Monday, December 16, 2013

" متھا خوری نہ کر"

منجانب فکرستان
عمران خان کی اِس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خُدا ۔مسکراتے ہوئے لگاتے ہیں ایک ہی رٹا :
 ہم صرف 4 حلقوں کی تصدیق چاہتے ہیں ۔۔ہم صرف 4 حلقوں کی تصدیق چاہتے ہیں۔۔جاؤ جاؤ
 کسیاور کو بیوقوف بناؤ دُنیا سبجانتی ہے : چاول کے چند دانے پورے دیگ  کی کیفیت بتا دیتے ہیں۔
محققین کے مطابق مرد عورت ذہنی سرکٹ الگ الگ اسیلئے مرد عورت کیلئے معمہ تو عورت مرد
 کیلئے معمہ: عورت کا  شکوہ ہے :میرا شوہر میری کوئی بات نہیں سمجھتا ہے وہ  مجھے سمجھ ہی نہیں
 سکتا ہے!کیسے سمجھے گا؟ اُس بیچارے کا  تو ذہنی سر کٹ ہی الگ ہے،اسی طرح عورت  بھی مرد کیلئے ایک معمہ ہے ۔۔مرد کا شکوہ ہے: میری بیوی میرے احساسات کو نہیں سمجھ رہی، میں کیسے اُسکو سمجھاؤں کہ میری ماں نے کتنی محبت سے مجھے پالا پوسا بڑا کیا اور یہ کہتی اپنی ماں کو الگ کرو یا پھر الگ مکان لیکر ماں سے الگ ہوجاؤ ۔۔۔ میں کیسے الگ ہوجاؤں، بے لوث محبت اور خدمت کا یہ صلہ دوں کہ والدین بہن بھائی وغیرہ  سے الگ ہوجاؤں ۔۔
میں بھی تو اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر آئی ہوں ۔۔لیکن ۔۔۔لیکن ویکن کچھ نہیں ۔۔۔
او۔۔بھائی۔۔ کیوں متھا خوری کررہا ہے۔۔۔ تیری بات وہ کیسے سمجھ سکے گی ۔اُس بیچاری کا تو ذہنی سرکٹ ہی الگ ہے۔۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔ پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Sunday, December 15, 2013

یہ بات "جان کیری" بھی جانتے ہیں۔

منجانب فکرستان
کرزئی نے بھارت میں اخباری نمائندوں سے امریکہ کے بارے میں طنزیہ کہا: " دُعا دیتے ہیں جینے کی :
دوا دیتے  ہیں مرنے کیپھر کہا  اِسے یوں سمجھا جائے "دوا دیتے ہیں ٹھیک نہ ہونے کی" اِن جملوں پر
 حاضرین خوب ہنسے:مزید کہا :بیشک باہمی سلامتی معاہدہ افغانستان کے مفاد میں ہے اور افغان عوام نے
اسکی منظوری بھی دیدی ہے ۔۔۔تاہم وہ اس معاہدے پر اُس وقت تک دستخط نہیں کریں گے کہ جب
 تک افغانیوں کے مکانات کے تحفظ کی ٹھوسضمانت۔۔ اور طالبان کے ساتھ معطل شُدہ امن مساعی کی
 دوبارہ شروعات ۔۔قطعی طور پر یہ امور پیشگی شرائط میں سے ہیں ۔۔۔کرزئی نے  اپنی اِس  پریس کانفرس میں  خاص طور پر امریکی بمباری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔۔۔
شاید کرزئی کی درج بالا پریس کانفرس نے امریکیوں کو یہ باور کرا دیا  کہ معاہدہ میں کرزئی کی شرائط شامل کئے بغیر کرزئی دستخط نہیں کریں گے ۔۔۔اسی لیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پہلی بار یہ کہا  ہے کہ:" امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پانے والی سیکورٹی ڈیل پر صدر حامد کرزئی کا جانشین بھی دستخط کرسکتا ہے" ۔۔۔ 
جان کیری صاحب نے بڑی آسانی سے یہ بات کہہ گئے کہ کرزئی کا جانشین بھی دستخط کر سکتا ہے ۔۔لیکن کیا  جانشین باسی معاہدے پر اپنے تازہ دستخط کردے گا ؟؟ یہ بات جان کیری بھی  خوب جانتے ہیں۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

     

Saturday, December 14, 2013

"قوم کی خدمت "

