Wednesday, October 30, 2013

باپ بیٹا رائے کے اختلاف میں "چُھپا پیغام"۔

 منجانب فکرستان: عطاالحق قاسمی: علی عثمان قاسمی: عالمِ دین: یو ٹیوب بندش: تبصرہ افتخار اجمل بھو پال 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کافی پُرانی بات ہے عطاالحق قاسمی کے کالم پڑھنا شروع کیا تھا چند کالم پڑھ کر پڑھنا چھوڑ دیا  کہ اُنکا قلم صرف نواز شریف فیملی کو،
 فرشتہ صفت ثابت کرنے کے علاوہ اور کچھ لکھنا نہیں جانتا ہے۔۔ جیسے آجکل ایاز امیر کا قلم نواز شریف مخالفت یا شراب کے علاوہ لکھنا نہیں جانتا ہے،
 دوست کے کہنے پر:  عطاالحق  قاسمی باپ بیٹا اختلاف رائے کے کالمز پڑھا ۔۔ کالمز  پڑھ کر جو بات دماغ میں آئی وہ دوستوں سے شئیر کررہا ہوں،
 وہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے درمیان اختلائے رائے  کے یہ کالمز  پاکستانی قوم جو کہ عدم برداشت کی تصویر پیش کرتی ہے کیلئے ایک خوبصورت پیغام ہےکہ اختلافِ رائے باپ بیٹے میں بھی ہوسکتا ہے، لیکن اِس سے دلوں میں کسی قسم کی  رنجش نہیں آنی چاہئیے جیسا کہ عطاالحق قاسمی نے بیٹے کی اختلاف رائے کو اپنے کالم میں جگہ دیکر ثابت کیا ہے۔۔
غرض کہ میرے خیال میں  عطاالحق قاسمی باپ بیٹا اختلاف رائے کے یہ کالمز پاکستانی عدم برداشت قوم کے نام ایک اچھا پیغام ہے ۔۔
میرے خیال میں روز مرہ گفتگو کی بنیاد پر قاسمی صاحب کے بیٹے نے اپنے خط میں" حضرت عیسٰیؑ کو مصلوب کیا گیا "  لکھا جس پر ایک عالم دین نے گرفت کی اور قاسمی صاحب کو فون کرکے کہا آپکے بیٹے نے قُرآن کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے   قُرآن کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب نہیں کیا گیا۔۔۔
٭٭٭٭٭ 
     پوسٹ "غور طلب خبر" پر تین تبصرہ ای میلز ملیں اِن میں جناب افتخار اجمل بھو پال بھی شامل ہیں، اُنہوں نے دلیل دی ہے کہ: 
  "ہمارے وطن میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے لوگ مُلک کی کُل آبادی کا کتنے فیصد ہیں ؟ آپ اس تناسب سے دیکھیں تو پاکستان نمبر 2 پر آتا محسوس نہیں ہوتا "
 میرے خیال میں اِفتخار اجمل بھوپال صاحب کی دلیل کافی جاندار ہے۔۔۔لیکن میرا ذہن ایک اور طرف جارہاہے۔۔ وہ یہ  کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یوٹیوب بندش نے یہ گُل کھلائے ہوں۔۔ چونکہ یوٹیوب کے چکر میں پروکسی کے زریعے  دس بارہ سال سے زائد عُمر  کے بچّے بھی ایک کلک کے زریعے فحش سائٹس پر آسانی سے پہنچ رہے ہوں۔۔۔ کلاس کے ایک بچّے کو معلوم ہونے پر پوری کلاس بلکہ پورا اسکول آشنا ہوجاتا ہے ۔۔ یوں پاکستان  بھر میں بچّوں کےتجسس بھرے اِس نئے شوق نے پاکستان کو نمبر 2 دِلایا ہو۔۔(اگر ایسا ہے تو یہ پاکستان کی نئی نسل کی تباہی ہے)۔ورنہ 2 نمبر والی بات قطعاً ہضم نہیں ہورہی ہے۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         


Sunday, October 27, 2013

"غور طلب خبر"

