Sunday, August 10, 2014

میں کوئی جھوٹ بولیا ؟؟


منجانب فکرستان
یومِ شُہداءاور آزادی مارچ  کے حوالے  سے حکومتی  ردِ عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہےکہ مسلم لیگ ن خود
 باری والوں کوبُلا رہی ہے،عوام کا کیا ہےعوام کا کوئی نہیں ہےپیپلز پارٹی نےعوام کی بات کی حکومت بنائی
 عوام نے مٹھائی بانٹی،نتیجہ ٹھن ٹھن گوپال نکلا، پھر کشکول توڑنے،  والے آگئے لیکن ابھی کشکول توڑنے 
کی مشق کر ہی رہے تھے کہ باری والوں سے اُلجھ پڑے،اب کہہ رہے ہیں ایک  پیج پر ہیں عوام دیکھ رہی 
کہ کشکول توڑنے والوں نے کشکول توڑنے کےبجائےاُسکا سائز بڑا کرلیا ہے،مہنگائی بڑھ رہی ، اسلیے موجودہ 
جاری چپقلش کے نتیجے میں اگر  باری والے آجاتے ہیں تو عوام کا  کیا ہے، عوام کا کوئی نہیں ہے۔جمہوریت 
کی دعوے دار سیاسی پارٹیاں بلدیاتی الیکشن تک کرانے کی روادار نہیں ہیں،عمران خان نے بھی 90 دنوں 
میں بلدیاتی الیکشن کرانے  کے دعوے کئے تھے، وہ بھی سب ۔۔۔ہَوا ثابت ہوئے ۔۔۔
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }              

Friday, August 8, 2014

"عجیب تراشی دلیل "

منجانب فکرستان 
ہمارےگلوبٹ نے تو اپنے  ڈنڈے  سے  گاڑیوں کو  زخمیکرنے والے ایسے ایکشن دکھائے کہ دُنیا بھر میں
 اپنے نام  کا ڈنکا بجادیا۔۔جبکہمحترم ڈاکٹر گلبرٹ صاحب نے،غزہ زخمیوں کے علاج معالجے میں جو خدمات
 انجام دیں اور محصورین غزہ  پر  ڈھائے جانے والے انسانیت  سوز ظلم کے خلاف  بطور چشم دید گواہ  کے
 حق کی آواز بلند کرنے پر دُنیا بھر میں شُہرت پائی، تاہم  آج کی دُنیا میں یہ چلن  چل پڑا  ہے کہ جنہیں،
کسی سبب  سچ ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے،وہ سوشل میڈیا  کے زریعے کُچھ اِسطرح کے دلائل تراشتے ہیں کہ 
  بیچارے  سچ دُھندلا نے لگتے ہیں ۔۔۔
 ڈاکٹرصاحب کی بے لوث  انسانی خدمت  اور انسان ہونے  کے  ناطے  محصورین غزہ پر اسرائیلی ظلم کے 
خلاف آواز  اُٹھانا، جن لوگوں  کو ہضم نہیں ہو رہا ہے، انہوں نے یہ دلیل تراشی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو
ایک روبوٹ کی طرح صرف علاج معالجے تک محدود رہنا چاہئیے، انسان ہونے کے باؤجود انسانی جذبات کا
 اظہار نہیں کرنا چاہئیے ۔۔۔   
 آپ نے "اصلی ہیرو فلسطینی ہیں" بی بی سی سائٹ نہیں پڑی ہے،اگر پڑھنا چاہیں تو لنک حاضر ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }          

Thursday, August 7, 2014

" ایک کالم : کئی نکات "

فکرستان کی شئیرنگ
کالم غور و فکر کا متقاضی ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭


Tuesday, August 5, 2014

"کونسا ملک کس درجہ پر "

