Tuesday, July 11, 2023

قانون: آہستہ رو

 منجانب فکرستان: غوروفکر کے لئے

انسانی ذہن کی یہ جہت کیسی ہے (لڑکا،لڑکی/مرد،عورت) کی محبت کہتےہیں 

خاندان،مذہب،ذات برادری،دھن  دولت ) سب محبت پر قُربان ۔

ایسا کیوں ہے؟ محبت کیا ہے؟

انسانی علم کے تمام زرائع اس کی توضیح کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔ 

فرانس ہو یا کہ کوئی ملک،جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، حکومتی سطح پر

کوشش ہوتی کہ یہ اقلیت اکثریتی  میں ضم ہو جاہے،،ہوتا ایساہی ہے،

تاہم یہ ارتقاء کی طرح آہستہ رو قانون ہے ایسا ہونے میں 

نسلوں کی محبتوں کو پروان چڑھنا ہوتا ہے،،

اِس کی مثال انڈیا میں دیکھی جاسکتی ہے،جہاں بولی وڈ دُنیا ہو کہ لکھاریوں 

کی دنیا، غرض کہ فنون لطیفہ سے وابستہ لوگوں کی دنیا میں ہمیں ایسے

 لوگوں کی ایک بڑی تعدادنظر آتی ہے کہ جنہوں نے زمانے میں رائج

روایتی  (خاندان، مذہب،ذات برادری،دھن  دولت) سماجی بندھنوں کو 

توڑ کر کر شادیاں کیں اب اُن کی نسل سیکولر ہے۔

اِس سیکولر نسل کو اقلیت اکثریت جیسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

حالیہ دِنوں میں محبت کے حوالے سے bbc اردو میں ایک اسٹوری شائع

 ہوئی ہے  کہ جس میں ایک پاکستانی مسلمان عورت کے چار بچّے ہیں،جس 

کو سرحد پار انڈیا میں مقیم لڑے سے محبت  ہوگئی ۔ جس کی خاطر عورت 

نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا ، اپنے مذہب کو چھوڑ دیا، اپنا مکان بیچ دیا ۔

 یہ محبت کیا ہے؟ جسے ہم(لڑکا،لڑکی/مرد،عورت)محبت کہتےہیں

انسانی علم کے تمام زرائع اس کی توضیح کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔ 

مکمل تفصیل کیلئے 👇 

https://www.bbc.com/urdu/articles/cjrldwyryk7o

نوٹ:پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرنا/نہ کرنا یہ آپ کا حق ہے   
 ۔ اب اجازت ۔




Saturday, July 1, 2023

جائز ہے ؟

منجانب فکرستانغوروفکر کے لئے

وقت کرتا ہے پرورش برسوں  

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

قبل اجمیری کے اس شعر میں بڑا دم ہے
جس کی مثال  فرانس میں ہونے والے حالیہ فسادات میں بخوبی دیکھی
 جا سکتی ہے فرانس کے علاقے' نانٹیرے' میں گاڑی نہ روکنے پر 
پولیس نے فائر کردیا یوں 17 سالہ' ناہیل' ڈیلیوری ڈرائیور ہلاک
 ہوگیا سوشل میڈیا پر یہ خبر چلی،فسادات پھوٹ پڑے جو' نانٹیرے'
تک محدود نہ رہے ،وجہ، میرے خیال میں پولیس کے رویوں کے
 خلاف لوگوں کے دلوں میں جذبات پل رہے تھے،اُنہیں محسوس
ہوتا کہ پولیس کا رویہ اُن کے ساتھ نسل پرستانہ ہے،اِس واقعے 
نےگویا جذبات کو نکاسی کی بنیاد فراہم کی ،فرانس کے کئی علاقے 
 بدامنی کے لپیٹ آگئے ۔۔۔
ایسے ملک میں کہ جہاں کی پولیس پر
نسل پرست کا الزام آتا ہو ، پولیس افسروں کو( ڈرائیور کے نہ
رکنے پر) ڈرائیور کو گولی مارنے  کی اجازت دینا ۔ جائز ہے ؟
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ یہ


 بدامنی فرانس کے لیے "قانون نافذ کرنے والے اداروں


 میں نسل پرستی کے گہرے مسائل کو حل کرنے کا


 ایک موقع ہے


https://www.bbc.com/news/world-europe-66078723

نوٹ:پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرنا/نہ کرنا یہ آپ کا حق ہے   
 ۔ اب اجازت ۔