  منجانب فکرستان:اب "یو ٹیوب" پیراگراف اضافے کے ساتھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 غور طلب خبر یہ ہے کہ پاکستانی فحش سائٹ دیکھنے والوں میں عالمی نمبر 2 پر ہیں ( انگریزی اخبارات کے  لنکس)۔۔ایسا کیوں؟؟
علم جنسیات میں ہیولاک ایلیس کا مقام وہی ہے ،جو نفسیات میں سگمنڈ فرائڈ کا ہے۔چونکہ نفسیات اور جنسیات کا تعلق چولی دامن جیسا ہے،
 اسلئیے ہیولاک ایلیس جنسیات کو نفسیات کے زریعے اور فرائڈ نفسیات کو جنسیات کے زریعے سمجھنے کوشش  کیا کرتے  تھے۔۔
ایلیس مثالیں دیکر اپنی بات سمجھاتا ہے۔۔وہ ماہر بشریات کے حوالے دیکر بتاتا ہے کہوہ قبیلے کہ جو برہنہ رہتے ہیں۔۔ 
اُن میںجنسی اخلاقیات بُہت مظبوط ہیں۔۔جنسی بیماریاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔۔ لیکن جن معاشروں میں لباس کا رواج ہے ،وہاں تجسس کے باعث ہوس زدگی زیادہ ہے،  عورت کا نیم عریاں پن تو شوقِ تجسس کو اور بھی بھڑ کاتا ہے۔۔ 
پاکستانی معاشرہ ایک مذہبی معاشرہ ہے۔۔ جنس کے موضوع  پر بات کرنا بھی  معیوب سمجھا جاتا ہے۔۔ایسے معاشرے کے افراد کا فحش سائٹ پر جانے کا عالمی نمبر 2 بن جانا تعجب خیز بات ہے ۔۔۔ کیا یہ وہی ایلیس والی بات ہے کہ شوقِ تجسس نے پاکستان کو عالمی نمبر 2 بنادیا ۔۔اور جو آزاد معاشرے ہیں وہاں شوقِ تجسس کم ہے اسلئیے وہ فحش سائٹس  پر کم جاتے ہیں ۔۔۔
اب ہم دوسرے پہلو کی طرف چلتے ہیں ۔۔ وہ یہ ہے کہ آجکل کا دور ایسا ذہین دور ہے کہ ۔۔ہر بات کے پیچھے ایک سازشی نظریہ کی بات نکل کر سامنے آجاتی ہے۔۔کہیں اِس خبر کے پیچھے بھی پاکستان اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا کوئی سازشی منصوبہ تو کار فرما نہیں ہے ؟؟؟ مگر یہ بات بھی اپنی جگہ سچ ہے،۔۔ہمارے سامنے ایسے واقعات آتے ہیں کہ جس پر ہمارا تصّور تک یقین کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن بعد میں وہ بات سچ ثابت ہوتی ہیں۔۔ اور خاص کر جنس کے معاملے میں ایسا ہوتا ہے ۔۔
ایک خیال اور ذہن میں آیا ہے۔ وہ یہ  کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یوٹیوب بندش نے یہ گُل کھلائے ہوں۔۔ چونکہ یوٹیوب کے چکر میں پروکسی کے زریعے  دس بارہ سال سے زائد عُمر  کے بچّے بھی ایک کلک کے زریعے فحش سائٹس پر آسانی سے پہنچ رہے ہوں۔۔۔ کلاس کے ایک بچّے کو معلوم ہونے پر پوری کلاس بلکہ پورا اسکول آشنا ہوجاتا ہے ۔۔ یوں پاکستان  بھر میں بچّوں کےتجسس بھرے اِس نئے شوق نے پاکستان کو عالمی نمبر 2 دِلایا ہو۔۔(اگر ایسا ہے تو یہ پاکستان کی نئی نسل کی تباہی ہے)۔ورنہ عالمی نمبر 2 والی بات قطعاً ہضم نہیں ہورہی ہے۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
پاکستان سمیت دیگر ممالک کے نمبرز جاننے کے خواہش مند گوگل ٹرینڈ  لنک پر بھی جائیں ۔ اور  مجھے اجازت دیں ۔۔۔
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Friday, October 25, 2013

