Sunday, December 16, 2012

" بُرے کاموں کا بُرا انجام "

منجانب فکرستان:مشرق وسطیٰ اور کالے پانیوں کا مستقبل[ کانفرنس] :برطانوی سفیر کا انٹرویو 
-------------------------------------------------------------------
امریکی تباہی اب زیادہ دور نہیں : یہ بات کسی نتھو خیرے نے نہیں کہی ہے ، یہ بات تاریخ  کی عظیم شخصیت میخائل گورباچوف نے کہی ہے جس کے کھاتے میں ہیں۔۔ بولڈ تاریخ ساز فیصلے مثلاً ریگن  سے ملکر تاریخ ساز تخفیف اسلحہ معاہدہ کیا ، دنیا سے سرد جنگ تناؤ ختم کیا، برزنیف کی شروع کردہ افغان جنگ سے فوجوں کو واپس بلا یا ، سوویت یونین میں آزاد معیشت، آزادمیڈیا اور آزادانہ انتخابات کو متعارف کرایا ۔۔۔جبکہ گورباچوف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ گورباچوف کے انہیں غلط اقدامات نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا دیا،دنیا کو بائی پولر سے یونی پولر بنادیا۔۔۔جبکہ گورباچوف  کا آج بھی یہی کہنا ہے کہ سوویت یونین کو توڑنے کی ذمہ دار افغان جنگ ہے۔یہ اب امریکہ کو بھی توڑ دے گی۔۔۔  
٭:استمبول: مشرق وسطیٰ اور کالے پانیوں کے مستقبل کے بارے میں منعقدہ کانفرنس سے اپنے خطاب میں جناب میخائل گور باچوف نے کہا کہ ہم نے جو غلطی کی تھی وہی غلطی اب امریکہ بھی کر بیٹھا ہے۔۔۔ اس کا حشر بھی ہم سے مختلف نہیں ہوگا ۔۔۔اب وہ وقت دور نہیں جب امریکہ کا بھی شیرازہ بکھر جائے گا۔۔۔ 
 افغانستان میں متعین برطانوی سفیر ریچرڈاسٹگ نے اپنے افغان ٹی وی انٹرویو میں یہ اعتراف کیا ہے کہ امریکی اور اسکے اتحادی نیٹو۔۔ افغانستان میں مکمل  طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔۔۔
سچ ہے کہ بُرے کاموں کا بُرا انجام۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔۔۔

Friday, December 14, 2012

" مُلک بچاؤ اتحاد "

منجانب فکرستان: "انا" کے تماشے !!
------------------------------------------------------------------
مذہبی جماعتوں نے اپنے ملتے جلتے مقاصد کے تحت  ایم ایم اے بنائی تھی لیکن  اِنکی کَشتی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف  کی اناؤں کے بھنور میں بُری طرح  پھنسی ہوئی ہے ، ڈاکٹر اے کیو خان اورعمران خان کے مقاصدبھی ملتے جلتے ہیں لیکن ڈاکٹر اے کیو خان نے عمران خان کی سربراہی میں قائم پی ٹی آئی میں شامل ہونا پسند نہیں کیا اس کے  بجائے اپنی سر براہی میں اپنی پارٹی بنا کر اب ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں۔سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو دعوت دے رہے ہیں اگر پاکستان کو بچانا ہے تو میری پارٹی سے اتحاد کرو اور اس اتحاد کو " ملک بچاؤ اتحاد " کا نام دیا ہے ۔۔
ثروت قادری نے کہا ہے کہ صاحب زادہ فضل کریم  نے ق لیگ سے اتحاد کرنے کے سلسلے میں ہم سے مشورہ نہیں کیا اس لیے ہم سنی اتحاد کونسل سے علیحدہ ہوکر اپنا نیا اتحاد بنائیں گے ۔۔۔قاضی حسین نے کہا اگر ن لیگ کو ہم سے اتحاد کرنا ہے تو وہ ہمارے پاس آئیں ۔۔۔
اگر ایم ایم اے اناؤں کے بھنور سے نہیں نکلتی ہے تو مذہبی جماعتیں آپس میں ایک دوسر ے کے ووٹ کاٹیں گیں، اور فائدہ کوئی اور اُٹھا لے گا۔۔۔اسی طرح  اگر یہ دو خان بھی اناؤں  کی خاطرآپس میں اتحاد نہیں کرتے ہیں تو ممکن ہے یہ بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ،اور فائدہ کوئی اور اُٹھا لے ۔۔۔
 مجھے تو اِن لوگوں کی باتوں اورعمل سے ایسا لگتا ہے جیسے اِنہیں ملک سے زیادہ اپنی "انا" عزیز ہے۔۔۔
دوستو:آپ لوگوں کا کیا خیال ہے ؟؟ میری رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔
 روز نامہ جنگ تاریخ 11-12-2012  
  