Tuesday, June 21, 2022

کہیں دیر نہ ہوجائے!۔۔۔

 منجانب فکرستان: غوروفکر کے لئے

ڈپریشن کا مرض :دنیا بھر میں بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔  
 ،14جون 2022 کےاخباروں میں ماں کے قاتل(جو کہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے قتل کامنصوبہ رکھتا تھا) کی تفصیل شائع ہوئی،بلاگ لکھنے کا مقصد یہ ہےکہ  کسی ذہن میں ملزم کے جیسے خیالات آتے ہوں تو اپنی  اصلاح کی جانب رجوع ہو ، کہیں دیر نہ ہوجائے ، بعد میں ملزم کی طرح پچھتا ناپڑ جاہے، یہ کیس ڈیپریس ذہن کی اچھی تشریح ہے  ۔
ملزم نہیں چاہتا کہ اُس کی ماں اُس کا چہرہ ،ایک قاتل کے روپ میں نہ دیکھ پائے، اس کے لیے ملزم نے باقاعدہ خوب ریہرسل کی۔
 ماں پیانو بجا رہی تھی کہ ملزم نے پیچھے سے قریب آکر گولی اس طرح ماری کہ وہ فوراً دم توڑ گئی۔
 ماں کے قتل کے بعد وہ جسٹن ٹروڈو کو قتل کرنے کی غرض سے ٹروڈو کی رہائشگاہ کی جانب روانہ ہوا، تھوڑی دور جانے کے بعد کچھ سوچ کر رک گیا ، اب وہ نیورسٹی کی جانب روانہ ہوا کہ وہاں بڑے پیمانے پر تشدد اور قتل کی کارروائی کر سکے تاہم ذہنی انتشار میں کچھ کمی آنے پر وہ پولیس ہیڈ کوارٹر پہنچ گیا ،اپنی ماں کےقتل کااعتراف کر نے کے لئے ۔

دیکھیں 👇 ملزم کا  انٹرویو،ماں کی تصویر وغیرہ

https://bc.ctvnews.ca/former-b-c-actor-who-killed-mother-tells-court-victim-did-nothing-to-deserve-shooting-1.5949230
۔اب اجازت۔
۔رب مہربان رہے۔



Thursday, June 16, 2022

محبت کی ایک عجیب جہت !۔۔۔

منجانب فکرستان: غوروفکر کے لئے

میڈیا میں ان دِنوں (دعازہرا اور ظہیر احمد) کی محبت کا خوب چرچا رہا،ہر ایک نے اپنے اپنے نقطہ نظر کی بات کی،  میں نے بھی اپنی ٹیوٹر پوسٹ میں لکھا تھا کہ "محبت ہے کیا چیز؟ سائنس بھی ۔۔۔یہ نہیں جانتی ؟ اپنی اسِ بات کی سپورٹ میں برصغیر کی مشہور اداکارہ ثریا کی داستانِ محبت غور و فکر کیلئے آپ سے شیئر کرتا ہوں ۔
                                  
۔ 15 جون، برصغیر کی مشہور اداکارہ ثریا کی پیدائش کی تاریخ ہے ۔

ثریا کی محبت کی بھی عجیب داستان ہے، وہ ہالی وڈ اداکار گریگوری پیک کی

فین تھیں، جب امریکہ گئیں تو اپنی تصویر اور اپنا بمبئی ایڈریس گریگوری

پیک کو بھجوایا،اس دور میں جانے کتنی لڑکیوں نے گریگوری کو اپنی تصاویر

بھیجی ہونگیں۔ 

انڈین اداکار دیوانند کا ہیئر اسٹائل اور اداکاری کا اسٹائل بھی کچھ حد تک
 
 گریگوری پیک جیسا تھا یوں ثریا دیوانند کی جانب جھک گئیں، محبت پروان

 چڑھانے لگی دیوآنند

نے اپنی محبت کی نشانی میں ہیرے کی انگوٹی ثریا کو دی تاہم مذہبی اختلاف

 کے علاوہ بھی دیوآنند ثریا کے  گھر والوں کو نہ بھایا یوں بیل  منڈھے نہ

چڑھ پائی۔

ایک رات تقریباً بارہ بجے ثریا کے مکان کی کال بیل بجی ،گھر والوں

نے دیکھا کہ دروازہ پر ایک گورا انگریز کھڑا ہے،'میں گریگوری پیک ہوں

مجھے ثریا سے ملنا ہے' اُس دن ثریا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔

ثریا کی زندگی میں کئے خوبرو ہستیوں نے داخل ہونے کی کوشش تاہم

 والدہ کے انتقال کے باوجود تنہا پوری زندگی گزاردی  ۔

کیا ثریا کو صرف گریگوری پیک کے اسٹائل محبت تھی ،جب دیوآنند میں یہ

اسٹائل یہ نظر آیا تو وہ دیوآنند محبت کر نے لگیں ، جب وہ نہ ملا تو پوری

زندگی تنہا  گزاردی۔

پوسٹ کی تیاری میں سائیٹ ریڈیو vividh bharati لی ہے۔


۔اب جازت۔
۔ رب مہربان رہے۔
   

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...