Thursday, November 12, 2015

" دل کا بھروسہ "

منجانب  فکرستان
چشمے  کیلئے ایک  واقف  کار  دکان  دار  کے  ہاں  جانا  ہوا،  دوران  گفتگو  اُنہوں  نے  کہا  کہ  وہقُربانی  کرنے  کے  بجائے  جانور  کی  رقم  فلاحی  ادارے  کو  دیتے  ہیں،اداکارہ   ثمینہ پیرزادہ قُربانی نہیں کرتیں ،لیکن اُنکے خیال میں سنّت  ابراہمیؑ  کی  اداگئی  کیلئے   وہ  جس طریقے  پر  عمل  پیرا ہیں وہ  قُربانی  کے  اصل  مقصدومفہوم  سے  قریب  تر  ہے ٭۔۔ اسی قُربانی  کو  حوالہ  بنا  کر  اپنے مذہبی خیالات آپ سے  شئیر   کرنا  ہے۔ ۔
 مذہب  کی بنیاد اُس  دن  پڑ گئی  تھی  جب  خُدا  نے  آدمؑ  سے  کہا  تھا  کہ  دیکھو  اُس  درخت  کے  قریب نہ  جانا  ۔۔۔ اور شیطان نے آدمؑ  سے کہا  اِس  درخت  کا  پھل  کھاؤ  گےتو   ابدی زندگی   اور   لازوال  سلطنت  پاؤ  گے(یہ  چیزیں  آج  بھی انسان  کے  لئے  کشش  کا  باعث  ہیں) آدمؑ  شیطان  کے  بہکاوے  میں  آگئے ۔۔۔ نتیجے  میں جنّت سے  نِکل نا  پڑا  تو جہاں   خُدا  کے  کہے پر  یقین کر نے  اہمیت  واضع  ہوئی  وہیں  یہ بھی  کہ  کبھی  بھی  شیطان  یا عقل  کے  بہکاوے  میں  نہیں آنا  ہے ۔۔
 مذاہب آسمانی  ہوں  کہ  غیر  آسمانی  بانیان سب سے  پہلے  اپنے  قول  و  فعل  سے  اپنے  آپ کو  سچّا  ثابت  کرتے  ہیں، پھر  عقیدوں  پر  مشتمل  دُنیا  اور آخرت کے  بارے  میں  مذہبی  تعلیم  دیتے  ہیں   اور غلط  راستوں  سے  خبردار  کرتے  ہیں ( جس  طرح  خُدا  نے  آدمؑ  کو  خبردا کیا  تھا  کہ  اُس  درخت  کے  قریب  نہ جانا ) لیکن  جیسے  ہی  بانیانِ  مذہب  اپنے  پیروکاروں  کے  درمیان  سے  اُٹھ  جاتے  ہیں تو  اسی  مذہب  کے  چند  عُلما  مذہب  میں عقلی دلیل ، حجت  اور  خطابت  کے زور پر مذہب  کو  فرقوں  میں  بانٹ  دیتے  ہیں ، گُناہ  ثواب  کے اپنے  پیمانے  ایجاد کرتے  ہیں،  جیسے  گوشت  کھانے  والے  کو مارنا  ثواب  ہے۔  یوں  یہ فرقے  پُر  امن  مذہب  کو  پُر تشدد  اور  خوُنی  بنا دیتے  ہیں،  ہر  مذہب  میں  جتنے  بھی  فرقے  بنتے  ہیں  وہ  صرف اور صرف  عقلی دلیل  اور  حجت  کی  بنیاد پر  بنتے  ہیں۔۔۔  