Monday, October 20, 2014

" کوئی روایتی عقیدہ ہوسکتا ہے"

منجانب فکرستان :مکّہ یا جدہ
بیوی ساتھ ہو تو شوہر کو شاپنگ سینٹرز  کے  چکر لگانے  ہی پڑتے  ہی ہیں،  جمال صاحب کےمشاہدے میں یہ بات آئی کہ مکہ یا جدہ میں کاسمیٹکسکی شاپس ہوں یا کہ گارمنٹس کی غرض کہ ہر قسم کی شاپس کے دروازے بند ہوتے ہیں لیکن سونے کے زیورات کی کسی بھی شاپ کے دروازے بند نہیں ہوتے ہیں اِن شاپس  کے دروازے ہمیشہ  کھُلے رہتے ہیں، اِن کھُلے دروازے زیوارات کی شاپس پر کوئی سیکورٹی گاڈز بھی نہیں ہوتے ہیں جمال صاحب کیلئے یہ اچمبے کی بات تھی ۔۔اُن کے ذہن میںیہ خیال بھی آیا کہ زیورات شاپس کے دروازے یوں کھُلے رکھنا کسی روایتی عقیدے کا حصہ بھی تو ہو سکتا ہے جس پر آج بھی عمل ہورہا ہو۔۔
ساتھ میں یہ خیال آیا بھی کہ ہمارے جمہوری ملک میں یوں کھُلے دروازے سونے کے زیورات کی شاپس وہ بھی بغیر کسی سیکورٹی گارڈز کے تصور میں بھی آنا نہ ممکن ہے۔۔
 اِس بادشاہت میں لوگوں کو جان و مال کا تحفظ حاصل ہے جبکہ ہمارے جمہوری ملک میں یہ تحفظ نہ پید ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟؟ ہمارے جمہوری ملک میں تو یوٹیوب پر بھی پابندی ہے جبکہ سعودی عرب میں پابندی نہیں ہے۔۔کوئی دوست یہ نہ سمجھے کہ میں جمہوریت کی مخالفت کررہاہوں"گلوبل پیس انڈیکس ممالک جمہوریت بہترین طرز حکومت کی گواہی دیتے ہیں "رہی پاکستانی جمہوریت کی بات تو اس بارے میں روز نامہ دُنیا کے سنڈے میگزین میں معروف شاعر ،نقاد ،مترجم،اوراستادمحترم ڈاکٹر سعادت سعید صاحب کا انٹرویو شائع ہُوا ہے جس میں اُنہوں نے پاکستان میں رائج جمہوری نظام کے بارے میں کہا ہے کہ "موجودہ جمہوری نظام جاگیرداروں، سرمایاداروں،اور لٹیروں کا اکٹھ ہے یہ جمہوریت نہیں سول مارشل لاء ہے۔یہ جمہوریت دیو استبداد ہے " 
محترم جناب ڈاکٹر سعادت سعید کا انٹرویو پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں اور مجھے اجازت د یں۔  http://mag.dunya.com.pk/index.php/interviews/1776/2014-10-12 
نوٹ:دوستو نئے لیپ ٹاپ کو اردو لکھنے سے کچھ الرجی ہے لکھائی کی لائنیں آرڈر میں نہیں آتی ہیں یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ میرا اناڑی پن ہے  بہرحال کوشش میں لگا ہُوا ہوں دیکھیں کب کامیاب ہوتا ہوں ۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }        





   

Sunday, October 19, 2014

سوال یہ ہے کہ

منجانب فکرستان :کِردار حقیقی نام فرضی
جمال صاحب بمع بیوی ادائیگی حج کیلئے جدہ ائیرپورٹ پہنچے جہاں دیگر ممالک سے آئے افراد بھی
موجود تھے۔ صدا آئی کہ پاکستانی خواتین و حضرات ایک طرف ہوجائیں انہیں پولیو کے قطرے
 پِلائے جائیں گے، جمال صاحب نے قطرے پِلانے والے سے کہا (جو کہ اردو جانتا تھا)"ہم پولیو
کے قطرے پاکستان سے پی کر آئیں ہیں پاسپورٹ سے منسلک سرٹیفیکیٹ آپ دیکھ سکتے ہیں"
اُن صاحب نے جمال صاحب کی ایک نہ سُنی،قطروں کا ڈراپر جمال صاحب کے مُنہ کے قریب
لے گیا تو جمال صاحب کا مُنہ خودبخود کھُل گیا اور قطرے زبان پر ٹپکنے لگے یوں سارا احتجاج
دھرے کا دھرہ رہ گیا،تاہم اُنہیں اِس بات کا رنج ہے کہ پاکستان سے لائے اُن کے پولیو کے
سرٹیفیکیٹ کو قبول نہیں کیا گیا ۔۔۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانیوں کو اِس حال میں کس نے پہنچایا ؟؟؟
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  


