Thursday, January 16, 2014

" عجیب وصیتیں "چند غور طلب باتیں "

منجانب فکرستان 
 دو دانشوروں کی وصیتیں
حسیات کے زریعے انسانی دماغ میں جو ڈیٹا جمع ہوتا رہتا ہے وہ انسان سے  کیسے کیسے فیصلے کراتا ہے اُسکی ایک جھلک۔۔۔۔۔
ن م راشد مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ادبی دُنیا میں خوب نام کمایا، دانشور کہلائے، اپنے لیے کسی مذہبی حوالے کو ضروری 
نہیں سمجھا، لیکن اپنی میت کیلئے جو وصیت کی وہ دفنانے کے بجائے جلانے کی، کی تھی ۔۔۔۔خشونت سنگھ سِکھ گھرانے میں 
پیدا ہوئے ، ادبی دُنیا میں خوب نام کمایا، دانشور کہلائے، یہ حضرت بھی اپنے لیے کسی مذہبی حوالے کو ضروری نہیں سمجھتے
ہیں، اپنی میت کو جلانے کے بجائے دفنانے کی وصیت کرتے ہیں ۔۔۔ہے نا کتنی عجیب بات: دفنانے کی خاندانی روایت والے نے اپنی میت کو جلانا پسند کیا، جبکہ جلانے کی خاندانی روایت والے نے اپنی میت کو دفنانا پسند کیا۔۔۔۔۔۔ کیا اِن وصیتوں  کو اِن دانشوروں کی ذاتی وصیتیں کہیں گے۔۔۔۔
یا یہ وصیتیں،حسیاتی ڈیٹا کی کارستانی کہلائیں گیں؟(یعنی) کیا دماغ میں پہنچنے والے ڈیٹا نے اِن سے ایسے غیر روایتی  فیصلے کروائے ؟ 
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
روز نامہ دُنیا سنڈے میگزین میں شائع خشونت سنگھ کے انٹرویو سے منتخب چند غور طلب باتیں
٭سوال:آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی دھیرے دھیرے اندر سے نکل رہی ہے؟ جواب:جی ہاں،۔کچھ عرصہ قبل غسل خانے میں گر پڑا۔اتفاق سے گھر میں کوئی نہ تھا،سو ایک گھنٹے تک فرش پہ پڑا رہا۔مجھے یقین ہو گیا کہ میرا آخری وقت آ پہنچا۔سو خیال آیا کہ کوئی دعا ہی پڑھ لوں۔تبھی (علامہ)اقبالؒ  کا یہ شعر ذہن میں گونجنے لگا: " باغ ِبہشت سے مجھے حکمسفر دیا تھا کیوں کار ِجہاں دراز ہے،اب میرا انتظار کر "
٭سوال:سنا ہے،آپ بہائیوں کے قبرستان میں دفن ہونا چاہتے ہیں؟ جواب:جی ہاں۔دراصل میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد میری چتا جلائی جائے،میں مٹی ہوں اور اسی میں ملنا چاہتا ہوں۔مگر مسلمانوں اور عیسائیوں نے مجھے اپنے قبرستانوں میں دفنانے سے انکار کر دیا۔بہائیوں نے ہامی بھر لی،مگر یہ شرط لگائی کہ وہ اپنی رسوم انجام دینے کے بعد مجھے دفنائیں گے۔میں نے کہا،جو مرضی رسم اپنا لینا،مجھے تو بس زمین کا رزق بننا ہے۔
٭سوال:آپ خود کو باشعور اور عقلی انسان کہتے ہیں۔لیکن جب آپ ’’السٹریٹیڈ ویکلی‘‘کے مدیر تھے،تو رسالے میں ’’ستارے کیا کہتے ہیں‘‘مسلسل کیوں شائع ہوتا رہا؟
 جواب:کیونکہ جب بھی ہم اسے ختم کرتے ،تو رسالے کی مانگ کم ہو جاتی اور مالک چیخنے لگتے۔(قہقہہ)پہلے ہم برطانیہ کے ایک پامسٹ سے کالم لکھواتے تھے۔پھر ایک مقامی جوتشی سے لکھوانے لگے۔ایک بار پامسٹ کی عدم موجودگی میں ،میں بھی تین ماہ تک قارئین کو ستاروں کی چال سے آگاہ کرتا رہا…اور کہیں سے پیشن گوئی غلط ہونے کی شکایت نہ آئی۔(قہقہہ) 
٭سوال:آپ کی اپنی تحریر کردہ پسندیدہ کتابیں؟ جواب:’’سکھوں کی تاریخ‘‘اور ’’شکوہ و جواب ِشکوہ‘‘کا انگریزی ترجمہ۔اس کتاب کا بارہواں ایڈیشن شائع ہونے والا ہے۔ ،ریڈرزڈائجسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا کہ علامہ اقبالؒ ان کے پسندیدہ شاعر ہیں۔۔۔
درج ذیل انٹرویو لنک بمع شُکریہ روز نامہ دُنیا ۔۔۔
 اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     
  