یہ بات اِس  مثال  سے صاف  ہوگی :مثلاً  ایک فرقہ  عقلی  دلیل پر یہ  کہتا ہے کہ : ایک   شہنشاہ  نے بنواکے  حسیں تاج محل ساری  دُنیا  کو  محبت  کی  نِشانی  دی  ہے۔۔  دوسرا  فرقہ اسی  عقلی  دلیل  کو استعمال  کرتے  ہوئے کہے گا  کہ: اِک  شہنشاہ  نے  دولت  کا  سہارا  لے  کر  ہم غریبوں  کی  محبت  کا  اُڑا  یا  ہے  مذاق ۔۔۔اسطرح  یہ  دو  فرقے  بن گئے  دونوں  طرف  کے  پُر جوش عُلما  اپنی  دھاک بِٹھانے  کیلئے  ایک  دوسرے کے  خلاف  ایسی ایسی  مذہبی  دلیلیں تراشیں  گیں  کہ  جزا سزا  کیلئے  خُدائی  فیصلے کا قِیامت    تک کا  انتطار  کون  کرے، دونوں  فرقے  خود ہی  ایک  دوسرے  کو  جہنمی  قرار  دے  لیں گے۔۔۔
 مذہب میں  فرقہ پرستی منع  ہے۔۔ مذہب  نام  ہے  یقین  پرستی  کا  ۔۔مثلاً  تثلیت  کا عقیدہ  (خُدا: بیٹا: روح القدس)    یہ عقیدہ  کسی  غیر عیسائی  کو  کتنا  ہی مہمل  محسوس  ہو ۔۔  جو بچہ  عیسائی  گھرانے  میں پیدا ہوگا  وہ  تثلیت  پر یقین  رکھے  گا ،موجودہ  دُنیا میں  اسی  عقیدے  کے  پیرو  کار سب  سے  زیادہ ہیں  اور یہ  بھی کہ تعلیم  یافتہ  بھی  زیادہ  ہیں۔۔ اسلئے  اِنہوں نے  اپنے  عقیدے(  تثلیت )  کو  عقلی  بنانے کیلئے  مختلف  قسِم  کے  کئی  فارمولے  وضع  کئے۔۔  لیکن  عقیدہ  تثلیت  ہے کہ  بدستور  انکا  منہ  چڑا رہا ہے  اور  کہہ  رہا  ہے  اے  عقل  کے  مارو   مذہبی عقیدوں   پر  صرف  یقین  کیا  جا  سکتا  ہے  انہیں  ثابت  نہیں  کیا  جا سکتا ہے۔۔  چونکہ  اِنکا  تعلق  عقل  کے  بجائے  دل  سے  ہوتا ہے۔۔  لغت  میں عقیدہ کے معنی ہیں" دل کا بھروسہ"  دل  کے بھروسے کو  عقل  سے ثابت  نہیں  کیا جا سکتا  ہے ، اِس  پر صرف  یقین  کیا  جاتا ہے یعنی  بانیِ مذہب  نے جو کچُھ کہا اُس  کہے کا  بھروسہ  دل  میں  راسخ  ہونے  کا  نام ایمان ہے اور اس پر  من وعن عمل  کرنے کا نام مذہب ہے۔۔۔مثلاً  جین  مت کے گرو نے  کہا  کہمردوں  کے سر  پر  بال نہیں  رہنا  چاہئے ۔۔اسی لئے  عملاً  جینی کُھلے  سر  گنجے رہتے ہیں ۔۔۔

