Monday, August 18, 2014

" سیاسی باتیں"

منجانب فکرستان ٹیگز : محور: اُصولی عمل:قُربانی 
پاکستان میں قومی لیڈر شپ کا خلاء ہے،ممکن ہےکوئی  کہے ن  لیگ عوامی ووٹوں سے منتخب ہے، جبکہ میری 
مراد یہ ہے کہ منتخب ہونے والے ممبران، کس  کلاس کی نمائندگی کرتے ہیں، عوام  کی یا خواص کی ؟
بھارت میں بھی یہی حال ہے عاپ البتہ عوامی نمائندہ تھی لیکن دلی کامیابی نے  کیجری وال میں ایسی  ہَوا 
بھری کہ وہ اپنے آپکو ہاتھی سمجھنے لگےاور دو بڑی طاقتوں یعنی سرمایا داروں اورمیڈیا سے پنگا لے بیٹھے۔۔۔ 
عوامی لوک پال بل منظور نہ  ہونے پر دلی حکومت سے یہ کہہ کرمستعفی ہوئے تھےکہ عوامی لوک پال بل
پاس کرانا ہی میری جماعت کی تمام جدوجہد کا محور ہے۔۔۔
پھر جب سرمایادار،میڈیا متحد ہوکر کیجری وال سے ایسے ایسے بےمحل، بے جوڑ، اور بے تکُے سوال پوچھے
 کہ کامیابی کی بھری ہوا خارج  ہونے لگیاور کہنے لگے کہ میں ہاتھی نہیں ہرن ہوں،اور یہ کہ دلی حکومت 
چھوڑنا  میری غلطی تھی۔عوامی لوک پال بل کی خاطر دلی حکومت کی قربانی دینے کے اُصولی عمل کو غلطی
  کہنے لگے۔۔غرض کہ میڈیا نے کیجری وال کو پاگل بناکر رکھ دیا، لگتا ہے غریبوں کا یہ ستارہ غروب ہوگیا 
ہے شاید ہی اب یہ چمک سکے۔۔
اگر بھارت میں "عاپ" یعنی  عوامی  سطح کی  نمائندہ کوئی  جماعت کامیابی  سے ہمکنار ہوتی ہے تو اِس  کا اثر 
یقیناً پاکستان پر بھی پڑتا۔۔یہی وجہ تھی کہ عاپ کی حمایت میں بھی اُسی طرح لکھا جس طرح کہ پی ٹی آئی
 کی  حمایت میں لکھا تھا ۔۔
پاکستانی جمہوریت کیا ہےسرمایاداروں کی لونڈی ہے،جسطرح چاہیں استعمال کریں،بلدیاتی الیکشن کے بغیر بھی 
پاکستان میں جمہوریت ہے ۔عمران خان نے کہا تھا اصلی جمہوریت بلدیاتی  ہے، 90 دنوں میں بلدیاتی الیکشن
 کرا کے اختیارات عوامی سطح تک پہنچاؤں گا ۔۔مگرافسوس کہ سب سراب ثابت ہُوا۔۔۔  
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Thursday, August 14, 2014


اندرون و بیرون مُلک مقیم تمام پاکستانیوں کو 
منجانب فکرستان: یومِ آزادی مبار ک 
Pakistan Independence Day Wallpapers 2012
 


Tuesday, August 12, 2014

" مُردہ جمہوریت"

منجانب فکرستان 
آزادی مارچ،انقلاب مارچ کے حوالے سے فکرستان ایسا سمجھتا ہےکہ طاہرالقادری کے پاس ماڈل ٹاؤن واقعہ 
کے حوالے سے رائج نظام  کے خلاف آواز اُٹھانے کا ایک جواز  بنتا ہے،لیکن عمران خان  کے  پاس ایسا
 کوئی جواز نہیں ہے کہ حکومت کو گرانے کی کوشش کریںالیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے،احتجاج کرنا 
تھا تو وہ وقت الیکشن کے فوراً  بعد کا تھا۔۔ اسمبلیوں میں نہ جاکر احتجاج  کرسکتے  تھے ،اسمبلیوں میں چلے
 جانے کے بعد احتجاج۔۔سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے جیسا ہے ۔۔
جمہوریت کی دعوے دار  پارٹیوں نے جمہوریت میں سے جمہوریت کی روح ( بلدیاتی انتخابات )  کو نکال 
دیا ہے،سابقہ پانچ سالہ دور کو جمہوری دورکہہ کرجشن منانےوالی دونوں بڑی پارٹیوں نے بلدیاتی انتخابات 
نہیں کرائے اور نہ ہی موجودہ سیٹ اپ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا  ذکر ملتا ہے ، بلدیاتی انتخابات کے
 بغیر عوام کے سامنے جمہوریت کا راگ الاپنا عوام کو بے وقوف بنانا ہے، عمران خان صاحب نے بھی 90
دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے دعوے کئے تھے،اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ میں قوم سے کوئی
ایسا وعدہ نہیں کرونگا جو پورا نہ کرسکوں،لیکن خان صاحب نے بھی وہی مُردہ جمہوریت کی روش اپنائی ہوئی
 ہے۔۔۔
حکومت نے اِن مارچوں سےنمٹنے کا جو طریقہ اپنایا ہُوا ہے،اسے بھی جمہوری طریقہ نہیں کہہ سکتے ہیں، 
 یہ طریقہ بھی مُردہ جمہوریت کی گؤاہی دے رہا  ہے۔۔۔  

  ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Sunday, August 10, 2014

" بصیرت افروز کالم "

 فکرستان کی شئیرنگ 
خود شناسی = خُدا شناسی

٭ ۔۔۔٭ ۔۔۔ ٭ 

میں کوئی جھوٹ بولیا ؟؟


منجانب فکرستان
یومِ شُہداءاور آزادی مارچ  کے حوالے  سے حکومتی  ردِ عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہےکہ مسلم لیگ ن خود
 باری والوں کوبُلا رہی ہے،عوام کا کیا ہےعوام کا کوئی نہیں ہےپیپلز پارٹی نےعوام کی بات کی حکومت بنائی
 عوام نے مٹھائی بانٹی،نتیجہ ٹھن ٹھن گوپال نکلا، پھر کشکول توڑنے،  والے آگئے لیکن ابھی کشکول توڑنے 
کی مشق کر ہی رہے تھے کہ باری والوں سے اُلجھ پڑے،اب کہہ رہے ہیں ایک  پیج پر ہیں عوام دیکھ رہی 
کہ کشکول توڑنے والوں نے کشکول توڑنے کےبجائےاُسکا سائز بڑا کرلیا ہے،مہنگائی بڑھ رہی ، اسلیے موجودہ 
جاری چپقلش کے نتیجے میں اگر  باری والے آجاتے ہیں تو عوام کا  کیا ہے، عوام کا کوئی نہیں ہے۔جمہوریت 
کی دعوے دار سیاسی پارٹیاں بلدیاتی الیکشن تک کرانے کی روادار نہیں ہیں،عمران خان نے بھی 90 دنوں 
میں بلدیاتی الیکشن کرانے  کے دعوے کئے تھے، وہ بھی سب ۔۔۔ہَوا ثابت ہوئے ۔۔۔
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }              

Friday, August 8, 2014

"عجیب تراشی دلیل "

منجانب فکرستان 
ہمارےگلوبٹ نے تو اپنے  ڈنڈے  سے  گاڑیوں کو  زخمیکرنے والے ایسے ایکشن دکھائے کہ دُنیا بھر میں
 اپنے نام  کا ڈنکا بجادیا۔۔جبکہمحترم ڈاکٹر گلبرٹ صاحب نے،غزہ زخمیوں کے علاج معالجے میں جو خدمات
 انجام دیں اور محصورین غزہ  پر  ڈھائے جانے والے انسانیت  سوز ظلم کے خلاف  بطور چشم دید گواہ  کے
 حق کی آواز بلند کرنے پر دُنیا بھر میں شُہرت پائی، تاہم  آج کی دُنیا میں یہ چلن  چل پڑا  ہے کہ جنہیں،
کسی سبب  سچ ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے،وہ سوشل میڈیا  کے زریعے کُچھ اِسطرح کے دلائل تراشتے ہیں کہ 
  بیچارے  سچ دُھندلا نے لگتے ہیں ۔۔۔
 ڈاکٹرصاحب کی بے لوث  انسانی خدمت  اور انسان ہونے  کے  ناطے  محصورین غزہ پر اسرائیلی ظلم کے 
خلاف آواز  اُٹھانا، جن لوگوں  کو ہضم نہیں ہو رہا ہے، انہوں نے یہ دلیل تراشی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو
ایک روبوٹ کی طرح صرف علاج معالجے تک محدود رہنا چاہئیے، انسان ہونے کے باؤجود انسانی جذبات کا
 اظہار نہیں کرنا چاہئیے ۔۔۔   
 آپ نے "اصلی ہیرو فلسطینی ہیں" بی بی سی سائٹ نہیں پڑی ہے،اگر پڑھنا چاہیں تو لنک حاضر ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }          

Thursday, August 7, 2014

" ایک کالم : کئی نکات "

فکرستان کی شئیرنگ
کالم غور و فکر کا متقاضی ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...