Monday, March 18, 2013

" کنگ کوبرا "

منجانب فکرستان: لڑائی کا اصول : شکست کا اصول 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نیشنل جغرافک چینل پر دیکھا کہ تحقیق کاروں نے " مادہ کنگ کوبرا " کو آلہ نصب کرکے جنگل میں چھوڑدیا اور اینٹینے کی مدد سے اُسکا پیچھا کرتے رہے۔ خالق نے سانپ کی زبان کویہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ دُور  ہی سے شکار اور ساتھی کی بوُ کو محسوس کرتی ہے۔ایک نر کو مادہ کی بوُ آگئی وہ اُسکی طرف کھنچا چلاآیا  مادہ سے رضامندی حاصل کی (حدِادب) اور کامیاب رہا، پھر ایک اور نر کو بھی مادہ کی بُو آگئی اور وہ بھی  مادہ کی طرف دوڑا چلا آیا لیکن وہاں پر پہلے ہی ایک نر کو پایا تو اُسنے اُسکو چیلنج دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نر گتھم گتھا ہوگئے۔بقول تحقیق کار لڑائی کا اصول یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی کسی کو زخمی نہیں کرے گا، صرف  چتِ کرنے کی کوشش کرے گا،شکست  کا اصول یہ ہے کہ جو چتِ ہوگیا وہ ہار گیا اور پھر وہ وہاں سے چَلا جائے گا ، افسوس کہ مادہ کے پیٹ میں جس نر کی نسل کو بقا ملنی تھی وہ چتِ ہو گیا اور وہ وہاں سے چَلا گیا اب نیا نر مادہ کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ رضامند نہیں ہوئی پھر نہ جانے کیا ہُوا کہ اُس نے پوری طاقت سے اپنے دانت مادہ کے جسم میں پیوست کردیے مادہ نے بھی اپنے دانت نر کے جسم میں پیوست کردیے ،طاقت میں نر کو برتری حاصل ہے ،کچھ ہی دیر میں مادہ  کی آنکھیں پتھرا گئیں اوروہ ڈھیر ہوگئی ۔۔ ۔اب نر نے اُسے کھانا شروع کیا لیکن وہ اتنی لمبی تھی کہ نگلنے میں کامیاب نہ ہُوسکا اور اُگل کر چلتا بنا ، اب مادہ کی لاش کسی اور جاندار کے پیَٹ میں جاکر اُسے زندگی کی حرارت فراہم کرے گی کہ یہی قانونِ فطرت ہے۔ کہ:
جو آیا ہے اُسنے جانا ہے ۔۔"الوداع" مادہ کوبرا " 
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, March 7, 2013

" آنکھیں بھر آئیں "

منجانب فکرستان : معصوم چہرہ: شاہویز:پسندیدگی: غُبار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی اور موت کی کشمکش کی خبریں تو آرہی تھیں شاید یہی وجہ ہو کہ موت  کی تصدیق ہونے پر مجھ پر تھوڑی دیر کیلئے خاموشی کی کیفیت طاری ہوئی پھر دُنیاوی مشغولیت حاوی ہوگئی۔۔خواہش: خوش فہمی میں مبتلا کرتی ہے، اِسی سبب ایک پوسٹ لکھی  تھی کہ شاہ ویز کی قوتِ ارادی نے بیماری کو شکست دےدی ہے۔ یہ سمجھ نہ پایا  کہ شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا بھی ہے۔۔ یہ پوسٹ میں نے اُن کے علاج کے بعد ملک واپس آنے اور چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر لکھی تھی ۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے دُنیا اخبار میں جناب سید عاصم محمود کا مضمون " الوداع کمانڈر " پڑھا   تو آنکھیں بھر آئیں ۔۔ کل کی خاموشی کا دل پر چھایا غُبار اِس مضمون نے آج آنکھوں کے راستے نکال دیا۔۔۔
اگر آپ" معصوم چہرہ شاہویز" (ممکن ہے کہ یہ میری پسندیدگی کا تعصب ہو کہ اُنکا چہرہ مجھے معصوم اور بھولا لگتا ہے) کے بارے میں میری سابقہ پوسٹ نہیں پڑھی ہے تو آپ لنک پر جائیں پوسٹ میں شاہویز کے ساتھ عمران خان اور اُنکی سابقہ محبوبہ  کرسٹائن بیکر کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, February 28, 2013

