Tuesday, February 25, 2014

"میڈیا اورسرمایا " خطوں کو جہنم زار بنا رہا ہے "

منجانب فکرستان:66سال؛ پُھوک
میڈیا نے انسانوں کو کچھ زیادہ ہی ابلاغی  بنا دیا ہے۔۔۔میڈیا پر ہر مسئلے پر لا تعداد ذہنوں کی دھماچوکڑی مچتی ہے،
جس میں سے کئی طرح کے سچ برآمد ہوتے ہیں،یوں اپنے اپنے سچ کے  گروہ بن جاتے ہیں۔۔(جیسے مذاہب میں
 اپنےاپنے سچ کے فرقےپھر مفاداتی ممالک یا دشمن ممالک اِن گروہوں یا فرقوں پر سرمایا کاری کرتے ہیں،جس
 کا خمیازہ اُنممالک کی عوام کو بھگتنا پرتا ہےکہ جن ممالک کے حکمران طبقے کی نظر مُلکی اور عوامی مفادات کو بجائے
 صرف ذاتی مفاداتپر ہوتی  ہے، یہ عوامی و مُلکی مسائل سے چشم پوشی کرتے ہیں، یوں مُلکی و عوامی مسائل کے حجم کو بڑھا تے ہیں، عوام میں بیچینی پیدا کرتے ہیں، اِسی بیچینی کو مفاداتی ممالک اور دشمن ممالک  اپنے اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں، اس صورتِحال نے کئی خطوں  کو جہنم زار بنادیا ہے،  شام، عراق، مصر، نائجیریا، افغانستان، پاکستان وغیرہ کی عوام ہی جانتی ہے کہ وہ کس عذاب سے گُذررہی ہے ۔۔۔
 کیا یہ  پاکستانی حکمران طبقے کی مفاداتی ہوس نہیں ہے؟ جو مُلک کو چلانے کیلئے 66  سالوں میں مہنگائی بڑھا  بڑھا کر غریب سے دو وقت کی روٹی تو چھین لی، لیکن 66 سال سے اپنے طبقے پر ٹیکس نہ لگا سکی،صرف نوکری پیشہ کو ٹیکس کیلئے نچھوڑ نچھوڑکر اُسے"پُھوک" بنادیا ہے۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     

Sunday, February 23, 2014

" آئینِ اور شریعت "

 منجانب فکرستان 
 ای میل رابطہ دوستوں نے کہا ہے کہ : تلنگانہ پر لکھنا چھوڑیں پاکستان پر لکھیں۔۔  تو عرض ہے کہ : پاکستان میں جو بحث
 چل رہی ہے وہ سمجھ باہر ہے، مثلاً جتنے لوگ کہتے ہیں کہ  پاکستان کا آئین اسلامی ہے، اُتنے ہی لوگ انصار عباسی سمیت
 کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے۔۔۔ایف سی اہل کار وڈیو  پر حکومت نے سوال اُٹھایا کہ یہ کونسی شریعت ہے؟ جسکا جواب جماعت
 اسلامی کے منور حسن نے دیا کہ طالبان کے بچوں اورعورتوں کو قید میں رکھنا یہ کونسی شریعت ہے؟منور حسن نےحکومت
 سے کہا ہے کہ مذاکرات کی میز دوبارہ بچھائیں۔۔۔ 
February 22, 2014 - Updated 1230 PKT
راولپنڈی…پاک فوج کے ترجمان نے کالعدم تحریک طالبان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حراست میں کوئی خاتون اور بچہ نہیں ہے، طالبان دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کیلئے پروپیگنڈا کررہے ہیں۔آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ان دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں کہ طالبان رہنماؤں کی خواتین اور بچے سیکورٹی فورسز کے تحویل میں ہیں۔ترجمان نے اسے کالعدم طالبان کا پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کی باتوں کا مقصد ملک میں جاری دہشت گردی اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ خواتین اور بچوں کو کبھی بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔
 بشکریہ روزنامہ جنگ" نیٹ سائٹ"۔ (کاپی پیسٹ)۔

