Wednesday, February 19, 2014

" واہ "

 منجانب فکرستان
واہ! پاکستان کا ذہین نوجوان جس نے مذاکرات کو : اپنے مسئلے کے حل کیلئے استعمال کیا !! 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭(اردو ٹائمز)٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 مسٹنڈے ڈاکٹرز مریض قابلِ دید:انتہائی نگہداش روم میں مریض کا یہ کیسا علاج ہورہا ہے !! 

Tuesday, February 18, 2014

" بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی اور اسلام "

منجانب فکرستان پیش ہے:ایک مفکر سے ہوئی مذہبی حوالے سے سوال و جواب کی نشست کی روداد۔۔
ایم ڈی:محترم عرض ہے کہ:کالم نگار  جناب کنور دلشاد صاحب کی رائے میں:"دورِ حاضر میں انسانوں میں
 مذہب کی پیروی کم ہوتی جا رہی (اُنکے خیال میں) انسانی عقل وشعور کی بالیدگی نے،ایک جانب توہمات
 اور غلط رسوم کو ختم کیا ۔۔ تو دوسری جانب انسان مذہب کی ہدایت کو انسانی آزادی پر بے جا پابندیاں 
خیال کرتے ہوئے۔۔ مذہبی امور کو خیر آباد کر رہا ہے" اس رائے پر آپکی کیا را ئے ہے؟ 
 مفکر صاحبمیری رائے ذرا مختلف ہے ، چرچ سے بیگانگی ہو تو ہو، لیکن مسجد  سے محبت بڑھی ہے،
جس کا مشاہدہ ہم نہ صرف اپنے ملک میں کرسکتے  ہیں بلکہ بیرونی مُلک مقیم پاکستانیوں سے تبادلہ خیال کے زریعے بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی مسجدیں خوب آباد ہو رہیں ہیں اور خاص کر نوجوان نسل میں اسلام سے وابستگی بڑھی ہے۔۔جس کا نتیجہ نئی نسل مغربی معاشرے میں ضم نہیں ہونا چاہتی ہے۔۔۔ جبکہ ابتدائی دنوں میں مغربی ممالک میں آکر بسنے والی نسل مغربی معاشرے میں اسطرح ضم ہوگئی کہ وہ "ڈیسوزا" بن گئی، اب اُسکی شناخت بھی ناممکن سی بات ہے۔۔ لیکن موجودہ نسل  نہ  صرف اپنی شناخت کھونا نہیں چاہتی، بلکہ شناخت مزید گہرا کرنا چاہتی ہے۔ ۔۔
تو اس بات سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے یہ بات کہنا کہ مذہب کی پیروی کم ہورہی ہے میرے خیال میں ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے میں یہی کہوں گا کہ نئی نسل میں مذہب کی پیروی بڑھی ہے ۔۔۔ویسے ہر شخص اپنے مشاہدے کی بنا پر اپنی رائے کے اظہار کا حق رکھتا ہے۔۔۔    
ایم ڈی: بُہت بُہت شکریہ کہ آپ نے قارئین کو اپنی رائے سے نوازا انشاءاللہ پھر ملاقات ہوگی۔۔۔
خُدا حافظ۔۔۔خُدا حافظ
دوستو:محترم جناب کنور دلشاد صاحب کا کالم پڑھنے کیلئے لنک پر جائیں، کالم میں آپکو بُہت سی قابلِ غور مذہبی باتیں پڑھنے کو ملیں گیں۔ اور مجھے  اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { رب کی مہربانیاں رہیں }    

Saturday, February 15, 2014

" آگاہی کیلئے "

منجانب فکرستان: خُدائی حکمت کہ : صرف1٪  فرق کا معجزہ=انسان
" بشکریہ روز نامہ جنگ کراچی "
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

" اولاند" بطور ایک عاشق "

