Saturday, October 15, 2016

شادی اور انجام ۔۔۔۔

منجانب  فکرستان: غوروفکر  کیلئے
اکثر شادی شدہ خواتین و حضرات اپنے تجربات کی بنیاد پر شادی سے مطلق اپنے نظریے قائم کرتے ہیں، خاص طور پر وہ خواتین حضرات کہ جنکی شادی کسی تلخ تجربے سے گزری ہو ۔۔۔ایسی ہی ایک شادی کے بارے میں تفصیلات کئی برطانوی اخبارات میں شائع ہوئیں۔٭(تمام لنکس) ظاہر کہ انِ برطانوی اخبارات میں جس فکر نمائندگی ملے گی وہ مشرقی کلچرلی سوچ سے مختلف ہوگی،اُن کے نزدیک تو ارینجڈ شادی بھی ایک لحاظ سے عجیب بات ہوگی۔۔
نسرین کی شادی ہم عمر لڑکے عمران خان سے ہوئی یہ شادی ایسی شادی تھی کہ جسے مکمل ارینجڈ شادی کہتے ہیں،تاہم اِس ارینجڈ شادی نے دونوں کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ۔۔ جس کا نتیجہ بھیانک قتل کی صورت میں نِکلا۔
 نسرین کا کہنا کہ عمران گھر کا خرچہ نہیں اُٹھا تا ہے ایسے  میں نوکری کیسے چھوڑ دوں؟جبکہ عمران کا شکوہ تھا کہ نسرین نوکری چھوڑ دے۔۔۔
 قتل والے دن عمران نے نسرین کو جو میسیج بھیجا تھا اُس میں نسرین کو باور کرایا گیا تھا کہ میں تمہیں 10بار بتا چکا ہوں کہ" تین آدمیوں کی نماز کبھی قبول نہیں ہوتی۔ایک  مفرور غلام کی، دوسرے اس بیوی کی کہ جس کا شوہر اس سے ناراض ہو، اور تیسرے شراب پینے والے کی ۔ اگر تم میری بات نہیں مانو گی تو میں تم سے ناراض ہوں گا،اور اگر تم مجھ سے جھوٹ بولوگی تو بھی میں سے ناراض ہوں گا۔۔۔۔
قتل کے بعد عمران نے ارینجڈ میرج کے بارے میں جو نظریہ قائم کیا اُسکا اظہار پولیس کے سامان برملا یوں کیا کہ  دیکھو بھائی کبھی بھی گھروالوں کی مرضی سے شادی نہ کرنا، ورنہ یہی انجام ہو گا۔
 شادی اور انجام کی جملہ تفصیلات کیلئے درج ذیل لنک پر جائیں
  
   پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ،  رب  کی  مہربانیاں  رہیں}

Monday, October 3, 2016

ہم نے آج اپنا قائد کھودیا ۔۔

منجانب  فکرستان: 
 سچ کہ انسان جذبات  میں بُہت  کُچھ کہہ جا تا ہے  جیسے اداکار   مارک انور  نے کہا :تاہم  وہ  ابمعافی کے طلب گار ہیں ۔۔
اسی لئے کہتے ہیں   پہلے سوچو پھربولو   کہ  انِ کہی  باتوں میں ، نت نئے  پہلودار  معنے  پوشیدہ ہوتے ہیں جوکہ کہنے  والے کےسان گمان بھی  نہیں ہوتے، وہ شو شل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔
   ٹیڈ کروز  بھی آنے  والی  کل کو  بھول کر  اپنے پُرجوش  خطابات میں ٹرمپ کو جُھوٹا، شیخی باز، مغرور، بیوقوف  شخص قرار دیا۔۔
  ایسے میں آج گُذر گیا اور کل آن پہنچی   اور کروز  صاحب  صدارتی  دوڑ  سے  باہر  ہوگئے۔ اور پھر   وہ لمحہ بھی  آ  گیا  کہ جب  رپبلکن پارٹی  نے ٹرمپ کو اپنا صدارتی منتخب کرلیا تو  دیگرممبران  کی طرح کروز صاحب کوبھی ٹرمپ کی حمایت کر نا تھا ، لیکن  جذبات میں  کہے ہوئے الفاظ ( جُھوٹا، شیخی باز، مغرور، بیوقوف اور جنسی طور پر بے راہ رو)  حلق  میں کانٹے بن کر چبُھ نے لگے ہوں گے، یوں  ٹرمپ کی حمایت نہ کرنے  پر پارٹی ممبران کی تضحیک کا نِشانہ بنے۔
 اور  غالباً  شاید اِسی تضحیک نے اُنہیں نظرثانی سوچ   پر مجبور کیا ہوگا کہ  فیس بک پر ان کا کہنا تھا کہ " مہینوں تک بہت غور فکر، دُعائوں اور اپنے ضمیر کی آواز ٹٹولنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخاب کے روز رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دوں گا۔ "۔۔
تا ہم  بر  وقت  فیصلہ  نہ  کرنا  بھی نتِ نئی  قِسم کی  باتوں  کی پیدائش کا باعث ہوتے ہیں۔ ۔۔ٹیڈ کروز کے  اِس فیصلے پر خود ٹیڈ کروز کے بعض حامیوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
 ان کی انتخابی مہم کے ایک سابق ترجمان رک ٹیلر نے اپنے رد عمل میں بی بی سی کو بتایا " امریکہ میں قدامت پرست لوگوں کے لیے یہ سوگ کی بات ہے  ہم نے آج اپنا قائد کھو دیا ہے"۔۔
 پوسٹ کی تیاری میں بی بی سی کی درج ذیل سائیٹ سے مدد لی ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/world/2016/09/160924_us_election_ted_cruz_support_trump_sz
 پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ،  رب  کی  مہربانیاں  رہیں} 

