Friday, August 22, 2014

" محو حیرت ہوں کہ: دُنیا کیا سے کیا ہوجائے گی "

 فکرستان کی شئیرنگ : روزنامہ جنگ سے : غور و فکر کیلئے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہم جنس شادیوں کی تعداد کا : پہلی مرتبہ انکشاف
لندن (پی اے) سرکاری اعداد وشمار میں انکشاف ہُوا ہے کہ نیا قانون منظور ہونے کے بعد ابتدائی 3 ماہ
کے دوران 14 سو سے کچھ زیادہ ہم جنس شادیوں کا انعقاد ہُوا۔ اس تعداد میں خواتین جوڑوں کا  تناسب
56 فیصد،جبکہ مرد جوڑوں کا تناسب  44 فیصد تھا۔۔
میرج ( ہم جنس جوڑے) ایکٹ 3013ء کو انگلینڈ اور ویلز میں رواں سال 29 مارچ کو متعارف کرایا  گیا
تھا اور قانون کے نافذ ہوتے ہی ابتدائی 3 دنوں کے اندر 95 ہم جنس شادیاں ہوئی تھیں۔۔2005ء سے
اب تک سول پارٹنر شپ میں جُڑے افرادکو شادی کرنے کا 10دسمبر 2014ءکو اختیار حاصل ہوجائے گا
اِن افراد کی تعداد 1 لاکھ 20 ہزار بنتی ہے ۔۔
٭ بشکریہ جنگ ٭
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

" ذہنی خلفشار "

منجانب فکرستان ٹیگز: اُصول جینی فر:  ببیتا : قُربانی : شراب
اسلام آباد مارچ والےاورحکومتکوئی حل نہیں نکال پا رہےہیں:جبکہ چھوٹے نواب اورکرینہ کپورکی شادی
 میں بھی مسئلہ کھڑا ہُوا تھا کہ شادی ہندوانہ رواج کے مطابق پھیرے ہونگے:نہیں : مسلم رواج کےمطابق 
نکاح ہوگا،مذہبی مسئلہ انا  کا مسئلہ بنتا ہے،۔لیکن چھوٹے نواب اور کرینہ نے ایسا حل نکالا کہ لوگ دانتوں 
تلے انگلی دبانے لگے۔۔
Babita and Randhir Kapoor have been married since 1971. Babita appears in and Randhir Kapoor directed Kal Aaj Aur Kal.Image result for biography of babita kapoor actress 

کپورخاندان کےاصولوں میں سے تھا کہ کسی اداکارہ کو بیوی نہ بناؤ،تاہم ببیتا نے رندھیرکپورکووارننگ تاریخ 
 دی تو،رندھیر نے گھرچھوڑنے  کی دھمکی دی،یوں یہ اصول پاش پاش ہُوا، اداکارہ ببیتا رندھیر کپور کی بیوی 
بنی، تو رشی کپور کوبھی اداکارہ نیتو سے شادی کی اجازت ملی۔ ۔( گو کہ اِس اصول کو پہلے بھی شمی کپور نے 
اداکارہ گیتا بالی سے اور ششی کپور نے برطانوی اداکارہ جینیفر  سے شادی کرکے توڑ چُکے تھے)۔۔۔
اِس اُصول کے ٹوٹنے پر نیا اصول یہ وضع کیا گیا کہ اِن اداکاراؤں کی بیٹیوں کو اداکارہ نہیں بننے دینا۔ببیتا 
نے ٹھان لیا کہ چاہے کچھ ہو جائے وہ اپنی دونوں بیٹیوں کو اداکارائیں بنائیں گیں یوں ببیتا نے اپنی دونوں
 بیٹیوں کرشمہ کپور اورکرینہ کپور کو اداکارائیں بناکر اِس اُصول کو بھی تُوڑا، ٹوٹتے اصولوں نے قربانی مانگی:
رندھیر، ببیتا جھگڑوں کے نظر ہوئے تو، جہاں ببیتا  کو ایک طویل عرصے تک شوہر سے جدا رہنا پڑا، وہیں 
رندھیر شراب میں ڈوبے:غرض کہ کپور فیملی کے اُصول ٹوٹتے گئے :فیملیانا پرستی پرسمجھوتوں کو ترجیح دیتی 
گئی کہ: سمجھوتے بھی ایک طرح سے مسئلوں  کا حل کہلاتے ہیں ۔۔۔
بھلا ہوکرینہ اور چھوٹے نواب کے عشق  کا کہ اِس شادی نے ببیتا اور رندھیر کو  پھر سے ملا دیا۔۔چھوٹے 
نواب اورکرینہ نے ہندو پھیرےمسلم نکاح کے مسئلے کو اِس طریقے پر حل کیا کہ کورٹ میرج کرلی، ہندو
  پھیرے اور مسلم نکاح والے دیکھتے ہی رہ گئے ۔۔۔
فلمی دُنیا والے مذہبی اور خاندانی مسئلوں کے حل میں انا پرستی کی جگہ احسن طریقوں پر سمجھوتوں کےحل 
نکالتے ہیں، تو سیاسی دُنیا والے پاکستانی قوم کی خاطر کوئی حل نکالنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔۔
 ۔۔اسلام آبادمیں مارچ کرنے والوں کو اورحکومت کو بھی چاہئیے کہ: جلد ازجلد کوئی حل نکال کر قوم کو
اب کیا ہوگا؟ کے ذہنی خلفشار سے نجات دِلائے ۔۔۔۔  
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }       