Tuesday, December 11, 2012

" قول وفعل ؟"

منجانب فکرستان: نواز شریف اورسُقراط شریف
----------------------------------------------------------------
  اِس واقعہ نے یہ بات اور پکّی کردی کہ اگر حکومت  نواز شریف کی بنتی ہے تو چہروں کے علاوہ کچھ نہیں بدلے گا میں جس واقعہ کی جانب اشارہ کررہا ہوں وہ نواز شریف کی ٹریفک قانون شکنی کا ہے،قانون بنانے والوں کو قانون شکنی کسی صورت زیب نہیں دیتی،سُقراط شریف  نے قانون کی پاسداری میں زہر کا پیالہ پینا پسند کیا جبکہ قانون شکنی کرکے وہ اپنی جان بچا سکتا تھا جس کا انتظام بھی کرلیا گیا تھا   لیکن سُقراط کے ظرف نے گوارہ نہیں کیا کہ جس بات کی تعلیم وہ زندگی بھر دیتا رہا ہے آج اپنی جان بچا کر۔۔ اُس تعلیم کی نفی کردے ۔۔۔
لیکن نواز شریف تو  ٹریفک میں پھنسی اپنی قوم کے ساتھ اپنی شراکت تھوڑی دیر کیلئے بھی برداشت نہ کرسکے ۔۔ویسے وہ قانون کی پاسداری کی باتیں کرتے کبھی نہیں تھکتے، ۔۔۔ قول وفعل تضاد کی مثال درج ذیل خبر میں ۔۔۔ 
میری رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔۔  اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔

Monday, December 10, 2012

"صرف 5 منٹ "

منجانب فکرستان: اردو میں بات کرنا حرام ہے/ Maths کو پاکستان بھیج دو اداکار دھر میندر ، BBC انٹرویو
-------------------------------------------------------------------
دوستو:آپ نے اکثر دانشوروں کی یہ رائے سُنی یا پڑھی ہوگی کہ پاکستان میں عدم برداشت کا رحجان بہت تیزی سے اپنی منزلیں طے کر رہا ہے، اس کی چھوٹی/بڑی جھلک اُس وقت دکھائی دی، جب کالا باغ ڈیم مخالف احتجاجی تحریک چلانے کے سلسلے میں اسفندیارولی میڈیا والوں سے خطاب کر رہے تھے  کہ اُن کے کارکنوں نے اُن کے خطاب کو روک دیا اور کہا کہ ہم اردو زبان میں آپ کا خطاب نہیں سُنیں گے،اس لیے کہ اردو میں بات کرنا حرام ہے۔۔بہر حال بڑی مشکل سے کارکنوں نے 5 منٹ کیلئے اسفندیارولی کو اردو میں بات کرنے کی اجازت دی ۔۔۔ 
------------------------------------------------------------------ 
بی بی سی والوں نے حال ہی میں فلم اسٹار دھرمیندر سے انٹرویو کیا، جس میں اُنہوں نے اپنے بچپن کے تاثرات بتائے کہ جب ملک کا بٹوارہ ہُوا  تو وہ سمجھے کہ اُردومسلمانوں کی زبان ہے اور وہ  پاکستان چلی جائے گی ، معصوم  بچے نے اپنے معصوم دکھ اور خواہش کا اظہار اپنی ماں سے یوں کیا کہ:" ماں جی کسی طرح اردو کو روک لو اور اسکے بدلے میں Maths کو پاکستان بھیج دو "۔۔ پھر انہوں نے اپنی اردو سے محبت کا ذکر کیا کہ:" آج بھی میری پسندیدہ زبان اردو ہے اور میں اسی زبان میں شاعری کرتا ہوں " پھر اُنہوں نے اپنے کہے ہوئے اردو کے چند شعر سُنائے ۔۔دوستو: موازنہ کریں کہ ہم کہا ں جا رہے ہیں ؟؟؟ ۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Wednesday, December 5, 2012

[تاریخ کیا کہتی ہے؟][ فطرت کیا کہتی ہے؟]

