Tuesday, August 12, 2014

" مُردہ جمہوریت"

منجانب فکرستان 
آزادی مارچ،انقلاب مارچ کے حوالے سے فکرستان ایسا سمجھتا ہےکہ طاہرالقادری کے پاس ماڈل ٹاؤن واقعہ 
کے حوالے سے رائج نظام  کے خلاف آواز اُٹھانے کا ایک جواز  بنتا ہے،لیکن عمران خان  کے  پاس ایسا
 کوئی جواز نہیں ہے کہ حکومت کو گرانے کی کوشش کریںالیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے،احتجاج کرنا 
تھا تو وہ وقت الیکشن کے فوراً  بعد کا تھا۔۔ اسمبلیوں میں نہ جاکر احتجاج  کرسکتے  تھے ،اسمبلیوں میں چلے
 جانے کے بعد احتجاج۔۔سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے جیسا ہے ۔۔
جمہوریت کی دعوے دار  پارٹیوں نے جمہوریت میں سے جمہوریت کی روح ( بلدیاتی انتخابات )  کو نکال 
دیا ہے،سابقہ پانچ سالہ دور کو جمہوری دورکہہ کرجشن منانےوالی دونوں بڑی پارٹیوں نے بلدیاتی انتخابات 
نہیں کرائے اور نہ ہی موجودہ سیٹ اپ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا  ذکر ملتا ہے ، بلدیاتی انتخابات کے
 بغیر عوام کے سامنے جمہوریت کا راگ الاپنا عوام کو بے وقوف بنانا ہے، عمران خان صاحب نے بھی 90
دنوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے دعوے کئے تھے،اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ میں قوم سے کوئی
ایسا وعدہ نہیں کرونگا جو پورا نہ کرسکوں،لیکن خان صاحب نے بھی وہی مُردہ جمہوریت کی روش اپنائی ہوئی
 ہے۔۔۔
حکومت نے اِن مارچوں سےنمٹنے کا جو طریقہ اپنایا ہُوا ہے،اسے بھی جمہوری طریقہ نہیں کہہ سکتے ہیں، 
 یہ طریقہ بھی مُردہ جمہوریت کی گؤاہی دے رہا  ہے۔۔۔  

  ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Sunday, August 10, 2014

" بصیرت افروز کالم "

 فکرستان کی شئیرنگ 
خود شناسی = خُدا شناسی

٭ ۔۔۔٭ ۔۔۔ ٭ 

میں کوئی جھوٹ بولیا ؟؟


منجانب فکرستان
یومِ شُہداءاور آزادی مارچ  کے حوالے  سے حکومتی  ردِ عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہےکہ مسلم لیگ ن خود
 باری والوں کوبُلا رہی ہے،عوام کا کیا ہےعوام کا کوئی نہیں ہےپیپلز پارٹی نےعوام کی بات کی حکومت بنائی
 عوام نے مٹھائی بانٹی،نتیجہ ٹھن ٹھن گوپال نکلا، پھر کشکول توڑنے،  والے آگئے لیکن ابھی کشکول توڑنے 
کی مشق کر ہی رہے تھے کہ باری والوں سے اُلجھ پڑے،اب کہہ رہے ہیں ایک  پیج پر ہیں عوام دیکھ رہی 
کہ کشکول توڑنے والوں نے کشکول توڑنے کےبجائےاُسکا سائز بڑا کرلیا ہے،مہنگائی بڑھ رہی ، اسلیے موجودہ 
جاری چپقلش کے نتیجے میں اگر  باری والے آجاتے ہیں تو عوام کا  کیا ہے، عوام کا کوئی نہیں ہے۔جمہوریت 
کی دعوے دار سیاسی پارٹیاں بلدیاتی الیکشن تک کرانے کی روادار نہیں ہیں،عمران خان نے بھی 90 دنوں 
میں بلدیاتی الیکشن کرانے  کے دعوے کئے تھے، وہ بھی سب ۔۔۔ہَوا ثابت ہوئے ۔۔۔
 ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }              

Friday, August 8, 2014

"عجیب تراشی دلیل "

