Sunday, December 23, 2012

"منتخب جملے"


منجانب فکرستان: اناڑی: ناجائز : بدنامیاں : دانش
--------------------------------------------------
محترم نذیر ناجی کے کالم سےمنتخب چند جملے۔
"سرکاری خزانے کی جو لوٹ مار تاجر اور سرمایا دار طبقہ کرتا ہے پیپلز پارٹی کے اناڑی لیڈر اسکا 5 فیصد بھی نہیں کماتے ہونگے، مگر اُن کی ناجائز کمایوں کا شور اتنا زیادہ مچتا ہے کہ دوسروں کا کھایا  پیا دکھائی نہیں دیتا ہے۔"
" پیپلز پارٹی والوں کی 5 روپئے کی کرپشن 5 ارب روپئے سے زیادہ بناکر دکھائی جاتی ہے کھانے والے کھاتے رہتے ہیں پیپلز پارٹی والے بدنامیاں اپنے کھاتے میں ڈال لیتے ہیں۔"
ہاریوں، مزدوروں،غریبوں،چھابڑی والوں اور خوانچے والوں کے خیالات کے حوالے سے فرماتے ہیں یہ۔۔
" کسی بھی جماعت کو موزوں نہ پا کر محنت کشوں کو مجبوراً اسی پارٹی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور اس پارٹی کے لیڈر بھی حکومت میں آنے کو بعد مجبوراً  غریبوں کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرتے ہیں" ۔۔۔
قارئین دوستوں سے گُذارش ہے کہ لنک پر جائیں مکمل کالم پڑھیں، دانش میں اضافہ کریں ۔۔ ہاں جی
 مجھے اجازت دیں۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔

Thursday, December 20, 2012

"21 دسمبر "

منجانب فکرستان : " توہم پرستی "
-----------------------------------------------------------------
دوستو: رسل جیسا لاادری (agnostic)شخص بھی جب خواب میں دیکھتا ہے کہ انکی والدہ فوت نہیں ہوئی ہیں بلکہ محض ہوش و حواس  سےمحروم ہوئی ہیں اور یہ کہ جس دن اُنہوں نے خواب دیکھا تھا اتفاق سے وہ دن انکی محبوبہایلس کا جنم دن تھا   تو اسطرح وہ " توہم پرستانہ ہیپناٹائزڈ ہوگئے۔ خوف ، وسوسوں اور اِن اندیشوں میں مبتلا ہو گئے کہ یہ خواب اشارہ ہے کہ ایلس سے شادی نہ کی جائے ۔۔اب ایک طرف ایلس کی محبت اور دوسری طرف خواب کے توہم پرستانہ وسوسے تھے ۔۔۔اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بے چارے رسل کی ذہنی کشمکش کیسی رہی ہوگی۔۔۔ 
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم بھی توہم پرستی کو لگام دینے میں ناکام رہی ہے،  یہ ہی وجہ ہے web bot: ۔ IChing۔اور مایا کیلنڈر 3113 قبل مسیح میں کہی گئی جاہلوں کی بات کوآج کا تعلیم یافتہ شخص توہم میں مبتلا ہوکر پریشان ہو رہا ہے ۔۔
دوستو: میری سابقہ پوسٹوں میں کہی گئی کسی بات سے جس کسی کی ذرا سی بھی دل آزاری ہوئی ہو ، اُس سے درخواست ہے کہ وہ مجھے معاف کردے۔۔ زندگی رہی تو انشاء اللہ پھر ملاقات ہوگی ۔۔اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 دوستو: نیا سال مبارک ہو ۔۔ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔

" قوی خدشہ ہے "