دوست دوست نہ رہا !!!۔

 منجانب فکرستان : سُنا ہے چہرے کو دل کی کتاب کہتے ہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آپ یہ تصویر دیکھ رہے ہیں، یقیناً دیکھ رہے ہیں ۔۔۔اب آپ میرے کہنے کے مطابق دیکھیں ۔۔آپ موبائل کو نہ دیکھیں۔۔
 نظریں جمع کر صرف چہرے کو غور سے دیکھیں ۔۔
 چہرے پر آپکو میرکل کے غمناک دل کی لکھی یہ تحریر ضرور نظر آجائیگی:
دشمن نہ کر ے دُوست نے وہ کام کیا ہے 
دُوستی کے نام کو بدنام کیا ہے
 میں مزاق نہیں کررہا ہوں ،میرے کہنے کے مطابق تصویر دیکھیں آپکو چہرے پر غمناک دل کی لکھی تحریر  ضرور ملے گی۔۔    
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

" ایوارڈ" حقیقت کی کہانی " منا ڈے کی زبانی "

 منجانب فکرستان { 30 لاکھ: مدن موہن }
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بالآخر سریلی آواز والے مناڈے دُنیا چھوڑ گئے۔۔۔۔ کل ہمیں بھی یہ دنیا چھوڑ جانا ہے۔۔ غرض جو آیا ہے اُسنے جانا ہے۔  
 ایک طرف جب مناڈے زندگی و موت کے کشمکش میں مبتلا تھے۔۔ اُنہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا ۔۔ وہ دُنیا چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے،
 تو دوسری طرف، رشتے داروں میں یہ جھگڑا چل رہا تھا کہ مکان کی تزئین و آرائش کے نام پر اُنکے اکاؤنٹ سے 30 لاکھ کس نے نکا لے؟ 
   کّچھ عرصہ پہلےمناڈے نے ایک انٹرویو دیا تھا۔جس میں خود کو ملنے والے ایوارڈ پر خود ہی تنقید کر رہے تھے کہ  مجھے جس گانے پر ایوارڈ مِلا ہے وہ یوں ہی سا گانا ہے"اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو آگے بھی نہیں پیچھے بھی اُوپر ہی نہیں نیچے بھی"۔
میں نےاتنے اچّھےاچھّے گانے گائے جو مقبول بھی کافی ہوئے لیکن مجھے ایوارڈ نہیں ملا ۔اُنکے کہنے مطلب یہ تھا  کہ ایوارڈ کا  کوئی معیار نہیں ہے۔۔اِس بے معیار گانے پر ایوارڈ ملنے پر اُنہیں خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی کہ ایسا گانا ایوارڈ کا حقدار بن گیا جبکہ اچھّے اور معیاری گانے بیچارے منہ دیکھتے رہ گئے ۔ 
 صدر بشارالاسد نے دلیل دی ہے کہ  نوبل امن انعام  انہیں ملنا چاہئیے تھا۔۔ اس لئیے کہ نوبل امن ایوارڈ کے وہی صحیح حقدار تھے۔۔کمیٹی نے اُنہیں ایوارڈ نہ دیکر اُنکی حق تلفی کی ہے۔۔۔۔۔ اوباما کا  نوبل انعام ہو یا کہ 2013 کی مس یونیورس کا ایوارڈ۔۔۔۔ایوارڈ ہمیشہ ہی متنازعہ ہی رہتے ہیں۔۔
 درج ذیل لنک گانا۔۔ میں اکثر سُنتا رہتا ہوں۔۔ مناڈے کی سریلی آواز کومیٹھی سُریلی دُھن میں ڈھالا ہے میرے پسندیدہ موسیقار مدن موہن  نے۔۔ 
گانے کے بول ہیں "وہ چاند مُسکایا، ستارے شرمائے"
► 3:20► 3:20
www.youtube.com/watch?v=QMJgS9Ha1G4 
شوق ہے تو ضرور سُنئیے اور مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ
 30لاکھ کی خبر کا لنک http://beta.jang.com.pk/PrintAkb.aspx?ID=111897    
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Thursday, October 17, 2013

