Friday, May 30, 2014

کیا " قتل " خودکشی بن جائے گا ؟؟

 منجانب فکرستان :کیا قتل خودکشی بن جائے گا ؟؟
پوری دُنیا میں بڑھتے بھیانک ریپ واقعات پر افلاطون کا" شُکرانہ"  یاد آنے لگتا ہے " صد شُکر کہ میں لڑکی نہیں لڑکا
 ہوں اور یہ کہ میں سقراط کے عہد میں پیدا ہُوا ہوں"۔۔
بھارت کی 14اور 15 سالہ دو معصوم بچیوں کا بھیانک ریپ واقعہ یوں پیش آیا کہ گاؤں کے نچلی ذات والے غریب
 بیت الخلاء نہیں بنا پاتے ہیں، رفع حاجت  کیلئے جھاڑیوں میں بچیوں کے ساتھ مائیں  بھی جاتیں ہیں، واقعہ والے دن
  گھریلو کام پڑنے پر بچیوں کے ساتھ نہیں گئیں، شیطانی کردار والوں نے موقع پاکر بچیوں کے ساتھ بھیانک قسم کا
شیطانی کردار ادا کرکے موت کی نیند سُلادیا ۔۔جبکہ ایک سینئر پولیس افسر نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ اب تک واضع نہیں ہوپایا ہے کہ لڑکیوں کا قتل ہُوا ہے یا کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے ۔۔۔ مزید تفصیل جاننے کیلئے لنک پر جائیں۔۔۔مجھے اجازت دیں، پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔۔۔

  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  
     



Monday, May 26, 2014

پارٹی فیصلے یا مودی فیصلے ؟؟

  منجانب فکرستان
مجھے اُن لوگوں پر رشک آتا ہے: جنہیں خُدا پر بڑا گہرا یقین و ایمان ہے( کلدیپ نائر)
 سعودی قانون کے تحت لڑکیاں اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتیں۔ لیکن شادی  نہ کرانے پر
 والدین کے خلاف مقدمہ درج کراسکتی ہیں،لہٰذا 2 سال میں 382 لڑکیوں نے شادی نہ کرانے پر اپنے والدین کے
 خلاف مقدمات درج کرائے ۔( ایک خبر)
کیا مودی اپنا امیج سُدھار نا چاہتے ہیں۔۔مثلاً  بی جے پی والے مہاتما گاندھی سے پَرخاش رکھتے ہیں،ایسے میں مودی  کا
 حلف برداری سے پہلے مہاتماگاندھی کی سمادھی پر حاضری دینا  پارٹی فیصلے کے بجائے مودی فیصلہ لگتا ہے، اسی طرح سے
پاکستانی وزیر اعظم کو تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے مدعو کرنا بھی پارٹی فیصلے کے بجائے  مودی فیصلہ لگتا ہے، الیکشن کمپین بھی بی جے پی منشور کو ہائی لائٹ کرنے کے بجائے،گجرات شائن، مودی اور صرف مودی کو ہی ہائی لائٹ کرتے رہے ہیں،گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی نے پارٹی پر اپنی گرفت  بہت  زیادہ مظبوط  بنالی ہے، اعلیٰ جیت نے بھی اعتماد بخشا ہے ، اسی لیے بولڈ فیصلے کر رہے ہیں۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے  جو کچھ پڑھا ہے وہ ذاتی رائے ہے،جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں
"پڑھنے کا بُہت شُکریہ "   
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  



Sunday, May 25, 2014

غیب سے آتے ہیں !!۔

  منجانب فکرستان
مرزا اسداللہ خاں غالب نے انسانی ذہن کی کیا خوب عکاسی کی ہے کہ:"آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں" کیا اس
بات سے کوئی انکار کرسکتا ہے ؟ہر شخص اِس  تجربے سے گُزرتا ہے ۔بعض شُعرا  اور نثر نگار قلم کاغذ اپنی جیب میں رکھتے
 ہیں کہ خُدا جانے کب غیب سے کوئی  خیال وارد ہوجائے تاکہ بھولنے سے پہلے اُس خیال کو لکھ لیں، یوں مختلف ذہنوں
 سے نکلے مختلف خیالات ہمیں  پڑھنے کو ملتے ہیں،جن سے ہم محظوظ ہوتے  ہیں،سائنسدانوں کا بھی یہی کہنا ہے،
پال ڈیویز نے اپنی کتاب"ذہنِ خُدا وندی" میںایک سائنسداں کا ذکر کیا ہے کہ جسکو کئی دنوں سے کسی سائنسی مسئلے کا حل نہیں مل رہا تھا  کہ: ایک دن  کار چلاتے میں اچانک اُس کے ذہن میں مسئلے کا حل غیب سے خیال میں آیا ۔۔۔ 
  عزیز دوستو شایدآپ سوچ رہے ہوں کہ یہ ساری تمہید ہے کس بات کی ؟ تو عرض ہے کہ : ارادہ یہ ہے کہ اپنے خیالاتی پوسٹ کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف شخصیات مثلاً کسی فلسفی، شاعر، نثرنگار، دانشور، سیاستداں، مذہبی رہنما  یا پھر کسی عام آدمی  کے  ذہن سے نکلے جملے، پیرائیے جنہیں  کسی اخبار، کسی کتاب یا پھر کسی ویب سائٹ پر پڑھا ہو سے انتخاب دوستوں سے شئیر کروں۔۔ مقصد وہی ہے یعنی "غوروفکر"میرے خیال میں غور و فکر سے زیادہ لذت کسی اور چیز میں نہیں  ہے۔۔
٭٭٭٭٭
آپ نے جو کچھ پڑھا ہے، وہ ذاتی رائے ہے، جس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ  کا حق بنتا ہے۔اب اجازت دیں۔
"  پڑھنے کا بُہت شُکریہ"  
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Monday, May 19, 2014

