Saturday, December 7, 2013

" ہمّت "

منجانب فکرستان: خیال: تنقید: تبصرہ: لڑکی : واقعہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی واقعہ کو دیکھ کر ، سن کر یا  پڑھ کر ۔۔۔اگر ذہن میں کوئی خیال یانظریہ جنم  لیتا ہے۔۔۔ تو وہ خیال یا نظریہ
 آپ کی معنوی اولاد یعنی  بچے کی ماند ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے آپ کو پیارا ہوتا ہے ۔۔۔آپ اپنے اِس پیارے بچے۔
 (نظریے)  کو دُنیا والوں کو دِکھانا چاہتے ہیں۔۔۔اب یہ بچّہ (خیال/نظریہ)  کسی کو کالا لگے کہ گورا  (یعنی  بے معنی لگے کہ با معنی) آپ کو تو پیارا ہے۔:grin:۔۔
یہ وضاحت : پوسٹ " پسِ پردہ کی حقیقت " پر تنقیدی تبصروں کی وجہ سے کرنی پڑ رہی ہے ۔عرض ہے کہ: تنقیدی تبصرے کیلئے دو تین بار پڑھنا ضروری  ہے: چونکہ ایسا بھی دیکھنے آیا ہے کہ دوسری بار پڑھنے سے معنی کیا سے: کیا ہوجاتے ہیں۔ تنقیدی تبصرہ  کرنے والوں سے میری  گُذارش ہے کہ وہ دوبارہ پڑھ کر دیکھیں، اُس میں خُدا کی حکمت کی نشان دہی ملے گی ،نوازش ہوگی شُکریہ ۔۔۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
تصویر دیکھی کہ: 16 سالہ لڑکی، بھاری بھرکم ویٹ لفٹر والد کو اُٹھائی ہوئی ہے۔۔۔عقل نے کہا نا ممکن  :  لیکن تصویر گواہی دے رہی تھی  کہ لڑکی نے ایسا کر دکھایا ہے: سوال ہے کہ یہ واقعہ کیونکر ممکن ہُوا ؟؟
دماغ میں اِس خیال  نے جنم لیا کہ یہ واقعہ اسی طور ممکن ہُوا ہے کہ لڑکی نے کہا: میں اُٹھا سکتی ہوں  ۔۔۔لڑکی نے ہمّت کو آواز دی، ہمّت نے لڑکی کو طاقت دی اور بظاہر ناممکن واقعہ ظہور پزیر ہوگیا ۔۔۔  دیکھیں کہ لڑکی جُھکی نہیں ہے ، طاقت سے اُٹھائی ہوئی ہے اور یہ طاقت لڑکی  کی فزیکل باڈی  میں نہیں ہے۔۔۔ لیکن لڑکی کے ذہن میں ہمت کی طاقت ہے۔جس کو اُسنے کلک کیا، جو فزیکل باڈی میں منتقل ہوئی جس کے وجہ سے وہ بھاری بھرکم ویٹ لفٹر والد کو اُٹھانے کامیاب ہوئی ہے ۔:grin:۔ 
ہمّت کے بارے میں دماغ میں جنم لینے والا درج بالا خیال /نظریہ  یا معنوی بچہ کالا ہوکہ گورا ( یعنی بے معنی ہوکہ بامعنی) مجھے تو پیارا ہے۔:grin:۔۔۔ اسی لیے آپ لوگوں سے شئیر کررہا ہوں ۔۔
نوٹ:نظریہ/ خیال اتنا ہی صحیح  ہوتا ہے جتنا کہ غلط :  اب مجھے اجازت دیں ۔۔ پڑھنے کا شُکریہ ۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, December 5, 2013

" حمد "

