Sunday, November 16, 2014

پاکستانی نوجوان خاطر جمع رکھیں۔۔۔

 منجانب فکرستان 
بھارت ریپ کے حوالے سے دُنیا بھر میں بدنام ہے۔۔ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ  کے مطابق ہر 30 ویں منٹ پر ریپ کا ایک کیس رجسٹر ہوتا ہے۔جبکہ ریپ کی ایک  بُہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے کہ جو رپورٹ نہیں ہوتی ہے۔۔
بھارت میں ایک طرف تو ریپ کے خلاف آئے دن بڑے سے بڑے احتجاج ہوتے رہتے ہیں،نتیجے میں سخت سے سخت قوانین بنائے جاتے ہیں، تو دوسری جانب بھارتینوجوانوں کے طرف سے جس میں لڑکیاں پیش پیش تھیں نے 2 نومبر کو   پبلک پلیس پرمُورل ویلیوز کو روندتے ہُوئے کسنگڈے   منایا گیا  لڑکیوں کی طرف سے اسطرح کے پیغامات دئیے جانے کے بعد ریپ کیسیس میں مزید اضافہ ہوگا۔جبکہ قوانین اور مورل ویلیوز سب دیکھتے رہ جائیں۔۔
 بلکہ خدشہ یہ بھی ہے کہ کِسنگ ڈے وائرس کہیں پڑوسی ممالک میں بھی سرایت نہ کرجائے، تاہم پاکستانی نوجوان خاطر جمع رکھیں کہ پاکستان میں یہ وائرس نہیں آپائے گا ۔۔۔ اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 

٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }

Thursday, November 13, 2014

" خُدا کی پھونکی ہوئی روح، انسانی غور و فکر " ایک اور انسانی کار نامہ "


منصوبے پر کام کرنے والی ٹيم کے ارکان
خوشی سے ہنستے۔۔مسکراتے۔۔ چمکتے ۔۔دمکتے۔۔چہرے
 سورۃ السجدۃ آیت9 کے مطابق خالقِ کائنات نے اپنی روح انسان میں پھونکی، تدبر اور غور و فکر کے نتیجے میں یہ روح۔۔ کائنات میں موجود حقیقتوں و قوانین سے پردہ اُٹھاتی ہے، مثلاً سائنسداں تو رہے ایک طرف عام انسانی تجربہ ہے کہ جب انسان کسی مسئلے پر یکسو ہوکر جتنا غور و فکر کرتا ہے مسئلے کے اُتنے ہی مگر مختلف قسم کے حل پاتا ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ قُرآن میں ایک بڑی تعداد میں ایسی آیات ہیں کہ جس میں خُدانے انسان کو کائنات پر غور و فکر اور تدبر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ انسان اپنے مسائل قوانینِ قدرت کے زریعے حل کرسکے مثلاً آج بانجھ جوڑے بچے پیدا کر رہے ہیں فارمی مرغیاں انڈے انسان کی پروٹین کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں  فصلوں سے زیادہ  اناج حاصل ہورہا ہے۔۔معزور چل پھر رہے ویکسین بچوں کو بیماریوں محفوظ رکھتیں ہیں غرض کہ دُنیا میں جتنے انسانی مسائل حل ہورہے ہیں وہ سب انسان میں خالقِ کی پھونکی ہوئی روح اور انسانی غور و فکر کا نتیجہ ہے ۔۔۔
تصویر میں خوشیوں سے بھر پور جو چہرےنظر آرہے ہیں یہ سائنسدانوں کی وہ ٹیم ہے کہ جنہوں نے کائنات کی تخلیق سے متعلق خُدا کی حکمت کو خُدا کی پھونکی ہوئی روح اور غور و فکر کے زریعے جاننے کے ایک ایسے منصوبے پر کام کیا کہ جسکی کامیابی /ناکامی کا نتیجہ دس سال بعد آنا تھا ۔۔۔یہ سائنسدانوں کی ٹیم ہے جو یہ کہنا نہیں جانتی  ہے کہ"کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک" 
 ٹیم کا سال ،مہینے،گھنٹے، سیکنڈ گننے کے دن ختم ہوئے اور اُس تذبزب سے بھی آزاد ہوئے کہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں چونکہ خلائی تحقیقاتی گاڑی سیارچے پر کامیابی سے اُتر گئی ۔۔اگر ہم سیارچے کی سطح کو دیکھیں تو محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے کامیابی کی امید کم ہو بہرحال انسان کامیاب رہا ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
  مزید تفصیل کیلئے لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں ۔پڑھنے کا شُکریہ
http://www.dw.de/%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE%DB%8C-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%AF%D8%A7%DA%91%DB%8C-%D8%A8%D9%84%D8%A2%D8%AE%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DA%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%AA%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%8C/a-18059663?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }
  