  منجانب فکرستان 
 ممتاز مصری عالمِ دین  محمد عبدہ  کے مشاہدے  کے مطابق  "اسلام مغرب میں نظرآتا ہے:مسلمان مشرق 
میں نظر آتے ہیں" میرے خیال میں اِس بات کو یوں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ " دینِ اِسلام " بطور رسوماتی 
"عبادات"نماز، روزہ ،حج وعمرہ، درود و اذکار کا رواج مسلمانوں میں اِس درجہ بلند ہے،کہ دُنیا میں اُسکا کوئی 
کوئی ثانی نہیں ہے جبکہ "دینِ اسلام"  بطور  نظامِ حیات  "عبادات" مثلاً  زکواۃ اداکرنا،صفائی نصف ایمان
،والدین کے حقوق ادا کرنا، رزق حلال عین عبادت،ایک انسان کاقتل پوری انسانیت قتل، رشوت دینا لینا،
جھوٹ نہ بولنا، ملاوٹ نہ کرنا، چوری نہ کرنا، دھوکہ نہ دینا، منافقت نہ کرنا غرض کہ اخلاقیات،معاشرت، 
معیشت، مدنیت، قانون،اقراء تعلیم اورسائنس وغیرہ  کے حوالے  سے اِسلام  نے جو اُصول قُرآن اور سُنت  کے  زریعے مسلمانوں کو بتائے ہیں مسلمان اُن اُصولوں کی پیروی میں انتہائی پست درجہ پر ہیں جبکہ
 اسلام کے بتائے ہوئےانہیں اُصولوں کو مغربی ممالک امریکہاورجاپان وغیرہ  نے اپنایا ہُوا ہے یہی وجہ کہ 
 مسلمان خود کہتے ہیں کہ "اسلام مغرب میں نظرآتا ہے:مسلمان مشرق میں نظر آتے ہیں" 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پاکستانی نژاد خاتون شہرزادہ رحمان( پروفیسرجارج وا شنگٹن یونیورسٹی) اور ایرانی نژاد جناب ڈاکٹر حسین عسکری بھی پروفیسر ہیں دونوں نے مل کر تحقیق بعنوان "اسلامی انڈکس" شروع کی اِس تحقیق کی حاصلات کو دُنیا نیوز کے محترم  عاصم محمود نے سنڈے میگزن  کیلئے ضبطِ تحریر میں لائے ہیں جسکی اشاعت 27 جولائی کے شمارے ہوئی ہے ۔۔ مکمل تفصیل کیلئے میگزین ملاحظہ فرمائیں ذیل میں صرف انڈیکس کہ کونسا ملک کس درجہ  پر ہے دیا جارہا ہےَ۔۔
**************
اِس ضمن میں 208 ممالک میں سرِفہرست ممالک کی تفصیل 
جون2014ء میں محققوں نے ’’اسلامی انڈکس‘‘ کی اپ ڈیٹ تفصیل جاری کی ہے

 (1) آئرلینڈ (2) ڈنمارک (3)لکسمبرگ  (4)سویڈن (5) برطانیہ (6)نیوزی لینڈ (7) سنگا پور یوں رہا   (1) آئر لینڈ (2) ڈنمارک  (3)لکسمبرگ(4)سویڈن (5) 
برطانیہ (6)نیوزی لینڈ (7) سنگا پور (8) فن لینڈ(9) ناروے (10)بلجیم (11)آسٹریا (12)ہانگ کانگ(13)کینیڈا  (14)آسٹریلیا اور (15)ہالینڈ۔گویا اس بار بھی لگ بھگ وہی ملک سرفہرست رہے جو پچھلی تحقیق میں اول آئے تھے۔ اس نئی فہرست میں بھی عالم اسلام میں ملائشیا  33نمبر پر فائز ہے ۔جب کہ پاکستان کا درجہ بھی کچھ بلند ہوا اور اسے 145نمبر ملا ۔کچھ اور اسلامی ممالک کے نمبر یہ رہے: سعودی عرب 97،مصر129، ایران 139، عراق 148اور افغانستان149۔ دنیا کے دیگر اہم ممالک نے یہ نمبر پائے:امریکہ 16،فرانس 17،جاپان 21،جرمنی 26،اسرائیل   27، اٹلی 34اور بھارت 97۔پر ہے۔۔( محترم عاصم محمود اورروزنامہ دُنیا نیوز کا شُکریہ )
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Sunday, August 3, 2014

" سمجھ میں نہ آنے والی بات "

 منجانب فکرستان 
 اقوام متحدہ  کے ڈائریکٹر آپریشن نے کہا ہے کہ"اسرائیلی حُکام کو اقوام متحدہ کی پناہ گاہوں کی  نہ صرف
 فہرست دی گئی ہے بلکہ انکی نشان دہی بھی کئی بار کرا  چُکی ہے،اس کے باؤجود اسرائیل کا اِن پناہ گاہوں 
پر حملے کرنا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے" ۔۔
  تاہم اسرائیلی اورفلسطینیوں کی ہلاکتوں کی نشان دہی سےنہ سمجھ میں آنے والی بات،سمجھ میں آنےلگتی 
ہے،حماس کے حملوں سے"اسرائیلی سویلین شہری ہلاک نہیں ہوئے "66 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں 
  یعنی حماس صرف فوجیوں کو نشانہ بنا رہا ہے،جبکہ اسرائیلی فوجی،معصوم بچوں،خواتین اور بے گُناہ  فلسطینی 
سویلین شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں، یہاں تک اقوام متحدہ  کی  پناہ گاہوں یعنی  دُنیا کے ملکوں کی متحدہ 
پناہ گاہوں میں آنے والے فلسطینیوں کوبھی اسرائیل  ہلاک کر رہا ہے۔۔
 اسرائیل کے اِس عمل کو سوائے انسانی (فلسطینی) نسل کُشی  کے اور کیا  نام دیا جاسکتا ہے۔۔۔  
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

" سربراہوں کا ردِعمل "