  

Wednesday, January 15, 2014

" پیش گوئی" غلط ہوگئی "

منجانب فکرستان
فرانسیسی صدر اولاند اصُول کا پکا نِکلا:صدر بننے پر کہا گیا کہ:ساتھ رہنے والی ٹرئیر وائلر سے شادی کرنی ہوگی ورنہ اُنہیں 
 خاتونِ اوّل کاپروٹوکول نہیں ملےگا:اولاند نے کہا:پروٹوکول کیلئے:شادی نہ کرنے کے اُصول کو توڑا نہیں جا سکتا:جس پر
 میں نے پوسٹ لکھی تھی: اولاند صاحب اصُول اصُول مت چِلاؤ، شاید تم نے ڈی ایچ لارنس کا افسانہ" کپتان کا گُڈا"
 نہیں پڑھا لارنس کہتا: عورت مرد کو اپنے "آئیڈیل گُڈے" میں تبدیل کرنے کا عمل ہر وقت جاری رکھتی ہے۔۔
 عورت مرد کو اپنے راستے پر چَلانے کے کئی گُر جانتی ہے۔۔ تم کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ ٹرئیر وائلر تمہارے اُصول کو  
ہَوا میں تحلیل کردے گی، شادی کرکے خاتون اوّل بن جائے گی ۔۔۔
افسوس کہ  ٹرئیر وائلر ناکام رہیں، اداکارہ ژولی گائییے سے اولاند کے معاشقے کی خبر آنے پر وہ بیمار ہوکر ہاسپیٹل پہنچ گئیں۔۔۔
صورت سے معصوم، سیدھا سادھا اور بھولا بھالا دِکھائی دینے والا اولاند اُصول کا پکا بنکر میری پیش گوئی کہ: ٹرئیر وائلر خاتونِ اول بن جائیں گی، کو غلط ثابت کردیا ۔۔۔ایسا میرے ساتھ کوئی پہلی بار نہیں ہُوا ہے ۔۔میری ا کثر پیش گوئیاں غلط ثابت ہوتیں ہیں ۔۔ یہاں پیش گوئی سے مراد یہ ہے کہ : {یہ خیال کہ "ایسا ہوگا"} ۔۔ درج ذیل لنک اولاند سے متعلق لکھی پوسٹ کا  ہے ۔۔
اب اپنے دوست کو اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔ 
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     


Monday, January 13, 2014

"دُنیا کا پہلا منشورِ انسانیت "

 خطبہ حجۃ الوداع
 آپﷺ نے فرمایا: ”اے قُریش!۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ کے حضور تم اس طرح آﺅ  کہ تمہاری گردنوں پر تو
 دنیا کا بوجھ لدا ہوا ہو اور دوسرے لوگ سامان آخرت لے کر پہنچیں۔ اور اگر ایسا ہوا تو میں اللہ کے سامنے
 تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا“۔
”دیکھو میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں کشت و خون کرنے لگو،اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے
 تو وہ اس کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے“۔
 ”لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔اپنے غلاموں کا
 خیال  رکھو، ہاں غلاموں کا خیال رکھو، انہیں وہی کھلاﺅ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناﺅ جیسا تم پہنتے ہو“
درج بالا نکات درج ذیل خطبہ میں شامل ہیں جو کہ روز نامہ نوائے وقت میں شائع شُدہ ہے۔۔۔  
مبشر اقبال لون استادانوالہ۔مکہ مکرمہ