منجانب فکرستان :  مسلکی/ جھوٹ/ لانگ مارچ/فساد 
-------------------------------------------------------------------
ملالہ پر حملے کے فوراً بعد میڈیا پر طالبان مخالف لہراُٹھی تھی پھر طالبان نظریہ کی حمایتی لہر بھی اُٹھی تھی۔۔طاہرالقادری ایجنڈے کے ساتھ اسطرح نمودار ہوئے کہ میڈیا کی توپوں کا رخ طاہرالقادری  کی ذات کی طرف ہوگیا، لیکن اب اس قسم کی آوازیں بھی آنی شروع ہوگئیں ہیں کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کہ کیا  کہہ رہا ہے ۔۔انکا نعرہ  "اپنا عقیدہ چھوڑو مت اور دوسروں کے عقیدہ  کو چھیڑو مت کو بھی باور کرایا جا رہا ہے۔۔
ایسا ہمیشہ ہوتا ہے جب کسی کی ذات کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھر کچھ اسکے ہمدرد بھی  پیدا ہوجاتے ہیں اور پھر  وہ اسکی حمایت میں دلیلیں دینے لگتے ہیں مثلاً آجکل انکی ذات کے حوالے سے یہ دلیل دی  بھی جا رہی ہے کہ  ۔۔یہ کردار بھی انکی ذات کا حصّہ ہے کہ اُنہوں نے اس نظام کے خلاف بطور احتجاج اپنی اسمبلی کی سیٹ سے استعفیٰ دیا تھا اور ایسی اخلاقی  جرات  اسمبلی ممبروں  میں کم ہی پائی جاتی ۔۔۔غرض کہ
اب انکی ذات کی برائیوں کی گنتی کا کوٹہ ختم  ہونے والا تھا ۔۔ اور اچھائیوں کی گنتی شروع ہونے والی تھی۔۔ وہ  اب اُس فیز میں داخل ہونے والے تھے  جہاں انکی ذات کی اچھائیاں ٹٹول کر نکالی جاتیں۔۔۔چونکہ موجودہ دنیا میں کوئی  ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جسے ہم مکمل شیطان یا مکمل فرشتہ کہہ سکیں سب میں فرشتہ اور شیطان موجود ہے ۔۔۔
یہ بات یاد رہے کہ طاہرالقادری سے جو مسلکی یا سیاسی اختلاف رکھتے ہیں وہ کسی طور پر بھی طاہرالقادری کی کسی اچّھائی کو اچّھائی نہیں مانیں گے ۔۔۔ رب ہی بہتر جاتا ہے کہ طاہرالقادری کے دماغ میں اچانک یہ  کیا سوجھی؟؟؟ اس بات  کا قوی خدشہ ہے کہ خُدانخواستہ کہیں فرقہ وارانہ فساد نہ ہوجائے۔۔۔ رب رحم فرمائے (آمین)۔
دوستو:  اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو رب کو جواب دہ ہوں کہ" میں طاہر القادری کی بہت سی باتوں سے اختلاف رکھتا ہوں، لیکن اُنکی بعض باتوں کو قدر کی نگاہ سے بھی دیکھتا ہوں،جبکہ موجودہ لانگ مارچ کا  مخالف ہوں " ۔۔۔
میری باتوں سے اتفاق ضروری نہیں ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔رب راکھا ۔۔۔

Wednesday, December 19, 2012

" ہوائی سفر "

منجانب فکرستان: میرے احساسات/چھوٹی سی نشانی
-------------------------------------------------------------------
میں جب بھی ہوائی سفر کرتا ہوں ، اور ہزاروں فٹ کی بلندی سے  نیچے زمین کی طرف  دیکھتا ہوں تو  خالق کی عظمت مجھے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ، اور یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ انسان میں موجود( پُھونکی ہوئی) روح کی بدولت انسانی ذہن نے کسقدر حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا ہے کہ اتنا بھاری بھرکم جہاز اور اس میں موجود اتنے سارے انسانوں کا بوجھ اُٹھائے کیسے آسانی سے فضا میں تیر تا جا رہا ہے،اور یہ  نہ صرف انسانی عظمت کے گُن گا رہا ہے بلکہ ساتھ ہی انسانوں کو دعوتِ فکر بھی دے رہا ہے وہ یہ کہ پُھونکی ہوئی روح نے انسان کو  کیسی عظمت عطا کردی ہے !!! یہ ایک چھوٹی سی نشانی ہے اُس لا انتہا عظمت والے کی ۔