 (جین مت کے پیروکاروں میں شرح خواندگی (94.1)  فیصد ہے)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 جبکہ سکھ مت کے  گرو  نے کہا  کہ جسم کے کسی  بھی  حصّے  کے بال نہ کاٹے  جائیں ۔۔ اور مردوں کیلئے  یہ ہدایت بھی ہے کہ  وہ  انِ بالوں کو باندھ کر پگڑی  میں رکھیں اور یہ بھی کہ پگڑی  لوگوں کے سامنے  نہ اُتاریں ۔۔ سکھ مت  کے پیروکار بھی  گرو  کی  کہی انِ  باتوں پر عمل کرتے ہیں ۔۔۔


سکھ مت کی  پیروکار لیڈی ٹیچر"ہرنام کور" کے چہرے  پر بال  ہیں،لیکن

  گرو  کا کہنا ہے کہ بال نہیں  کا ٹنا ہے، ہرنام کور گرو  کے کہے  پر عمل کررہی ہے۔ 

________________________________________________________________________
 اسِ  ساری  آگاہی  کا  مقصد  یہ ہے کہ  ہمیں بھی آپﷺ کی تعلیمات پر من و عن  عمل کرنا چاہے ۔۔عقیدوں میں عقل کو نہیں  گھسانا چاہے  کہ  قُربانی  کرنے  کے  بجائے  جانور  کی  رقم  کسی  فلاحی  ادارے  کو دیکر کہو کہ سنّت  ابراہمیؑ  ادا  ہوگئی  یہ  لوگوں  کی  بھول  ہے  ۔۔جیسے  اُوپر  کہا  گیا  ہے کہ  مذہبی  عقیدوں  میں  عقل  کو  داخل  کرنے سے۔۔۔ سوائے  نیا  فرقہ ہاتھ آنے کے۔۔ کچُھ ہاتھ نہ آئے گا۔۔  
اب  مُجھے  اجازت  :  ہمیشہ رب کی  مہربانیاں  رہیں
نوٹ:پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
٭ http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=29110

Saturday, September 12, 2015

"تکمیل کے لئے"

منجانب فکرستان:جوڑے کا جواب،غوروفکرکیلئے
 جزیشن گیپ کی حقیقت دواور دو چار جیسی نہیں۔۔۔ورنہ ایک چوبیس سالہ خوبرو جوان لڑکی چوراسی سالہ بوڑھے شخص کو بھرپُورقِسم کی عشقیہ شاعری والے لو لیٹر کبھی نہ لکھتی اور نہ ہی چوراسی سالہ بوڑھے شخص سے شادی کرتی۔۔۔تصاویر میں دُلہن کی خُوشی دیدنی ہے ۔۔ 
یہذِکرخیر ہو رہا ہے روس کے لیجنڈ اداکار جناب آئیوان کی شادی کا ۔۔
تاہم نوبیاہتا جوڑے کو روس کی میڈیا کی تنقید کا سامنا کر نا پڑا،جسکے جواب میں جوڑے نے میڈیا والوں کو یہ جواب دیا کہ"ان کا رشتہ تو جنت میں ہی طے پا گیا تھا۔ہم  تو بس اُسی رشتے کی تکمیل کے سلسلے میں دنیا میں آئے ہیں،اور یہ بھی کہ ہم اولاد کی خُواہش رکھتے ہیں"۔
شادی کی تصاویر اور تفصیل کے لئے لنک پر جائیں اور مُجھے اجازت دیں۔۔
http://hotmodelphotos.com/84-year-old-russian-actor-marries-his-24-year-old-fiancee-and-plan-on-starting-a-family/
نوٹ:پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Friday, September 11, 2015

"فلسفی کا اعتراف "

منجانب فکرستان:غوروفکرکیلئے
 کل 10ستمبر کوخُودکشیوں کی روک تھام کا عالمی دن  منایا گیا ، اور آج پانچ افراد کی خُودکشی کی خبر پڑھنے کو ملی۔۔۔
 ایک شخص مشہورفلسفی ول ڈیورانٹ کے قریب آیا اور کہا میں خودکشی کرنے والاہوں۔۔تاہم اگرآپ نے زندگی کیلئے معقول دلیل دی، تو اس اقدام سے باز رہوں گا ۔۔
ول ڈیورانٹ کو ایسے خطوط  ملتے رہتے تھے کہ جِن میں خودکشی کرلینےکی خواہش یا دہمکی ہوتی، ایک سال تو ایسے خطوط کی تعداد 284 ہوگئی جنہوں نے حساس فلسفی  کو  ہلاکر رکھ دیا  ،(جیسے تین سالہ ایلان کی تصویر نے یورپ کو ہلاکر رکھ دیا )۔۔فلسفی کے دل میں  یہ خیال پیدا ہُوا کہ اس بارے میں کیوں نہ دُنیا کے Genius لوگوں سے رابطہ کروں اور اُن کی رائے معلوم کروں، چُنانچہ اُنہوں نے 100 افرادکو خُطوط لکھے۔۔
 تاہم اُنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خودکشی کیوں؟؟ کا وہ جواب نہیں دے سکتے ہیں اُنکا کہنا ہے کہ " جب سے میرا مذہب پر اعتقاد ختم ہُوا ہے میں اس مسئلے پر گہری سوچ بچار کرتا رہا ہوں اور اس دوران مجھ پر نااُمیدی کی وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جس کا اظہار فرانسیسی اور جرمن وجودیوں نے بھی کیا ہے"۔۔۔۔
( گویااس بات کااعتراف ہے کہ زندگی میں معنی صرف مذہب سے ہی ہے)۔۔
یعنی عقیدہ،یعنی یقین 
"On the meaning of life"سے ماخوذ 
نوٹ:پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Tuesday, September 8, 2015

