Wednesday, November 13, 2013

تو پھر تردید کیسی؟؟۔

منجانب فکرستان 
 "سیدمنور حسن نے وہ بات کہی ہی نہیں  کہ جسکا ذکر سارے فسانے میں ہے"
یہ بات ایک بلاگ پر پڑھ کر حیرت ہوئی: دماغ نے سوال اُٹھائے:  
اگر سید صاحب سے جھوٹا بیان منسوب کیا جا رہا ہے تو اُنکی جماعت جوکہ:
( ریلیاں نکالنے اور احتجاج  کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی)خاموش کیوں ہے؟
لیاقت بلوچ نے  پریس کانفرس میں سید صاحب سے جھوٹا بیان منسوب ہونے پر  احتجاج کیوں نہیں کیا ؟
سلیم صافی خود کالم نگار ہیں:اپنے کالم میں اِس غلطی فہمی سے پردہ کیوں نہیں اُٹھا رہے ہیں؟؟
 اور سب سے بڑھ کر خود منور حسن صاحب تردید کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ تردید کا نہ کرنا قبولیت کہلاتا ہے۔۔
 تردید تو کُجا وہ تو اپنے حالیہ خطاب میں کہہ رہے ہیں کہ میں اپنی بات پر قائم ہوں۔۔ تو پھر تردید کیسی ؟؟ 
 اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: پڑھنے والے کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Sunday, November 10, 2013

" غور طلب باتیں "

 منجانب فکرستان:ذرا توجہ سے پڑھیں کہ:  کالم میں کون  کونسی باتیں غور طلب ہیں ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
روز نامہ"دُنیا" 9 نومبر2013
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔

Thursday, November 7, 2013

" یومِ آخرت "

 منجانب فکرستان:یومِ آخرت پر ایمان لانے کی اہمیت کی قُرآنی آیات: کیا ہم اپنے بارے میں جانتے ہیں ؟؟   
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ایک مسلمان کیلئے یوم آخرت ( یعنی  نیتوں کی بُنیاد پرحساب کتاب اور حساب کتاب کی بُنیاد پر جنّت اور دوزخ کے بارے میں
خُدا کے فیصلے کا دن) پر یقین لانا لازمی ہے۔۔یہ تو خُدا جانتا ہے کہ کون شہید ہے؟ کون شہید نہیں ہے:
 یہ تو یوم آخرت کے دن خُدا نے فیصلہ کرنا ہے۔۔ ہم کون فیصلہ کرنے والے؟؟
 یوم آخرت پر ایمان لانے کی  اہمیت۔۔ اور خُدا کے فیصلوں کے بارے میں سورۃ البقرہ 62 سورۃ المائدۃ 69 سو رۃالحج 17میں واضع ارشادات موجود ہیں۔۔ درج ذیل تمام ترجمے مولانا مودودی کے ہیں، 
سورۃ البقرہ 62:
یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی، جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اُس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔
 سورۃ المائدۃ: 69:
(یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے) مسلمان ہو ں یا یہودی، صابی ہو ں یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔
 سو رۃالحج: 17
جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابئی، اور نصاریٰ، اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے
 ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے ، فیصلہ بھی اللہ نے ہی کرنا ہے۔تو پھر شہید یا ہلاک کے فتوے دینا یا دعوے کرنا  کیا ہمیں زیب دیتا ہے ؟؟ کیا ہم اپنے بارے میں جانتے ہیں کہ ہم کتنے نیک ہیں؟؟جب ہم اپنے بارے میں ہی نہیں جانتے تو دوسرے کی نیت یا دل کیفیت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں۔۔رب کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

" فیکٹ و فکشن کا تضاد "