 بشکریہ روزنامہ جنگ 23 فروری  شہ سرخیوں  سے منتخب( کاپی پیسٹ)۔
 پشاور…امیرجماعت اسلامی منورحسن نے تجویز دی ہے کہ پاکستان مذاکرات کیلئے افغان طالبان سے مدد لے اور ملاعمرکے پاس اپنا وفد بھیجے،پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں،آپریشن سے لاکھوں لوگ بے گھرہوجائیں گے،فوجی آپریشن کے باعث پاکستان کا ایک حصہ بنگلادیش بن چکا ہے۔مذاکرات سے متعلق وزیراعظم خود آگے بڑھیں اور حکومتی اور طالبان کمیٹی کا اجلاس بلائیں۔منور حسن نے کہا کہ حالات سازگار ہوئے توحکومت اورطالبان میں براہ راست مذاکرات ہوسکتے ہیں، محب وطن لوگوں کو مذاکرات کیلئے حالات سازگار بنانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ 23 فروری "نیٹ سائٹ" ( کاپی پیسٹ)۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
جو لوگ پاکستان کے آئین کو اسلامی کہہ رہے ہیں وہ بھی ٹھیک ٹھاک اپنے دلائل دے رہے  ہیں اور جو پاکستان کے آئین کو غیر اسلامی ثابت  کر رہے ہیں وہ بھی خوب وزنی دلائل دے رہے ہیں ،جب اس قسم کی بحث چل رہی ہو، وزنی دلائل دئیے جا رہے ہوں۔۔ تو مجھ جیسے کو جو کہ اس موضوع پر کم معلوماتی ذخیرہ رکھتا ہو نہیں لکھنا چاہئیے۔۔۔کیا خیال ہے ؟؟ اب اجازت دیں۔۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
انصار عباسی  کے دلائل کا لنک: http://jang.com.pk/jang/feb2014-daily/20-02-2014/col1.html
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Saturday, February 22, 2014

" اِنٹرویو یا آؤٹرویو "

منجانب فکرستان: سنکی دانشور کا انٹرویو
ایم ڈی: محترم آپ انٹرویو دینے سے کتراتے کیوں ہیں؟
دانشور:انٹرویو یعنی میرےخیالات لیکن پوچھا کیاجاتاہے سبزی کونسی پسند ہے، خوشبو کونسی،موسم کونسا کے جوابات دینے
 سے  میری شخصیت کیسے آشکار ہوسکتی ہے ؟؟ جبتک کہ آپ وہ سوالات نہ پوچھیں  کہ جن کے بارےمیں ہرانسان سوچتا 
 ہے ، یعنی کائنات کے بارے میں،خُدا کے بارےمیں،جسم اور روح کےبارے میں ، حیات بعد موتکے بارے میں یا 
پھرخُدا انسانوں کےمعاملات میں  کتنا دخیل ہے؟مذاہب میںرائج عباداتی رسوم کے بارے میں،عباداتی رسوم کی اہمیت اور
 فائدے کے بارےمیں۔۔مذاہب میں فرقے در فرقے کیوں بنتے جارہے ہیں۔۔
 صوفی ازم کے بارے میں میرے خیالات جانتے، خُدا اور انسان کے تعلق کے حوالے سے میرے خیالات جانتے ۔۔۔میرے خیال میں تو جس شخص کا بھی انٹرویو  (اندرونی خیالات) لینا مقصود ہو اُسکی شخصیت جاننے کیلئے اِسی قِسم کے سوالات ضرور پوچھے جانے چاہئیں ۔۔۔اِن ہی سوالات کے جوابات  اُس انسان کی شخصیت کا انٹرویو کہلائےگا ۔۔۔دیگر قسم کے انٹرویو میرے نزدیک شخصیت کے انٹرویو نہیں آؤٹرویو کہلائیں گے۔۔۔
ایم ڈی : محترم میں آپ کا نقطہ نظر بالکل اچّھی طرح سے سمجھ گیا ہوں، میں آپ سے کوئی ایسا سوال نہیں پوچھوں گا، جو آپ کے نقطہ نظر سے آؤٹرویو کے زمرے میں آتا ہو۔۔۔بس آپ میرے ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دے دیجئے ۔۔۔وہ یہ کہ آپ کو پھول کونسا پسند ہے ؟؟
دانشور: لاحول ولاقوۃ ۔۔ اب میں یہاں ایک منٹ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔۔ آپ نے بھی وہی بیہودہ سوال کیا ہے۔۔۔
ایم ڈی : ارے جناب سُنئیے ۔۔۔سُنئیے تو سہی ۔۔ارے۔۔۔ارے۔۔۔ بھئی۔چلے کہاں ۔۔۔
 او ہو۔۔چلے گئے۔۔خُدا حافظ بھی نہ کہا :sad: ۔۔۔
دوستو:( outerview) ڈکشنری میں کوئی لفظ نہیں ہے۔۔۔لیکن اپنی بات واضع انداز میں آپ تک پہنچانے کیلئے انٹرویو کے مقابل آؤٹرویو کو استعمال کیا ہے۔۔  
 اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }       
   

Friday, February 21, 2014

" دو تراشے "

منجانب فکرستان
دوستو پوسٹ" ڈنرکا معجزہ" یاد ہوگی جس میں ڈنرکےبعد بی جے پی نے تلنگانہ کیلئے  کانگریس
 کی حمایت کا وعدہ کیاتھا،جوپورا ہُوا، یوں تلنگانہ تقریباً بن گیا۔ 
" وزیر اعظم کے ساتھ ڈنر 100فیصد ٹیکس ادائیگی پر " 

 "لو کر لو گل"

Thursday, February 20, 2014

" قسمت اپنی اپنی"