منجانب فکرستان 
ہمارےگلوبٹ نے تو اپنے  ڈنڈے  سے  گاڑیوں کو  زخمیکرنے والے ایسے ایکشن دکھائے کہ دُنیا بھر میں
 اپنے نام  کا ڈنکا بجادیا۔۔جبکہمحترم ڈاکٹر گلبرٹ صاحب نے،غزہ زخمیوں کے علاج معالجے میں جو خدمات
 انجام دیں اور محصورین غزہ  پر  ڈھائے جانے والے انسانیت  سوز ظلم کے خلاف  بطور چشم دید گواہ  کے
 حق کی آواز بلند کرنے پر دُنیا بھر میں شُہرت پائی، تاہم  آج کی دُنیا میں یہ چلن  چل پڑا  ہے کہ جنہیں،
کسی سبب  سچ ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے،وہ سوشل میڈیا  کے زریعے کُچھ اِسطرح کے دلائل تراشتے ہیں کہ 
  بیچارے  سچ دُھندلا نے لگتے ہیں ۔۔۔
 ڈاکٹرصاحب کی بے لوث  انسانی خدمت  اور انسان ہونے  کے  ناطے  محصورین غزہ پر اسرائیلی ظلم کے 
خلاف آواز  اُٹھانا، جن لوگوں  کو ہضم نہیں ہو رہا ہے، انہوں نے یہ دلیل تراشی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو
ایک روبوٹ کی طرح صرف علاج معالجے تک محدود رہنا چاہئیے، انسان ہونے کے باؤجود انسانی جذبات کا
 اظہار نہیں کرنا چاہئیے ۔۔۔   
 آپ نے "اصلی ہیرو فلسطینی ہیں" بی بی سی سائٹ نہیں پڑی ہے،اگر پڑھنا چاہیں تو لنک حاضر ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }          

Thursday, August 7, 2014

" ایک کالم : کئی نکات "

فکرستان کی شئیرنگ
کالم غور و فکر کا متقاضی ہے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭


Tuesday, August 5, 2014

"کونسا ملک کس درجہ پر "

  منجانب فکرستان 
 ممتاز مصری عالمِ دین  محمد عبدہ  کے مشاہدے  کے مطابق  "اسلام مغرب میں نظرآتا ہے:مسلمان مشرق 
میں نظر آتے ہیں" میرے خیال میں اِس بات کو یوں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ " دینِ اِسلام " بطور رسوماتی 
"عبادات"نماز، روزہ ،حج وعمرہ، درود و اذکار کا رواج مسلمانوں میں اِس درجہ بلند ہے،کہ دُنیا میں اُسکا کوئی 
کوئی ثانی نہیں ہے جبکہ "دینِ اسلام"  بطور  نظامِ حیات  "عبادات" مثلاً  زکواۃ اداکرنا،صفائی نصف ایمان
،والدین کے حقوق ادا کرنا، رزق حلال عین عبادت،ایک انسان کاقتل پوری انسانیت قتل، رشوت دینا لینا،
جھوٹ نہ بولنا، ملاوٹ نہ کرنا، چوری نہ کرنا، دھوکہ نہ دینا، منافقت نہ کرنا غرض کہ اخلاقیات،معاشرت، 
معیشت، مدنیت، قانون،اقراء تعلیم اورسائنس وغیرہ  کے حوالے  سے اِسلام  نے جو اُصول قُرآن اور سُنت  کے  زریعے مسلمانوں کو بتائے ہیں مسلمان اُن اُصولوں کی پیروی میں انتہائی پست درجہ پر ہیں جبکہ
 اسلام کے بتائے ہوئےانہیں اُصولوں کو مغربی ممالک امریکہاورجاپان وغیرہ  نے اپنایا ہُوا ہے یہی وجہ کہ 
 مسلمان خود کہتے ہیں کہ "اسلام مغرب میں نظرآتا ہے:مسلمان مشرق میں نظر آتے ہیں" 
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پاکستانی نژاد خاتون شہرزادہ رحمان( پروفیسرجارج وا شنگٹن یونیورسٹی) اور ایرانی نژاد جناب ڈاکٹر حسین عسکری بھی پروفیسر ہیں دونوں نے مل کر تحقیق بعنوان "اسلامی انڈکس" شروع کی اِس تحقیق کی حاصلات کو دُنیا نیوز کے محترم  عاصم محمود نے سنڈے میگزن  کیلئے ضبطِ تحریر میں لائے ہیں جسکی اشاعت 27 جولائی کے شمارے ہوئی ہے ۔۔ مکمل تفصیل کیلئے میگزین ملاحظہ فرمائیں ذیل میں صرف انڈیکس کہ کونسا ملک کس درجہ  پر ہے دیا جارہا ہےَ۔۔
**************
اِس ضمن میں 208 ممالک میں سرِفہرست ممالک کی تفصیل 
جون2014ء میں محققوں نے ’’اسلامی انڈکس‘‘ کی اپ ڈیٹ تفصیل جاری کی ہے