Tuesday, August 19, 2014

" امر ناتھ یاترا "

منجانب فکرستان ٹیگز: تعلیم یافتہ: جاہل: دلائل 
 Amarnath yatra 2014- Book your Amarnath Yatra 2014 packages at travelchacha.com with the best deals.
محترم رضاعلی عابدی نے 15 اگست کو"امرناتھ یاترا" پر ایک  کالم لکھا تھا،اُسی کو مدِ نظر رکھ کر یہ پوسٹ 
لکھی جارہی ہے، ہندوؤں کے عقیدے  کے مطابق یہ دُنیا کا مقدس مقام اسلئیے ہے کہ یہاں پر دیوتا شیوا
 نے تپّسیا کی تھی،اور سب سے زیادہ مقدس ترین تو وہ جگہ ہے،جہاں پر شیوا کا لنگم ایستادہ ہے،عقیدہ ہے 
کہدُنیا کی ہر چیز کی ولادت اسی سے ہوئی ہے،اس مقدس لنگم کی زیارت کیلئے ہر سال دُنیا بھر سے تقریباً
  70لاکھ (مرد و خواتین)  ہندو یاتری امر ناتھ آتے ہیں۔۔
شاید بے عقیدہ لوگ اِس بات پر ہنسیں، حیرت کریں یا  جہالت  ٹھرائیں، اوپر دی گئی تصاویر پر ایک نظر
 ڈالیں،لوگوں کے چہرے اور لباس کی تراش خراش گواہی ہے کہ یہ لوگ جاہل نہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ
 ہیں تاہم  ایسا سمجھنے والوں سے غلطی یہ ہورہی ہے کہ عقیدے میں عقل کو داخل کر رہے ہیں! اگر آپ 
یاترا پر آنے والے اِن تعلیم یافتہ لوگوں سے انکے عقیدے پر یقین کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ  آپکو
عقلی دلائل ہی سے اور دیگر مذاہب سے حوالے دے دے کر اسطرح سمجھائیں گے کہ ممکن ہے کہ آپ 
بھی یقین کرنے لگ جائیں ۔۔۔اسلئیے کہ بےعقلی عقیدے بھی عقل کے زریعے ہی ثابت کئے جاتے ہیں،
مثلاً(عیسایوں کا یہ بےعقلی خُدا کامثلثی عقیدہ کہ ایک میں تین یا تین میں ایک۔۔کسی غیر عیسائی شخص کی
 عقل میں جگہ نہیں بنا پاتا ہے۔۔لیکن دُنیا کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگ، اور دُنیا میں سب سے زیادہ
 اس بے عقلی   عقید ے  پر  یقین  رکھنے والے  لوگ دُنیا  میں موجود  ہیں، اور  اِس بے عقلی  عقیدے کو
 عیسائی دانشور عقلی دلیل  سے ہی ثابت  کیا  کرتے ہیں)۔۔  
 یہ عقیدت و یقین کا کرشمہ ہی ہے کہ یہاں آنے والے 70 لاکھ عقیدت مندوں میں سے ہر سال اندازاً 
100کےقریب یاتری دشوارگُزار راستوں کی صعبتیں برداشت نہیں کر پاتے ہیں اوراپنی جانوں سے جاتے 
ہیں،۔۔تاہم مقدس لنگم کی زیارت کی راہ میں مرنا بھی مقدس ٹہرتا ہے، کئی عقیدت مند صرف اسی لیے
 ہر سال آتے ہیں کہ ممکن ہے کسی دن دُنیا کی اِس مقدس سر زمین پر موت آجائے تو مکتی ہو جائے۔۔
مقدس لنگم کی تصویر کا لنک:  http://www.pinterest.com/pin/424816177320897427/
       محترم عابدی صاحب کے کالم کا لنک: http://jang.com.pk/jang/aug2014-daily/15-08-2014/col2.htm
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Monday, August 18, 2014

" سیاسی باتیں"