۔{۔"خُدا " کی دُنیا}{دلائل سے بھر گئی ہے }۔

 منجانب  فکرستان 
{دلائل پر ہُوا مکالمہ}
ایم ڈی: یونانی دورِ دلائل میں ایسے سوفسطائی گروہ بھی نمودار ہوگئے تھے جنہوں نے دلائل کو ایک پیشہ ورانہ فن بنادیا تھا۔
یہ آج جس چیز کو دلائل کے زریعے سفید ثابت کرتے تھے کل اُسی چیز کو دلائل ہی کے زریعے کالی ثابت کرادیتے تھے۔
سوشل میڈیا ہو کہ ٹی وی ٹاک شوز اِسی سوفسطائی "دلائلی فن" کا بول بالا ہے۔۔سیاسی لیڈر ہو کہ مذہبی رہنما یا پھر عام سا 
 آدمی سب ہی اس فن کے ماہر ہیں اور دلائل دیتے نظر آتے ہیں مثلاً ملالہ کو گولی نہیں لگی دلائل موجود ہیں۔۔ملالہ کو 
 گولی لگی دلائل موجود ہیں۔۔  خود کش حملے جائز کے فتوے موجود ہیں۔۔ ناجائز کے بھی فتوے موجود ہیں ،ڈرون حملے جائز،
 ناجائز کے اپنے اپنے دلائل ہیں  رشوت لینے والے رشوت لینا جائز کے دلائل رکھتے ہیں، چیزوں میں ملاٹ کرنے والوں کے پاس بھی ملاوٹ جائز کے معقول دلائل ہیں۔۔اور تو اور محسوسات کی ہر حس سے محسوس خُدا کے روشن جلوے  کائنات میں ہر سو ہر جا،موجود ہیں،  لیکن پھربھی خُدا کو نہ ماننے والوں کے پاس۔خُدا کو نہ ماننے کے سوفسطائی دلائل موجود ہیں ۔۔۔
غرض میں نہ مانوں والے کے آگے دلائل کی لاکھ  بیِنیں  بجائیں سب  بیکار ثابت ہونگی۔۔ اس لیے دوستوں سے گُذارش ہے کہ ہر قسم کی تعصبی بحث سے بچیں کہ اسِکا حاصل  زیرو پلس زیرو ہے،البتہ یہ تعصبی بحیثیں دُنیا میں تعصبی نفرت میں اضافہ کا باعث ثابت ہوتی ہیں ۔۔۔
نور: اگر زندگی  میں سے بحث کو خارج کردیں گے تو پھر زندگی میں جینے کا مزہ کیا رہ جائے گا، پھر ہم وہ لذت کیسے حاصل کر سکیں گے کہ ہم اعلیٰ ہیں، دلائل اور بحث کے زریعے ہی تو ہم بتاتے ہیں کہ ہم خُدا کی منتخب قوم ہیں، ہمارا مذہب ، ہمارا فرقہ، ہماری قوم، ہماری نسل، ہماری زبان، ہمارا علاقہ، دوسروں سے اعلیٰ ہیں ۔۔    
ایم ڈی: میں نے تو آپ سے صرف گذارش کی تھی عمل کرنا نہ کرنا آپکی مرضی پر منحصر ہے یہ مشورہ میں اپنے اُس تجربے کی روشنی میں دے رہا تھا  کہ میں نے یہی دیکھا ہے کہ ہر مذہب والے اپنے کو خُدا کی منتخب قوم، اپنے فرقے، اپنے علاقے، اپنی قوم اور اپنی زبان کے اعلیٰ ہونے کے دلائل دیتے ہیں،چلو یہاں تک بھی ٹھیک،لیکن اپنے آپکو کو اعلیٰ دکھانے  کیلئے دوسرے کو کمتر سمجھنا  پڑتا  ہے، اور دوسروں کو کمتر دِکھانے کیلئے۔ اوچھے، تعصبی اور نفرت بھرے ہتھکنڈے استعمال کرنا پڑتا ہے، اسی سبب دُنیا میں نفرت کا گراف اُنچے سے اونچا ہوتا جا رہا ہے ،آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسی سبب دُنیا  بھر میں نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں ، نتیجتاً  دُنیا آج  تباہی کا منظر پیش کررہی ہے۔۔
نور: مگر ایم ڈی صاحب آپ کون ہوتے ہو ہمیں مشورہ دینے والے ؟کیا ہمارے پاس عقل نہیں ہے ، صرف آپ ہی کے پاس عقل ہے۔۔۔
ایم ڈی: بھائی صاحب اچّھا کیا جو آپ نے مجھے اسطرح ٹوک دیا،  میں اپنا نصیحتی مشورہ واپس لیتا ہوں ، واقعی آپ صحیح کہہ رہے ہیں، آپ کے پاس بھی تو عقل ہے، پھر میں کیوں اپنے آپکو آپ سے برتر عقل والا  ثابت کرانے کیلئے آپکو نصیحتی مشورہ دے رہا ہوں ؟ شاید یہ میری اُسی" انا " کی کارستانی ہے جو  مجھے برتر عقل کے مغالطے میں مبتلا کرانے کیلئے اکثر ایسی حرکتیں کرتی ہے۔۔ 
درج بالا خیالات سے اختلاف/اتفاق کرنا ہر پڑھنے والے کا حق ہے 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Thursday, October 10, 2013