عرفات میں پیغام نبوت
لبیک اللھم البیک
لبیک لا شریک لک لبیک
حج کا سب سے بڑا رکن عرفات میں حاضری ہے۔ سید المرسلین سلطان الانبیاء حضرت محمد مصطفی نے میدان عرفات میں اپنی امت کو جو پیغام دیا وہ اپنی جگہ حقوق انسانیت کا بہترین چارٹر ہونے کے ساتھ ساتھ انفرادی و اجتماعی اخلاقیات اور شریعت اسلامی کے بنیادی اصولوں اور اہم ترین دینی مسائل کا جامع مرقع اور رشد و ہدایت، فلاح و کامیابی کا پورا پروگرام ہے۔ آپ نے فرمایا:
”لوگو! میری بات سنو، میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں یکجا ہو سکیں گے۔ لوگو! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت و الا اللہ کی نظروں میں وہی ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے“۔
چنانچہ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عربی کوعجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے، نہ گورا کالے سے، ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔ ”سب انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدمؑ کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے کہ مٹی سے بنائے گئے۔ اب فضیلت و برتری کے سارے دعوے خون و مال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام میرے پاﺅں تلے روندے جا چکے ہیں۔ بس بیت اللہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمات بدستور باقی رہیں گی۔
    ”اے قریش! ایسا نہ ہو کہ اللہ کے حضور تم اس طرح آﺅ گے تمہاری گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ لدا ہوا ہو اور دوسرے لوگ سامان آخرت لے کر پہنچیں اور اگر ایسا ہوا تو میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا“۔
    ”دیکھو میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں کشت و خون کرنے لگو، اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے“۔
    ”لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اپنے غلاموں کا خیال رکھو، ہاں غلاموں کا خیال رکھو، انہیں وہی کھلاﺅ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناﺅ جیسا تم پہنتے ہو“۔
    دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں سے روند دیا ہے، زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلا انتقام جسے کالعدم قرار دیتا ہوں۔ میرے اپنے خاندان کا ہے۔ ربیعہ بن حارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ہذیل نے مار ڈالا تھا اب میں معاف کرتا ہوں۔ دور جاہلیت کا سود اب کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پہلا سود جسے میں چھوڑتا ہوں ، عباس بن عبدالمطلب کے خاندان کا سود ہے اب یہ ختم ہو گیا ہے۔
    ”لوگو! اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا، اب کوئی کسی وارث کے حق کے لئے وصیت نہ کرے“۔ بچہ اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر پیدا ہوا جس پر حرامکاری ثابت ہو، اس کی سزا پتھر ہے حساب کتاب اللہ کے ہاں ہو گا۔
    ”جو کوئی اپنا نسب بدلے گا یا کوئی اپنے آقا کے مقابلے میں کسی کو اپنا آقا ظاہر کرے گا اس پر اللہ کی لعنت“۔ ”قرض قابل ادائیگی ہے، عاریتاً ہوئی چیز واپس کرنی چاہیے، تحفے کا بدلہ دینا چاہیے اور جو کسی کا ضامن ہے وہ تاوان ادا کرے“۔ کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے۔ سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خوشی خوشی دے، خود پر اور ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔
    ”عورت کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اجازت کے بغیر کسی کو دے“۔
    دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں، عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی خیانت نہ کریں، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو اللہ کی جانب سے اس کی اجازت ہے کہ تم انہیں معمولی جسمانی سزا دو اور وہ باز آ جائیں تو انہیں اچھی طرح کھلاﺅ پہناﺅ۔
    ”عورتوں سے بہتر سلوک کرو، کیونکہ وہ تمہاری پابند ہیں اور خود اپنے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتیں چنانچہ ان کے بارے میں اللہ کا لحاظ رکھو کہ تم نے انہیں اللہ کے نام پر حاصل کیا اور اسی کے نام پر وہ تمہارے لئے حلال ہوئیں۔ لوگو! میری بات سمجھ لو، میں نے حق تبلیغ ادا کر دیا ہے“۔
    ”میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔ اگر اس پر قائم رہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے اور ہاں دیکھو دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کر دیئے گئے“۔
    ”سنو! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہیے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتادیں جو یہاں نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سب سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو“۔
    ”اور لوگو! تم سے میرے بارے میں (اللہ کے ہاں) سوال کیا جائے گا۔ بتاﺅ تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ”ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے امانت ’دین‘ پہنچا دی اور آپ نے حق رسالت ادا فرما دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی“۔
    یہ سن کر نبی کریم کے میدان عرفات میں امت سے خطاب کے ارشادات ہیں۔ اللہ رب العزت ہمیں توفیق دے کہ ہم بالخصوص عرفات میں پہنچ کر ان ارشادات مبارکہ پر غور کریں اور وہاں سے پورے عالم میں نبی آخر الزماں کے پیغام کو عام کرنے کا جذبہ اور داعیہ لے کر لوٹیں۔
 فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،روزنامہ نوائے وقت کا لنک بمع شُکریہ۔۔ 
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     

