Friday, November 16, 2012

" گل ای مُک گئی "

منجانب فکرستان: وزِیر اعلیٰ سندھ نے دو اعلیٰ باتیں کہیں۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پہلی اعلیٰ بات:"دُعا کریں محرم خیریت سے گُذر جائیں"۔۔ ڈاکٹر عموماً دُعا کیلئے اُس وقت کہتے ہیں جب دَوائیں کار گر نہ ہوں، وزیراعلیٰ بھی صوبے کا ڈاکٹر ہوتا ہے،صوبے کو لاحق بیماریوں کی تشخیص و علاج اُسکی ذمہ داری ہے۔اسلئیے سوال پیدا ہوتا ہے کیا خلوص نیت سے کراچی کو لاحق بیماری کی تشخیص کی گئی۔۔اور  اگر کی گئی تو کیا اس بیماری کے علاج کیلئے جو دوا ہونی چاہئے وہی دوا دی گئی یا کہ خالی placebo (بے اثر بہلاوا) دیا جاتا رہا ۔۔اب مرض کی نوعیت  یہ ہوگئی ہے کہ دُعا کیلئے کہا جارہا ہے !!! اور ساتھ میں وزیر اعلیٰ  صاحب نے دوسری اعلیٰ بات یہ کہی ہے کہ" کراچی میں امن قائم رکھنا صرف پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی ذمہ داری نہیں، تمام جماعتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی "۔۔۔۔ لو جی گل ای مُک گئی ۔۔ 
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Thursday, November 15, 2012

موٹرسائیکل چلانے پر پابندی۔

منجانب فکرستان : کیا پابندیاں لگانا ہی مسئلہ کا حل ہے ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پیپلز پارٹی والوں کا یہ کہنا ہے آئندہ  کی حکومت انہوں نے ہی بنانا ہے ۔۔لیکن انکی حکمتِ عملی سمجھ بالا ہے، مثلاً دہشت گردی کا خطرہ ہے اتنے گھنٹوں کیلئے مو بائل سروس بند ۔۔ٹارگیٹ کلنگ ہورہی ہے ڈبل سواری پابندی، دہشت گردی کا خطرہ ہے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ،سونے پر سُہاگہ ہفتے میں دو دن کیلئے سی این جی  کی بندش ہے ۔۔اس طرح لوگ کام پر  نہیں جا پا رہے ہیں نتیجہ کارخانوں ،فیکٹریوں اور دفتروں میں کام نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ ریوینیو دینے والے شہر کراچی  کا یہ حال بنا دینگے تو پھر یہ ملک کیسے چلے گا ؟؟ کیا دہشت گردی کے مسئلے سے نپٹنے کا واحد حل صرف پابندیاں لگانا ہے یا یہ انتظامیہ کا خلا ہے؟ اور خلا فطرت کو پسند نہیں ۔۔
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Saturday, November 10, 2012

میں کوئی جھوٹ بولیا ؟؟

منجانب فکرستان: جادو ایسا جو سر چڑھ کر بولے !
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عورت مرد کے مقابلے میں کمزور صنف ہے لیکن دنیا کی طاقتور ترین ایجنسی کے چیف ڈیوڈ پیٹریاس  ایک صحافی عورت کے سامنے کمزور ترین ثابت ہوئے وہ اپنی کمزوری کو غلطی سے تعبیر کر رہے ہیں۔۔ اسی طرح دنیا کے طاقتور ترین صدر بل کلنٹن بھی ایک ملازمہ عورت کے سامنے بے بس نظر آئے ،اور انہوں نے بھی اپنی کمزوری کو غلطی سے منسوب کیا ۔۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے طرّم خاں عورت  (بیوی/محبوبہ)  کے سامنے بھیگی بلّی ثابت ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اپنے ماں باپ تک کو گھر سے نکال باہر کیا ۔۔۔میں کوئی جھوٹ بولیا ؟؟
اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم۔ڈی)

Friday, November 9, 2012

خطباتِ اقبال

 منجانب فکرستان : سرن اور علامہ اقبال 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علامہ اقبال نے اپنے خطبات   The Reconstration Of  Religious Thought in Islam یا "تشکیلِ جدید الہٰیاتِ اسلامیہ" 1928تا 1929 میں مذہب اسلام اور سائنس علوم کے حوالے سے جو بات کہی تھی  وہی بات سرن والے بھی گذشتہ مہینےمنعقدہ سائنس اور دین مباحث کانفرنس  میں کی  ہے۔ یعنی سائنس اور مذہب میں ہم آہنگی ہو ۔۔علامہ اقبال نے ان خطبات میں قُرآنی آیات کے حوالوں سے  یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذہبِ اسلام اور سائنس علوم میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔۔۔ مکمل تفصیل کیلئے  لنکس پر جائیں
 ۔۔مجھے دیں اجازت ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی)