" آپکو بھی غصّہ آجائے گا "

 منجانب فکرستان :ـ بیشک  خُدا  کے  سامنے ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے/ یہ بھی صحیح کے پہلا پتھر وہ مارے۔۔ تو  عرض ہے کہ مجھے صراط مستقیم پر چلنے کا کوئی بڑا دعویٰ نہیں، ہاں اپنی سی کوشش کرتا ہوں۔۔۔لیکن جناب میں روزانہ رات کو بجلی چوری کرکے رات بھر اپنے گُناہ میں مسلسل اضافہ نہیں کرتا رہتا ہوں، اور نہ ہی میرا کوئی کار خانہ ہے جو بجلی کی چوری سے چلتا ہے ۔۔  
یہ جواب اُس اعتراضی ای میل کے جواب میں لکھ رہا ہوں ہے  جو مجھے " ٹھائیں ٹھائیں پُھس" پر ملی،۔۔
 پوسٹ ُٹھائیں ٹھائیں پُھسُ لکھنے کی نوبت یوں آئی تھی کہ  جب میں محلے کے نمازی پرہیز گار شُرفا کو رات میں کُنڈے ڈال کر بجلی چوری کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے اِن بجلی چوروں اور حکومت پر یوں غصّہ آتا ہے کہ حکومت ان چوروں کو پکڑنے کے بجائے ان چوروں کا بل ہمارے بل میں اضافہ کرکے  ہم سے وصول کرتی ہے۔۔
 اگر میری جگہ آپ ہوتےآپ بجلی چوروں کے بِل اور اپنے بِل کے فرق کا موازنہ کرتے تو  آپکو بھی میری طرح غُصہ آجاتا اور میری طرح  آپ بھی بِلبلا اُٹھتے کہ: بجلی چوری نہ کرنے کی، یہ کیسی سزا ہے ؟؟؟
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Wednesday, October 9, 2013

" ٹھائیں ٹھائیں پُھس "

 منجانب فکرستان: بجلی چوری کاذرا تناسبی اندازہ تو لگائیں صرف لیسکو 0.17 فیصد چیکنگ پر 31 کروڑ ریکوری ہوئی۔پاکستان میں 95.98 فیصد مسلمان ہیں، چوری کرنے والوں میں نمازی بھی ہونگے۔جو مسجد میں  بیٹھ کر نماز میں  صراطِ مستقیم پر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ کیا یہی صراطِ مستقیم ہے؟ خُدا مجھے بھی دیکھ رہا اگر میں خود بجلی چوری کرکے دوسروں پر حیرت زدہ ہورہا ہوں تو۔۔۔