Sunday, January 12, 2014

"عید میلادالنبی۔اور۔ بجلی کی چوری "

منجانب فکرستان ٹیگز: شفاعت/ بُرائی/عمل/ یکجہتی/ غلط فہمی
انسان مختلف قسم کے جذبات و احساسات کا حامل ہے۔ اِن میں خوشی اور غمی کے
 جذبات بنیادی ہیں،جسطرح اہل تشیع امام حسین  کی شہادت کے غم کا علامتی 
 اظہار ماتم کر کےجسم سے خون نکال کر کر تے ہیں۔۔سنی اِسطرح کا علامتی اظہار 
نہیں کرتے، جبکہ امام حسین  کی شہادت کا غم سُنیوں کو بھی ویسا ہی ہے جیسا
 کہ اہل تشیع کواسکی وجہ یہ ہے کہ امام حُسین  حضورﷺ  کے نواسےتھے۔
اسی طرح سُنی فرقوں میں سے کچُھ فرقے آپﷺ کی دُنیا میں تشریف آوری  
 کی خوشی کے علامتی اظہار کے لیے عیدمیلادالنبیﷺ کا جشن مناتے ہیں محفلِ 
میلاد کا اہتمام کرتے ہیں اسوہِ حسنہ ذکر کرتے ہیں تو اِس میں کیا بُرائی ہے؟؟
 صرف اسلِئیے بُرائی ہے کہ ہم ایسا نہیں کرتے ہیں۔۔۔ میرے خیال میں تو سُنی، شیعہ اور دیگر مسلم فرقوں کو بھی یہ خوشی کا تہوار مسلم یکجہتی  کے طور پر خوشی سے منانا چاہئیے ۔۔۔  
ہاں یہ سراسر بُرائی ہے کہ جشن منانے کیلئے چوری کی بجلی استعمال کریں، جو ایسا کر رہے ہیں وہ یہ ثبوت فراہم کررہے کہ وہ صرف حضورﷺ کی ذات سے محبت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں کیونکہ بجلی چوری کرکے وہ یہ ثابت کررہے ہیں کہ اُنہیں حضورﷺ کی تعلیمات سے کوئی غرض نہیں ہے۔
 حضورﷺ سےاصل محبت تو وہی محبت کہلائے گی کہ جس میں حضورﷺ کی ذات کے ساتھ انکی تعلیمات سے بھی ویسی ہی محبت ہو، اگر ایسا نہیں ہے توپھر یہ جعلی اور دکھاوے کی محبت ٹھہرے گی۔۔
اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کئے بغیر صرف حضورﷺ سے محبت کے صلے میں شفاعت مل جائے گی تو میرے خیال میں ایسا مسلمان شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلاہے ۔۔
اس لیے کہ عمل اور صرف عمل سے ہی ہے جنت یا جہنم ۔۔۔۔
اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }     

Friday, January 10, 2014

" انٹرٹینمنٹ "