منجانب فکرستان: Pdf  : Helen-wambach Stanislav grof  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دماغ۔۔دماغ کے سمجھ میں نہیں آرہا ہے،ایک ارب سے زیادہ نیوران کو سمجھنے  کیلئے ایک ارب پاؤنڈ کا یورپی یونین نے پراجیکٹ شروع کیا ہے ۔۔
دماغ ایک حیرت انگیز جادوگر ہے۔۔ ماہرینِ نفسیات نے لاشعور میں موجود ایسی حیرت انگیز باتیں دریافت کِیں ہیں کہ عقل حیران ہے مثلاً:
چیکو سلواکیہ کے مشہور ماہرِ نفسیات ڈاکٹرStanislav grof کو ذہنی مریضوں پر  نشہ آور دوا LSD کے اثرات کو جانچنے کا تحقیقی کا م سونپا گیا ۔۔۔
تحقیق سے حاصل نتائج کو گروف اسطرح بیان کرتے ہیں: ایل ایس ڈی مریض کے مرض پر ادویاتی اثر نہیں ڈالتی ہے ،
لیکن یہ لاشعور میں چھُپے واقعات کو شعور میں لے آتی ہے۔ ایل ایس ڈی کے زیرِ اثر افراد لاشعور میں موجود حیرت انگیز مگر ایک جیسے تجربات بیان کرتے ہیں، مثلاً وہ  اپنے  پیدائشی مرحلے کی دردِ زہ کی تکلیف بیان کرتے ہیں۔۔ وہ اپنی  ذات سے باہر نکل کر روحانی تجربے کا ذکر کرتے ہیں ۔۔ وہ بڑھاپے کی تکالیف، موت اور از سرِ نو پیدائش کا تذکرہ کرتے ہیں۔۔
یہ تو تھے لاشعور پر ایل ایس ڈی کے اثرات کے نتائج، جبکہ اسی طرح کے نتائج ایک امریکی ماہر نفسیات خاتون ڈاکٹر ہیلن ویم بیچ نے  بزریعے ہیپنوسس 750 افراد پر تجربات کے زریعے حاصل کئے ،اپنے تجربات کو کتاب کی شکل دی، کتاب کا نام رکھا "Life before life" ۔کتاب نے شُہرت پائی اخبارات نے تبصرے کئے، ٹی وی والوں نے انٹرویو لیا ، ہیلن نے کہا کہ کتاب میں جوکچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب سچ ہے۔۔ سچ کے سِوا کچھ نہیں ہے۔۔۔ لیکن سچی بات یہ بھی  ہے کہ کتاب میں مجھے فیکٹ تو نہیں فکشن جیسا مزا آیا۔۔(خاص کر رشتوں کے حوالے سے)۔۔
کیا یورپی یونین کایہ دماغی پراجیکٹ اِس لاشعوری  فیکٹ و فکشن کے تضاد کو ختم کرسکے گا ؟؟؟
(گروف ، ہیلن اور کتاب کیلئے لنکس پر جائیں) مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 

نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Friday, November 1, 2013

" اُونچی اُڑان "

منجانب فکرستان: پرزم : آئی ایم ملالہ: وزیراعظم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا امریکی تاریخ کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں ؟؟ تاریخ اس بات کی گواہیوں سے بھری پڑی ہے اور یہ ایک طے شُدہ بات ہے کہ:
  خفیہ کام کبھی خفیہ نہیں رہتے ہیں۔۔ تاریخ  بتاتی ہے کہ  گھر کے بھیدی لنکا ڈھاتے ہیں۔۔اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ اپنا راز اپنے دوست کو نہ بتاؤ۔۔
امریکی جاسوسی نظام "پرزم" نے امریکہ کی شبیہہ کو بگاڑ دیا ہے، ممکن آپ کہیں کہ اُسکی شبیہہ  پہلے کونسی اچّھی تھی ؟؟ تو عرض ہے کہ جیسی شبیہہ اب بنی ہے پہلے ایسی تو نہ تھی،مثلاً امریکہ کے دوستوں میں جیسی اب بد اعتمادی پیدا ہوئی ہے پہلے تو نہ تھی۔۔پرزم جاسوسی نظام دوستوں کی جاسوسی امریکہ کی ایک بُہت بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے ۔۔۔
ملالہ کا گراف اُوپر نیچے ہوتا رہا ہے لیکن کتاب" آئی ایم ملالہ " نے ملالہ کیلئے  امریکی پروگرام  " پرزم " جیسا کام کیا ہے ، اِس کتاب نے ملالہ کی شبیہہ کو بگاڑ دیا ہے۔۔ یہ کتاب ملالہ کی ایک بُہت بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے ۔۔امریکہ اور ملالہ دونوں اونچی اُڑان بھر رہے تھے  "پرزم"۔۔۔"آئی ایم ملالہ"  نے ان کے پر کاٹ دیے ہیں۔۔ وزیر اعظم بننا تو دور کی بات ہے، اب  ملالہ کو پاکستانی معاشرہ کسی صورت  میں بھی  قبول نہیں کرسکتا ہے،۔۔۔ جس طرح پرزم نے امریکی دوستوں کو ناراض کیا، اسی طرح آئی ایم ملالہ  نے ملالہ کے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Thursday, October 31, 2013