" فرق صاف ظاہر ہے "

  منجانب فکرستان
مودی : کیجری وال: عمران خان
گجرات فسادات نے مودی کی شبیہہ بگاڑ دی تھی،غلطی کا احساس ہوگیا،  تو گجرات میں پھر کوئی ہندومسلم فساد نہ ہُوا،اپنی
بگڑی شبیہہ سدھار کیلئے مودی ساری توجہ صوبے کو خوشحال بنانے پر صرف کرنے لگے،محنت رنگ لائی، گجرات دیگر 
صوبوں کے مقابلے خوشحال ترقی یافتہ کہلانے لگا، الیکشن سے پہلے گجرات میں نمائشی میلے لگا کر میڈیا کے زریعے گجرات 
شائن ماڈل بھارتیوں کو دِکھانے لگے جس سے بھارتی  متاثر ہوئے۔ یوں میدان مار لیا۔۔
پارٹی سینئیرز کو کھڈے لائن لگانے بطور وزیراعظم جیت سے پہلے ہی اپنے آپکو  متعارف کرادیا ۔۔
 کیجری وال نے میکش امبانی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بات کر کے سرمایا داروں کو اپنے خلاف کرلیا، میڈیا کے خلاف  سخت بیان دیکر میڈیا والوں کو بھی ناراض کردیا، یوں سرمایا دار اور میڈیا دو طاقتیں آپس میں مل گئیں ۔۔میڈیا والوں نے کیجری وال سے ایسے ایسے اُلٹے سیدھے آڑے ترجھے   سوالات کر کر کے  عوام کو یہ باور کرادیا کہ کیجری وال نا اہل ہیں۔۔یہاں تک کہ کیجری وال سے قبول وادیا کہ دہلی حکومت سے استعفیٰ دینا اُنکی غلطی تھی ۔۔اب غلطیاں کرنے والے کو حکومتی باگ ڈور دینا کون پسند کرے گا ؟؟
عمران خان کو اپنے جوہر دِکھانے،عوام سے کئے وعدے پورے کرنے ، خیبرپختونخوا  کی حکومت ملی ہے،وہ بھی مودی کی طرح اپنی توجہ کا فوکس  صوبے کی خوشحالی اور ترقی  پر مرکوز کرکے ، گجرات کی طرح خیبرپختونخوا کو پاکستان کیلئے ایک ماڈل بنا سکتے تھے، (جیسا کہ الیکشن سے پہلے عوام کو سُنہری خواب دکھاتے رہے ہیں) ،گجرات کی طرح  خیبرپختونخوا شائن ماڈل عوام کے سامنے آتا تو آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے سامنے کوئی جماعت نہیں ٹھر سکتی تھی ،ایک سال کا عرصہ گُذرچُکا ہے، لیکن بلدیاتی انتخابات  تک نہیں کرا پائے  ہیں، جبکہ 90 دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے دعویدار تھے۔۔۔
 اِن دِنوں مختلف قسم کے لاحاصل محاذ کھول کراپنی انرجی فضول ضائع کر رہے ہیں۔۔۔
نوٹ:آپ نے جو کُچھ پڑھا ہے،اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔
پڑھنے کا بُہت شُکریہ   
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں

Saturday, May 17, 2014

توقع سے زیادہ اور توقع سے کم !!۔

  منجانب فکرستان
سارے اندازے دھرے رہ جاتے ہیں !!۔
ایاز امیر اسمبلی ممبر رہ چُکے ہیں، اچّھی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، سیاسی تجزیے کرتے ہیں، اُنکا تجزیہ تھا کہ عمران خان کے
 جلسے میں زیادہ لوگ نہیں آئیں گے(جلسے کے بارے میں میری رائے بھی یہی تھی) لیکن جلسے کے بعد اعتراف کرنا پڑا کہ
 رکاوٹوں کے باوجود جلسے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد آئی،اسی طرح  بی جے پی کے بارے میں اندازہ تھا  کہ جیت جائے
 گی، لیکن اتنے بڑے مارجن سے جیت جائیگی اِس کا اندازہ تو  کلدیپ نائر کو بھی نہیں تھا۔۔۔ اور یہ اندازہ بھی کسی کو نہیں
 تھا کہ کیجری وال کی " آپ " ا ور کانگریس  کو اتنی کم تعداد میں ووٹ پڑیں گے ۔۔۔ 
نوٹ: آپ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے، اُس سے اختلاف/اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔۔اب مجھے اجازت دیں۔
پڑھنے کا بُہت شُکریہ 
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں

Tuesday, May 13, 2014

" آگہی اور غور و فکر کیلئے "

  منجانب فکرستان:آگہی اور غوروفکر کیلئے

نوٹ:آ پ نے اِس پوسٹ میں جو کچھ پڑھا ہے اُس سے اختلاف/ اتفاق کرنا آپ کا حق ہے ۔اب مجھے اجازت دیں۔۔
 پڑھنے کا بُہت شُکریہ ۔
 {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Sunday, May 11, 2014

" میری ماں ۔۔۔ میرا عقیدہ "


منجانب فکرستان: Mother day۔۔
جس نے لاہور نہیں دیکھا ،وہ پیدا ہی نہیں ہُوا۔۔اسی طرح میرا عقیدہ ہے کہ:
میری ماں جیسی، اچّھی ماں : دُنیا میں کوئی اور کہاں 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...