منجانب فکرستان
یہ  کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں ہے سب کو معلوم ہے کہ حکمراں کلاس کے بچّوں میں قوم کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ
 کے، کوٹ کوٹ کے بھرا ہوتا ہے، چاہے وہ حمزہ شریف ہوں کہ بختاور یا پھر بلاول ہوں کہ مریم نواز سب کے سب
 قوم کی خدمت کے جذبے سے لبریز ہیں،عمران خان نے قومی اسمبلی میں مریم نواز کو یوتھ پروگرام کا چیئر پرسن بنائے
 جانے پر بلا وجہ کا اعتراض اُٹھایا ۔۔جسکا جواب واضع اور معقول دلیل کے ساتھ خزانہ امور  کے سیکریٹری نے یوں دیا کہ
  مریم نواز کی تعیناتی سیاسی بنیاد پر نہیں ہوئی ہے، (بجا فرمایا ہے جناب) مریم نواز نے خدمت کے جذبے کے ساتھ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے،مریم نواز کی تعیناتی اعلیٰ شخصیت کی بیٹی ہونے  کے ناطے سے نہیں کی گئی ہے (تو پھر) وہ خدت کے جذبے سے آئیں ہیں (واہ) وہ تنخواہ بھی نہیں لیں گی ۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔
 اب بولو عمران میاں۔۔ کیسی کہی۔۔۔ ہے کوئی جواب۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   


" زخم ہرا۔۔ کاروبار کھرا "

 منجانب فکرستان 
 کالم نگار خورشید ندیم نے کالم" عبدالقادر ملا کا مقدمہ اور پاکستان" میں سوال اُٹھایا کہ:  کیا راکھ کا یوں کُریدنا مثبت سیاست
 ہے ؟؟ عرض ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں راکھ کا کریدنا ہی سیاست ہے۔خاص کر عوامی لیگ اس بات کا خاص
 خیال رکھتی ہے کہ 71 کے زخم ہرے رہیں، اس سے ووٹر کو باور کرانے میں آسانی رہتی ہے کہ عوامی لیگ ہی  
بنگلہ دیش فاؤنڈر ہے۔71 کے زخم جتنے مندمل ہونگے عوامی لیگ اتنی  کمزور پڑے گی ،"عبدالقادر ملا"  کو یوں جلدی
 پھانسی دی گئی  کہ 5 جنوری کو بنگلہ دیش میں الیکشن ہونے والے ہیں۔۔اسلئیے زخم ہرا رہے گا،  کاروبار چلتا رہے گا ۔۔۔ (خاص کر ترقی پزیرممالک میں خدمت کا بورڈ لگا کر پیسے کمانے کے ہُنر ( کاروبار)  کو ہی سیاست کہتے ہیں)۔۔۔
 ٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
دسمبر 71 پاکستان کا مشرقی حصّہ علیحدہ ہوگیا،  دسمبر 2013 ریتک روشن سے سوزین خان علیحدہ ہوگئی ۔ جبکہ انکے دو عدد بچے بھی ہیں ۔ ریتک روشن کے چند انٹرویو دیکھے ہیں۔۔۔جس میں وہ اپنے نظر آنے والے خوبصورت جسم  سے کہیں زیادہ نہ نظر آنے والے خوبصورت ذہن کے مالک لگتے ہیں۔۔پھر ایسا کیا ہوگیا جو دونوں میں علیحدگی کا باعث بنا ؟؟
ریتک روشن کے کہنے کےمطابق علیحدگی کا فیصلہ سوزین خان کا ہے ۔۔۔علیحدگی بچّوں کے ذہنوں کو توڑ پھوڑ دیتی ہے ۔۔۔ریتک روشن سے ایسی کیا بات ہوگئی کہ جو سوزین خان نے ایکدم اتنا بڑا فیصلہ یعنی علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ۔۔ ۔ اب اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Friday, December 13, 2013

"اقتدار اور پیسہ "