Tuesday, August 30, 2016

پہچان ۔۔۔

منجانب  فکرستان:
" فِضا " میں پہچان !!!
 عقل کہتی ہے ناممکن!!!  
  تحقیق کہتی ہے، اگر شک ہے تو  خود مشاہدہ کرلو 
 حدیثِ قدسی  " میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا "۔۔۔
 پہچان کیلئے،خالق نے نوعِ  انسانی میں ایسی کھوجی  فطرت ودیعت کی،جو کائنات کی  ہر  شے کے بارے میں سوال اُٹھاتی ہے،ابرکیا چیز  ہے، ہوا کیا  ہے؟
یہ سیمابی  فطرت انسان  کوکبھی تو  ذرے کا دل چیرنے پر اکُساتی  ہے ،تو کبھی خلُیے کے اندرجھانکنے کی ترغیب دیتی  ہے،،، انسان  جب اپنی  کھوجی فطرت کے تحت ذرے کا دل چیرتا  ہے یا  خلُیے کے نظام میں جھانکتا  ہے  تو اندر سے۔۔۔خُدا کی پہچان کی  صدا  صاف  سُنائی دینے لگتی ہے۔۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 دوستو،اب ذرا درج  ذیل بائیوجیکل پہچان  رنگ  پرغور  کریں ، جس نے مُجھے  یہ پوسٹ لکھنے کے ترغیب دی، ممکن  ہے آپ بھی کہہ اُٹھیں !
تیرے  رنگ رنگ تیرے رنگ رنگ
 ہر سو ہر جاہ  تیرے رنگ رنگ
  مُجھے اجازت دیں ۔پڑھنے  کا  شُکریہ  ۔۔۔۔
نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق یا اختلاف   کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
A study published in 2013 showed Alpine swifts can spend over six months flying without having to land.[7] All vital physiological processes, including sleep, can be performed while on air.
https://en.wikipedia.org/wiki/Alpine_swift

Wednesday, July 6, 2016

َِِِ" عیِد مُبارک "

 "۔۔۔۔اگرچہ یہ  سچ ہےکہ  عالمی واقعات نے اِنسان کے دل  کو  کرِچی کرِچی کر دِیا ہے،،،پھربھی "
عزیز  قارئین،بلاگرساتھی،سیارہانتظامیہ،اور مسلم اُمہ کو
  منِجانب  فکرستان

Paper Flower Bouquet
   ( ایم  ڈی۔نور )

Tuesday, June 7, 2016

۔92 سال جینے کیلئے !!۔

منجانب  فکرستان
 مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے، یہ دنیا ہویا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے۔
 لیکن جبلی تقاضا تو یہ ہےکہ جان کو کئی طرح کے روگ کیوں نہ لگے ہوں،پھر بھی خواہشِ دنیا کم نہیں ہوتی، ہر مرنے والا مزید  زندگی چاہتا  ہے۔۔تاہم مزید زندگی چاہنے  کے بھی کچھ دُکھ ہوتے ہیں،مثلاً  گلوکاری میں تقدس جیسا مقام حاصل کرنے والی لتا منگیشکر کو" نام نہاد گلوکارہ" کہے جانے کا دُکھ سِہنا  پڑا۔۔اِس ڈھلتی  عُمر میں، تمنے بھٹ جیسے لوگوں  کے  ریمارک تو  روح کوبھی دُکھی کر ڈالتے ہیں۔۔
 امریکی مصنف  Dan Buettner  کا دُکھ  یہ کہ سُپرقوم ہو  نے کے باوجود  اوسطاً سے 13سال پہلےمر جاتے ہیں۔  امریکا میں اوسط عمر 79 سال ہے،اُن کے حساب سے امریکیوں کواوسطاً 92 سال تک زندہ رہنا چاہیے، امریکیوں کی اوسط کو 92 سالہ بنانے  کیلئے  اُنہوں نے تحقیق بھی کی اور کتاب بھی لکھی ۔۔۔جسکی تفصیل کیلئے درج ذیل لنک ایڈریس پر  ۔۔۔۔
http://www.odditycentral.com/travel/ikaria-the-greek-island-of-longevity.html
نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ  رب  کی  مہربانیاں  رہیں}