منجانب فکرستان:"اولاند" پر مزاحیہ پوسٹ 
میرے معزز قارئین:مجھے مبارک باد دیں،ہار پہنائیں،گلے ملیں اور میری پیٹھ تھپ تھپائیں کہ میں 1/3
پیش گو پنڈت ہوگیا ہوں،پوسٹ "پھر دھمکی " میں کیجری وال کے استعفے کی پیش گوئی کی تھی، جو سچ
ثابت ہوگئی 1/3 اسلئیے کہ:عمران جمائما بعد حلالہ ایک ہوجائیں گے والی پیش گوئی غلط ہوگئی، جمائما کسی
مسخرے کے سنگ ہوگئی ہے۔۔۔
اسی طرح فرانس کے صدر اولاند کی بھولی صورت دیکھ کر پیش گوئی کی تھی کہ انکی پارٹنر"ٹرئیر وائلر"
 شادی کا پٹہ ڈالنے میں کامیاب ہونگی مگر اولاند نے تو پارٹنر شپ ہی توڑ ڈالی اور سرکاری رہائش سے صرف 300 میٹر دوری پر واقع اداکارہ ژولی گائییے کی رہائش گاہ عشق لڑانے ہلمٹ میں منہ چھپائے خوشی:grin: خوشی:grin: اسکوٹر پر سوار جانا آنا کررہے تھے۔۔ بھولے باشاسمجھ رہے تھے کہ اُنہیں کوئی نہیں دیکھ رہا :grin: اور یہ بات بھول گئے کہ تھے "تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں"۔۔جب اخبار میں اداکارہ گائییے کے ساتھ اُنکی تصاویر شائع ہوئیں تو دیکھ کر ہکا بھکا رہ گئے ۔۔ اور منہ سے نکلا ۔۔ہائیں یہ کیا ؟؟:sad: :sad:
ہوسکے تو "پھر دھمکیتجزیہ" پڑھ کر دیکھیں ۔۔اور مجھے اجازت دیں۔۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔
 نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     

   

Wednesday, February 12, 2014

" بس یہی فرق ہے "

منجانب فکرستان ٹیگز: لافانی؛ فانی؛ فرق 
 دوست نے کہا صدر جارہے ہو تو والد صاحب کی یہ ہومیوپیتھک دوا بھی لیتے آنا۔۔۔دوا لیکر شیشی پر دوا
 کی ایکسپائری تاریخ دیکھنے کی کوشش کررہا تھا،۔۔۔دُکاندار سمجھ گیا،،اُسنے مجھ سے کہا : ہومیوپیتھک دوائیں
 کبھی ایکسپائر نہیں ہوتیں،میں نے کہا یہ کیا بات ہوئی؟؟کم یا زیادہ وقت کے فرق سے کائنات کی ہر شے
 فانی ہے ۔۔۔صرف ایک خُدا کی ذات ہے جو لافانی ہے۔۔۔ اور تم کہتے ہو میوپیتھک لافانی ہے۔۔۔
میرے خیال میں ایسا کہنا بھی ٹھیک نہیں۔۔یہ بات خُدا کی عظمت کے خلاف جاتی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ نہ صرف ہومیوپیتھک دوا بلکہ کسی شے کے بارے میں بھی لافانی کا تصور صحیح نہیں ہے۔۔۔ہاں کسی کا عرصہ حیات چند ساعتوں  کا ہے، تو کسی کا کئی سالوں کا ، اور کسی کا صدیوں پر محیط ہے ،"اِس فرق کے ساتھ" ایکسپائری نظام کائنات کی ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔۔۔  
اب مجھے اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      
    
      

Tuesday, February 11, 2014

" پھر۔۔ دھمکی "