منجانب فکرستان
عمران نےخیبر پختون خوا میں بلے سے مخالفین کو دُھول چٹائی تھی، جبکہ دہلی میں "عام آدمی پارٹی" کے کنوینر کچریوال
نے  جھاڑو لیکر مخالفین کو دھول کی طرح اُڑا دیا ،لیکن کچریوال حکومت بنانے پر تیار نہیں ہیں،جبکہ کانگریس کہہ رہی
حکومت بناؤ ہم حمایت دیں گے، کچریوال کا کہنا ہے اشتراکی حکومت میں سمجھوتے۔کرنے پڑتے ہیں جس سے پارٹی کی
شبہیہ خراب ہوجائے گی، اپوزیشن میں رہنے سے پارٹی کو فائدہ ہوگا،اور آئندہ الیکشن میں میدان مارلیں گے۔۔
عمران خان کے حکومت بنانے کے فیصلے پر پارٹی کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے کچریوال کی حکمتِ عملی زیادہ بہتر نظر آتی ہے،لیکن عام عوام پارٹی کے جیتنے والے کیا آئندہ الیکشن تک صبر کر سکیں گے؟ یا پھر یہ کہہ کر کہ: کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک اور جھاڑو لیکر کچریوال کو کچرا سمجھ کر کہیں پارٹی سے اُنکا ہی صفایا نہ کردیں ۔۔اور پھر کانگریس سے مل کر حکومت بنا کر بیٹھ جائیں۔۔چونکہ نئے زمانے کا چلن اقتدار اور پیسہ ہے۔۔ اور ،جو ایسا نہیں کرتا اُسے کم عقل کہا جاتا ہے۔۔ وقت ہی بتائے گا کہ ہوتا ہے کیا ؟؟۔۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا شُکریہ ۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      

Wednesday, December 11, 2013

" ذہن کی اثر پزیری صفت اور فرقے "

منجانب فکرستان: نیچری:قادیانی
 فسادی سیب کی کہانی سے بلاگر ساتھی کاشف بھائی کے دماغ میں چند سوالات آئے۔اسی طرح سے سعد بھائی کے
 بلاگ پر دو تبصرے پڑھکر میرے دماغ میں بھی سوالات پیدا ہوئے، اِن میں  سے ایک تبصرہ تو بلاگر ساتھی سلیم
 احمد بھائی کا ہے جبکہ دوسرا تبصرہ اکرام اللہ بھائی کا ہے ۔۔۔اس پوسٹ کا بنیادی مقصد انسانی ذہن کی اثر پزیری
 صفت ہے چونکہ ذہن کی اس صفت نے دُنیا میں بُہت فساد  پرپا کیا ہُوا ہے۔۔ پوسٹ کی تیاری میں عبدالماجد 
دریابادی کی آپ بیتی سے بھی مدد لی گئی ہے ۔۔۔
اکرام اللہ بھائی نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ ناول "جب زندگی شروع ہوگی" سے ذہن اتنا مُتاثر ہُوا کہ آنکھوں میں آنسوں آگئے ،جبکہ سلیم بھائی ناول سے اِسقدر متاثر ہوئے کہ نہ صرف ناول کو گھوٹ کر پی گئے، بلکہ اُنکے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ اس اچّھے ناول کی دس بیس کاپیاں خرید کر عزیز و اقارب کو پڑھنے کیلئے دیں گے( بھلا ہو سعد بھائی کا کہ اُنکے پیسے بچ گئے) ۔۔
اکرام بھائی میرے لیے اجنبی ہیں۔ لیکن سلیم بھائی کو تو ہم پڑھتے رہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ذہین انسان ہیں ۔۔لیکن جب سعد بھائی  نے ناول کی *تحلیل نفسی کی اور اُس میں سے "ایک ادبی واردات " نامی پوسٹ نکالی تو وہی ناول کہ جس کا اثر آنکھوں سے آنسو نکالتا تھا ،  اور جسے گھوٹ کے پی لیا گیا  تھا، اب "ایک ادبی واردات "نامی پوسٹ  نے سب کچھ اُلٹ دیا  ۔۔جو ذہن "جب زندگی شروع ہوگی" پڑھ کر  جس درجہ متاثر دکھائی دے رہا تھا اب وہی ذہن سعد کی پوسٹ  "ایک ادبی واردات " سے  بھی  اُتناہی متاثر دکھائی دے رہا ہے۔۔۔ لیکن اب سمت اُلٹ گئی ہے۔۔۔ پہلے جو ناول جتنا اچّھا تھا اب اُتنا ہی  بُرا ہے یہ ہے انسانی ذہن اور انسانی ذہن کی اثر پزیری کی صفت۔۔  
بالکل اسی طرح سے عبدالماجد دریا بادی کی آپ بیتی میں بھی ذہن کی اِس حیرت انگیز اثر پزیری صفت کو دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔اُنہوں نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور تربیت پائی نتیجہ میں نیچریوں اورمسیحوں کے خلاف مضامین لکھے ،پھر ایک کتاب "الییمنٹس آف سوشل سائنس " پڑھی اِس عقلیاتی کتاب کا ذہن پر  ایسا اثر پڑا کہ گُھٹی میں پڑی تعلیم اور برسوں کا مذہبی ماحول " ہَوا" ثابت  ہُوا اور ملحد بن گئے۔ ۔۔
10 سال تک ذہن پر ملحدی خُمار چڑھا رہا ۔۔پھر دوست کے رغبت دلانے پر صوفی ازم کو پڑھا تو ملحدی خمار کی  جگہ ذہن کی اثر پزیری صفت نے ماجد صاحب کو صوفی بنادیا، پھر ایک قادیانی دوست کے گھر قُرآن کی تفسیر انگریزی میں پڑھی تو متاثر ہوکر پھر اسلام میں داخل ہوگئے ۔۔۔اکرام صاحب، سلیم صاحب اور ماجد صاحب سب تعلیم یافتہ صحت مند ذہن کے مالک ہیں ۔۔۔لیکن ذہن کی اثر پزیری صفت کے شکار ہوئے ۔۔۔
غرض کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی ذہن میں اثر  پزیری کی صفت حد درجہ پائی جاتی ہے، یہی سبب ہے کہ آج ہر مذہب میں بیشمار فرقے  نظر آتے ہیں اور روز بہ روز انسانی ذہن کی اِسی اثر پزیری صفت کے تحت نئے نئے فرقے بھی وجود میں  آتے جارہے ہیں ۔۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔ آپکا  بُہت شُکریہ ۔۔۔
* ناول کے متن کا تجزیہ ۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Sunday, December 8, 2013