Wednesday, November 7, 2012

ماہرین غلط تجزیے کرتے ہیں ؟؟

منجانب فکرستان: ہندسے کیا کہتے ہیں؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تجزیہ کار کہتے تھے امریکی ووٹر میچیورڈ تعلیم یافتہ ہے،ووٹ دیتے وقت اقتصادی پالیسی کو پیشِ نظر رکھے گا، لیکن درجہ ذیل تناسبی ہندسے کچھ اور ہی حقیقت عیاں کرتے ہیں، جس کو ماہرین میں سے شاید ہی کسی نے پیش کیا ہو۔دیہی علاقے جوکہ قدیم روایات سے جُڑے ہوتے ہیں 60 فیصد لوگوں نے رومنی کو ووٹ دئیے اور صرف 38 فیصد نے اوباما کو دئیے،شہری علاقوں میں 60 فیصد لوگوں نے اوباما کو ووٹ دیئے  اور صرف 38 فیصد نے مسٹر رومنی کو دئیے۔۔۔
چرچ جانے والے 61 فیصد افراد نے رومنی کو ووٹ دئیےاور صرف 37 فیصد نے اوباما کو ووٹ دئیے جبکہ چرچ نہ جانے والے 62 فیصد افراد نے اوباما کو ووٹ دئیے اورصرف 34 فیصد نے رومنی کو دئیے ۔۔۔ انِ تناسبی ہندسوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ مقابلہ بنیادی طور پر پارٹی آئڈیالوجی یعنی کنزروٹیو سوچ اور لبرل سوچ کے درمیان تھا ۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کے سامنے اقتصادی یا خارجہ پالیسی بنیاد کی حامل نہیں تھی جبکہ ماہرین اس کو بنیاد قرار دے رہے تھے، لیکن نتائجی ہندسے اُن کی سوچ کی حمایت نہیں کرتے اِس  کے بجائے کنزر ویٹو اور لبرل سوچ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔
اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔ ۔ (ایم۔ڈی) 

Tuesday, November 6, 2012

آنگ سان سوچی

منجانب فکرستان: سُوچی کی نئی اخلاقیات؟  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 سوچی کو امن کا نوبیل ایوارڈ دیتے ہوئے کمیٹی کے ممبر فرانسس سجسٹیڈ نے  سوچی کو" کمزوروں کی طاقت" قرار دیا تھا، لیکن 3نومبر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمزوروں کی طاقت بننا تو درکنار سوچی نے  کمزور روہینگیا مسلمانوں کے حق میں بات کرنے تک سے  انکار کردیا اور ساتھ میں اخلاقیات کی نئی تشریح کی کہ  وہ  مظلوموں کے حق میں بول کروہ اپنی اخلاقیات کا غلط استعمال نہیں کریں گیں ۔۔۔ اُن کی اخلاقیات یہ ہے کہ ظالم اور مظلوم دو فریق ہیں  اس لیے کسی کے  بھی حق میں بولنا اخلاقیات کا غلط استعمال ہوگا۔۔  
خُدا جانے یہ کس قسم  کی اخلاقیات ہے جو ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہنے سے روکتی ہے؟؟؟ جبکہ اقوام متحدہ نے روہینگیا مسلمانوں  کو  دنیا کی مظلوم ترین  اقلیت کے زمرے میں رکھا ہے۔۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی رپورٹ کے مطابق  سوچی  کا مسلمانوں کو مظلوم نہ ٹھرانے والی تعصبی  اخلاقیات پر سخت قسم کی تنقید ہورہی ہے ۔۔۔۔
سوچی کی نئی اخلاقیات کے بعد۔  کیا سوچی امن  کا نوبیل انعام اپنے پاس  رکھنے کی حقدار ہیں ؟؟؟
مکمل تفصیل لنک پر ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

Saturday, November 3, 2012

سینڈی کی توجیح

منجانب فکرستان: خُدا کی صفات کو متعارف کرانے کےمختلف انداز
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سمندری طوفان "سینڈی" سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ،جبکہ 90 سے زیادہ افرادہلاک بھی ہوئے ہیں ، ماہرین ماحولیات، ماحول کو خراب کرنے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ہمارے یہاں کے بعض کالم نگار تک اپنے کالموں میں اسکی توجیح گستاخانہ فلم سے جوڑ کر کر رہے ہیں کہ  گستاخانہ فلم بنانے یا  گستاخانہ فلم بنانے والوں کو سزا نہ دینے  پر خُدا نے سینڈی سمندری طوفان کے زریعے اُنہیں سزا دی ہے۔۔۔
 کالم نگار ایسی بات کریں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خُدا گستاخانہ فلم بنانے والے ملعونوں  کی سزا ایسے لاکھوں بے گُناہ افراد کو دے رہا ہے جِنکا اس فلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔  جبکہ فلم بنانے والے ملعونوں کو اس سمندری طوفان سے کوئی گزند تک نہیں پہنچتی ہے۔۔۔ ۔۔۔ کالم نگاروں پر انسانی شعور بلند کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔
اب دیکھیں  کہ انگریز دانشور نے اپنی قوم کو خُدا کی صفت کا  تعرف کس انداز میں کرایا ہے ۔ 
.God created the laws of nature and does not interfere with them 
اسکا نتیجہ سائنس دانوں نے کہا "سینڈی"  کا قانون دریافت کریں گے۔
بلاگ کے ہیڈر اور گھومتے گلوب کے نیچے بھی خُدائی صفاتی  تعرف موجود ہے۔۔۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...