منجانب فکرستان
 دوستو:جب بلاگنگ شروع کی تھی، پہلی پوسٹ میں" خُدا کی عظمت" کی معمولی سی جھلک اپنی پوسٹ میں سمونے کی
 کوشش کی تھی "وہی" اب نستعلیق فونٹ میں" پیش ہے۔دوستو: مجھے شاعری نہیں آتی اسلئیے نثر سمجھ کر پڑھئیے۔
٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
نیم کی نِبولی ہے کتنی چھوٹی سی، درخت اُس میں سے نکالتا ہے خالقِ کائنات
کوئی ماں بچّہ پال نہیں سکتی،  ماں میں مامتا ڈالتا ہے خالقِ کائنات
بنجر زمینی سیارے پر زندگی ناممکن، زندگی کے لوازمات بکھیرتا ہے خالقِ کائنات 
زبان کیا ہے، گوشت لوتھڑا ، اُس میں حسِ ذائقہ ڈالتا ہے خالقِ کائنات
آنکھوں میں دیکھنے کی سکت کہاں؟ اِن میں دیکھنے کاعمل ڈالتا ہے  خالقِ کائنات
خوردبینی جرثومہ ہے کتنا چھوٹا، اُس میں سے انسان نکالتا ہے خالقِ کائنات 
کائنات میں ہیں کھربا کھرب اجرامِ فلکی،اِن سب میں توازن ڈالتا ہے خالقِ کائنات
ہر چیز سے عیاں ہے ہر چیز میں نہاں، ہر شے میں اپنی جھلک ڈالتا ہے خالقِ کائنات
عقلِ کُل، توانائی کُل، قوانینِ کُل: اِن سب کا منبع ہے خالقِ کائنات 
درخت قلم بن جائیں ،سمندر سیاہی، پھر بھی بیاں نہ ہوسکے کی صفتِ خالقِ کائنات  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب مجھے اجازت دیں۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ 
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


  

Tuesday, December 3, 2013

" پسِ پردہ کی حقیقت "

منجانب فکرستان: انجانے میں :دانستہ: انڈوپاک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا واقعی عورت ایک معمہ ہے؟؟ عورت کو بھی نہیں معلوم کہ:اُسے معمہ کیوں کہا جاتا ہے؟؟ لیکن جب ہم غور کرتے ہیں تو
 ہمیں  عورت میں ایک جذبہ ایسا ضرورنظر آتا  ہے کہ:جو اُسے معمہ ثابت   کرسکتا ہے: اخلاقیاتی ضمیر کے بارے میں
  کچھ ماہرینِ نفسیات و دانشور یہ دعویٰ  کرتے نظر آتے  ہیں کہ  یہ ودیعت شُدہ ہے جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے، جو اخلاقیاتی ضمیر کو
 ماحولیاتی اکتساب کہتی  ہے، لیکن عورت کے جس معمے والے جذبے کی بات ہورہی ہے وہ ودیعت  شُدہ ہے جِسکا ثبوت یہ ہے کہ:  ۔
عورت چاہے قبائیلی معاشرے کی ہو کہ زمانہ قدیم کی ہر عورت میں بننا سنورنا خوبصورت نظر آنے کا جذبہ پایا جاتا ہے اسلئیے اِس جذبے کو ودیعت شُدہ ہی کہیں گے اور ودیعت شُدہ کے معنی  خُدا کی حکمت کے ہیں۔
پوری دُنیا میں عورت کے جنسی استحصال کے بارے میں عورت کے بناؤ سنگھار اور لباس کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے ۔۔۔بالکل اسی طرح  سے دُنیا بھر کی عورتیں بھی اس الزام کو غیر حقیقت پسندانہ کہتی ہیں، اور اس پر احتجاج کرتی نظر آتی ہیں کہ : ہمارا بننا سنورنا اور ہمارا لباس مردوں کے جنسی جذبات کو ابھارنے کیلئے  نہیں ہے۔۔ بلکہ مرد کی فطرت ہی خراب ہے ۔۔۔ورنہ ہم تو صرف اپنے آپکو خوبصورت بنا نے کیلئے اتنا سارا وقت اور اتنا سارا پیسا خرچ کرتے ہیں۔۔۔
صحیح بات یوں ہے کہ عورت کے ذہن میں دانستہ طور پر مردوں کا جنسی جذبہ ابھارنے کا کوئی تصور نہیں ہوتا، لیکن خوبصورت نظر آنے کیلئے وہ جو اہتمام کرتی ہے انجانے میں فطرت کی آلہ کار بن کر کرتی ہے:
 مثلاً وہ ہونٹوں پر سرخی جمائے سولہ سنگھار کئے ایسی تراش خراش کے  کپڑے زیب تن کرتی ہے  کہ جس میں جسم کی نمائش یا جسمانی خدوخال زیادہ نمایاں ہوں، بلکہ انڈوپاک سمیت دُنیا بھر کی وہ عورتیں کہ جن کے پستان چھوٹے ہیں یاڈھلک گئے ہوتے ہیں اور یہ کہ جو 2ہزار تا 6 ہزار ڈالر تک کا خرچہ برداشت کر سکتی ہیں  اور خوبصورتی کیلئے سرجری کی تکلیف اُٹھانے کیلئے تیار ہوتی ہیں ،وہ (breast  Implant  surgery ) کرواتی ہیں اور اپنے پستانوں کا سائز بڑھواکر انہیں سڈول بنواتی ہیں دُنیا بھر میں یہ سرجری مقبول ہورہی ہے، جبکہ اِس سرجری کے سائڈ افیکٹ بھی کافی ہیں اسکے باوجود سرجری کروانا کیا معنی رکھتا ہے؟؟  عورت کہے گی کہ خوبصورت نظر آنے کیلئے !!
جبکہ سڈول پستان کی خوبصورتی تو صرف اور صرف مرد کو ایٹریکٹ کرتی ہے اور مرد کے جنسی جذبہ کو اُبھارتی ہے۔۔۔پھر انکار کیسا؟؟ وہی نا دانستہ والی بات ہے۔۔۔
 اِس سارے معمے کی پسِ پردہ حقیقت وہی ہے کہ جس ذکر پہلے آچُکا ہے وہ یہ  کہ فطرت عورتوں کے خوبصورت نظر آنے کے جذبے کے زریعے مردوں کے جنسی جذبہ کو اُبھار کر اپنا مقصد حاصل کرتی ہے: یعنی "انسانی نسل کی بقا " ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
  دوستو: ذیل کی تصویر میں" معمے کی پسِ پردہ  کی حقیقت کو دیکھیں" آپ صرف اور صرف بچّے کے چہرے کو نظر جمع کر دیکھیں عورت کو نہ دیکھیں، اور  پڑھنے کی تھکن دور کرلیں ۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا بُہت بہت شُکریہ ۔۔۔       
   

نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 


Thursday, November 28, 2013

سارے سلسلے لگتے ہیں ایک جیسے !!۔

منجانب فکرستان
 کرک نامہ اور اخبارات میں پڑھا کہ:  ہم کرکٹ میچ  جیت گئے ہیں۔۔دماغ میں خیال آیا کہ نوکری چلتی رہے گی، 
بالکل اسی طرح جسطرح ہمارے بہت سارے سرکاری محکمے کہ جن کا کام انسداد جرائم ہے۔۔۔لیکن پھر بھی جرائم
 کا گراف اِس تیزی سے بلند ہو رہا ہے گویا یوں لگتا جیسے انکے انسداد کیلئے ملک میں سرے سے محکمے نہیں ہیں:
 تاہم پھر بھی جیسے ہم اخبارات میں کبھی کبھار پڑھتے ہیں کہ ہم میچ جیت گئے ۔۔بالکل اسی طرح کبھی کبھار ایسی خبریں  بھی  پڑھنے کو مل جاتی ہیں کہ  فلاں محکمے نے فلاں کیس پکڑا ہے: یوں عوام کو معلوم ہوجاتا ہے اور عوام خوش ہوتی ہے کہ گویا ملک میں فلاں جرم کے انسداد کیلئے ہمارے ملک میں محکمہ موجود ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محکمہ اپنی حفاظت کی خاطر کبھی کبھا کاکردگی دکھا کر فائل کا پیٹ بھرتا ہے۔۔جیسے کبھی کبھی کرکٹ کی جیت ہوجاتی ہے۔۔۔یاپھر جیسےکبھی کبھار ٹریفک والا بابو پیسے لینے کے بجائے ہمارا چالان کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ مہینہ میں اتنے کیس دکھانے ہیں تاکے محکمہ بھی چلتا رہے ،اور نوکری بھی چلتی رہے۔۔۔   پاکستان میں سارے سلسلے ایک جیسے لگتے ہیں ۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 



   

