Thursday, October 10, 2013

" آپکو بھی غصّہ آجائے گا "

 منجانب فکرستان :ـ بیشک  خُدا  کے  سامنے ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے/ یہ بھی صحیح کے پہلا پتھر وہ مارے۔۔ تو  عرض ہے کہ مجھے صراط مستقیم پر چلنے کا کوئی بڑا دعویٰ نہیں، ہاں اپنی سی کوشش کرتا ہوں۔۔۔لیکن جناب میں روزانہ رات کو بجلی چوری کرکے رات بھر اپنے گُناہ میں مسلسل اضافہ نہیں کرتا رہتا ہوں، اور نہ ہی میرا کوئی کار خانہ ہے جو بجلی کی چوری سے چلتا ہے ۔۔  
یہ جواب اُس اعتراضی ای میل کے جواب میں لکھ رہا ہوں ہے  جو مجھے " ٹھائیں ٹھائیں پُھس" پر ملی،۔۔
 پوسٹ ُٹھائیں ٹھائیں پُھسُ لکھنے کی نوبت یوں آئی تھی کہ  جب میں محلے کے نمازی پرہیز گار شُرفا کو رات میں کُنڈے ڈال کر بجلی چوری کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے اِن بجلی چوروں اور حکومت پر یوں غصّہ آتا ہے کہ حکومت ان چوروں کو پکڑنے کے بجائے ان چوروں کا بل ہمارے بل میں اضافہ کرکے  ہم سے وصول کرتی ہے۔۔
 اگر میری جگہ آپ ہوتےآپ بجلی چوروں کے بِل اور اپنے بِل کے فرق کا موازنہ کرتے تو  آپکو بھی میری طرح غُصہ آجاتا اور میری طرح  آپ بھی بِلبلا اُٹھتے کہ: بجلی چوری نہ کرنے کی، یہ کیسی سزا ہے ؟؟؟
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Wednesday, October 9, 2013

" ٹھائیں ٹھائیں پُھس "

 منجانب فکرستان: بجلی چوری کاذرا تناسبی اندازہ تو لگائیں صرف لیسکو 0.17 فیصد چیکنگ پر 31 کروڑ ریکوری ہوئی۔پاکستان میں 95.98 فیصد مسلمان ہیں، چوری کرنے والوں میں نمازی بھی ہونگے۔جو مسجد میں  بیٹھ کر نماز میں  صراطِ مستقیم پر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ کیا یہی صراطِ مستقیم ہے؟ خُدا مجھے بھی دیکھ رہا اگر میں خود بجلی چوری کرکے دوسروں پر حیرت زدہ ہورہا ہوں تو۔۔۔

Saturday, October 5, 2013

" ۔5 اکتوبر 2013 "

منجانب فکرستان چنیدہ چنیدہ 
٭٭٭٭٭
میڈونا آجکل قرآن پاک کا مطالعہ کررہی ہیں، جیلوں میں اسلام پھیل رہا ہے۔۔۔پیوریسرچ کےمطابق امریکی مسلمانوں میں سے ایک چوتھائی نو مسلم ہیں،سالانہ 5200برطانوی حلقہٴ اسلام میں داخل ہورہےہیں۔ غرض کہجن ممالک میں جتنا زیادہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اُن ممالک میں اسلام اُتنا ہی زیادہ مقبول ہورہا ہے،
کیا یہ معجزہ خُدا کی طرف سے ہے۔۔ یا جو لوگ مسلمان ہورہے ہیں انکا سابقہ مذہبی نظریہ  اب اُن  کیلئے اطمینان بخش نہیں رہا ۔۔یا   مسلمانوں  کی دینی طرز زندگی نے اُنہیں متاثر کیا ۔۔یا ۔۔۔؟۔۔۔یا۔۔۔؟اب آپ بھی تو کّچھ سوچیں!۔
٭٭٭٭٭
  وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اسمبلی تقریر میں یقین دلایا تھا کہ  آئی ا یم ایف سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لیں گے ‘ ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی جائے گی’آئی ایم ایف سے ہم اپنی شرائط پر قرضہ لیں گے ۔۔۔