Wednesday, November 12, 2014

" کشکول "

 منجانب فکرستان  
 غور و فکر کیلئے۔۔۔ بشکریہ جنگ نیوز

Friday, October 31, 2014

" مذہب کو سائنسی جامہ پہنا نا"

منجانب فکرستان: غور و فکر کے قابل دو خبروں کی شئیرنگ
پہلی خبریہ ہےکہ پوپ فرانسس نے سائنسی نظریہ بگ بینگ اور اِس بھی بڑھ کر مذہب کے حوالے سے متنازعہ نظریئے اِرتقاء کو حقیقی کہہ کر قبولیت بخشی یوں مذہب پر سائنسی جامہ چڑھانے کی کوشش کی ہے۔۔ اپنی بات میں وزن ڈالنے کیلئے پوپ فرانسس کہتے ہیں کہ
When we read about creation in Genesis, we run the risk of imagining God was a magician, with a magic wand able to do everything
پوپ کا نظریہ بیگ بینگ،نظریہ ارتقاء اور خُدا کے بارے میں یوں رائے دینا مذہب کے حوالے سے کہاں تک صحیح ہے ؟؟؟ 
دوسری خبر یہ ہے کہ ایپل کے سربراہ ٹمِ کُک نے کہا ہے کہ" مجھے ہم جنس پرست ہونے پر فخر ہے۔۔
میں اِسے خُدا کی جانب سے دیئے گئے عظیم تحفوں میں سے ایک تحفہ خیال کرتا ہوں " مسٹر کُک کے یہ خیالات دماغ میں جگہ بنا نہیں پارہے ہیں۔۔
اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوپ کی خبر کا لنک۔  
http://www.washingtonpost.com/blogs/worldviews/wp/2014/10/28/pope-francis-backs-theory-of-evolution-says-god-is-no-wizard/
ٹم کُک کی خبر کا لنک۔
http://www.reuters.com/article/2014/10/30/us-apple-ceo-idUSKBN0IJ19P20141030
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  

Wednesday, October 29, 2014

" انسانی سوچ کا جوار بھاٹا "

منجانب فکرستان
کہاں تو اسمبلی میں پہنچنے کیلئے تگ و دو اور کہاں مزارات پر دن گُذارنے کی آرزو
"ایاز امیر" اپنے کالم میں کہتے ہیں"
میرے ذہن میں بہت عرصے سے یہ خیال ہے کہ میں سڑک پر چلتے چلتے ایک مزار سے 

دوسرے مزار تک حاضری دوں۔ میں نے فقیروں کی عبازیب تن کی ہواور دنیاوی رخت و 

مال پاس نہ ہو۔ قسمت کی خیرات پر جیوں۔تیس سال پہلے میں لال شہباز قلندرؒ کے عرس پر 

سہون شریف گیا تھا۔ اُ س وقت میرے پاس قیام کی کوئی جگہ نہ تھی۔ ایک مہربان اسسٹنٹ 

اسٹیشن ماسٹر نے مجھے اپنے گورنمٹ کوارٹر کا ایک کمرہ دے دیا۔ تین دن تک میں سہون کی 

گلیوںمیں چلتا رہا یا مزار کے احاطے میں بیٹھ جاتا۔ سندھ بھر سے خانہ بدوش لڑکیاں عرس 

میں شرکت کرتیں اور ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈالتیں۔مجھے قلندر کے مزار سے جو دولت 

ملی وہ ذہنی سکون ہے۔
یہ تجربہ میری یاداشت کا انمٹ حصہ ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر اس سفر کو دہرانا چاہتا ہوں، 

صرف سہون شریف ہی نہیں بلکہ بھٹ شاہ بھی جانے کو دل چاہتا ہے۔ میں وہاں جانا چاہتا

 ہوں اور میرے ساتھ کچھ دنیاوی متاع بھی ہو… بہت مال ودولت نہیں  بلکہ کتابیں اور لیپ ٹا 