" میرے ذاتی خیالات "

منجانب فکرستان: میرے ذاتی خیالات
 بلاگر ساتھی سعد کی پوسٹ "ایک ادبی وارادات" پڑھی( رب دیکھ رہا ہے:جھوٹ نہیں لکھ رہا ہوں )
پوسٹ پڑھ کرمجھے ہنسی آگئی: 
ہنسی اِس خیال کے تحت آئی  کہسعد بھائی نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ وطن کا کوئی درخت 
ایسا نہیں جسکی شاخوں پر غامدی صاحب کا طوطی نہ بولتا ہو۔اور پھر جس ناول کو اچھا سمجھ کر دوستوں 
  کو لنک فراہم کیا:اس میں سے بھی  غامدی صاحب نِکل آئے :اسطرح کل کا  اچّھا ناول آج  اچّھا نہ رہا ۔۔
لنک کی فراہمی کی  بنا پر ہی میں نے بھی  ناول کے چند صفحے پڑھے ہی تھے کہ: متن میں مجھے بے ادبی کا احساس ہُونے لگا، تو پڑھنا چھوڑ دیا ۔
 ویسے بھی مجھے ناول پڑھنے سے الرجی ہے آج تک کوئی ناول نہیں پڑھا، اسی طرح جب حامد میر اور افتخاراحمد کے ٹاک شو شروع ہوئے تھے چند پروگرام دیکھے انداز ِتکلم اور  طریقہ کار سمجھ میں نہیں آیا:ریٹنگ کے چکر میں تقریباً اینکروں نے یہی طریقہ کار اپنایا  وہ دن ہے اور آج کا دن ہے کہ کِسی چینل پر کِسی قسم  کا کوئی ٹاک شو نہیں دیکھتا ۔۔۔اور اس سے بھی بہت  پہلے سے نہ کوئی فلم دیکھتا ہوں اور نہ ہی کوئی ڈرامہ دیکھتا ہوں ،ڈرامہ، ٹاک شو  اور فلم  سب ایک جیسے بیکار ملاوٹی/ بناوٹی لگتے ہیں۔۔ غرض کہ ایک عرصہ بیت گیا: فلم، ٹاک شو یا ڈرامہ نہیں دیکھا۔۔۔ البتہ فلم کے گانے ضرور سُنتا ہوں میوزک خالص ہوتا ہے/ دُھن خالص ہوتی ہے، ۔اور خالص چیز میں اپنا ایک اثر ہوتا ہے ۔ ڈاکومینٹری چینل دیکھتا ہوں کہ یہ بھی خالص ہوتے ہیں ، کرکٹ نہیں دیکھتا  کہ اِسکی زبان نہیں آتی ہے البتہ فٹ بال کو انجوائے کرتا ہوں ۔۔۔
 میں ذاتی طور پر اس راہ کا مسافر ہوں کہ: یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے ؟  یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے ؟ اِس سوچ کا بڑا فائدہ  یہ ہے کہ:کوئی کسی کو بھلا کہے یا کہ بُرا اپنی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا: ویسے ہر شخص اپنے اعمال کی نیت کی بنیاد پر اپنے لیے جنّت دوزخ بنا رہا ہے ۔۔فیصلہ رب نے کرنا ہے۔۔جو نیتوں کو جانتا ہے۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔ پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }      
    

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...