" جواب "

منجانب فکرستان:غوروفکرکیلئے
ہر قِسم کے میڈیا نے !!!
 دلائل دینے کے فن میں ہمیں اتنا ماہر بنادیا ہے کہ اگر شیطان کی حمایت میں دلائل دینے پرآئیں تو سامنے والے کا ایمان ڈول جائے۔۔۔
سیاسی رہنما ہو کہ مذہبی دلائل ان کے آگے پیچھے پھرتے رہتے ہیں کہ نہ جانے کب قومی مفاد یا اسلامی مفاد میں انکی ضرورت پیش آجائے۔
میڈیا نے ایسے دانشوربھی پیدا کئے ہیں جو اپنےدلائل کے زور پر  شمُال کی بحث کو جنوب  کی بنا دیتے ہیں۔۔۔ 
یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ دوست سے دوران گفتگو پوچھا کہ کیا  وجہ ہے ۔۔۔کہ یورپ تو  بڑی تعداد میں  پناہ گزینوں کو قبول کر رہا اِن  میں جرمنی پیش پیش ہے 8 لاکھ پناہ گزینوں کو لے رہا ہے لیکن تنظیم تعاون اسلامی  اور  57 اسلامی ممالک خاموش ہیں ۔۔۔ایسا کیوں ہے ؟؟؟ دوست کا جواب ایسا تھا  کہ گویا لکڑی توڑ کر ہاتھ میں دیدیا ہو۔۔
   دوست کا جواب تھا کہ یہ سب یورپ اور امریکہ کے کیئے کا نتیجہ ہے تو پِھر دوسرا کیوں اِن پناہ گزینوں کا بوجھ اُٹھا ئے ۔۔۔  
نوٹ:پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Saturday, September 5, 2015

" عام موت کو خاص۔۔۔۔۔ "