تبصرہ: بھائی میرے نیچر کا قانون تو ایک بچّہ بھی جانتا ہے ،آپ چاہے کچّھ بھی کہتے رہیں۔ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے َََ۔۔۔۔
 اور نیچے والا ہاتھ کس کا ہے، لوگوں کو اب صاف نظر آرہا ہے ۔۔
٭٭٭٭٭
 کورٹ نے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرشاد یادو کو بد عنوانی کے جرم میں  پانچ سال کی سزا کے ساتھ 25 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سُنادی ہے۔۔ 

خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج پرواس کمار سنگھ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ،

 ‘ ہم سب سنتے تھے کہ خدا تعالٰی،  ہر جگہ ہے ، لیکن اب 

دیکھ رہے ہیں کہ خدا لفظ کی جگہ بدعنوانی لفظ کو دلانے 

کی کوشش ہو رہی ہے .
 یہ تب ہے جب روزانہ بدعنوانی روپی شیطان کو لے کر خطبہ ہوتے ہیں.
 یہ معاملہ اس کی مثال ہے کہ کس طرح بڑے سیاستدان ، نوکرشاہی اور بزنس مین نے سازش کے تحت سرکاری خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔

تبصرہ : ہمارے یہاں بھی ایسی ہی لوٹ مار ہے لیکن ہمارے یہاں تو سینہ ٹھوک کر کہا جاتا ہے کہ ہمیں استثنیٰ حاصل ہے ،کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کرکے دِکھائے !!! 

 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Sunday, September 22, 2013

" سوشل میڈیا "

منجانب فکرستان: جہادالنکاح؛دلائل کا انبار؛حضورﷺ کی سُنت؛کونسا فرقہ صحیح ہے ؟ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹوئٹر یا گوگل پلس پر ابھی تک میرا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔۔ آج پہلی بار بی بی سی کے فیس بک صفحہ پرگیا، جہادالنکاح پر لوگوں کے تبصرے پڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ۔۔ تبصروں کا مزاج بدلنے لگا پہلے متعہ اور پھر باقاعدہ شعیہ سُنی معرکہ شروع ہوگیا اور جہادالنکاح پسِ پشت چلا گیا۔ جس سے مجھے وہ دور یاد آگیا کہ جب بلاگروں کے بلاگ پر اصل موضوع سے ہٹ کر اسی طرح کے تبصرے آتے تھے جسکی وجہ سے ہی مجھے تبصروں کا آپشن ختم کرنا پڑا حالانکہ کُچھ دوستوں نے مجھ سے کہا کہ تبصرہ کا آپشن ختم کرنے سے بلاگ کی ریٹنگ کم ہوجائے گی۔۔۔
بی بی سی پر فیس بک کے تبصرے پڑھ کر دو باتوں کا اندازہ ہُوا: پہلی بات یہ کہ قوم کا مزاج کس جانب بڑھ رہا ہے اور دوسری بات یہ  کہ سوشل میڈیا کے زریعے سے فرقہ واریت،انتہا پسندی کی نفرت بھری آگ کو خوب ہَوا مل رہی ہے ۔۔۔ 
جہاں تک فرقہ پرستانہ دلائل کی بات ہے تو عرض ہے کہ: ہر فرقے والے کے پاس فرقہ پر ستانہ دلائل موجود ہوتے ہیں، جن پر اُنہیں کامل یقین ہوتا ہے۔۔چونکہ یہ فرقے بنتے ہی دلیلوں کی بنیاد پر ہیں، بغیر دلیل کوئی فرقہ بن ہی نہیں سکتا ہے ۔اس لیے کسی جانب سے بھی دلائل کا انبار لگانا بیکار ہے ۔۔۔رہا یہ سوال کہ  کون سا فرقہ صحیح ہے؟؟ اسکا فیصلہ خُدا پر چھوڑ کر فرقوں کوآپس میں اتحاد  اور بھائی چارہ قائم کرلینا چاہئیے کہ یہ حضورﷺ کی سُنت بھی ہے، تاکہ مسلمان آپس میں لڑنے  کے بجائے خوب ترقی کریں۔۔۔
 مسلمانوں کی بھلائی کیلئے، یہ بات عُلماء حضرات کو سوچنا چاہئیے۔۔۔مگرمگر مگر ۔۔۔ یہ کیسی آوازیں ہیں۔۔۔انا انا انا ؟؟؟
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(جہادالنکاح کی تفصیل کیلئے لنک پر جائیں)۔۔
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ 
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Friday, September 20, 2013