(پھر اُس کو نِک سُک سے درست کیا اور اُس کے اندر اپنی روح پھونک دی ،اور تم کو کان دیے،آنکھیں دیں اور دل دیے ۔تم لوگ کم ہی شُکر گُذار ہوتے ہو۔(السجدہ۔ 9 مولانا مودودی)۔)
دوستو:آجکل میں جدہ میں ہوں جدہ آتے  ہوئے ہوائی سفرکے دوران  جو احساسات بنے وہ  میں نے آپ سے شیئر کئے ہیں۔جدہ میں ایک ماہ کا قیام ہے۔اب اجازت دیں ،آپ کا بُہت شُکریہ۔۔۔
" یار زندہ ۔۔صحبت باقی ۔۔ انشاء اللہ۔۔رب راکھا "

Monday, December 17, 2012

"عشق نہ پُچھے ذات "

منجانب فکرستان : دُلہن نے 25 ہزار امریکی ڈالر بطور حق مہر دولہا کو ادا کئے
-----------------------------------------------------------------
"مو جائیں موجاں" 
یمنی دارلحکومت صنعاء میں اواخر دسمبر ایک ایسی شادی منعقد ہو رہی ہے جس میں دلہن اپنے دولہا کو ایڈوانس قیمیی جہیز کے علاوہ 'حق مہر' بھی ادا کرے گی۔.
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو یمنی دولہا منتظر کے قریبی ذرائع نے بتایا اس منفرد شادی کی دلہن آسٹریلوی دوشیزہ ہیں اور انہوں نے اپنے ہونے والے شوہر کو قیمتی کار اور 25 ہزار امریکی ڈالر بطور ایڈوانس 'حق مہر' ادا کر دیئے ہیں۔
یمن کی قدامت پسند روایات کے پیش نظر دلہن کی تصویر حاصل نہیں کی جا سکی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ آسڑیلوی دوشیزہ ایزا بیلہ اپنے والدین کے ہمراہ پہلی مرتبہ یمن آئیں اور منتظر نامی نوجوان کو دل دے بیٹھیں۔ منتظر اس گھر میں مالی تھا جہاں ایزا بیلہ نے اپنے والدین ہمراہ قیام کیا۔ دوشیزہ نے منتظر سے شادی کی خواہش ظاہر کی جسے غریب مالی نے اپنے لئے لاٹری سمجھا اور فورا ہاں کر دی۔ 
ذرائع کے مطابق آسٹریلوی کلچر کے مطابق کسی لڑکی کو اگر کوئی نوجوان پسند آ جائے تو وہ اس کی حیثیت سے بے نیاز ہو کر اسے جیون ساتھی بنا لیتی ہے۔ یمن کے ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 350 غیر ملکی یمنی خواتین سے نکاح کی اجازت حاصل کر چکے ہیں۔ سن 2012ء کی پہلی ششماہی کے دوران 87 یمنی مردوں نے غیر ملکی خواتین سے شادی کا اجازت نامہ حاصل کیا
نوٹ : یہ العربیہ نیٹ کی کاپی پیسٹ ہے، دولہے کی کا ر دیکھنے  کیلئے لنک پرجائیں .

Sunday, December 16, 2012

" بُرے کاموں کا بُرا انجام "

