرتے ہیں آج تک کسی کو اعتراض نہیں ہوا میں بھی اکثر جمعہ کی نماز اسی گرجے میں جاکر پڑھتا ہوں جو دو گلیاں پیچھے واقع ہے"۔ 
مکمل کالم پڑھنے کیلئے لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں،پڑھنے کاشُکریہ۔ 

پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Monday, January 19, 2015

۔" گلیزل " کا سوال آزاد معا شرے کی تصویر

 فکرستان کی شئیرنگ:برائے غور و فکر

ایک 12 سالہ معصوم بچّی نے 78 سالہ پوپ سے ایک ایسا معصومانہ سوال کر بیٹھی کہ پوپ سے کوئی جواب نہ پن پڑا تواُنہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار نم ناک آنکھوں سے بچّی کو گلے لگا کر کیا۔۔
12 سالہ لاوارث معصوم بچّی "گلیزل آئی رس پالومر" نے پوپ فرانسس سے کہا کہ "دُنیا بھر میں بُہت سے بچّوں کو اُنکے والدین تنہا چھوڑ دیتے ہیں،اِن میں سے بُہت سے بچے منشیات اور عصمت فروشی جیسے گھناؤنی سماجی بُرائیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔آخر خُدا یہ سب کُچھ کیوں ہونے دیتا ہے جبکہ اِن بچّوں کا اِس میں کوئی قصور نہیں ہوتا؟؟
"گلیزل" کا یہ سوال آزاد معاشرے کی تصویر ہے۔۔۔اب مجھے اجازت دیں۔۔پڑھنے کا شُکریہ  
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  



یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...