 (1) آئرلینڈ (2) ڈنمارک (3)لکسمبرگ  (4)سویڈن (5) برطانیہ (6)نیوزی لینڈ (7) سنگا پور یوں رہا   (1) آئر لینڈ (2) ڈنمارک  (3)لکسمبرگ(4)سویڈن (5) 
برطانیہ (6)نیوزی لینڈ (7) سنگا پور (8) فن لینڈ(9) ناروے (10)بلجیم (11)آسٹریا (12)ہانگ کانگ(13)کینیڈا  (14)آسٹریلیا اور (15)ہالینڈ۔گویا اس بار بھی لگ بھگ وہی ملک سرفہرست رہے جو پچھلی تحقیق میں اول آئے تھے۔ اس نئی فہرست میں بھی عالم اسلام میں ملائشیا  33نمبر پر فائز ہے ۔جب کہ پاکستان کا درجہ بھی کچھ بلند ہوا اور اسے 145نمبر ملا ۔کچھ اور اسلامی ممالک کے نمبر یہ رہے: سعودی عرب 97،مصر129، ایران 139، عراق 148اور افغانستان149۔ دنیا کے دیگر اہم ممالک نے یہ نمبر پائے:امریکہ 16،فرانس 17،جاپان 21،جرمنی 26،اسرائیل   27، اٹلی 34اور بھارت 97۔پر ہے۔۔( محترم عاصم محمود اورروزنامہ دُنیا نیوز کا شُکریہ )
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

Sunday, August 3, 2014

" سمجھ میں نہ آنے والی بات "

 منجانب فکرستان 
 اقوام متحدہ  کے ڈائریکٹر آپریشن نے کہا ہے کہ"اسرائیلی حُکام کو اقوام متحدہ کی پناہ گاہوں کی  نہ صرف
 فہرست دی گئی ہے بلکہ انکی نشان دہی بھی کئی بار کرا  چُکی ہے،اس کے باؤجود اسرائیل کا اِن پناہ گاہوں 
پر حملے کرنا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے" ۔۔
  تاہم اسرائیلی اورفلسطینیوں کی ہلاکتوں کی نشان دہی سےنہ سمجھ میں آنے والی بات،سمجھ میں آنےلگتی 
ہے،حماس کے حملوں سے"اسرائیلی سویلین شہری ہلاک نہیں ہوئے "66 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں 
  یعنی حماس صرف فوجیوں کو نشانہ بنا رہا ہے،جبکہ اسرائیلی فوجی،معصوم بچوں،خواتین اور بے گُناہ  فلسطینی 
سویلین شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں، یہاں تک اقوام متحدہ  کی  پناہ گاہوں یعنی  دُنیا کے ملکوں کی متحدہ 
پناہ گاہوں میں آنے والے فلسطینیوں کوبھی اسرائیل  ہلاک کر رہا ہے۔۔
 اسرائیل کے اِس عمل کو سوائے انسانی (فلسطینی) نسل کُشی  کے اور کیا  نام دیا جاسکتا ہے۔۔۔  
٭۔۔۔٭۔۔۔٭
پوسٹ میں کہی گئی باتوں سےاختلاف/اتفاق کرناآپکا حق ہے،اب مجھےاجازت دیں،پڑھنے کا بُہت شُکریہ۔ 
  {ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }   

یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...