۔" بُھوت " کونسی زبان "سمجھتے ہیں ؟

منجانب فکرستان:-23 خواتین: مُلکوں مُلکوں: انگریزی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

حال ہی میں کراچی کی ایک فیکٹری میں خاتون  کو بیت الخلا میں بُھوت نظر آیا ،  خوف کے مارے بُھوت بُھوت چیختے ہوئے  بھاگنے لگیں۔۔
بُھوت کا سُننا تھا کہ فیکٹری کی 900 خواتین بھی گرِتی پڑتی ایسا  بھاگیں کہ جیسے بُھوت ابھی اُنہیں دبوچ لے گا۔۔
خواتین کی بدحواسی کا اندازہ لگائیں کہ 23 خواتین بے ہوش ہوگئیں۔۔کیسی  ہڑبھونگ مچی ہوگی ؟؟؟
پہلے کہا جاتا تھا کہ نوجوان خوبصورت لڑکیوں پر بھوت آجاتے تھے۔۔ لیکن اِس دور کی تین امریکی خوبصورت کنواری لڑکیاں خود بھوت اُتارنے والی بن گئیں ہیں مُلکوں مُلکوں پھر کر اسٹیج پر سب کے سامنے بھوت زدہ کے روبرو انگریزی میں بائبل پڑھتی ہیں اور صلیب دِکھا تی ہیں جس سے بھوت دُم دبا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔یوں لڑکیوں کی شہرت میں دن پہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔۔ جسکا ثبوت یہ ہے کہ اب ٹی وی والے بھی  اُنہیں مدعو کرنے لگے ہیں۔۔
اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی عامل اور مولوی حضرات بُھوت زدہ کے سامنے قُرآنی آیات عربی میں پڑھتے ہیں، جس سے بھوت بھاگ جاتے ہیں۔۔
ہندو مت والے بھی بُھوت بھگانے کیلئے سنسکرت زبان کے اشلوک پڑھتے ہیں ،  جنہیں  سُن سُن کر بُھوت بھاگ جاتے ہیں ۔۔۔اسی طرح دیگر مذاہب و دیگر زبانیں بولنے والے اپنی اپنی زبانوں میں مذہبی اشلوک  پڑھتے ہیں اُن سے بھی بھوت بھاگ جاتے  ہیں ۔۔۔ گویا بھوت سب زبانیں سمجھتے ہیں۔۔واہ بھئی واہ۔ 
ارے مگر یہ کیا؟ مجھے تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ پڑھنا بھی جانتے ہیں، میں یہ جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ پڑھ رہے ،جس کے آثار مجھے اپنے کمرے میں محسوس ہونا شروع ہوگئے  ہیں، اسلئیے اب میں لکھنا بند کرتا ہوں ۔۔مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بہت شُکریہ ۔۔۔۔ 
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   