منجانب فکرستان:دیکھیں رب کی عطا
ودیا بالن: جی ہاں وہی ودیا بالن، جِس کی آنکھوں کو رب نے ایک خاص چمک عطا کی ہے۔۔آپ جب
بھی ودیا کو تصور میں لائیں  گے۔۔۔اُس تصور میں ودیا کیآنکھوں کی چمک نمایاں ہوگی۔۔۔اِسیودیا بالن
نے ایسے کنواروں کیلئے۔۔۔جورات۔۔رات بھر جاگتے رہتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں۔۔۔ مجھے نیند نہ آئے
۔۔نیند نہ آئے۔۔۔ایسوں کیلئے  اپنی پرائیوٹ زندگی سے پردہ اُٹھایا ہے  کہ: اُنہیں بھی نیند نہ آنے کی
 شکایت تھی۔۔ لیکن جب سے شادی ہوئی ہے۔ رات کا پہلا پہر ابھی گُزرنے نہیں پاتا ہے  کہ وہ نیند 
 کی آغوش میں چلی جاتی ہیں، خوب  جی بھر کر سوتی ہیں۔۔۔
جبکہ بعض خواتین کی شادی کا تجربہ ودیا بالن کے تجربے کا اُلٹ ہے۔۔۔وہ تو کہتی ہیں کہ شادی کے بعد اُنکی نیند کا ستیاناس ہوگیا ہے ،کسی دن بھی جیبھر کر سو نہیں پارہی ہیں ۔۔۔۔
 اِس بارے میں۔کیا کہہ سکتے۔۔ سوائے اسکے کہ: قسمت اپنی اپنی۔۔
  
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شکریہ
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { رب کی مہربانیاں رہیں }      

Wednesday, February 19, 2014

" واہ "

 منجانب فکرستان
واہ! پاکستان کا ذہین نوجوان جس نے مذاکرات کو : اپنے مسئلے کے حل کیلئے استعمال کیا !! 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭(اردو ٹائمز)٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 مسٹنڈے ڈاکٹرز مریض قابلِ دید:انتہائی نگہداش روم میں مریض کا یہ کیسا علاج ہورہا ہے !! 

Tuesday, February 18, 2014

" بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی اور اسلام "

منجانب فکرستان پیش ہے:ایک مفکر سے ہوئی مذہبی حوالے سے سوال و جواب کی نشست کی روداد۔۔
ایم ڈی:محترم عرض ہے کہ:کالم نگار  جناب کنور دلشاد صاحب کی رائے میں:"دورِ حاضر میں انسانوں میں
 مذہب کی پیروی کم ہوتی جا رہی (اُنکے خیال میں) انسانی عقل وشعور کی بالیدگی نے،ایک جانب توہمات
 اور غلط رسوم کو ختم کیا ۔۔ تو دوسری جانب انسان مذہب کی ہدایت کو انسانی آزادی پر بے جا پابندیاں 
خیال کرتے ہوئے۔۔ مذہبی امور کو خیر آباد کر رہا ہے" اس رائے پر آپکی کیا را ئے ہے؟ 
 مفکر صاحبمیری رائے ذرا مختلف ہے ، چرچ سے بیگانگی ہو تو ہو، لیکن مسجد  سے محبت بڑھی ہے،
جس کا مشاہدہ ہم نہ صرف اپنے ملک میں کرسکتے  ہیں بلکہ بیرونی مُلک مقیم پاکستانیوں سے تبادلہ خیال کے زریعے بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی مسجدیں خوب آباد ہو رہیں ہیں اور خاص کر نوجوان نسل میں اسلام سے وابستگی بڑھی ہے۔۔جس کا نتیجہ نئی نسل مغربی معاشرے میں ضم نہیں ہونا چاہتی ہے۔۔۔ جبکہ ابتدائی دنوں میں مغربی ممالک میں آکر بسنے والی نسل مغربی معاشرے میں اسطرح ضم ہوگئی کہ وہ "ڈیسوزا" بن گئی، اب اُسکی شناخت بھی ناممکن سی بات ہے۔۔ لیکن موجودہ نسل  نہ  صرف اپنی شناخت کھونا نہیں چاہتی، بلکہ شناخت مزید گہرا کرنا چاہتی ہے۔ ۔۔
تو اس بات سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے یہ بات کہنا کہ مذہب کی پیروی کم ہورہی ہے میرے خیال میں ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے میں یہی کہوں گا کہ نئی نسل میں مذہب کی پیروی بڑھی ہے ۔۔۔ویسے ہر شخص اپنے مشاہدے کی بنا پر اپنی رائے کے اظہار کا حق رکھتا ہے۔۔۔    
ایم ڈی: بُہت بُہت شکریہ کہ آپ نے قارئین کو اپنی رائے سے نوازا انشاءاللہ پھر ملاقات ہوگی۔۔۔
خُدا حافظ۔۔۔خُدا حافظ
دوستو:محترم جناب کنور دلشاد صاحب کا کالم پڑھنے کیلئے لنک پر جائیں، کالم میں آپکو بُہت سی قابلِ غور مذہبی باتیں پڑھنے کو ملیں گیں۔ اور مجھے  اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { رب کی مہربانیاں رہیں }    

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...