منجانب فکرستان ٹیگز: تیر؛ بھگوڑے
 جی ہاں پھر دھمکی:کہا جاتا ہے نا"ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات "  کمزوری کی یہ بات انڈین نیشنل
 کانگریس کے بارے میں کہی جارہی ہے، اور دھمکی دی ہے کیجری وال نے جس کے بارے میں لکھ چُکا
 ہوں کہ وہ کانگریس کی کمزوری کو انجوائے کر رہے ہیں ۔۔
تازہ دھمکی یہ ہے کہ" جن لوک پال بل" کانگریس اسمبلی سے منظورکرائے "چونکہ میری اصل لڑائیہی:
جن لوک پال بل کیلئے ہے"۔  ورنہ ۔۔۔ورنہ میرا استعفیٰ۔۔۔ میری حکومت ختم۔۔۔اور میں یہ چلا۔۔۔
بائے بائے ۔۔۔
کیجری وال کی یہ بات کسی کے سمجھ میں آرہی/ کسی کے سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔۔یعنی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یوں حکومت چھوڑ کر جائیں گے تو آنے والے الیکشن میں مخالفین اِس  بات کو اِشو بناکرعوام کے سامنے پیش کریں گے کہ: "بھگوڑوں کو ووٹ نہ دو" ۔۔۔
 جبکہ میری جیسی سوچ والوں کا خیال یہ ہے کہ کیجری وال ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں، یعنی ایک طرف وہ عوام کو یہ باور کرا ئیں گے دیکھ لو: کرپشن کو روکنے والا بل کانگریس اور بی جے پی نے منظور نہ ہونے دیا، دوسری یہ بات عوام کو باور کرائیں گے کہ دیکھ لو: میں اقتدار کا بھوکا نہیں ہوں۔۔میں کرپشن کا خاتمہ اور عوام کی بھلائی چاہتا ہوں۔۔۔ ( اس بات میں شک کی رتی بھر گنجائش نہیں ہےکہ کیجری وال عوام کے ساتھ مخلص ہیں، اس بارے میں وہ اپنی جان تک کی بھی پرواہ نہیں کررہے ہیں)۔۔
مجھے ایسا بھی لگتا ہے کہ جیسے حقیقتاً وہ حکومت سے اپنی جان چُھڑانا چاہتے ہوں تاکہ وہ آنے والے لوک سبھا الیکشن کی بھر پور تیاری کرسکیں۔۔اگر حکومت میں رہے تو : حکومتی مسائل کی وجہ سے۔۔۔ لوک سبھا الیکشن  پر فوکس نہیں کر پائیں گے ۔۔۔میرے خیال میں کیجری وال استعفیٰ دے دیں گے، وزیراعلیٰ سے وزیِراعظم کی جانب قدم بڑھائیں گے ۔۔۔
   اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Sunday, February 9, 2014

طالبان نے عمران کو کیوں منتخب کیا ؟؟

منجانب فکرستان 
سونامی بُہت تیزی سے بدنامی میں تبدیل ہوتی جارہی ہے،وعدے سراب ثابت ہورہے ہیں،بلدیاتی الیکشن تک 
نہیں کرائے جارہے ہیں،ایسے میں طالبان نے عمران خان کو اپنا نمائندہ منتخب کیا تو  کراچی، لاہور ڈیفنس کے 
 وہ روشن خیال ووٹرز جو پہلی بار پی ٹی آئی کیلئے ووٹ دینے گھروں سے نکلے تھے،، سکتے میں آگئے۔۔۔حالانکہ
 عمران خان نے ملالہ کی کتاب کی رونمائی کی اجازت نہ دینے پر اپنی حکومت پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا
 اظہار کی آزادی پر پابندی نہیں لگنی چاہئیے ۔۔
ملالہ کی کتاب کی رونمائی کے حمایتی ہونے کے باوجود: عمران خان کو طالبان نے اپنی مذاکراتی کمیٹی کیلئے کیوں منتخب کیا ؟؟ میرے خیال میں اِسکا پس منظر طالبان، ڈرون اورعمران کا  ٹرائنگل ہے۔۔ طالبان کی طرح ڈرون کی شدید مخالفت اگر کسی شخص نے کی ہے تو وہ عمران خان کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ۔۔۔غالباً اسی وجہ سے طالبان نے اپنی مذاکراتی کمیٹی میں عمران خان کو شامل کیا تھا، جس کے نتیجے میں کُچھ لوگ اُنہیں اب  کپتان کے بجائے طالبان خان کہنے لگے ہیں۔۔۔ 
اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      
       
    
   

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...