  منجانب فکرستان
اِتوار: مختلف حملوں میں 30 فلسطینی شہید ہوئے:یوں جملہ شہادتیں 1740 ہوگئیں، جبکہ 9080  زخمی  ہیں
۔۔۔
اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف لاطینی امریکی ممالک کے سربراہان کی اسرائیل کےخلاف شدید یکساں 
ردِعمل نے جہاں اِن ممالک کو ایک لڑی میں پُرودیا،وہیں مسلمانوں کی تنظیماُو آئی سیاوراُو آئی سی میں
 شامل ممالک کے سربراہان کے آگے یہ سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے کہ:اسرائیل کے خلاف اُن کا ردِعمل 
مسلمان ہونے کے باؤجود لاطینی امریکہ کے ممالک کے سربراہان جیسا: کیوں نہیں ہے ؟؟
 لاطینی امریکی ممالک کے کس سربراہ  نے کیسا ردِعمل ظاہر کیا، اُسکی ایک جھلک اسطرح سے ہے ۔۔
بولیویا کے صدر ایوو مورالیس نے اسرائیل کو نہ صرف دہشت گرد ریاستوں‘کی فہرست میں شامل کیا بلکہ
 اپنے ملک میں تمام اسرائیلیوں کے لیے ویزا فری انٹری جیسی سہولت بھی ختم کردی ہے۔
برازیل کی خاتون صدر ڈلما روسیف نے غزہ  میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کو ’قتل عام‘  قرار دیا ہے۔ 
اسرائیل اور برازیل کے مابین سفارتی تنازعہ اس ہفتے کے آغاز میں اس وقت شروع ہوا تھا، جب برازیل 
نے تل ابیب سے اپنے سفیر کو احتجاجاً واپس بلا لیا ۔ 
وینزویلا  کے  صدر نیکولس مادورو  نے  اسرائیلی آپریشن  کو فلسطینیوں کے خلاف’’تقریبا ایک صدی پر
  محیط قتل کی جنگ‘‘ قرار دیا۔انہی  کی جماعت کے ایک قانون ساز نے کہا  کہ اسرائیل فلسطینیوں کی 
  ’نسل کُشی‘ کر رہا ہے۔
پیرو،ایکواڈور،چلی اورالسلواڈور نےبھی اپنےسفیروں کواسرائیل سے واپس بلا لیا ہےجبکہ کوسٹا ریکا اور
 ارجنٹائن نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کیا ہے۔اِس کے باؤجود کہ اِن دونوں ملکوں میں سب سے زیادہ  یہودی آباد ہیں۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭    
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Saturday, August 2, 2014

" بنا ثبوت کے "

 منجانب فکرستان
فکرستان نےتین دِنوں کیلئے غزہ میں انسانی ہلاکتیں رُکنے کےعمل کوایک اچّھی خبر کےطور پراپنے قارئین 
 سے شئیرنگ کی تھی۔۔۔ اور یہ امید بھی لگائی تھی کہ اِن تین دنوں میں یہ مسئلہ بات چیت کے زریعے 
کسی حل پر پہنچ جائے گا۔مگر صد افسوس کہ غزہ  میں انسانی ہلاکتیں تین گھنٹے کیلئے بھی نہ رُک سکیں بلکہ 
مزید تیزی آگئی،رپورٹ کےمطابق نئے اسرائیلی حملوں میں100بے گُناہ صرف اِس جُرم میں مارے گئے 
کہ فلسطینی کہلاتے ہیں، بےگُناہ لیکن فلسطینی کہلانے کے جرم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد1600اور
 زخمیوں کی تعداد 8400 تک پہنچ گئی ہے۔۔ 
نئے اسرائیلی حملوں کا جواز بھی وہی پرانی بات کہ ہمارا ایک فوجی لاپتہ ہے جسے حماس نے اغوا کیا ہے۔۔ 
جبکہ حماس کا کہنا ہےکہ فوجی ہمارے پاس نہیں ہے، یہ مسئلہ بات  چیت کے  زریعےبھی  حل کیا  جاسکتا 
تھا،،لیکن اسرائیل نے طاقت کا مظاہرہ کرکے فلسطینی ہونے کے جُرم میں100انسانوں کو ماردیا،اسی طرح 
پہلےتین اسرائیلی لڑکوں کی ہلاکت کے بدلے میں بنا ثبوت کے  1500بےگُناہ اِس جُرم میں ماردئیے گئے 
کہ فلسطینی ہیں،کیا اِن 1500 فلسطینیوں نے،اسرائیلی لڑکوں کو ماراتھا ؟؟
 اِسرائیل کے اِس وحشیانہ طرزِ انصاف پردُنیا بھر کے انسانوں کو اسرائیل  کے خلاف بھر پور آواز اُٹھانے 
کی ضرورت ہے اوآئی سی اوراقوام متحدہ  کو مصلحتوں سے ہٹ کرانسانی جانوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے 
اپنا ایسا کردار ادا کرنا چاہئیے کہ لوگوں کو انصاف پر مبنی نظر آئے۔۔ 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭    
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے۔اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...