لیپ    ٹاپ کیونکہ ان کے بغیر شامیں زیادہ تنہا ہوجاتی ہیں۔ 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭ 
مکمل کالم پڑھنے کیلئے لنک پر جائیں ۔بشکریہ جنگ
http://jang.com.pk/jang/oct2014-daily/29-10-2014/col1.html

پوسٹ میں  دی گئی رائے سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں } 

" حیرانگی جاتی رہی "

منجانب فکرستان
دوستو ایک وضاحت، جمال صاحب کا یہ مشاہدہ کہ سُناروں کی دُکانوں کے پٹ کُھلے جبکہ دیگر اشیائے فروخت کی دُکانوں کے پٹ بند رہتے ہیں،عام شاپنگ سینٹروں کے بارے میں تھا جبکہ حرم کے قریب واقع ہر قسم کی تمام دُکانوں کے پٹ کُھلے رہتے ہیں کہ ہر نماز کے بعداِن دُکانوں میں خریداروں کا رش پڑتا ہے۔
سب سے زیادہ انڈونیشیا سے ایک لاکھ 68 ہزار،فریضہ حج کی  ادائیگی کیلئے پہنچے، لیکن وہ کہیں نظر نہیں آرہے تھے، نہ منیٰ میں، نہ جمرات میں اور نہ ہی طواف کے دوران ،جمال صاحب اور اُن کے ساتھیوں کیلئے یہ ایک حیران کُن بات تھی،لیکن    مکّہ سے مدینہ پہنچے تو اُنہیں ایسا محسوس ہُوا کہ جیسے وہ مدینے میں نہیں جکارتا میں گھوم رہے ہیں ہر طرف انڈونیشئین گھوم پھر رہے تھے، یوں اُنکی حیرانگی جاتی رہی اور جمال صاحب کے سمجھ میں یہ بات آئی کہ اُن کے اور انڈونیشئین کے درمیان وقت اور رہائشی علاقے کا فرق آڑے آیا ہوگا کہ اُنہیں انڈونیشئین نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔ اب اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }   
     

Thursday, October 23, 2014

کیا وڈیو میشل کومشتعل کرسکتی ہے ؟؟

منجانب فکرستان: قہقہے، تبادلہ خیالات اور جونز کی وارننگ 
جیسا کہ وڈیو دِکھاتی ہے( لنک موجود ہے) صدر اوباما تو مائک جونز کی گرل فرینڈ کو  چھوُنا تو دور کی بات، وہ بیچارے تو ایک شریف مرد کی طرح آنکھیں نیچی کئے  وسط مدتی اپنا ووٹ بُھگتا رہے تھے، لیکن اوباما کو دیکھ مائک جونز کو کیا سوجھی کہ اُس نے کہا جنابِ صدر میری محبوبہ کو مت چُھونا!! جونز کی اِس بات پر (امریکی خواتین کی سائیکی کے مطابق) اُسکی محبوبہ کے قہقہے گونجے تو اوباما متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے، پھر دونوں میں تبادلہ خیال شروع ہُوا۔۔۔۔
 قہقہے، تبادلہ خیال اور جونز کی وارننگ نے اوباما کی مردانگی کو اِتنا جگادیا کہ میشل بھی یاد نہ رہی، اوباما نے نہ صرف جونز کی محبوبہ کو چُھوا بلکہ گلے سے بھی لگایا یہی کُچھ جونز کی محبوبہ نے اوباما سے کیا۔۔۔اب خُدا جانے اوباما کی بیوی میشل وڈیو دیکھ کر میشل ہی رہتی ہیں کہ مشتعل ہوکر مشعلبن جاتیں ہیں ؟؟جبکہ جونز اور اُسکی محبوبہ خوب خوش ہیں کہ وہ اتنے مشہور ہوگئے ہیں کہ ٹی وی والے اُن کے انٹرویو لے رہے ہیں ۔۔۔۔
"وڈیو دیکھنا چاہیں تو لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ"  

http://urdu.alarabiya.net/ur/editor-selection/2014/10/22/-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%84-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D9%86%DA%88-%D9%86%DB%81-%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91%DB%8C%DA%BA-%D8%8C-%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%85%D8%A7-%DA%A9%D9%88-%D8%AF%DA%BE%D9%85%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%86%D9%86%DA%AF.html
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }        

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...