 منجانب فکرستان
 علی معین نوازش کا کالم"دوسراسچ" میں دوست سے ہوئے مکالموں کا خُلاصہ اور رائے
دوست:آپنے فلاں،فلاں،فلاں پروگرام دیکھا؟
علی معین : نہیں
دوست:ٹی وی نہیں دیکھتے ہو؟
علی معین: دیکھتا ہوں
دوست: خاک دیکھتے ہو پرائم ٹائم کے تین اہم پروگرام تو دیکھے نہیں
علی معین: اُس وقت ٹی وی دیکھ رہا تھا
دوست: ڈرامہ دیکھ رہے تھے؟
علی معین:میں ڈرامے نہیں دیکھتا ہوں
دوست: انگلش مووی؟
 علی معین: نہیں
دوست: آئیڈل؟
علی معین:آئیڈل دیکھتا ہوں، وہ ٹائم آئیڈل کا نہیں تھا، میں کارٹون دیکھ رہا تھا
دوست تعجب سے: کارٹون ؟
علی معین: کارٹون اصلی ہوتے ہیں
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
  کارٹون تو بناوٹی ہوتے ہیں، پھر یہ اصلی کیسے ہوئے؟ میرا خیال ہے دراصل وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بیشک یہ بناوٹی ہوتے ہیں لیکن ہوتے اصلی ہیں، جبکہ ڈرامے اصلیت کا صرف ڈھونگ رچاتے ہیں۔۔ 
 شاید اسی لیے علی معین  ڈرامے نہیں دیکھتے۔۔آئیڈل دیکھتے ہیں کہ: آئیڈل میں فنکاروں کی پرفارمنس حقیقی ہوتیں ہیں۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ علی معین کی طبیعت میں حقیقت پسندی کے جراثیم کچھ زیادہ ہیں، ممکن ہے اُنہیں  ڈاکومینٹری اور اسپورٹ چینل بھی پسند آتے ہوں۔۔یہ بات میں اس بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ اپنی بھی طبیعت کچھ ایسی ہی ہے۔۔
معین اختر نے اپنے ایک انٹرویو میں فخریہ کہا تھا کہ: آجکل جِس کو  دیکھو فکس ڈائیلاگز کے طریقہ کار کو اپنایا ہُوا ہے ۔۔۔جبکہ اِسکی ابتدا میں نے اپنے شو سے کی تھی۔یقین کریں اِس انٹرویو کے بعد دل نے معین اختر کا کوئی شو دیکھنا گوارہ نہیں کیا۔۔گو کہ  فکس ڈائیلاگز سے دیکھنے والے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ فکس ڈائیلاگز کا مقصد ہی لوگوں کو انٹرٹینمنٹ فراہم کرنا ہے، لیکن مجھ جیسے اُلٹی کھوپڑی والے ایسی جعلی انٹرٹینمنٹ  سے دُکھی ہوتے ہیں، اسلئیے یہ پروگرام نہیں دیکھتے۔۔۔
یہی حال ٹاک شوز کا ہے۔۔۔ جن دنوں "جواب دہ اور کیپیٹل ٹاک شو"  شروع ہوئے تھے چند پروگرام دیکھے تو یہ ٹاک شوز کم پبلک انٹرٹینمنٹ زیادہ لگے۔۔۔  مہمانوں سے زیادہ اینکرز بولتے ہیں۔۔۔ ریٹنگ کی وجہ سے تقریباً نے یہی طریقے اپنا لیے تو ہم نے بھی ایک عرصہ دراز سے سب کو خُدا حافظ کہہ دیا  ہے۔۔۔ اب ہم صرف ڈاکومینٹری، اسپورٹ، کارٹون،  چینل اور آئیڈل جیسے شوز دیکھتے ہیں۔۔۔( علی معین نوازش کا کالم پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں)۔
اب اپنے دوست کو اجازت دیں۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      
  
  


  



Wednesday, January 8, 2014

" نظریہ بھوت اور انتہا پسندی "

 منجانب فکرستان
نِظامِ کائنات خُدا کی صفتِ حکمتی کے تحت تناسبی قوانین (نیچر) پر ہے ۔۔۔جب تک انسان نے نیچر میں  
مداخلت نہیں کی تھی،لاکھوں سالوں سے لڑکیوں اورلڑکوں کا تناسب۔۔ففٹی ففٹی کا حیرت انگیز نظام چلا
 آرہا تھا۔۔ خُدا کے پیغمبر، دُنیاوی مفکرین، میانہ روی پر زور دیتے ہیں کہ یہ نیچر کا قانون ہے، جودُنیاوی 
معاملات میں بھی کام کرتا ہے مثلاً بچّوں پر انتہائی سختی یا انتہائی نرمی دونوں کے نتائج بُر ے ہیں۔۔ 
 جسمانی نظام بجلی سے چلتا ہے،جو انسانی جسم میں مسلسل بنتی اور خارج ہوتی رہتی ہے،پیرا سائیکولوجسٹ
  کے ماہرین مختلف قسم کی الیکٹرانک ڈیوائسز سے بُھوتوں کو ڈھونڈ تے ہیں، اُن سے ہم کلام ہوتے ہیں،  اِن ماہرین کا بُھوتوں کے بارے میں نظریہ ہے کہ: یہ ایسے افراد کی روحیں ہیں، جو کسی سے انتہائی محبت یا انتہائ انتقام لینے کی خواہش کو اپنے وجود میں پالتے ہیں، ایسے افراد جب مرنے لگتے ہیں، اُس وقت بھی وجود میں پلنے والا انتہائی محبت کا یا انتہائی انتقامی جذبہ ان پر حاوی رہتا ہے،جو ان کی روحوں  کو دوسرے عالم میں جانے سے روک دیتا ہے،یوں یہ روحیں  بُھوت بنکر اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے اِس دُنیا میں بھٹکتی رہتی ہیں۔۔۔بلکہ اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے وہ انسانوں کو استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں، لیکن کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتی ہیں۔۔
پیرا سائیکولوجسٹ اپنے اِس نظریے  کے دعوے میں  کوئی سائنٹیفک ثبوت فراہم تو نہیں کرتے۔۔۔تاہم امریکی پولیس بعض  مجرموں تک پہنچنے کیلئے اِن پیرا سائیکولوجسٹ  کے زریعے بُھوتوں کی خدمات حاصل کرتی ہے۔۔۔
 ( جودوست اِس بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے خواہش مند ہیں وہ لنک پر جائیں)
اب اپنے دوست کو اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Thursday, January 2, 2014