منجانب فکرستان:سعودی عرب میں یوٹیوب پر پابندی نہیں ہے مسئلہ کا حل نکالا
-------------------------------------------------------------------
 بھارت کے علاقے سُندری باری سے خبر ہے کہ وہاں کی سُندریا ں  شادی کیلئےاپنی باری کا انتظار نہیں کرتی ہیں فون پر کسی لڑکے سے Love مّٹکا کرکے  گھر سے بھاگ جا تی ہیں۔ اِسکا حل مقامی  کونسل نے رحمان ملک حل یعنی فون پر پابندی لگا کر نکالا کہ جو کنواری فون کرتی پکڑی جائے اُس پر  دس ہزار بھارتی روپئے  جرمانہ ہوگا جبکہ شادی شُدہ عورت پر جرمانہ کی رقم دو ہزار روپئے  رکھی گئی ہے اور اِسکی نگرانی کیلئے ایک کمیٹی بھی  بنادی گئی ہے۔۔، کیا یہ حل کار گر ہوگا ؟؟تاریخ اسکا جواب کلاسک رومانی داستانوں کے حوالے سے نفی میں دیتی ہے۔۔جبکہ فطرت مزاق  اُڑاتے ہوئے کہتی ہے۔
"اُونچی دِواریں چُنوادو، لاکھ بِٹھادو پہرے"
 اس بارے میں مقامی چینل پر بات کرتے ہوئےسُمن نامی خاتون نے کہا کہ یہ بیکار کی پابندی ہے، ٹیکنالوجی تو استعمال کیلئے ہوتی ہے نہ کہ پابندی لگانے کیلئے۔۔۔ کاش یہ ہی بات کوئی ہمارے وزیرِ داخلہ سے بھی کہے کہ ٹیکنالوجی استعمال کیلئے ہوتی پابندی لگانے کیلئے نہیں۔۔۔ سعودی عرب نے یوٹیوب پر پابندی نہیں لگائی قابلِ اعتراض مواد کو بلاک کرنے کا حل نکالا۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔
http://www.dw.de/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%DA%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D9%81%D9%88%D9%86-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84-%D9%BE%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C/a-16429190?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf

Tuesday, December 4, 2012

" ایسا شک گُذرتا ہے "

منجانب فکرستان : حکومت کی نااہلی کا۔۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا 
-------------------------------------------------------------------
مدرسہ احسن العلوم کے استادالحدیث  مولانا اسماعیل نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے ،یہ فرقہ واریت ٹارگٹ کلنگ عمل ردِعمل کا شاخسانہ لگتا ہے ،چونکہ ملک میں فرقہ واریت عدم برداشت ہلاکتوں میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔۔اس اضافہ کی ایک بڑی وجہ نامعلوم افراد عموماً  نامعلوم ہی رہتے ہیں ۔۔۔۔ 
نامعلوم افراد کے بارے میں آج ایک اور خبر یہ بھی ہے کہ انہوں نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع قادیانی جماعت کے قبرستان میں متعدد قبروں کو نقصان پہنچا کر غائب ہوگئے۔۔۔ 
 ملک بھر میں اور خاص طور پر کراچی اور کوئٹہ میں کتنی زیادہ ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے لیکن نامعلوم  افراد پکڑے نہیں جارہے ہیں  پکڑے نہ جانے کی وجہ سے ایسا شک گُذرتا  ہے کہ یہ نامعلوم افراد کوئی نادیدہ مخلوق ہے، اگر دیدہ ہوتی تو ہماری حکومت کب کےگرفتار کرکے اُنہیں کیفرِ کردار تک پہنچادیتی اور  ٹارگٹ کلنگ سیریز شروع نہ ہونے دیتی، لیکن ہماری حکومت بیچاری کیا کرے ، نادیدہ مخلوق سے کیسے لڑے ،اس لیے 
حکومت کی نا اہلی کا۔۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔ آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔ 


Sunday, December 2, 2012

"پُوجا "

 منجانب فکرستان :مذاہب: ثبوت :ڈرون حملے:اعتراض: انسان: عقیدہ: پاکستان
-------------------------------------------------------------------
قارئین دوستوں میں سے یقیناً کئی دوستوں نے مغربی فلسفیوں اور ماہرینِ نفسیات  کی مذاہب  کے بارے میں کہی ہوئی یہ بات ضرور  پڑھی ہوگی کہ مذا ہب خوف کی پیدا وار ہیں ۔۔ یہ بات مجھے یوں یاد آئی کہ مختلف اخباروں میں خبر چھپی تھی کہ بھارتی ریاست جھار کھنڈ میں ڈینگی مچھر کے خوف میں مبتلا لوگوں نے ایک بڑا سا بُت ڈینگی مچھر کا بنا کر اُسکی پُوجا شُروع کردی ہے،ان لوگوں کے اِس عمل سے کم سے کم بُت پرستی کی حد تک تو ماہرین کی  کہی ہوئی بات کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ مذاہب (بت پرستی والے) خوف کی پیداوار ہیں۔۔
اگر ڈرون حملے پاکستان کے بجائے ہندوستان  پر ہوتے تو شاید خوف کے مارے لوگ ڈینگی مچھر کی طرح ڈرون کا بُت بنا کر اسکی بھی پُوجا شروع  کر دیتے۔۔دوستو: میں کسی کے عقیدے پر اعتراض نہیں کر رہا ہوں، صرف حیرت کا اظہار کر رہا ہوں  کہ آج کے  دور کے  انسان میں  بھی  پایا جاتا ہے۔ اِس قسم کا عقیدہ !!! 
اب اجازت دیں ۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...