Saturday, October 5, 2013

" ۔5 اکتوبر 2013 "

منجانب فکرستان چنیدہ چنیدہ 
٭٭٭٭٭
میڈونا آجکل قرآن پاک کا مطالعہ کررہی ہیں، جیلوں میں اسلام پھیل رہا ہے۔۔۔پیوریسرچ کےمطابق امریکی مسلمانوں میں سے ایک چوتھائی نو مسلم ہیں،سالانہ 5200برطانوی حلقہٴ اسلام میں داخل ہورہےہیں۔ غرض کہجن ممالک میں جتنا زیادہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اُن ممالک میں اسلام اُتنا ہی زیادہ مقبول ہورہا ہے،
کیا یہ معجزہ خُدا کی طرف سے ہے۔۔ یا جو لوگ مسلمان ہورہے ہیں انکا سابقہ مذہبی نظریہ  اب اُن  کیلئے اطمینان بخش نہیں رہا ۔۔یا   مسلمانوں  کی دینی طرز زندگی نے اُنہیں متاثر کیا ۔۔یا ۔۔۔؟۔۔۔یا۔۔۔؟اب آپ بھی تو کّچھ سوچیں!۔
٭٭٭٭٭
  وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اسمبلی تقریر میں یقین دلایا تھا کہ  آئی ا یم ایف سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لیں گے ‘ ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی جائے گی’آئی ایم ایف سے ہم اپنی شرائط پر قرضہ لیں گے ۔۔۔

تبصرہ: بھائی میرے نیچر کا قانون تو ایک بچّہ بھی جانتا ہے ،آپ چاہے کچّھ بھی کہتے رہیں۔ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے َََ۔۔۔۔
 اور نیچے والا ہاتھ کس کا ہے، لوگوں کو اب صاف نظر آرہا ہے ۔۔
٭٭٭٭٭
 کورٹ نے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرشاد یادو کو بد عنوانی کے جرم میں  پانچ سال کی سزا کے ساتھ 25 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سُنادی ہے۔۔ 

خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج پرواس کمار سنگھ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ،

 ‘ ہم سب سنتے تھے کہ خدا تعالٰی،  ہر جگہ ہے ، لیکن اب 

دیکھ رہے ہیں کہ خدا لفظ کی جگہ بدعنوانی لفظ کو دلانے 

کی کوشش ہو رہی ہے .
 یہ تب ہے جب روزانہ بدعنوانی روپی شیطان کو لے کر خطبہ ہوتے ہیں.
 یہ معاملہ اس کی مثال ہے کہ کس طرح بڑے سیاستدان ، نوکرشاہی اور بزنس مین نے سازش کے تحت سرکاری خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔

تبصرہ : ہمارے یہاں بھی ایسی ہی لوٹ مار ہے لیکن ہمارے یہاں تو سینہ ٹھوک کر کہا جاتا ہے کہ ہمیں استثنیٰ حاصل ہے ،کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کرکے دِکھائے !!! 

 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Sunday, September 22, 2013

" سوشل میڈیا "