عورت کی سائکی یا زمانے کی جبلت ؟

منجانب فکرستان ٹیگز: خواتین 25 فروری : اسپیکر: جتن : وقت : مرد : کافر : تبدیلی : وڈیو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت علامہ اقبال نے خواتین کے بارے میں کہا ہے  کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ  کائنات میں رنگ تو ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہا ہے۔۔ علامہ کی بات پر مجھ جیسے لوگوں کو تو ذرا بھی شک نہیں ہے۔۔اگر سپائی نوزا قبیل کی قسم کے کسی شخص کو شک ہے تو اِس مضمون کے پڑھنے پر اُسکا شک بھی دور ہوجائے گا۔۔۔
ایک جانب  ویلنٹائن ڈے والے دن دُنیا بھر کی خواتین نے رنگ برنگ سج دھج  کے ساتھ ویلنٹائن ڈے کی خوشیاں منارہی ہیں تھیں تو دوسری جانب اُسی طرح رنگ برنگ سج دھج کے ساتھ مَردوں کے روئیوں کے خلاف احتجاج کا رقص بھی کررہی تھیں۔۔ یعنی خواتین نے احتجاج بھی خوب بن سنور کر اور رقص کرکے کیا اگر خواتین کا احتجاج بھی اتنا رنگین اور رقص  سے بھرا ہو تو پھر کون کافر ہوگا جو علامہ کی کہی بات سے انکار کرے گا؟
احتجاج کی یہ تبدیلی 25 فروری کی اِس وڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ لبنانی خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف بطور احتجاج پارلیمنٹ اسپیکر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی رقص کیا۔ یوں خواتین نے احتجاج کے اُس روایتی اندازکو کہ جس میں بینر اُٹھائے گلا پھاڑ کر نعرے لگاتے جانے کی روایات کو خوبصورت رقص میں بدل دیا اب ذہن میں سوال آتا ہے کہ: کیا احتجاج کی یہ خوبصورت تبدیلی خواتین کی اُس سائیکی کا نتیجہ ہے  کہ جس کے تحت  وہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا جتن کرتی ہیں یا پھر یہ وقت کی اُس جبلت کا کار نامہ ہے کہ  جو ہر چیز کو تبدیل کردیتا ہے ۔۔۔
اگر آپ کا دل چاہے تو 2 منٹ کا لبنانی خواتین کا احتجاجی رقص دیکھنے کیلئے لنک پر چلے جائیں ۔۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
http://www.alarabiya.net/articles/2013/02/25/268229.html

Monday, February 25, 2013

" تیس لاکھ "

منجانب فکرستان ٹیگز: دُنیا : آخرت: بلاگر کا لِنک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 نرس برونی وئیر ایسی  بِلاگر ہیں۔جنہیں ایک پوسٹ نے،آسمانی بُلندیوں پر پہنچا دیا۔ 30 لاکھ افراد نے اُس پوسٹ کو پڑھا۔ اُنہیں  روحانیت سے دلچسپی ہے۔ وہ ساز پر روحانی گیت گاتی ہیں، وہ تیمارداری کے دوران ایسے بوڑھوں سے اُن کے خیالات معلوم کرتیں کہ جنہیں معلوم ہے کہ وہ اب اس دنیا میں چند دنوں کے مہمان ہیں۔۔برونی نے اپنی برسہا برس کی اِس معلومات  کو ایک پوسٹ میں سمویا۔۔ایمازون بک کی سائٹ پر لکھا ہے کہ اُس پوسٹ کو پہلے ہی سال 30  لاکھ سے زائد افراد نے پڑھا  کچھ نے تفصیلاً کتاب لکھنے کی فرمائش کرڈالی۔۔یوں بلاگر سے وہ صاحبِ کِتاب ہوگئیں۔۔۔
 تاہم موت کی وادی میں جانے والے اِن بوڑھوں کی باتوں نے شاید میری طرح برونی کو بھی حیرت زدہ کیا ہوگا،  کیونکہ اِنمرتے بوڑھوں نے مرتے وقت جزا و سزا اور آخرت سے متعلق کسی پچھتاوے کی بات نہیں کی جبکہ آسٹریلیا  میں61 فیصد عیسائی رہتے ہیں۔۔۔
اِن آسٹریلوی  بوڑھوں کے 5 بڑے پچھتاوے سب کے سب اِس موجودہ دُنیا سےمتعلق ہیں،یہی وجہ ہے کہ جب میں نے روزنامہ دُنیا میں سید عاصم محمود کا مضمون پڑھا تو کھوج میں برونی وئیر تک جا پہنچا  اگر آپ یہ مضمون  پہلے پڑھ چُکے ہیں تو اب اس زاوئیے سے دوبارہ  پڑھ کر دیکھیں،شاید کچھ نیا پن محسوس ہو ۔۔۔ آخر میں بلاگ اور کتاب کا پی ڈی ایف لنک موجود ہے ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔



Thursday, February 21, 2013

The 100

  محمدﷺ: مائیکل ھارٹ: شیکسپیئر:بیکن: ڈیویری : pdf لنک : اسطورہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 تحقیق بتا رہی ہے کہ شیکسپیئر نے کوئی ڈرامہ نہیں لکھا، وہ ناخواندہ تھا: یہ کہنا  ہے مائیکل ہارٹ کا کہ جس نے اپنی تحقیقی کتاب The 100Most influential persons in history  میں تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئےحق پر محمدﷺ کو رینک میں پہلا نمبردیا ہے اورحضرت عیسٰے کو تیسرے نمبر پر رکھا تاہم  اس  پر کسی نے  مائیکل ہارٹ کو جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی البتہ تنقید ضرور ہوئی جسکا جواب ہارٹ نے دلائل سے دیا اور دوسرے ایڈیشن میں  بھی آپ ﷺ کو رینک میں پہلے نمبر پر رکھا۔
مائیکل ہارٹ : بنیادی طور پر سائنس دان ہیں ،علم فلکیات میں ڈاکٹریٹ ہیں اور کافی عرصہ تک ناسا میں مختلف قسم  کے پروجیکٹ میں  کام کرچکے ہیں ۔۔
درج بالا کتاب میں شیکسپیئر کیلئے رینک کا تعین کرنے کے سلسلے میں مائیکل ہارٹ نے جو تحقیق کی اسکے مطابق لکھاری ولیم شیکسپیئرکو  بحثیت ایک شخصیت کے دُنیا  بھر میں ایک شخص بھی  ایسا نہیں ہے جو اُسے جانتا ہو  اُسکے ہم عصر لکھاریوں میں سے  بھی کوئی اُسے نہیں جانتا تھا  البتہ ایک شخص جو ولیم شیکسپیئر کے نام سے جانا جاتا ہے وہ ایک تاجر تھا اور وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا حتاکہ اسکے بچّے بھی پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے تاہم شیکسپیئر کے حوالے سے جو تحاریر پائی جاتی ہیں اُن میں اور فرانسس بیکن/ایڈورڈ ڈی ویری  کی تحریروں میں کافی حد تک مشابہت  پائی جاتی ہے۔۔۔بہر حال شیکسپیئر کا نام  ایک اسطورہ کے طور پر ہی سہی اسکی تحاریر نے معاشرہ پر اپنا اثر ڈالا ہے اس لیے مائیکل ہارٹ نے ولیم شیکسپیئر کو  اس کتاب میں31 واں رینک دیا ہے۔مزید تفصیل کیلئے پی ڈی ایف لنک پر جائیں ۔۔مجھے اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
http://ebookbrowse.com/the-100-most-influential-people-in-history-pdf-d145607663

Tuesday, February 19, 2013

" حلال اشیاء"