منجانب فکرستان ٹیگز : محور: اُصولی عمل:قُربانی 
پاکستان میں قومی لیڈر شپ کا خلاء ہے،ممکن ہےکوئی  کہے ن  لیگ عوامی ووٹوں سے منتخب ہے، جبکہ میری 
مراد یہ ہے کہ منتخب ہونے والے ممبران، کس  کلاس کی نمائندگی کرتے ہیں، عوام  کی یا خواص کی ؟
بھارت میں بھی یہی حال ہے عاپ البتہ عوامی نمائندہ تھی لیکن دلی کامیابی نے  کیجری وال میں ایسی  ہَوا 
بھری کہ وہ اپنے آپکو ہاتھی سمجھنے لگےاور دو بڑی طاقتوں یعنی سرمایا داروں اورمیڈیا سے پنگا لے بیٹھے۔۔۔ 
عوامی لوک پال بل منظور نہ  ہونے پر دلی حکومت سے یہ کہہ کرمستعفی ہوئے تھےکہ عوامی لوک پال بل
پاس کرانا ہی میری جماعت کی تمام جدوجہد کا محور ہے۔۔۔
پھر جب سرمایادار،میڈیا متحد ہوکر کیجری وال سے ایسے ایسے بےمحل، بے جوڑ، اور بے تکُے سوال پوچھے
 کہ کامیابی کی بھری ہوا خارج  ہونے لگیاور کہنے لگے کہ میں ہاتھی نہیں ہرن ہوں،اور یہ کہ دلی حکومت 
چھوڑنا  میری غلطی تھی۔عوامی لوک پال بل کی خاطر دلی حکومت کی قربانی دینے کے اُصولی عمل کو غلطی
  کہنے لگے۔۔غرض کہ میڈیا نے کیجری وال کو پاگل بناکر رکھ دیا، لگتا ہے غریبوں کا یہ ستارہ غروب ہوگیا 
ہے شاید ہی اب یہ چمک سکے۔۔
اگر بھارت میں "عاپ" یعنی  عوامی  سطح کی  نمائندہ کوئی  جماعت کامیابی  سے ہمکنار ہوتی ہے تو اِس  کا اثر 
یقیناً پاکستان پر بھی پڑتا۔۔یہی وجہ تھی کہ عاپ کی حمایت میں بھی اُسی طرح لکھا جس طرح کہ پی ٹی آئی
 کی  حمایت میں لکھا تھا ۔۔
پاکستانی جمہوریت کیا ہےسرمایاداروں کی لونڈی ہے،جسطرح چاہیں استعمال کریں،بلدیاتی الیکشن کے بغیر بھی 
پاکستان میں جمہوریت ہے ۔عمران خان نے کہا تھا اصلی جمہوریت بلدیاتی  ہے، 90 دنوں میں بلدیاتی الیکشن
 کرا کے اختیارات عوامی سطح تک پہنچاؤں گا ۔۔مگرافسوس کہ سب سراب ثابت ہُوا۔۔۔  
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Thursday, August 14, 2014


اندرون و بیرون مُلک مقیم تمام پاکستانیوں کو 
منجانب فکرستان: یومِ آزادی مبار ک 
Pakistan Independence Day Wallpapers 2012
 


Tuesday, August 12, 2014

" مُردہ جمہوریت"

منجانب فکرستان 
آزادی مارچ،انقلاب مارچ کے حوالے سے فکرستان ایسا سمجھتا ہےکہ طاہرالقادری کے پاس ماڈل ٹاؤن واقعہ 
کے حوالے سے رائج نظام  کے خلاف آواز اُٹھانے کا ایک جواز  بنتا ہے،لیکن عمران خان  کے  پاس ایسا
 کوئی جواز نہیں ہے کہ حکومت کو گرانے کی کوشش کریںالیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے،احتجاج کرنا 
تھا تو وہ وقت الیکشن کے فوراً  بعد کا تھا۔۔ اسمبلیوں میں نہ جاکر احتجاج  کرسکتے  تھے ،اسمبلیوں میں چلے
 جانے کے بعد احتجاج۔۔سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے جیسا ہے ۔۔
جمہوریت کی دعوے دار  پارٹیوں نے جمہوریت میں سے جمہوریت کی روح ( بلدیاتی انتخابات )  کو نکال 
دیا ہے،سابقہ پانچ سالہ دور کو جمہوری دورکہہ کرجشن منانےوالی دونوں بڑی پارٹیوں نے بلدیاتی انتخابات 
نہیں کرائے اور نہ ہی موجودہ سیٹ اپ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا  ذکر ملتا ہے ، بلدیاتی انتخابات کے
 بغیر عوام کے سامنے جمہوریت کا راگ الاپنا عوام کو بے وقوف بنانا ہے، عمران خان صاحب نے بھی 90
دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے دعوے کئے تھے،اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ میں قوم سے کوئی
ایسا وعدہ نہیں کرونگا جو پورا نہ کرسکوں،لیکن خان صاحب نے بھی وہی مُردہ جمہوریت کی روش اپنائی ہوئی
 ہے۔۔۔
حکومت نے اِن مارچوں سےنمٹنے کا جو طریقہ اپنایا ہُوا ہے،اسے بھی جمہوری طریقہ نہیں کہہ سکتے ہیں، 
 یہ طریقہ بھی مُردہ جمہوریت کی گؤاہی دے رہا  ہے۔۔۔  

  ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Sunday, August 10, 2014

" بصیرت افروز کالم "

 فکرستان کی شئیرنگ 
خود شناسی = خُدا شناسی

٭ ۔۔۔٭ ۔۔۔ ٭ 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...