Sunday, September 21, 2014

" زیادہ ثواب "

منجانب فکرستان:"حج پیکیج"
جمال صاحب نے سوچا کہ پیسے اتنے ہوگئے ہیں کہ حج پر جایا جاسکتا ہے، آج کی دُنیا پیکیج
 کی دُنیا ہے:ہراشتہاری پیکیج کایہی دعویٰ ہے کہکم پیسوں میں بہترینسہولت وہی فراہم کرتے
ہیں، جمال صاحب نے جب پیکیج اشتہارات دینے والوں سے ملاقات کی اورہرپیکیج کا حساب 
 لگایا تو پیکیجوں کا راز یہ کُھلا کہتین 20 ساٹھ ہوتے ہیں،باقی سب کُچھ فسانہ ہے۔
مجبوری یہ ہےکہ حج پر جانا ہے تواِنہیں میں سےایک کے پاس جانا ہوگا،لہٰذا اُنہوں نے بھی
ایک کو منتخب کیا،پیسے اور پاسپورٹ جمع کرا کے انتظار کرنے لگے کہ فون آیا کہ تین دن
 حج کا تربیتی کورس ہے، عشاء کی نماز میں شرکت کریں کہ بعدنماز فوراً  تربیتی کورس شروع 
ہوجائے گا،بعد نماز تین گھنٹے تک بغیر وقفے کے تربیت کم اورتبلیغی واعظ زیادہ رہا،واعظ میں 
وہی کئی بارسُنی ہوئی باتیں دوبارہ سُننے سے کُچھ حضرات اُونگھے توکچھ باقاعدہ سوگئے تھے،واعظ
ختم ہونے پر جمال صاحب نے انتظامیہ کے ناظم سے کہاکہ بھائی آپ نے نماز کے فوراًبعد
  تربیت اورواعظ میں تین گھنٹے لگا دئیے ذرا سا وقفہ لیکرایک پیالی چائے ہی پِلا دیتے تو کیا 
ہی اچھّا ہوتا۔۔۔جس پر ناظم صاحب نے کہا جناب یہ تربیت حج کا ہی حصّہ ہے،اور 
اس میں راہ میں جتنی تکلیفیں برداشت کریں گے اُتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا۔۔۔
ناظم کا یہ جواب سُن کر جمال صاحب لاجواب ہوگئے اور اُن کے دِماغ میں پیکیج اشتہارات
  کےوہ الفاظ گردش کرنے لگےکہ"ہم حج پر جانے والوں کو زیادہ سہولتیں فراہم کراتے ہیں
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  

Tuesday, September 16, 2014

سائنس چل پڑی ہے: مذہب سے گلے ملنے کو !!۔

منجانب فکرستان
پہلےسیلاب اور بلدیاتی انتخابات پر بات ہوگی پھر (Technische Universität Berlin
 944 افراد کی
 رضاکارانہ تجرباتی کلینکل موت اور زندگی

 یکساں تجربات کے حامل اِن افراد میں عیسائی، مسلمان، ہندو، یہودی اور
بےدین شامل ہیں اور دوسری دُنیا کا سائنسی ثبوت فراہم کراتے ہیں
ساتھ میں مختلف مذاہب والوں کے تبصرے بھی شامل ہیں۔۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
اگرپاکستان میں حقیقی جمہوریت ہوتی توسیلاب سے تباہی اتنی نہ ہوتی اس لئیےکہ بلدیاتی نمائندے مقامی ہوتے ہیں وہ مقامی مسائل سےآگاہ ہوتے ہیں، 
اسی لئیے وہ اِن کے بہترین حل سے بھی آگاہ ہوتے ہیں،۔۔۔۔۔
 نمائندے ہونے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو مسائل کے حل کا ذمہ دار بھی
 سمجھتے ہیں۔۔اس کےعلاوہ مقامی لوگوں کی اُن تک رسائی بھی آسانی سے
 ہوتی ہے۔۔ یوں  مسائل کو سمجھنے، لوگوں کو سمجھانے اورمسائل کو حل 
کرنے میں مزید آسانیاں پیدا ہوتی ہیں ۔۔۔
  غرضکہ اگرحقیقی جمہوریت ہوتی تو سیلاب سےجتنی تباہی ہوئی ہےاس سےکم ازکم 50 فیصد کم تباہی ہوتی. 
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
Technische Universität Berlin میں کئے گئے تجربات نے ثابت 
کردیا ہے کہ مرنے کے بعد زندگی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ ایک نئی دُنیا کا آغاز
 شروع ہوجاتا ہے ۔۔۔ مکمل تفصیل اور تبصروں کیلئے لنک پرجائیں۔۔۔
http://worldnewsdailyreport.com/german-scientists-prove-there-is-life-after-death/
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں  رہیں }  




