Monday, May 26, 2014

پارٹی فیصلے یا مودی فیصلے ؟؟

  منجانب فکرستان
مجھے اُن لوگوں پر رشک آتا ہے: جنہیں خُدا پر بڑا گہرا یقین و ایمان ہے( کلدیپ نائر)
 سعودی قانون کے تحت لڑکیاں اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتیں۔ لیکن شادی  نہ کرانے پر
 والدین کے خلاف مقدمہ درج کراسکتی ہیں،لہٰذا 2 سال میں 382 لڑکیوں نے شادی نہ کرانے پر اپنے والدین کے
 خلاف مقدمات درج کرائے ۔( ایک خبر)
کیا مودی اپنا امیج سُدھار نا چاہتے ہیں۔۔مثلاً  بی جے پی والے مہاتما گاندھی سے پَرخاش رکھتے ہیں،ایسے میں مودی  کا
 حلف برداری سے پہلے مہاتماگاندھی کی سمادھی پر حاضری دینا  پارٹی فیصلے کے بجائے مودی فیصلہ لگتا ہے، اسی طرح سے
پاکستانی وزیر اعظم کو تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے مدعو کرنا بھی پارٹی فیصلے کے بجائے  مودی فیصلہ لگتا ہے، الیکشن کمپین بھی بی جے پی منشور کو ہائی لائٹ کرنے کے بجائے،گجرات شائن، مودی اور صرف مودی کو ہی ہائی لائٹ کرتے رہے ہیں،گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی نے پارٹی پر اپنی گرفت  بہت  زیادہ مظبوط  بنالی ہے، اعلیٰ جیت نے بھی اعتماد بخشا ہے ، اسی لیے بولڈ فیصلے کر رہے ہیں۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے  جو کچھ پڑھا ہے وہ ذاتی رائے ہے،جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں
"پڑھنے کا بُہت شُکریہ "   
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  



Sunday, May 25, 2014

غیب سے آتے ہیں !!۔

  منجانب فکرستان
مرزا اسداللہ خاں غالب نے انسانی ذہن کی کیا خوب عکاسی کی ہے کہ:"آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں" کیا اس
بات سے کوئی انکار کرسکتا ہے ؟ہر شخص اِس  تجربے سے گُزرتا ہے ۔بعض شُعرا  اور نثر نگار قلم کاغذ اپنی جیب میں رکھتے
 ہیں کہ خُدا جانے کب غیب سے کوئی  خیال وارد ہوجائے تاکہ بھولنے سے پہلے اُس خیال کو لکھ لیں، یوں مختلف ذہنوں
 سے نکلے مختلف خیالات ہمیں  پڑھنے کو ملتے ہیں،جن سے ہم محظوظ ہوتے  ہیں،سائنسدانوں کا بھی یہی کہنا ہے،
پال ڈیویز نے اپنی کتاب"ذہنِ خُدا وندی" میںایک سائنسداں کا ذکر کیا ہے کہ جسکو کئی دنوں سے کسی سائنسی مسئلے کا حل نہیں مل رہا تھا  کہ: ایک دن  کار چلاتے میں اچانک اُس کے ذہن میں مسئلے کا حل غیب سے خیال میں آیا ۔۔۔ 
  عزیز دوستو شایدآپ سوچ رہے ہوں کہ یہ ساری تمہید ہے کس بات کی ؟ تو عرض ہے کہ : ارادہ یہ ہے کہ اپنے خیالاتی پوسٹ کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف شخصیات مثلاً کسی فلسفی، شاعر، نثرنگار، دانشور، سیاستداں، مذہبی رہنما  یا پھر کسی عام آدمی  کے  ذہن سے نکلے جملے، پیرائیے جنہیں  کسی اخبار، کسی کتاب یا پھر کسی ویب سائٹ پر پڑھا ہو سے انتخاب دوستوں سے شئیر کروں۔۔ مقصد وہی ہے یعنی "غوروفکر"میرے خیال میں غور و فکر سے زیادہ لذت کسی اور چیز میں نہیں  ہے۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے جو کچھ پڑھا ہے، وہ ذاتی رائے ہے، جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ  کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں۔
"  پڑھنے کا بُہت شُکریہ"  
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Monday, May 19, 2014