منجانب فکرستان: جہادالنکاح؛دلائل کا انبار؛حضورﷺ کی سُنت؛کونسا فرقہ صحیح ہے ؟ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹوئٹر یا گوگل پلس پر ابھی تک میرا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔۔ آج پہلی بار بی بی سی کے فیس بک صفحہ پرگیا، جہادالنکاح پر لوگوں کے تبصرے پڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ۔۔ تبصروں کا مزاج بدلنے لگا پہلے متعہ اور پھر باقاعدہ شعیہ سُنی معرکہ شروع ہوگیا اور جہادالنکاح پسِ پشت چلا گیا۔ جس سے مجھے وہ دور یاد آگیا کہ جب بلاگروں کے بلاگ پر اصل موضوع سے ہٹ کر اسی طرح کے تبصرے آتے تھے جسکی وجہ سے ہی مجھے تبصروں کا آپشن ختم کرنا پڑا حالانکہ کُچھ دوستوں نے مجھ سے کہا کہ تبصرہ کا آپشن ختم کرنے سے بلاگ کی ریٹنگ کم ہوجائے گی۔۔۔
بی بی سی پر فیس بک کے تبصرے پڑھ کر دو باتوں کا اندازہ ہُوا: پہلی بات یہ کہ قوم کا مزاج کس جانب بڑھ رہا ہے اور دوسری بات یہ  کہ سوشل میڈیا کے زریعے سے فرقہ واریت،انتہا پسندی کی نفرت بھری آگ کو خوب ہَوا مل رہی ہے ۔۔۔ 
جہاں تک فرقہ پرستانہ دلائل کی بات ہے تو عرض ہے کہ: ہر فرقے والے کے پاس فرقہ پر ستانہ دلائل موجود ہوتے ہیں، جن پر اُنہیں کامل یقین ہوتا ہے۔۔چونکہ یہ فرقے بنتے ہی دلیلوں کی بنیاد پر ہیں، بغیر دلیل کوئی فرقہ بن ہی نہیں سکتا ہے ۔اس لیے کسی جانب سے بھی دلائل کا انبار لگانا بیکار ہے ۔۔۔رہا یہ سوال کہ  کون سا فرقہ صحیح ہے؟؟ اسکا فیصلہ خُدا پر چھوڑ کر فرقوں کوآپس میں اتحاد  اور بھائی چارہ قائم کرلینا چاہئیے کہ یہ حضورﷺ کی سُنت بھی ہے، تاکہ مسلمان آپس میں لڑنے  کے بجائے خوب ترقی کریں۔۔۔
 مسلمانوں کی بھلائی کیلئے، یہ بات عُلماء حضرات کو سوچنا چاہئیے۔۔۔مگرمگر مگر ۔۔۔ یہ کیسی آوازیں ہیں۔۔۔انا انا انا ؟؟؟
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(جہادالنکاح کی تفصیل کیلئے لنک پر جائیں)۔۔
 نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ 
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Friday, September 20, 2013

" افراط و تفریط "

 منجانب فکرستان: بچوں کی پرورش؛ جدید تحقیق ؛ الزائمر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
21 ستمبر عالمی دن الزائمر
 پُوری  کائنات میں توازن کا قانون رائج ہے۔۔اِسی کو دیکھتے ہوئے ارسطو روز مرہ زندگی میں بھی اسی قانون کو رواج دینے کو کہتا ہے، وہ اپنی بات واضع کرنے کیلئے مثالوں  کا سہارا لیتا ہے، مثلاً غرور اور عجز کے درمیان خودداری اپناؤ، شرمیلا پن اور بے شرمی کےدرمیان حیا اپناؤ، اسراف اور بخل کے درمیان سخاوت اپناؤ،شہوت پرستی اور بے حسی کے درمیان عفت اپناؤ ، تہور اور بزدلی کے درمیان شجاعت اپناؤ۔۔۔
اگر آپنے پڑھا نہیں ہے تو پھر آپکو  یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ جن ملکوں میں صفائی ستھرائی کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔۔اُن ملکوں کے شہری زیادہ تعداد میں الزائمر کی بیماری میں  مبتلا ہوتے ہیں ۔۔یہ نتیجہ ہے کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کی نئی تحقیق کا ہے، اس تحقیق میں 192 قوموں کی صحت کے کوائف پر مبنی اعدادوشمار کے تجزیہ کو شامل کیا گیا ہے۔۔۔
بچوں کی پرورش میں ضرورت سے زیادہ صاف ستھرا ماحول اور دھول مٹی سے احتراز ان کے قدرتی مدافعتی نظام کوغیرمتوازن بنانے کا سبب بنتا ہے جس  سے بچوں کی قوت مدافعت کمزور رہتی ہے اور جسم بہت سے جراثیم کے خلاف لڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