Friday, September 12, 2014

" سٹیفن ہاکنگ کا نیا مفروضہ "

فکرستان میں آج کیا ہے؟؟
  سٹیفن ہاکنک کے نئے تصوراتی مفروضے کے بارے میں ایم ڈی    کی   شئیرنگ  پوسٹ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عبرت کا نشان یا معجزاتی انسان؟؟ 
 
 کُچھ مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ خُدا کو نہ ماننے کا نتیجہ ہے کہ سٹیفن ہاکنگ دُنیا والوں کیلئے عبرت کا نشان 
بن گیا  ہے۔۔۔۔جبکہ ہاکنک کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ عبرت کا نشان کیسے کہہ سکتے ہیں؟اُسے تو آئے 
دن مختلف قسم کے اعزازات سے  نوازا جا تا ہے، اعزازات  سے نوازے  جانے  والے شخص  کو عبرت کا 
نشان کیسے کہہ سکتے ہیں؟؟
 سٹیفن ہاکنک جس بیماری میں مبتلہ  ہیں ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ہاکنگ تین ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ 
پائیں گے،یہ بات اُس وقت کی ہے کہ جب ہاکنگ کی عُمر صرف 21 سال کی تھی، ڈاکٹروں کا یعنی انسانوں
 کا سارا علم دھرے کا دھرا رہ گیا،  خُدا کی مرضی کہ  ماشااللہ  سے  اب وہ  72 سال کے ہو گئے ہیں،،گویا
 معجزاتی انسان کہلانے کے حقدار بن گئے  ہیں،،اگر  ہاکنک اسی نقطے غور پر ذرا غور فرمالیں تو خُداکی گواہی 
دینے لگ جائیں گے، ۔۔مگر وہ تو دُنیا والوں کو اپنے اِس نئے تصوراتی مفروضے کے زریعےڈرا     رہے ہیں کہ
THE Higgs boson, once hailed as the God particle, may actually have the potential to destroy the universe, Professor Stephen Hawking has warned.  
مکمل تفصیل کیلئے لنک پر جائیں،مجھے اجازت دیں پڑھنے بُہت شُکریہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 


Wednesday, September 10, 2014

سائنس روحانیت کی جانب بڑھ رہی ہے ؟؟

فِکرستان  کی قارئین دوستوں سے شئیرنگ " برائے غور و فکر"

" خُدا اور انسان "

فکرستان میں آج بابا فروٹ فروش کا تذکرہ ہوگا۔۔ 
فلاسفراور ماہر نفسیات جناب ولیم جیمز نے کہا تھا کہ انسانی فطرت کا تقاضا  ہے کہ وہ ایک اُیسے خُدا کو
 ماننے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہےکہ جو اُسکی زندگی سے لا تعلق نہ ہو بلکہ گہرا تعلق رکھتا ہو،جیمز کہتا
 ہے کہانسان کوایک ایسے خُدا کی ضرورت ہے،جو انسانی جذبات و احساسات جیسے جذباتاوراحساسات 
رکھتا ہو اور زبردست قُدرت کا مالک ہو۔۔
با با فروٹ فروش صدر (کراچی) میں ڈرائی فروٹ مارکیٹ کے ساتھ واقع فٹ پاتھ پر بڑا سا چھابا لگاتے 
ہیں،خریدار ہونے کے ناطے میری اُنسے اچھی خاصی دُعا سلام ہے،کچھ دنوں تک فروٹ کا چھابا نہ لگانے
 پر برابر میں چھابا لگانے والے سے دریافت کرنے پر معلوم ہُوا کہ اُنکا بیٹا موٹر سائیکل پر جا رہا تھا  کہ 
ایکسیڈنٹ ہوگیا جس سے پاؤں کی ہڈیوں میں فریکچرز آئے ہیں اور بابا  پریشان ہیں، کافی دنوں بعد بابانے
 چھابا لگایا اور بتایا کہ"بیٹا اب بہتر ہے"چھابا لگائےابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ پھر چھابا بند ہوگیا اُن
کے ایک  ساتھی  فروٹ فروش  سے  بند چھابے کے بابت  دریافت کیا تو  کہا کی اُنکی بیٹی کوگُردےکا مسئلہ
لاحق ہوگیا ہے، میں نے کہا کہ: یہ کیا کہ ابھی بیٹے کی پریشانیوں سے بابا نے مکمل فراغت نہ پائی تھی کہ 
 یہ  کیا مسئلہ پیدا ہوگیا ؟؟ اس پر بابا کے ساتھی فروٹ فروش نے جواب دیا کہ: کچھ نہیں بس،
" اللہ تعلیٰ"  بابا کو ذرا آزما رہا ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
 پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...