Saturday, January 17, 2015

" ماڈرن گُرو "

منجانب فکرستان
ہندوستان کی عوامی اکثریت اپنی حاجت روائی کیلئے ہمیشہ گُروؤں کی تلاش میں رہتی ہے،اِسی ضرورت کے پیشِ نظر "گُرو"بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔۔۔
حالیہ دِنوں میں جو گرو میڈیا کی زینت بنےان میں،باپوآسارام،باباراجپال،رام دیو اور رام رحیم سنگھ شامل ہیں۔۔۔
بابا رام دیو، یوگا کے زریعے روحانیت کا درس دیتے ہیں وہیں مردانہ طاقت میں اضافے کی دوا بھی دیتے ہیں۔۔جبکہ رام رحیم سنگھ خُدا کی قربت کیلئے نس بندی کا درس دیتے ہیں،نامرد بن جاؤ گے تو، خُدا کے قریب ہو جاؤ گے۔
رام رحیم سنگھ کو "ماڈرن گرو" کہنا زیادہ مناسب ہے،چونکہ اُنہوں نے ماڈرن زمانے کے مطابق ایکشن سے بھر پور اور جدید گانوں سے آراستہ فلم بنائی ہے ،جس کے ہیرو،ڈائریکٹر، پروڈیوسر،حتاکہ گلوکار بھی گرو جی خود ہی ہیں۔۔۔
بدلتا ہے زمانہ رنگ کیسے کیسے ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔ 
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  


Saturday, January 10, 2015

" چند مثالیں "

 منجانب فکرستان



لگتا ایسا ہے کہ آجکل نان مسلم قومیتیں اِسلام فوبیا میں مبتلا ہیں۔یہی وجہ ہے کہ"ساکشی مہاراج" نعرے  لگاتے پھر رہے ہیں کہ "ہندو دھرم کو بچانا ہے تو ہر ہندو عورت کو چاربچّے جننا ہے"
فرانسیسی ادیب "مشل ہولی بیک" نے اِس خوف کا اظہار ناول لکھ کر کیا ہے کہ ہمارا معاشرہ/ مذہب۔۔اسلامی معاشرے/مذہب کے سامنے ٹہر نہیں پائے گا اِسطرح 2022 کے آتے آتے فرانس ایک اسلامی مُلک کے طور پر جانا پہچانا جائے گا۔۔۔

یورپی تنظیم پیگیڈا( پیٹریاٹک یورپیئنز اگینسٹ اسلامائزیشن) بھی اسلام فوبیا کا نتیجہ ہے ۔۔۔
اب اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Wednesday, January 7, 2015

" بڑھتے قدموں پر ضرب کاری "

فکرستان کی شئیرنگ:برائے غور و فکر 
Supporters of the Pegida movement, including some holding lanterns glowing in the colours of the German flag, gather for another of their weekly protests on January 5, 2015 in Germany
 یہ  اُن 22   ہزار افراد کی تصویر ہے کہ جنہوں نے  ریلی میں شریک ہوکر پیگیڈا کے" دورِ جہالت پر مبنی انتہا پرستانہ نظریہ کو مسترد کیا"
جرمنی میں اسلام مخالف یورپی انتہا پرست  تنظیم "پیگیڈا"ریلیاں نکالا کرتی ہے، جسے جرمنی کی اکثریت پسند نہیں کرتی۔۔
جب جرمن اخبار "بلڈ" نے پیگیڈا کے خلاف اپنی مُہم کا آغاز کیا تو یہ گویا جرمنی کے لوگوں کی دل کی آواز ہی تھی۔۔ کیا عوام کیا خواص سب نے ہی اِس مہم کا حصّہ بننا پسند کیا۔۔ 22 ہزار افراد پر مشتمل پیگیڈا مُخالف ایک بڑی ریلی نکال کر پیگیڈا والوں کو ہکابکا کردیا۔۔شریک شرکا کا کہنا تھا کہ وہ انتہا پسندی اور نفرت کو مکمکل طور پر مسترد کرتے ہیں،بدلے میں برداشت اور بھائی چارے کے نظریے کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔
یہ بڑی ریلی گویا پیگیڈا کے بڑھتے قدموں پر ایک کاری ضرب ہے۔۔۔
مددگار سائٹ: 
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/01/150106_germany_anti_pro_islam_ads
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Sunday, January 4, 2015

" میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم "

فکرستان کی شئیرنگ: برائے غور و فکر 


میلاد النبیﷺکی خوشیاں منانے والوں کے خلاف سعودی مفتیٰ اعظم کا فتوی۔۔۔ 03 جنوری 2015 (19:42)


ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طرف تو ہمارے ہاں رسول کریم ﷺ کی دنیا میں آمد کی خوشی میں عید میلاد النبیﷺ منانے کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں اور گلیوں بازاروں کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف سعودی مفتی اعظم شیخ عبد العزیز الشیخ کی طرف سے عید میلاد النبیﷺ منانے کو بدعت اور کار گناہ قرار دے دیا گیا ہے۔ 
امام ترکی بن عبداللہ مسجد ریاض میں خطبہ جمعہ سے خطاب کے دوران انہوں نے فرمایا کہ، ” یہ ایک بدعت ہے جو آپﷺ اور صحابہ کے دور سے تین صدیاں بعد دین میں داخل ہوئی“۔
”سوہنا آیا تے سج گئے نے گلیاں بازار“ 
انہوں نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ کی سچی محبت یہ ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں اور سنت پر عمل کریں جبکہ عید میلاد النبیﷺ منانے کی تلقین کرنے والوں کو بھی انہوں نے گنہگار اور گمراہ قرار دیا۔ 
بشکریہ : روز نامہ  پاکستان
http://dailypakistan.com.pk/daily-bites/03-Jan-2015/179648



Thursday, January 1, 2015

"مفاہمت تا مذاکرات تک "

منجانب فکرستان 
زرداری صاحب نے مفاہمت کے زریعے 5سال آرام سے گُذار لئے۔۔۔اسی طرح نواز شریف صاحب بھی مذاکرات کے زریعے 5سال گُذار جائیں گے۔۔مثلاً پہلے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے زریعے اچّھے خاصے دن گُذرے اور اب،پی ٹی آئی سے مذاکرات کے زریعے دن گُزر تے جا رہے ہیں۔۔
عوام کے دن بھی اخبارات پڑھتے گُذر رہے ہیں کہ مذاکرات مثبت سمت بڑھ رہے ہیں۔۔ عوام عنقریب خوشخبری سُنیں گے ۔اور پھر اچانک عوام سُنتی ہے کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک آگیا ہے، سوال یہ کہ  عوام کو خوشخبری سُناتے سُناتے یہ ڈیڈ لاک کہاں سے آگیا؟؟
پھر عوام کو یہ پڑھنے کو ملا کہ مذاکراتی فریقین کے درمیان ابھی تک لفظ دھندلی کی تعریف پر ہی اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔۔۔
اسحاق ڈار صاحب نے وقت مانگ لیا ہے کہ چند امور پر پارٹی سے مشاورت کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔۔گویا
اِک سلسلہ ہے مذاکرات کا،نتیجہ خیز بنے بغیر
اب مُجھے اجازت دیں پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔۔۔
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }  

Monday, December 29, 2014

" گذشتہ سال "

منجانب فکرستان 
خواتین کئی پیشوں میں مَردوں کو پچھاڑتی جارہی ہیں۔دہلی پولیس نے مزید ایک ایسے پیشے کی نشان دہی کی ہے جو مَردوں کا کہلاتا تھا،اِس پیشے میں بھی خواتین نے اپنی برتری دِکھادی۔
دہلی  میٹرو ٹرینوں سے رواں سال نومبر تک 313 جیب کتروں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے صرف 20 مرد باقی293 خواتین تھیں،خواتین سے برآمد ہونے والا مال اِنسانی عقل کو چکرا دیتا ہے، تقریباً 14 لاکھ ڈالر مالیت کی نقدی،بڑی تعداد میں زیورات، سیکڑوں کی تعداد میں لیپ ٹاپ،موبائل فون،گھڑیاں وغیرہ تھیں ۔۔
اِسی طرح سے گُذشتہ سال بھی گرفتار 466 جیب کتروں  میں سے صرف 45 مرد باقی 421 خواتین تھیں۔۔۔
مزید تفصیل طلب دوست لنک پر جائیں اور مجھے اجازت دیں ۔۔پڑھنے کا شُکریہ
http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/12/141228_india_women_pickpockets_atk
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں } 
               

Thursday, December 25, 2014

" نقطہ نظر "

فکرستان کی شئیرنگ: برائے غور و فکر 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
جبکہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ اپنے کالم بعنوان "نئی قوم پرستی کی راہ پر " میں اپنا نقطہ نظر  کچُھ یوں بیان کرتی ہیں۔۔      
"جو کام پاکستان میں غالباً قائد ِ اعظم محمد علی جناح بھی نہیں کر سکتے تھے وہ ہو سکتا ہے کہ ایک سوبتیس بچوں کی افسوس ناک ہلاکت کر دکھائے۔۔۔ ایک عمومی یا مشترکہ بیانیہ رکھنے والی ریاست کی تشکیل جونظریاتی اور سیاسی طور پر مربوط ہو۔ ایسا ماحول بنتا دکھائی دے رہاہے کہ جو چیز بھی اس ربط سے باہر ہوگی ، وہ یاتو نظر انداز کر دی جائے گی یا منظر ِ عام سے ہٹ جائے گی"۔
"جنگ اور جنگ کی طرح کے بحران عجیب قسم کی حب الوطنی کو جنم دیتے ہیں جس کے بعد کسی اور بیانیے کی گنجائش نہیں رہتی۔ شاید ہم اسی طرح کی نظریاتی طور پر مربوط ریاست کی تخلیق کی طرف رواں دواں ہیں"۔۔۔
مکمل کالم پڑھنے کیلئے لنک پر جائیں http://www.dunya.com.pk/index.php/author/dr.-ayesha-sadique/2014-12-25/9616/96857976#.VJxg8F4AA 
 کہی گئی باتوں سے اختلاف / اتفاق کرنا آپ کا حق ہے
          {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں 

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...