منجانب فکرستان : روح؛پاکیزگی ؛ خون ،عیسائیت،سکھ مت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پیدائش،موت،اور خواب انسانی ذہن  کیلئے ہمیشہ سےبھیدرہے ہیں،یہ آج بھی پُراسرار ہیں اِنکی اِسی پُراسرایت کو محور  بنا کر ابتدائی انسانی ذہنوں نے مذہبی عبادتی عقیدے تراشے  اور رسُوم  کو رواج دیا ۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ انسانی ذہنوں میں اجتماعی لاشعور  کے طور پر موجود ہیں۔۔ 
جب ہم مذہبی عقیدوں و رسُوم کا تجزیاتی مطالعہ  کرتے ہیں تو ہم دیکھ تے ہیں کہ ایک کے مذہبی عقیدے  و رسُوم  دیگر مذاہب میں بھی (  فرق کے ساتھ) پائے جاتے ہیں۔۔مثلاً روزے رکھنے کا عقیدہ اکثر مذاہب میں (فرق کے ساتھ) پایا جاتا  جین مت والوں میں تو روزہ براہراست روح سے جُڑا ہوا ہے،  یعنی کسی جین متی کو لا علاج بیماری لگ جائے ، ضعیفی روگ ہو جائے یا اِس دُنیا سے دل بھر جائے تو بھی وہ جسم سے روح نکلنے تک کا (تا دم مرگ) کا روزہ رکھ لیتا ہے، گویا روح کی  دُوسری دُنیا میں منتقلی ہوتے سمے جسم سےنکلتی روح میں پاکیز گی کا عنصرشامل کرتا ہے، یوں مرنے والا  اپنی عام موت کو خاص بناتا ہے۔۔
 ایسی روحانیت  حامل رسم پر بھارتی ریاست راجستھان ہائی کورٹ نے خودکشی  قرار دیتے ہوئے اس رسم پر پابندی عائدکردی تھی،جبکہ اِسی رسم سے ملتی جلتی رسم  ہندومت  میں بھی رائج ہے جسے "پریوپراویشا" کی رسم کہتے ہیں ۔۔۔اسی طرح عیسائیوں میں بھی ہر سال  گڈفرائی ڈے پر مصلوب  ہونے کی رسم موجود ہے۔۔ 
کیا ہائی کورٹ کے جج کو نہیں معلوم کہ " مذہبی معاملات عقل کی کسوٹی سے  نہیں جانچے جاسکتے" ۔۔
شاید اسی لئے سپریم کورٹ نے راجستھان ہائی کورٹ کےفیصلے کو معطل کردیا ۔۔

  دوستو: تصویر دیکھ کر یہ مت سمجھ لینا کہ جین مت والے گنجے ہوکر ہائی کورٹ کے فیصلے پراحتجاج کررہے ہیں بلکہ یہ ہمیشہ اسلئے گنجے رہتے ہیں کہ سر پر بال رہنے پر کُھجانے سے کسی" جوں کا خون " نہ ہوجائے ،جین مت میں کسی جاندار کا مارنا کسی صورت میں جائز نہیں۔۔جین مت کے پیروکاروں میں شرح خواندگی (94.1)  فیصد ہے۔۔۔جین مت عقیدے میں ہے کہ سر پر بال نہیں رہنا چاہئے،، جبکہ سکھ مت میں ہے کہ بال نہیں کٹوانا چاہئے۔۔
مزید کیلئے درج لنک پر جائیں اور مُجھے اجازت دیں۔

پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

http://mag.dunya.com.pk/index.php/sunday-spacial/2358/2015-08-30

Sunday, July 19, 2015

" سورۃ التكوير "

منجانبفکرستان
سائنس دانوں کا خوشی کا اظہار 
حقیقی جذبات کا عکس
" ناسا "والوں کو اُس وقت غیریقینی  جیسی صورت حال سے گُرنا پڑا کہ جب خلائی گاڑی " نیو ہورائزنز"نےسگنل بھیجنے بند کر دئیے۔ گھنٹوں پر گھنٹے گزنے کے باجودسگنل نہیں آئے تو مشن سے متعلق ذہنوں میں خدشات جنم لینے لگے یہ سوال  بامعنی سا لگنے لگا کہ کہیں سالوں پر محیط یہ محنت اکارت تو نہیں ہو جائیگی ۔۔۔
 بس اتنی سی تو ہے انسان کی اصل حقیقت۔۔کہ وہ بے بس ہے۔۔اور انسان کی یہی  بے بسی  خُدا  کی پہچان ہے ۔۔۔
تاہم ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ(  سوره التكوير آیت 1 اور 2  کی مطابق)  جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں ۔
بہرحال 13  گھنٹے بعد" نیو ہورائزنز" نے زمین والوں کو سگنل بھیجنے شروع کیئے تو سب کے مُرجھائے ہوئے چہرے خوشی سے کھلِ گئے اور  انسانی عظمت کا ایک اور  نشان " پلوٹو"فتح کا بگلِ بج گیا۔۔۔
مضمون کی تیاری میں مددگار سائیٹ:
 http://www.urduvoa.com/content/us-space-pluto/2863214.html   
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اتفاق / اختلاف کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...