" افراط و تفریط "

 منجانب فکرستان: بچوں کی پرورش؛ جدید تحقیق ؛ الزائمر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
21 ستمبر عالمی دن الزائمر
 پُوری  کائنات میں توازن کا قانون رائج ہے۔۔اِسی کو دیکھتے ہوئے ارسطو روز مرہ زندگی میں بھی اسی قانون کو رواج دینے کو کہتا ہے، وہ اپنی بات واضع کرنے کیلئے مثالوں  کا سہارا لیتا ہے، مثلاً غرور اور عجز کے درمیان خودداری اپناؤ، شرمیلا پن اور بے شرمی کےدرمیان حیا اپناؤ، اسراف اور بخل کے درمیان سخاوت اپناؤ،شہوت پرستی اور بے حسی کے درمیان عفت اپناؤ ، تہور اور بزدلی کے درمیان شجاعت اپناؤ۔۔۔
اگر آپنے پڑھا نہیں ہے تو پھر آپکو  یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ جن ملکوں میں صفائی ستھرائی کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔۔اُن ملکوں کے شہری زیادہ تعداد میں الزائمر کی بیماری میں  مبتلا ہوتے ہیں ۔۔یہ نتیجہ ہے کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کی نئی تحقیق کا ہے، اس تحقیق میں 192 قوموں کی صحت کے کوائف پر مبنی اعدادوشمار کے تجزیہ کو شامل کیا گیا ہے۔۔۔
بچوں کی پرورش میں ضرورت سے زیادہ صاف ستھرا ماحول اور دھول مٹی سے احتراز ان کے قدرتی مدافعتی نظام کوغیرمتوازن بنانے کا سبب بنتا ہے جس  سے بچوں کی قوت مدافعت کمزور رہتی ہے اور جسم بہت سے جراثیم کے خلاف لڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

محقیقین اسی نظریہ کو دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ جراثیم سے کم سامنا ہونے کی وجہ سے جسم میں خون کے سفید خلیوں کے بننے کا عمل سست پڑجاتا ہے۔ خاص طور پرریگولیٹری T سفید خلیہ جو مدافعتی نظام کا انتہائی اہم ترین جزو ہےسب سے زیادہ متاثر ہوتا ہےجن کا کام جسم پرحملہ آور بیکٹریا سے لڑنا اور انھیں ختم کرنا ہوتا ہےٹی خلیوں کی کمی سےدماغ میں سوزش پیدا ہوتی ہےجو دماغی امراض کا باعث بنتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ مالی فاکس کہتی ہیں کہ ہمارے مدافعتی نظام کو قاعدہ سے چلانے کے لیے فرینڈلی بیکٹریا سے دوستی کرنا انتہائی ضروری ہے ضرورت اس بات کیا ہے کہ ، ہم متوازن حد تک اپنی صفائی کا خیال رکھیں ۔۔یعنی افراط و تفریط سے بچیں، اور نیچر کے رائج قانونِ اعتدال کو اپنائیں ۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 جسطرح آج کی پوسٹ کیلئے  جدید تحقیق اور نیچر کو حوالہ بنایا ہے۔۔ اسی طرح 21 ستمبر 2012 کو الزائمر کے بارے میں جو پوسٹ لکھی تھی  اُس میں مشہور مصنف ہمینگوئے کی خودکشی اور اسکے مشہور ناول بوڑھا اور سمندر کو حوالہ بناکر لکھا تھا ،اسکے علاوہ الزائمر کے علاج اور معلومات کیلئے پاکستانی سائٹس کی لنکس بھی فراہم کیں تھیں ۔۔۔اگر پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں ۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

"خوا ہش "