" فرق صاف ظاہر ہے "

  منجانب فکرستان
مودی : کیجری وال: عمران خان
گجرات فسادات نے مودی کی شبیہہ بگاڑ دی تھی،غلطی کا احساس ہوگیا،  تو گجرات میں پھر کوئی ہندومسلم فساد نہ ہُوا،اپنی
بگڑی شبیہہ سدھار کیلئے مودی ساری توجہ صوبے کو خوشحال بنانے پر صرف کرنے لگے،محنت رنگ لائی، گجرات دیگر 
صوبوں کے مقابلے خوشحال ترقی یافتہ کہلانے لگا، الیکشن سے پہلے گجرات میں نمائشی میلے لگا کر میڈیا کے زریعے گجرات 
شائن ماڈل بھارتیوں کو دِکھانے لگے جس سے بھارتی  متاثر ہوئے۔ یوں میدان مار لیا۔۔
پارٹی سینئیرز کو کھڈے لائن لگانے بطور وزیراعظم جیت سے پہلے ہی اپنے آپکو  متعارف کرادیا ۔۔
 کیجری وال نے میکش امبانی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بات کر کے سرمایا داروں کو اپنے خلاف کرلیا، میڈیا کے خلاف  سخت بیان دیکر میڈیا والوں کو بھی ناراض کردیا، یوں سرمایا دار اور میڈیا دو طاقتیں آپس میں مل گئیں ۔۔میڈیا والوں نے کیجری وال سے ایسے ایسے اُلٹے سیدھے آڑے ترجھے   سوالات کر کر کے  عوام کو یہ باور کرادیا کہ کیجری وال نا اہل ہیں۔۔یہاں تک کہ کیجری وال سے قبول وادیا کہ دہلی حکومت سے استعفیٰ دینا اُنکی غلطی تھی ۔۔اب غلطیاں کرنے والے کو حکومتی باگ ڈور دینا کون پسند کرے گا ؟؟
عمران خان کو اپنے جوہر دِکھانے،عوام سے کئے وعدے پورے کرنے ، خیبرپختونخوا  کی حکومت ملی ہے،وہ بھی مودی کی طرح اپنی توجہ کا فوکس  صوبے کی خوشحالی اور ترقی  پر مرکوز کرکے ، گجرات کی طرح خیبرپختونخوا کو پاکستان کیلئے ایک ماڈل بنا سکتے تھے، (جیسا کہ الیکشن سے پہلے عوام کو سُنہری خواب دکھاتے رہے ہیں) ،گجرات کی طرح  خیبرپختونخوا شائن ماڈل عوام کے سامنے آتا تو آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے سامنے کوئی جماعت نہیں ٹھر سکتی تھی ،ایک سال کا عرصہ گُذرچُکا ہے، لیکن بلدیاتی انتخابات  تک نہیں کرا پائے  ہیں، جبکہ 90 دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے دعویدار تھے۔۔۔
 اِن دِنوں مختلف قسم کے لاحاصل محاذ کھول کراپنی انرجی فضول ضائع کر رہے ہیں۔۔۔
نوٹ:آپ نے جو کُچھ پڑھا ہے،اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔
پڑھنے کا بُہت شُکریہ   
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں

Saturday, May 17, 2014

توقع سے زیادہ اور توقع سے کم !!۔

  منجانب فکرستان
سارے اندازے دھرے رہ جاتے ہیں !!۔
ایاز امیر اسمبلی ممبر رہ چُکے ہیں، اچّھی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، سیاسی تجزیے کرتے ہیں، اُنکا تجزیہ تھا کہ عمران خان کے
 جلسے میں زیادہ لوگ نہیں آئیں گے(جلسے کے بارے میں میری رائے بھی یہی تھی) لیکن جلسے کے بعد اعتراف کرنا پڑا کہ
 رکاوٹوں کے باوجود جلسے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد آئی،اسی طرح  بی جے پی کے بارے میں اندازہ تھا  کہ جیت جائے
 گی، لیکن اتنے بڑے مارجن سے جیت جائیگی اِس کا اندازہ تو  کلدیپ نائر کو بھی نہیں تھا۔۔۔ اور یہ اندازہ بھی کسی کو نہیں
 تھا کہ کیجری وال کی " آپ " ا ور کانگریس  کو اتنی کم تعداد میں ووٹ پڑیں گے ۔۔۔ 
نوٹ: آپ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے، اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔۔اب مجھے اجازت دیں۔
پڑھنے کا بُہت شُکریہ 
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں

Tuesday, May 13, 2014

" آگہی اور غور و فکر کیلئے "

  منجانب فکرستان:آگہی اور غوروفکر کیلئے

نوٹ:آ پ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے اُس سے اختلاف/ اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔اب مجھے اجازت دیں۔۔
 پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Sunday, May 11, 2014

" میری ماں ۔۔۔ میرا عقیدہ "


منجانب فکرستان: Mother day۔۔
جس نے لاہور نہیں دیکھا ،وہ پیدا ہی نہیں ہُوا۔۔اسی طرح میرا عقیدہ ہے کہ:
میری ماں جیسی، اچّھی ماں : دُنیا میں کوئی اور کہاں 

Monday, May 5, 2014

انسانی شعور : کتنا بالغ ؟

 منجانب فکرستان: انسانی شعورِ بلوغت کی چند جھلکیاں 

بھارت راجستھان:لوگوں کا ماننا ہے کہ اس موٹر سائیکل مندر میں دعا کرنے کے بعد ان کا سفر محفوظ ہوجاتا ہے۔
(پوسٹ کے آخر میں اِسکی وڈیو لنک ہے)۔ جہاز مندر کی تصویر غور سے دیکھیں


اب آپ لاس اینجلس یعنی دُنیا کے اعلیٰ تعلم یافتہ شہریوں کے عقیدے کی جھلک دیکھ کر انسان کی شعوری بلوغیت پر غور
 کریں ۔۔۔چونکہ ذہانت کے بل بوتے پر تو ہم مریخ پر پہنچ چکے ہیں !!! 
لاس اینجلس (جنگ نیوز) بچوں کوبیما ریوں اور بُرے اثر ات سے بچا نے کے لیے تو اکثر بزرگوں سے د َ م کر وایا جا تا ہے لیکن امریکی شہر لاس اینجلس میں سینکڑوں افراد پالتو جانوروں پر دَم کر وانے پہنچ گئے ہیں ۔ایسٹر کے موقع پر جانوروں پر دَم کروانے کی84ویں سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں سینکڑوں افراد اپنے پالتو پرندوں سے لیکرگائیں، مگرمچھ،سانپ،بلی،بکری اور خرگوش سمیت دیگر جانوروں کے ہمراہ پہنچے ۔اس موقع پر مقامی پا دری نے ان جانوروں پر مقد س پا نی کا چھڑ کا ئو کیا اور انکے لیے دعائیہ رسومات ادا کی گئیں۔مقامی عقیدے کے مطا بق اس رسم سے جا نور بیماریوں سے محفو ظ اور لمبی عمر تک زندہ رہتے ہیں ۔
 پوسٹ کی تیاری میں: سماء ٹی وی، دُنیا نیوز،اور جنگ نیوزسے مدد لی ہے، اسلئیے اِن اداروں کا شُکریہ
وڈیو لنک:http://urdu.samaa.tv/international/05-May-2014/15352
نوٹ:آپ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپکا حق ہے۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔
 پڑھنے کا بُہت شُکریہ 

 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...