منجانب فکرستان:مشرق وسطیٰ اور کالے پانیوں کا مستقبل[ کانفرنس] :برطانوی سفیر کا انٹرویو 
-------------------------------------------------------------------
امریکی تباہی اب زیادہ دور نہیں : یہ بات کسی نتھو خیرے نے نہیں کہی ہے ، یہ بات تاریخ  کی عظیم شخصیت میخائل گورباچوف نے کہی ہے جس کے کھاتے میں ہیں۔۔ بولڈ تاریخ ساز فیصلے مثلاً ریگن  سے ملکر تاریخ ساز تخفیف اسلحہ معاہدہ کیا ، دنیا سے سرد جنگ تناؤ ختم کیا، برزنیف کی شروع کردہ افغان جنگ سے فوجوں کو واپس بلا یا ، سوویت یونین میں آزاد معیشت، آزادمیڈیا اور آزادانہ انتخابات کو متعارف کرایا ۔۔۔جبکہ گورباچوف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ گورباچوف کے انہیں غلط اقدامات نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا دیا،دنیا کو بائی پولر سے یونی پولر بنادیا۔۔۔جبکہ گورباچوف  کا آج بھی یہی کہنا ہے کہ سوویت یونین کو توڑنے کی ذمہ دار افغان جنگ ہے۔یہ اب امریکہ کو بھی توڑ دے گی۔۔۔  
٭:استمبول: مشرق وسطیٰ اور کالے پانیوں کے مستقبل کے بارے میں منعقدہ کانفرنس سے اپنے خطاب میں جناب میخائل گور باچوف نے کہا کہ ہم نے جو غلطی کی تھی وہی غلطی اب امریکہ بھی کر بیٹھا ہے۔۔۔ اس کا حشر بھی ہم سے مختلف نہیں ہوگا ۔۔۔اب وہ وقت دور نہیں جب امریکہ کا بھی شیرازہ بکھر جائے گا۔۔۔ 
 افغانستان میں متعین برطانوی سفیر ریچرڈاسٹگ نے اپنے افغان ٹی وی انٹرویو میں یہ اعتراف کیا ہے کہ امریکی اور اسکے اتحادی نیٹو۔۔ افغانستان میں مکمل  طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔۔۔
سچ ہے کہ بُرے کاموں کا بُرا انجام۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔۔۔

Friday, December 14, 2012

" مُلک بچاؤ اتحاد "

منجانب فکرستان: "انا" کے تماشے !!
------------------------------------------------------------------
مذہبی جماعتوں نے اپنے ملتے جلتے مقاصد کے تحت  ایم ایم اے بنائی تھی لیکن  اِنکی کَشتی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف  کی اناؤں کے بھنور میں بُری طرح  پھنسی ہوئی ہے ، ڈاکٹر اے کیو خان اورعمران خان کے مقاصدبھی ملتے جلتے ہیں لیکن ڈاکٹر اے کیو خان نے عمران خان کی سربراہی میں قائم پی ٹی آئی میں شامل ہونا پسند نہیں کیا اس کے  بجائے اپنی سر براہی میں اپنی پارٹی بنا کر اب ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں۔سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو دعوت دے رہے ہیں اگر پاکستان کو بچانا ہے تو میری پارٹی سے اتحاد کرو اور اس اتحاد کو " ملک بچاؤ اتحاد " کا نام دیا ہے ۔۔
ثروت قادری نے کہا ہے کہ صاحب زادہ فضل کریم  نے ق لیگ سے اتحاد کرنے کے سلسلے میں ہم سے مشورہ نہیں کیا اس لیے ہم سنی اتحاد کونسل سے علیحدہ ہوکر اپنا نیا اتحاد بنائیں گے ۔۔۔قاضی حسین نے کہا اگر ن لیگ کو ہم سے اتحاد کرنا ہے تو وہ ہمارے پاس آئیں ۔۔۔
اگر ایم ایم اے اناؤں کے بھنور سے نہیں نکلتی ہے تو مذہبی جماعتیں آپس میں ایک دوسر ے کے ووٹ کاٹیں گیں، اور فائدہ کوئی اور اُٹھا لے گا۔۔۔اسی طرح  اگر یہ دو خان بھی اناؤں  کی خاطرآپس میں اتحاد نہیں کرتے ہیں تو ممکن ہے یہ بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ،اور فائدہ کوئی اور اُٹھا لے ۔۔۔
 مجھے تو اِن لوگوں کی باتوں اورعمل سے ایسا لگتا ہے جیسے اِنہیں ملک سے زیادہ اپنی "انا" عزیز ہے۔۔۔
دوستو:آپ لوگوں کا کیا خیال ہے ؟؟ میری رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 روز نامہ جنگ تاریخ 11-12-2012  
  





یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...