Wednesday, October 30, 2013

باپ بیٹا رائے کے اختلاف میں "چُھپا پیغام"۔

 منجانب فکرستان: عطاالحق قاسمی: علی عثمان قاسمی: عالمِ دین: یو ٹیوب بندش: تبصرہ افتخار اجمل بھو پال 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کافی پُرانی بات ہے عطاالحق قاسمی کے کالم پڑھنا شروع کیا تھا چند کالم پڑھ کر پڑھنا چھوڑ دیا  کہ اُنکا قلم صرف نواز شریف فیملی کو،
 فرشتہ صفت ثابت کرنے کے علاوہ اور کچھ لکھنا نہیں جانتا ہے۔۔ جیسے آجکل ایاز امیر کا قلم نواز شریف مخالفت یا شراب کے علاوہ لکھنا نہیں جانتا ہے،
 دوست کے کہنے پر:  عطاالحق  قاسمی باپ بیٹا اختلاف رائے کے کالمز پڑھا ۔۔ کالمز  پڑھ کر جو بات دماغ میں آئی وہ دوستوں سے شئیر کررہا ہوں،
 وہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے درمیان اختلائے رائے  کے یہ کالمز  پاکستانی قوم جو کہ عدم برداشت کی تصویر پیش کرتی ہے کیلئے ایک خوبصورت پیغام ہےکہ اختلافِ رائے باپ بیٹے میں بھی ہوسکتا ہے، لیکن اِس سے دلوں میں کسی قسم کی  رنجش نہیں آنی چاہئیے جیسا کہ عطاالحق قاسمی نے بیٹے کی اختلاف رائے کو اپنے کالم میں جگہ دیکر ثابت کیا ہے۔۔
غرض کہ میرے خیال میں  عطاالحق قاسمی باپ بیٹا اختلاف رائے کے یہ کالمز پاکستانی عدم برداشت قوم کے نام ایک اچھا پیغام ہے ۔۔
میرے خیال میں روز مرہ گفتگو کی بنیاد پر قاسمی صاحب کے بیٹے نے اپنے خط میں" حضرت عیسٰیؑ کو مصلوب کیا گیا "  لکھا جس پر ایک عالم دین نے گرفت کی اور قاسمی صاحب کو فون کرکے کہا آپکے بیٹے نے قُرآن کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے   قُرآن کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب نہیں کیا گیا۔۔۔
٭٭٭٭٭ 
     پوسٹ "غور طلب خبر" پر تین تبصرہ ای میلز ملیں اِن میں جناب افتخار اجمل بھو پال بھی شامل ہیں، اُنہوں نے دلیل دی ہے کہ: 
  "ہمارے وطن میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے لوگ مُلک کی کُل آبادی کا کتنے فیصد ہیں ؟ آپ اس تناسب سے دیکھیں تو پاکستان نمبر 2 پر آتا محسوس نہیں ہوتا "
 میرے خیال میں اِفتخار اجمل بھوپال صاحب کی دلیل کافی جاندار ہے۔۔۔لیکن میرا ذہن ایک اور طرف جارہاہے۔۔ وہ یہ  کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یوٹیوب بندش نے یہ گُل کھلائے ہوں۔۔ چونکہ یوٹیوب کے چکر میں پروکسی کے زریعے  دس بارہ سال سے زائد عُمر  کے بچّے بھی ایک کلک کے زریعے فحش سائٹس پر آسانی سے پہنچ رہے ہوں۔۔۔ کلاس کے ایک بچّے کو معلوم ہونے پر پوری کلاس بلکہ پورا اسکول آشنا ہوجاتا ہے ۔۔ یوں پاکستان  بھر میں بچّوں کےتجسس بھرے اِس نئے شوق نے پاکستان کو نمبر 2 دِلایا ہو۔۔(اگر ایسا ہے تو یہ پاکستان کی نئی نسل کی تباہی ہے)۔ورنہ 2 نمبر والی بات قطعاً ہضم نہیں ہورہی ہے۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...