 منجانب فکرستان :جمائما؛ رسل برانڈ؛ عمران خان؛ ممکن ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمران خان سے کبھی  ملاقات نہیں ہوئی، نہ ہی پارٹی ممبر ہوں، پھر بھی،  پاکستان میں  عوامی تبدیلی لانے کے حوالے سے اُسکی تڑپ، جدوجہد اور اُسکےخلوص کو دیکھتے ہوئے، مجھ سمیت کئی لوگوں کا عمران سے جذباتی تعلق بنا۔۔
خبر پڑھی، تصاویر دیکھیں جمائما رسل برانڈ سے تعلقات بڑھا رہی ہیں۔۔ یہ سب دیکھ کر مجھے جذباتی شاک سا لگا !۔۔  کس لیے لگا ؟؟؟
 اس لیے لگا کہ میری جذباتی خواہش اور ذہنی کلکولیشن دونوں ہی  غلط ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔۔اخبارات میں پڑھتا تھا کہ جمائما اور عمران خان کے درمیان ابھی بھی اچھّے تعلقات قائم ہیں ، جس نے میرے ذہن میں اِس خواہش کو جنم دیا کہ برطانیہ میں قائم کئی حلالہ سینٹر میں سے ایک سینٹر جمائما اور عمران خان کو دوبارہ ملانے کی راہ دیکھ رہا ہے۔۔لیکن: اے بسائے آرزو کہ خاک شُد: 
 میری اِس جذباتی خواہش نے ابھی دم نہیں توڑا ہے، وہ ابھی بھی آس لگائے بیٹھی ہے کہ ممکن ہے کہ رسل برانڈ ہی حلالہ کا زریعہ ثابت ہو !!!۔۔"خوش فہمی زندہ باد"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میرے دل میں جمائما اور عمران خان دوبارہ ازدواجی زندگی گُذاریں کی خواہش کنِ وجوہات کی بنا پر قائم ہوئی اسکی مکمل  تفصیل اپنی سابقہ پوسٹ بعنوان "عمران خان، جمائما خان"  میں لکھی ہے ۔۔۔ پڑھنا  چاہیں تو لنک پر جائیں ۔ مجھے کچّھ یقین سا ہے کہ پوسٹ آپکو ضرور پسند آئے گی ۔۔چونکہ اِس پوسٹ میں آپکو وقت کا فلسفہ ملے   گا اسکے علاوہ  فلم اسٹار الزبیتھ ٹیلر اور ریچرڈ برٹن ۔ سے ملاقات بھی ہوگی۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔   
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Monday, September 16, 2013

" غور طلب بات "

 منجانب فکرستان:ایس ایم ظفر ؛ اقتباس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئی ایم ایف سے 6.7  بلین ڈالر قرضے کی منظوری سے حکومتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔۔ اب 12 ارب ڈالر سے ایک نیا شہر تعمیر ہوگا ۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اِس قرض کو ادا کون کرے گا ؟؟ جواب ہے کہ ہمیشہ کی طرح تنخواہ دار مڈل کلاس اور غریب طبقہ ادا کرے گا۔۔ چونکہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ  تا  ہیلری کلنٹن  تک کہہ چُکی ہیں کہ پاکستان کے جاگیر دار اور امیر طبقے کی ایک بڑی تعداد ٹیکس نہیں دیتی ہے۔۔پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچّے کو 86 ہزار روپئے کا قرض ادا کرنا ہے ۔۔غریب کا بچّہ یہ قرض کیسے ادا کرے گا ؟؟
محترم جناب ایس ایم ظفر (سابق وزیر قانون) کی کتاب  سے بمع شُکریے کے مختصر اقتباس پیش ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
" اب ہمارے یہاں کوئی ادارہ ایسا دِکھائی نہیں دیتا جسے کرپشن نے مفلوج نہ کردیا ہو ۔۔جس طرح ایڈز کے وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سو بھیس بدل لیتا ہے اور نئے طریقوں سے اچانک حملہ کرتا ہے ،اسی طرح کرپشن نے بھی کئی رنگ بدلے ہیں نئے نئے انداز میں آگے بڑھی ہے " ۔کتاب کا نام ( پاکستان بنام کرپشن عوام کی عدالت میں صفحہ نمبر 10۔
  ۔درج ذیل لنک پر 15 ستمبر 2013 محترمہ انجم نیاز صاحبہ کا لکھا  کالم پڑھنے کے قابل ہے جو نئے تعمیرِ ہونے والے شہر پر روشنی ڈالتا ہے۔۔ اب  مجھے اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 http://e.dunya.com.pk/colum.php?date=2013-09-15&edition=LHR&id=16228_80042217
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...