لمحاتی لذتی جذبہ" عقل " کو" دُھول " چَٹا دیتا ہے۔

منجانب فکرستان
کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟؟ "امریکی صدر، اسرائیلی صدر،اٹلی کے وزیر اعظم، آئی ایم ایف کے سربراہ:اعلیٰ عقلی
 قابلیت کی بِنا پر اعلیٰ عُہدوں پر پہنچے (لیکن)لمحاتی لذتی جذبہ نے انکی عقلوں کو لمحہ بھر میں دُھول چَٹادی:سزا کی تفصیل
آگے آئے گی۔"ترون تیج پال"جس نے اپنے  اعلیٰ آدرش  اوربے باک صحافت کی بنیاد پر جریدے "تہلکہ" کو عُروج پر پہنچایا:
معاشرےمیں اپنی ایک صاف سُتھری شبیہہ بنائی:عزت، شُہر ت پائی: پھر ایسا ہُواکہ تیج پال کے ساتھ کام کرنے والی 
ایک صحافی لڑکی کے جسم نے لمحاتی لذتی جذبہ کو ایسا اُبھارا کہ عقل دُھول چاٹنے لگی:
 یوں لمحاتی جذبے نے تیج پال کی عزت، شُہر ت اور صاف سُتھری شبیہہ کو خاک میں ملا دیا، اب وہ بیٹی، بیوی، خاندان، دوست احباب اور معاشرے  کا سامنا کیسے کرے پائے گا؟؟
تیج پال کی بیوی اور بیٹی بھی اپنے دوست احباب سے کیسے آنکھیں ملائیں گی ؟؟۔۔۔ پھر متا ثرہ لڑکی اور اُسکا خاندان بھی  بِنا کئے جرم کی سزا کاٹیں گے  ۔۔۔۔۔۔ اے بھگوان : چند لمحوں میں یہ سب کیا ہوگیا ؟؟؟ میری مذہبی تعلیم، انسانی اخلاقیات ، خاندان کا خیال ، معاشرے کا خوف  یہ سب کے سب اُس لمحے کہاں چلے گئے تھے ؟؟؟ 
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
لمحاتی لذتی جذبہ نے سزا دی :
 بل کلنٹن کو پوری دُنیا کے سامنے رُسوا ئی اور شرمندگی  کا  سامنا کرنا پڑا۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
 سابق اسرائیلی صدر موشے کاٹساو  کو بدنامی کے ساتھ صدارتی عہدے سے استعفیٰ اور 7 سال قید جس میں سے 2سال بامشقت سزا ہوئی ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
اٹلی کے سابق وزیر اعظم بر لو سکونی کو 7 سال کی  سزا ہوئی تھی  یوں  سکونی بے سکونی ہُوا  ۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کو استعفیٰ دینا پڑا ، جیل کی ہؤا کھانی پڑی اور فرانس کے صدر بننے کا خواب ٹوٹ کر چکناچور ہُوا ۔۔گو بعد میں عورت سے مُک مُکا ہُوگیا۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: درج بالا خیالات سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 

Sunday, November 24, 2013

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟؟؟

منجانب فکرستان:اب اوباما کے بیان کے اضافے کے ساتھ
نوٹ: ( دوستو )اوباما نے ایران سے جوہری معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے جواب میں جو کچھ کہا:
وہ اِس لکھی پوسٹ سے مِلتا جُلتا لگا :اسلئیے  بیان کو آخر میں شامل کیا گیا ہے۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭   
 لگتا ہے یہودی لابی کمزور پڑ گئی ہے۔ ورنہ زیادہ دن نہیں گُذرے کہ اسرائیل ا ور امریکہ دُنیا کو ایسا تاثر دے رہے تھے کہ :
ایران پر حملہ اب ہُوا کہ ہُوا۔۔اِس ممکنہ حملے کے بارے میں عام افراد تو رہے ایک طرف بعض دانشور و تجزیہ کار  بھی ایسے تبصرے کر رہے تھے کہ:
  جیسے ایران پر حملہ یقینی ہے َ۔۔اور اُس کے بعد کا نقشہ ایسا ہوگا ویساہوگا کی لن ترانیان سُناتے تھے ۔ ۔البتہ بعض ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ:
 امریکہ بُہادر کو جنگ  گلے لگانے کا اچّھا خاصا سبق مل چُکا ہے ۔۔ایران پر حملے کی بات صرف گیدڑ بھپکی کے سِوا  کّچھ نہیں ۔۔ یہی بات صحیح ثابت ہوئی ۔۔۔
  کیا امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لا رہا ہے ؟؟؟
بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے جسکا ثبوت ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے مابین جوہری ابتدائی معاہدہ طے پاجانا ہے۔۔معاہدے کے مطابق ایران کا یورینیم افزودگی کا پروگرام بند نہیں ہوگا: جاری رہے گا۔۔
بالکل اسی طرح شام پر امریکہ/ اسرائیل کا حملہ اب ہُوا کہ ہُوا کا تاثر دُنیا بھر کا موضوع رہا ہے ۔۔لیکن وہاں بھی جنگ سے بچا گیا ۔۔وہاں بھی معاہدہ طے پا  گیا ۔۔
ایران اور شام کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی گویا مشترکہ پالیسی تھی ۔۔۔لیکن ایران اور شام کے ساتھ۔۔۔ اسرائیل سعودی عرب  کی مخالفت کے باوجود معاہدے طے پاجانا ۔۔ گویا امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا واضع اشارہ ہے ۔۔۔ شاید دُنیا میں اب نئے اتحاد  وجود میں آئیں گے ۔۔۔۔۔اور اسکی وجہ ہوگی ۔۔
سکون محال ہے قدرت کے کار خانے میں٭ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭   
اوباما نے کہا: "ہم تشدد کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں نہیں پھنسنا چاہتے : شاید سیاسی طور پر سخت بات اور ہنگامہ کرنا آسان ہے : لیکن یہ ہماری سلامتی کیلئے ٹھیک نہیں ہے "۔ ( مزید تفصیل لنک پر)۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔پڑھنے کا شُکریہ ۔۔۔
نوٹ: رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: ہر پڑھنے والے کا حق ہے
  { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 