محقیقین اسی نظریہ کو دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ جراثیم سے کم سامنا ہونے کی وجہ سے جسم میں خون کے سفید خلیوں کے بننے کا عمل سست پڑجاتا ہے۔ خاص طور پرریگولیٹری T سفید خلیہ جو مدافعتی نظام کا انتہائی اہم ترین جزو ہےسب سے زیادہ متاثر ہوتا ہےجن کا کام جسم پرحملہ آور بیکٹریا سے لڑنا اور انھیں ختم کرنا ہوتا ہےٹی خلیوں کی کمی سےدماغ میں سوزش پیدا ہوتی ہےجو دماغی امراض کا باعث بنتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ مالی فاکس کہتی ہیں کہ ہمارے مدافعتی نظام کو قاعدہ سے چلانے کے لیے فرینڈلی بیکٹریا سے دوستی کرنا انتہائی ضروری ہے ضرورت اس بات کیا ہے کہ ، ہم متوازن حد تک اپنی صفائی کا خیال رکھیں ۔۔یعنی افراط و تفریط سے بچیں، اور نیچر کے رائج قانونِ اعتدال کو اپنائیں ۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 جسطرح آج کی پوسٹ کیلئے  جدید تحقیق اور نیچر کو حوالہ بنایا ہے۔۔ اسی طرح 21 ستمبر 2012 کو الزائمر کے بارے میں جو پوسٹ لکھی تھی  اُس میں مشہور مصنف ہمینگوئے کی خودکشی اور اسکے مشہور ناول بوڑھا اور سمندر کو حوالہ بناکر لکھا تھا ،اسکے علاوہ الزائمر کے علاج اور معلومات کیلئے پاکستانی سائٹس کی لنکس بھی فراہم کیں تھیں ۔۔۔اگر پڑھنا چاہیں تو لنک پر جائیں ۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }
  

"خوا ہش "

 منجانب فکرستان :جمائما؛ رسل برانڈ؛ عمران خان؛ ممکن ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمران خان سے کبھی  ملاقات نہیں ہوئی، نہ ہی پارٹی ممبر ہوں، پھر بھی،  پاکستان میں  عوامی تبدیلی لانے کے حوالے سے اُسکی تڑپ، جدوجہد اور اُسکےخلوص کو دیکھتے ہوئے، مجھ سمیت کئی لوگوں کا عمران سے جذباتی تعلق بنا۔۔
خبر پڑھی، تصاویر دیکھیں جمائما رسل برانڈ سے تعلقات بڑھا رہی ہیں۔۔ یہ سب دیکھ کر مجھے جذباتی شاک سا لگا !۔۔  کس لیے لگا ؟؟؟
 اس لیے لگا کہ میری جذباتی خواہش اور ذہنی کلکولیشن دونوں ہی  غلط ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔۔اخبارات میں پڑھتا تھا کہ جمائما اور عمران خان کے درمیان ابھی بھی اچھّے تعلقات قائم ہیں ، جس نے میرے ذہن میں اِس خواہش کو جنم دیا کہ برطانیہ میں قائم کئی حلالہ سینٹر میں سے ایک سینٹر جمائما اور عمران خان کو دوبارہ ملانے کی راہ دیکھ رہا ہے۔۔لیکن: اے بسائے آرزو کہ خاک شُد: 
 میری اِس جذباتی خواہش نے ابھی دم نہیں توڑا ہے، وہ ابھی بھی آس لگائے بیٹھی ہے کہ ممکن ہے کہ رسل برانڈ ہی حلالہ کا زریعہ ثابت ہو !!!۔۔"خوش فہمی زندہ باد"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میرے دل میں جمائما اور عمران خان دوبارہ ازدواجی زندگی گُذاریں کی خواہش کنِ وجوہات کی بنا پر قائم ہوئی اسکی مکمل  تفصیل اپنی سابقہ پوسٹ بعنوان "عمران خان، جمائما خان"  میں لکھی ہے ۔۔۔ پڑھنا  چاہیں تو لنک پر جائیں ۔ مجھے کچّھ یقین سا ہے کہ پوسٹ آپکو ضرور پسند آئے گی ۔۔چونکہ اِس پوسٹ میں آپکو وقت کا فلسفہ ملے   گا اسکے علاوہ  فلم اسٹار الزبیتھ ٹیلر اور ریچرڈ برٹن ۔ سے ملاقات بھی ہوگی۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔   
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...