ضمیری سزا کی " شکل "۔

منجانب فکرستان  
کچھ مفکرین کا کہنا ہے کہ انسان میں ضمیر ودیعت شُدہ ہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ انسان میں ضمیر
 سماج میں رائج خیروشر کے پیمانے سے اکتسابی ہے کہ جس سماج  میں وہ رہتا ہے،۔یہ تمہید اسلئیے
 باندھی ہے کہ:ہیدر لائن بوکو جوکہ ڈرون اُڑاتی تھیں، اخبار گارڈین میں ایک مضمون لکھ کر گویا 
اپنے ضمیر کا بوجھ کچھ ہلکا کیا اورضمیر کی سزا کا تذکرہ کیا:اس مضمون کا اردو ترجمہ بی بی سی نے کیا
 جس میں سے چند چیدہ چیدہ احساساتی باتیں اسطرح سے ہیں۔۔۔میرا دل چاہتا ہے سیاست دانوں
 سے چند سوالات پوچھوں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے میں ان سے پوچھوں گی کہ ’آپ نے ایک ہیل فائر میزائل سے کتنی خواتین اور ان کے بچوں کو زندہ جلتے ہوئے دیکھا ہے؟‘ پھر پوچھوں گی کہ ’آپ نے کتنے مردوں کو ٹانگیں کٹنے کے بعد لہولہان حالت میں ایک کھیت کو اپنے ہاتھوں پر چلتے ہوئے پار کرتے دیکھا ہے؟  
" مجھے معلوم ہے کہ جب آپ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے۔ لفظ بھیانک بھی اس کو پوری طرح سے ادا نہیں کر سکتا۔ اور جب آپ اسے بار بار دیکھتے ہیں جیسے کوئی چھوٹی سی ویڈیو آپ کے ذہن میں ہی کھب کر رہ گئی ہو اور بار بار چلتی جائے تو وہ ایسا نفسیاتی صدمہ پہنچاتی ہے جو میری دعا ہے کہ کسی کو نہ پہنچے۔"
ظاہر ہے کہ ہمیں تربیت دی جاتی ہے کہ ہم ایسے جذبات کو محسوس نہ کریں اور ہم ان جذبات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ فوج کی جانب سے فراہم کیے گئے ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں جا کر مدد حاصل کرتے ہیں، لیکن ہم اپنے کام کی خفیہ نوعیت کے باعث بہت کم لوگوں سے اس سلسلے میں بات کر سکتے ہیں۔
 اس شعبے میں کام کرنے والوں کے بارے میں خودکشی کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ڈرون طیارے اڑانے والوں میں سے کتنے لوگوں کو بےخوابی، اضطراب اور افسردگی کے علاج کے لیے بہت زیادہ ادویات دی جاتی ہیں۔
حال ہی میں گارڈین نے برطانوی سیکریٹری آف سٹیٹ برائے دفاع کی ایک کمنٹری شائع کی۔ میری خواہش ہے کہ میں ان سے اپنے ان دو دوستوں کے بارے میں پوچھ سکوں جنہوں نے فوجی ملازمت چھوٹنے کے ایک سال کے اندر ہی خودکشی کر لی۔ ( مکمل تفصیل جاننے کیلئے لنک پر جائیں)
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
ایڈوارڈ سنوڈین بھی ضمیر کا بوجھ برداشت نہ کرسکا: ضمیر کا بوجھ اُتا را: اور بدلے میں ملک بدر ہوگیا : یہ طے شُدہ بات ہے کہ جس سماج کا اخلاقی نظام جِسقدر بُلند ہوگا وہاں کا انسانی ضمیر بھی اُنتا ہی بُلند ہوگا۔اور غلط کام پر کچوکے مارے گا۔۔۔
9/11 کی ڈھال کے باوجود:ہیدر لائن بوکو /ایڈوارڈ سنوڈین کی طرح امریکی عوام اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد امریکی پالیسیوں پر کڑی نقطہ چینی کرتے ہیں ۔۔۔
اب اپنے دوست کو اجازت دیں۔۔پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔   
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...