Thursday, November 21, 2013

" قاتلانہ کارستانی ۔۔۔ ماں چلی گئی "

منجانب فکرستان: پرندے : انسان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
چڑیا ، کبوتر، کوّے وغیرہ دن بھر دانے دُنکے  کیلئے زمین کا چپہ چپہ چھانتے ہیں۔۔
  لیکن چیلیں زمین پر خوراک تلاشتے نظر نہیں آتی ہیں:
 بادلوں کی طرح دن بھر آوارہ گردی آسمان پر ہی کرتی نظر آتی ہیں۔۔ 
 غذا زمین پر ہے بِنا غذا کیسے زندہ رہتی ہیں ؟؟ جبکہ انکا جسم چڑیوں، کبوتروں اور کوؤں سے بڑا ہے یقیناً غذا (توانائی)۔
 بھی زیادہ چاہئیے۔ گو کہ خُدا نے انہیں یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ پنکھ کو بِنا ہلائے پھیلا  کر ہوا میں تیر تی رہتی ہیں: یوں یہ توانا ئی کا استعمال کم سے کم کرتی ہیں۔۔
پھر بھی یہ الجھن تو اپنی جگہ باقی ہے کہ اتنے بڑے جسم کو غذا تو چاہئیے۔۔انکے بچوں کو بھی غذا چاہئیے۔۔
شاید میری اِس الجھن کو چیل کے ایک جوڑے نے پڑھ لیا:  کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے پڑوس سے دوسرا مکان جوکہ گراؤنڈ پلس2 منزلہ ہے اُسکی چھت پر بنی پانی کی ٹینکی پریہ جوڑا  آکر بیٹھنے لگا، دیکھا کہ یہ اپنے پنجوں میں گوشت کے ٹُکڑے لاتے ہیں اور چونچ سے نوچ نوچ کر کھاتے ہیں اور کبھی کبھی نسل کی بقا  کیلئے جبلی تقاضہ بھی پورا کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سارے نظارے اپنی  کھڑکی کے زریعے کئے۔۔ یوں اس جوڑے نے نہ صرف میری غذا والی الجھن کو دور کیا بلکہ توکل پر یقین کا درس بھی دیا:پرندے ذخیرہ نہیں کرتے توکل کرنے والوں کیلئے الرازق :مسبب الاسباب  غذاکے اسباب پیدا کرتا ہے اور ہم کبھی کسی پرندے یا چیل کوے وغیرہ کو بھوک سے مرتے نہیں دیکھتے ہیں:(لیکن)۔۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
 پچھلے دنوں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ: دُنیا میں غذائی اجناس وافر مقدار میں  ہونے کے باوجود  ایک منٹ میں 18 افراد بھوک سے مرجاتے ہیں۔۔۔ اسکی کیا وجہ ہے ؟؟ اسکی وجہ انسانوں کی خباثت ہے یعنی  یہ انسان ہی تو ہیں جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں: اجناس کا ضیاع کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر غریب  بُھوکے لوگوں کی قوتِ خرید سلب کر کے اپنی تجوریاں بھر تے ہیں۔۔ یہ ہوس پرست انسانوں کی قاتلانہ کارستانی ہے۔۔۔جسکا ثبوت فیصل آباد کا واقعہ:  
فیصل آباد میں بھوکے بچوں نے ماں سے کھانا مانگا۔۔ لیکن ماں کے پاس مہنگا آٹا خریدنے کے پیسے نہیں تھے :بالآخر بچوں کا  بھوک سے تڑپنا، ماں سے دیکھا نہیں گیا :اُسنے چُھری اُٹھائی اور اپنا گلا کاٹ ڈالا، بچوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا ۔ (خُدا مغفرت فرمائے۔آمین ) اِس خودکشی  پر وصی شاہ کا کالم (لنک پر)جس میں فیض کی احسا ساتی نظم بھی شامل ہے ۔۔۔۔
اب  مجھے اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔   
  نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا: پڑھنے والے کا حق ہے۔
 { ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

  
  


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...