منجانب فکرستان ٹیگز:ول ڈیورانٹ: میثاقِ مدینہ : {نئی لغت کا لنک}۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بدھ مت کے انتہا پسند برمی روہینجا مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اب سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرنے کیلئے حلال اشیاء بائیکاٹ مہم شروع کی ہے،  وِل ڈیورانٹ لکھتا ہے کہ بُدھا کے مرتے ہی اُس کے شاگرد سبھادھ نے اس مذہب پر قبضہ کرلیا اور  بھکشوؤں سے کہا  " چھوڑو یہ رونا وونا، اچّھا ہُوا مرگیا،نجات مل گئی، کہتا تھا یہ کرو، وہ نہ کرو اب ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا"۔
جن لوگوں نے سبھادھ کی مخالفت کی اُنکا ایک الگ فرقہ بن گیا، جہاں جہاں یہ مذہب پہنچا وہاں کا مذہبی رنگ اس مذہب میں شامل ہوتا گیا یوں عرصہ دو سو سال میں بدھ مت 18 فرقوں میں تقسیم ہوکر اپنی  اصل شناخت کھو بیٹھا ۔۔اب ہر فرقے کا یہ دعویٰ ہے کہ وہی بُدھا کی تعلیمات کی صحیح پیروی کررہا ہے اور صرف اُنکا فرقہ ہی جنم چکر سے مکتی پائے گا۔۔۔اور دوسرے فرقے کبھی مکتی نہیں پائیں گے ۔۔انِ 18فرقوں میں سے 2 فرقے مہایانا اور تھیروڈا زیادہ مشہور ہیں۔۔۔
تمام مذاہب عدم تشدد اور رواداری کا درس دیتے ہیں، میثاق مدینہ رواداری کی عظیم مثال ہے، لیکن بانیانِ مذاہب کے اُٹھ جانے کے بعد مذاہب میں فرقے بنتے ہیں تو اِن میں سے رواداری نکل جاتی ہے اُسکی جگہ تشدد اور کٹر پن آجاتا ہے، جسکے ثبوت آئے دن  پاکستان میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔ جیسے حالیہ کوئٹہ کا دھماکہ کہ جس میں کئی لوگوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔۔یا جیسے 31 جنوری کا واقعہ جس میں گاڑی پر فائرنگ کرکے بنوری ٹاؤن کے مفتی عبدالمجید دین پوری ،مفتی محمد صالح اور طالب علم حسان علی شاہ کو خون میں نہلا دیا گیا۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نوٹ: ماہرینِ مذاہب کے مطابق بدھ مت: مذہب نہیں یہ عدم تشدد،عدم خواہشات اور راست بازی کا فلسفہ ہے چونکہ مذاہب کی نبیاد رسوماتی عبادات، پوجا پاٹ اور تصورِبھگوان پر ہوتی ہے بدھ مت میں ایسا کچھ نہیں تھا ،لیکن بُدھا کے مرنے کے بعد انکی تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے بُدھا کے بڑے بڑے مجسمے  بناکر اُنہیں اوتار بنادیا اور مراقبہ، وغیرہ شامل کرکے بدھ مذہب بنادیا گیا ۔۔۔( پوسٹ  کی تیاری میں ول ڈیورانٹ کی کتاب ہندوستان سے مدد لی گئی ہے) 
لغت لنک: میرے خیال میں یہ بُہت اچھی لغت ہے۔۔البتہ کبھی کبھی سائٹ کھلنے میں پرابلم کرتی ہے۔ 
http://www.urduinc.com/
 اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ 

Monday, February 11, 2013

" فیصلے کے خلاف فیصلہ "

منجانب فکرستان: ژونگ: اجتماعی ضمیر
------------------------------------------------------------------
افضل گرو کے فیصلے میں لکھی اجتماعی ضمیر کی بات پر ماہر نفسیات ژونگ یاد آگیا جس نے سب سے پہلےانسان میں "اجتماعی لاشعور" کی بات کی تھی جو کافی مقبول ہوئی  ،اور حوالے کے طور پر استعمال ہونے لگی ۔۔تاہم شاید یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے انصاف کا خون کرتے ہوئے ثبوتوں کے بجائے صرف ہندو انتہا پسندوں کی خواہش کو "اجتماعی ضمیر" کا نام دے کر افضل گرو کو پھانسی دے ڈالی ،لیکن ہندوستانی سپریم کورٹ فیصلہ دیتے ہوئے یہ بات بھول گئی ہے کہ دنیا اب گلوبل ولیج ہے اور" اجتماعی ضمیر " صرف ہندو انتہا پسندوں کے ضمیر تک محدود نہیں ہے ۔۔۔ میڈیا میں دیکھ لیں کہ دنیا کے اجتماعی ضمیر نے،آپ کے متعصبانہ فیصلے کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے ۔۔۔
 اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔ 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...