Sunday, May 22, 2016

مرتے سمے ۔۔

غوروفکر  کیلئے !! منجانب فکرستان  
آپ کتنے فیصد؟ اِنسانی صفات کے حامل  ہیں۔۔   
یہ فیصلہ تواُس محتسب  کے ہاتھ میں ہے، جسے اِنسانی ضمیر کہتے  ہیں،اور جو لوگ  اعلیٰ  ضمیر  ہوتے ہیں وہ  اپنی تو کیا، اپنے کسی ساتھی یا دوست کی  جانب  سے  کسی  کمیونٹی کے خلاف  نا مناسب تبصرہ ہونے پر  خود اپنے  ضمیر پر بوجھ محسوس کرتے ہیں اور  اُنہیں  مرتے سمے بھی ضمیر کی خلش  محسوس ہوتی ہے،جب تک  معافی نہ  مانگ لیں سکون سے مر بھی نہیں سکتے ۔۔اِسکی تازہ  مثال امریکی سینیٹر باب بینئٹ ( Senator Bob Bennett)  کی  ہے۔۔
بسترِ مرگ پر پڑے ریپبلکن سینیٹر باب بینئٹ نے اپنی موت سے چند گھنٹے پیشتر اپنے عزیزوں سے کہا کہ اس ہسپتال میں اگر کوئی مسلمان ہے تو اُس سے  میری  بات کرائو، جس پر  ہسپتال میں موجود ایک مسلمان خاتون اُنکی مُلاقات کرائی گئی تو اُنہوں نے  خاتون  سے اپنی پارٹی کےریپبلکن  صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف دیئے گئے بیانات پر معافی  چاہی۔۔۔
 اور  دُنیا سے کُوچ   کر گئے ۔۔۔ذرہ  ہو کہ آفتاب،سب کا  مُقدر کوُچ کرنا ہے۔۔
مکمل آگاہی  کیلئے لنک پر جائیں۔۔۔۔ میری  رائے ہے کہ لنک پر ضرور جائیں۔۔  
http://www.nbcnews.com/politics/2016-election/gop-senator-bob-bennett-apologized-muslims-trump-while-deathbed-n576566
نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ  رب  کی  مہربانیاں  رہیں

Wednesday, May 11, 2016

کُچھ " تصورِخُدا " کے بارے میں۔

منجانب  فکرستان
 مقتول  بنگلہ دیشی  پروفیسر  رضاالکریم صدیق   کی بیٹی نے  بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد خدا انکاری نہ تھے، وہ خُدا پر یقین رکھتے تھے ۔
یقیناً رکھتے ہوں گے اسلئے کہ انسانی ذہن  کیلئے  یہ بات مشکل ہے  کہ وہ  خُدا  اِنکاری ہو ۔۔۔تاہم گوتم بدھ نے بغیر خُدا  فلسفہ/مذہب  متعارف کرایا،  لیکن  گوتم کے مرنے  پر  پیروکارں نے اُسے ہی  دیوتا بنادیا۔۔۔کیوں کہ  یہ انسانی ذہن کی مجبوری  ہے۔
بعض  اشخاص  اپنے حاصل مطالعے کی بنیاد پر اپنا  تصورخُدا تشکیل  دے لیتے ہیں اور اپنے  تئیں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے ایک اعلیٰ فہم تصورخُدا  تشکیل دے لیا ہے، لیکن  ذرا سا غور کرنے پر اسِ  تصور خُدا  میں  سےبھی وہی مذہبی خُدا والی  صفات  صاف نظر آنے  لگتیں  ہیں۔۔۔
 اِس لئے کہ  کائنات میں  بغیر  صفت کسی  چیز کا تصورممکن نہیں تو تصورخُدا بغیر صفت خُدا کیسے ممکن ہوسکتا ہے 
سائنسدان  بھی خُدا انکاری نہیں ہوتے البتہ  اپنے  سائینسی ماحول اور سائینسی  فکر کے زِیراثر  کائنات میں  موجود مادہ/تونائی  کے  قوانینِ  ربط  کی  بنیاد  پر اپنے  تصور خُدا   میں کوئی  گریٹ  ڈزائنر تک پہنچا ، تو کوئی  کائناتی ذِہن تک پہنچ سکا  ۔۔۔۔
   صوفی کا  تصورِ خُدا  وحدۃالوجود   ہو یا کہ وحدۃالشہود ، اس تصورِ  خُدا میں خُدا کی  تمام  صفات  ضم ہوجاتیں ہیں،اب جو  کچھ  بھی ہے  اللہ  ہی اللہ ہے   یا  جو بھی  نظر  آرہا ہے  سب  اللہ   ہی  ہے  اِس کے  سوا  کُچھ بھی  نہیں ۔۔۔۔مادہ  ہو کہ  توانائی  سب  اللہ  ہی  اللہ ہے  ذرے  میں  دیکھو یا کہ  لہر  میں  اللہ ہی کو دیکھو گے۔۔۔   
   نوٹ: پوسٹ میں   کہی  گئی باتوں سے اتفاق /اختلاف  کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔۔
اب  مُجھے  اجازت  دیں۔
{ہمیشہ  رب  کی  مہربانیاں  رہیں

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...